اخلاق کیسے بنتے ہیں؟۔۔۔نصیر اللہ خان

معاشرے  کے اخلاق، شعور، کلچر اور ثقافت سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ معاشرتی اخلاق، روایات اور اقدار کی شایان شان ہوتے ہیں۔ ثقافت اور تہذیب اپنا بنیادی خمیر ’’کلچر‘‘ سے لیتی ہیں۔  معاشرے کے امن، خوشحالی اور استحکام کا راز علم، عمل اور اخلاق میں پوشیدہ ہے۔ اسی طرح قیادتیں بھی علم، عمل اور اخلاقِ حسنہ سے تشکیل پاتی اور ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ قرآن کریم میں  پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق ارشاد پاک ہے: اور بیشک آپ  بہت بڑے (عمدہ) اخلاق پر ہیں ۔

دوسری طرف محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اخلاق کی ترویج اور فروغ کو اپنی منصبی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘‘
سینکڑوں  برسوں  کی وسیع محنت سے اخلاقی تہذیب اپنی ترقی یافتہ شکل میں نمودار ہونے لگتی ہے۔اس طرح کلچر اپنی  بنیادی ترقی یافتہ شکلوں میں اثر لے کر از خود تبدیل ہو جاتا ہے۔ کلچر سادہ لفظوں میں سیاست اور بزنس کی سرگرمیوں کی نفی ہوتا ہے۔ مطلب کلچر سیاست ہوتا ہے اور نہ بزنس کی سرگرمی ہی ہوتا ہے۔ اب اگر دیکھا جائے، تو صاف عیاں ہے کہ ہمارے معاشرے میں کلچر نام کی کوئی شے موجود نہیں۔ دوسرے منطقوں کی روایات اور اقدار کے در آنے سے ہمارے معاشرے کی  عظیم تر روایات اور اقدار کو زنگ لگ چکا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہمارا کلچر زندہ ہے اور نہ مردہ بلکہ اس کے درمیان موت اور زندگی کی صورتحال سے نبردآزما ہے۔اس طرح کی صورتحال زبان کے ساتھ بھی جاری ہے۔

معاشرتی اقدار اور اخلاق کیوں کر تباہ و برباد ہوئے؟ اور وہ کون سی سرگرمیاں ہیں جن سے معاشرتی اخلاق دوبارہ زندہ و جاوید ہوگا؟ اس حوالہ سے عرض ہے کہ مغرب کی تعلیم جدیدیت اور ما بعد جدیدیت نے ہمارے مجموعی سماج اور اخلاق کا جنازہ نکال دیا ہے۔ سیاسی نظریات، لبرل از م اور سیکولرازم کے غیر دینی نظریات اور روشن خیالی نے کلچر اور روایات کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ گلوبلائزیشن اور مابعد جدیدیت نے نسلی عصبیتوں کو کچل کر رکھ دیا ہے۔

ہمارے معاشرے کے بنیادی عقائد خدا تعالی کی اُلو ہیت کے قائل ہیں۔ قرآن کو بحیثیت مشعل راہ مانا جاتا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ باطل اور حق کا پیمانہ قرآن پاک ہی ہے، لیکن صورتحال اس وقت تبدیل ہونا شروع ہوئی جب سے قرآن کی تفہیم کرتے ہوئے ہمارے بزرگانِ دین نے دین کو مذہب میں تبدیل کر دیا۔ دین میں کوئی جبر اور اکراہ نہیں۔جب کہ قرآن کریم واضح طور پر کہتا ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ مذہب زبردستی احکام کو ماننے کا قائل  نہ تھا۔ اس لیے ہمارے معاشرے میں عرب معاشروں کے کلچر کو نافذ کیا گیا، جس سے معاشرے کی مجموعی ساخت میں تبدیلی آئی اور یہ روبہ زوال ہوگیا۔اس پر بھی بس نہیں، مشرقی کلچر کو مغربی کلچریعنی مغربی مادر پدر آزاد تعلیم، معیشت، ثقافت اور نظامِ انصاف وغیرہ سے تبدیل کرکے رہی سہی کسر بھی نکال دی گئی۔ یوں
نہ ادھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے
نہ خدا ہی ملا، نہ وصال صنم۔۔۔
کے مصداق ہمارا پورا اخلاقی نظام تہہ و بالا ہوچکا ہے۔

جدید سائنسی اوزار نئے پیداوری رشتوں کو جنم دیتے ہیں۔نئے پیدواری رشتے ثقافتی  ترقی میں کردار ادا کرتے ہیں، جس سے معاشرے کے اخلاق و ترتیب میں لا محالہ فرق آنے لگتا ہے۔ایسا اگر کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا کہ درست اور غلط کے پیمانے بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ البتہ مستقل اقدار اپنا وجود قائم رکھتی ہیں۔ موجودہ جدیدیت قوموں کے جبری طور پر تشخص کا نام ونشان مٹانے کے درپے ہے۔ اس کا پہلا نشانہ قوموں کے اندر امتیازات اورتفاوت کو مزید گہرا کرنا ہوتا ہے اور بعد میں اس قوم کو سرے سے نا پید کیا جاتا ہے۔ جب قوموں میں امتیازات کو ہوا دے کر کچھ مقدس اور او رکچھ غیر مقدس ٹھہرائے جاتے ہیں، تو اس وقت قوموں کے اخلاق تباہ ہونے لگتے ہیں اور زوال شروع ہونے لگتا ہے

قارئین، ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے   دانشمند اور عقلمند لوگ سامنے آئیں اور یہ بوجھ اٹھا کر صرف باتوں کی حد تک نہیں بلکہ عملاً ایک دین اور ملی وحدت کی اصل روح کے مطابق معاشرتی اور شعوری ذمہ داری ادا کرتے ہوئے معاشرے میں مکالمہ، کتابوں، اخبار اور ٹیلی وژن کے ذریعے لوگوں میں اپنی عظیم تر روایات اور اقدار کے مطابق شعور اور آگاہی پھیلائیں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اسلام کسی طور پر بھی قوموں کے تشخص کو پاؤں تلے نہیں روندتا بلکہ قوموں کو امت سے پیوستہ رکھ کر ترقی کے یکساں مواقع دینے پر یقین رکھتا ہے۔

پاکستان کی کئی اکائیاں مل کر ایک فیڈریشن بناتی ہیں اور اس میں کثیر تعداد میں بولیاں یعنی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ تمام اکائیوں کو اٹھارویں ترمیم کے توسط سے مکمل صوبائی خود مختاری دیں۔ زبانوں اور کلچر کو محفوظ کرنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ تب کہیں جاکر ہم اس کے قابل ہوسکتے ہیں کہ ہم دنیا کے سامنے سینہ سپر ہوکر اپنی اقدار و روایات کا بول بالا کرسکیں، ورنہ دوسری صورت میں جن اقوام کے اخلاق اور اقدار،  اور دستور نہیں ہوتا، وہ لوگ ذلت اور حقارت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر جاتی ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ جس طرح ہم پر دیگر ممالک کا دھونس اور دباؤ چلتا ہے، اس کی بنیادی وجہ ہی یہی ہے کہ ہماری قومی انا، فخر، کلچر اور اخلاق تباہ ہوچکے ہیں۔ اب اللہ تعالی ہی ہمارا حافظ و ناصر ہو!

قارئین، کیسے معاشرتی تضادات میں ہم گزارا کر رہے ہیں؟ من حیث القوم ہمارے قول و فکر میں تضادات نے اپنی جگہ بنائی ہوئی ہے۔ مجھ سمیت ہرکوئی اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے۔ قول و فعل سے  بیگانہ، الگ تھلگ سوچ کے حامل افراد ایک دوسرے سے مباحث کے دوران میں منہ  چھڑاتے رہتے ہیں۔ دوسروں کے فکری مغالطوں کو ذہن میں جگہ دیتے ہوئے نہیں کتراتے۔ تحقیق اور تخلیق کا میدان خالی پڑ چکا ہے۔ غور و فکر صرف ذاتی مفادات کے حصول کے لیے کی جاتی ہے۔یہ درست ہے کہ برائی سے اچھائی اور اچھائی سے برائی کشید کرنا آسان کام نہیں ۔ہمیں کیا کرنا ہے ؟ متنازعہ حقوق کے ہونے نہ ہونے، متوازن ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے فیصلہ کرنا ہوگا ۔ کوئی بھی فیصلہ خود، دوسروں، خاندان اور سماج پر دور رس نتائج پیدا کرتا ہے ۔
ہم ساری قوم استعمار کا ایجنڈا بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر تکمیل تک پہنچانے جا رہے ہیں ۔ استعمار نے ایک ایسا سٹیج سجایا ہوا ہے، جہاں پر خاموشی، عمل اور گویائی ایک طرح سے نتائج برآمد کرتی ہے۔ عدالتی اور تعلیمی نظام چوں کہ استعمار کا مرتب شدہ ہے، اس لیے قوم کے مجموعی ضمیر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ فکری کج روی اور پسماندہ خیالات سے ہم ذہنی غلام بن گئے ہیں ۔


اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے معاشرے کی عظیم تر روایات، کلچراور دستور کے مطابق نظامِ تعلیم اور نظامِ انصاف مرتب کیا جائے۔ سائنسی ترقی کے مروجہ طریقۂ کار کو معاشرے میں  فروغ دینا اور جدید علمی فلسفۂ سائنس سے استفادہ کرنا قوموں کے شعور کو نئی جلا بخشتا ہے۔
قارئین کرام! اس لیے میری نظر میں سائنس اور ترقی کو پیمانہ مان کر انسانیت کی خد مت کی جاسکتی ہے۔سائنس، مذہب نہیں اور مذہب سائنس نہیں۔ اس طرح فلسفہ، مذہب نہیں اور مذہب فلسفہ نہیں بلکہ ہر دو مذکورہ بالا اصطلاحات کے لیے نئی جہتیں تلاش کرنا اخلاق کی بہتری کے لیے وقت کاضروری تقاضا ہے اور اس طرح انسانیت کی بقا بہترین اخلاق سے مشروط ہے۔

نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *