کوئی جاں سے گیا, آپ کی ادا ٹھہری؟ — بلال شوکت آزاد

صاحبان آپ سب نے, میں نے بلکہ دنیا کے ہر جوان بوڑھے اور بچے نے خواہ وہ کسی بھی زبان, نسل اور ملک سے ہو چند کہانیاں اپنی ابتدائی تعلیم کے  برسوں  میں پڑھی ہیں اور جن کا مصرف اور کچھ نہیں ماسوائے اس کے کہ ہم زندگی کے ان تلخ واقعات, کڑوی سچائیوں اور بھیانک المیوں کو سمجھ لیں اور وہ ہمارے بطلان و اذہان میں رچ بس کر راسخ ہوجائیں ہماری فطرت میں تاکہ مستقبل میں ہم اور لوگ ایسے واقعات کا نہ شکار ہوں اور نہ ایسے شکار کا شوق پالیں۔

جیسے کہ۔۔۔۔جیسی کرنی ویسی بھرنی یا جیسا کروگے ویسے بھروگے, لالچی کتا, بیوقوف بارہ سنگھا, بیوقوف گدھا, لالچ کی سزا بری اور بیوقوف چرواہا وغیرہ وغیرہ۔

آپ سب نے بشمول میرے یہ کہانیاں پڑھی ہیں اور اب ہم اپنی عملی زندگی میں آئے روز ان کہانیوں کا عملی ورژن دیکھتے رہتے ہیں۔

اب بات آگے بڑھے اس سے پہلے کچھ باتوں کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔

بنیاد پرستی و قدامت پرستی اور روشن خیالی و آزاد خیالی یا فنڈا مینٹلزم اور لبرلزم, ہم اس دور میں داخل ہوچکے ہیں جب یہ دو نظریات ہر مذہب میں داخل ہوچکے ہیں اور دنیا کا ہر مذہب ان ہی دو نظریات کے گرد یا پھر یوں کہیں کہ یہ دونوں نظریات مذہب کے گرد گھومتے ہیں۔

ایک دائرہ ہے زندگی, جس میں پھر کچھ مزید دائرے (نظریات و احساسات) ہیں جو زندگی کے دائرے میں محو حرکت ہیں لیکن ان سب میں ایک دائرہ (مذہب) ہے جو زندگی کے مرکز میں ساکت ہے جبکہ اسکے گرد ایک دائرہ (بنیادی نظریہ و افکار) گھوم رہا ہے اور باقی دائرے (احساسات و رواج) یہاں وہاں دائیں بائیں گھوم کر زندگی کی رعنائیوں کو چکا چوند اور تاریک کرنے کا اپنا اپنا فریضہ ادا کرتے رہتے ہیں۔

بنیاد پرست و قدامت پسند المعروف مذہبی عرف دقیانوس وہ ہیں جو اپنے مذہب اور معاشرے کو اسی شکل اور ہئیت میں دیکھنا چاہتے ہیں جیسے ان کے آباؤ اجداد کے آباؤ اجداد کے آباؤ اجداد کے دور میں آغاز سے چلے آرہے ہیں۔

جبکہ۔۔۔روشن خیال و آزاد خیال المعروف مذہب بیزار عرف جدت پسند وہ ہیں جو اپنے مذہب اور معاشرے کو بدلے بغیر اس شکل اور ہئیت میں دیکھنا چاہتے ہیں جیسا موجودہ دور میں چلن اور روش روا ہو عام زندگی میں یعنی قدیم و مذہبی بندشیں جو سابقہ ادوار و نسلوں میں روا رہی ان کو ترک کرکے یا جدت کا تڑکہ لگا کر جدید دنیا سے ہم آہنگ کیا جائے اور وسعت نظری و وسعت قلبی کو فروغ دیا جائے بیشک اس میں مذہب اور معاشرہ آپس میں مدغم ہوتے ہیں یا متصادم ہوتے ہیں تو ہو جائیں, اس کی پرواہ نہ کی جائے۔

بہرحال اب مدعا دراصل یہ ہے کہ مذاہب کا آپسی ٹکراؤ اور تصادم اور تہذیبوں کا تصادم تو پرانی اور غیر دلچسپ بات بن چکی لیکن اس وقت ہر مذہب اور ہر قابل ذکر تہذیب ان دو نظریات یا ان دو انتہاؤں کے حامل افراد کے تصادم اور سرد جنگ کی شکار ہے۔

اس کی مثال دنیا کے ہر کونے سے مل سکتی ہے اور ملتی رہتی ہے پر ہم چونکہ پاکستان میں رہتے ہیں تو بات کا دائرہ ہم پاکستان سے بڑھاتے نہیں۔

گزشتہ ستر سالوں میں آپ نے اور میں نے چیدہ چیدہ ایسی خبریں سنی یا دیکھی اور پڑھی ہونگی جس میں کسی طرح کا کوئی سنگین واقعہ شامل ہوگا ان دو انتہاؤں کے تصادم کا لیکن دنیا جب سے گلوبل ویلج بنا اور بریکنگ نیوز کلچر پروان چڑھا تو ایسے واقعات کی شرح بڑھی اور جب دنیا سوشل ویلج بنی تو ہم روز ایسے نظریاتی تصادم کی صرف خبریں پڑھتے, سنتے اور دیکھتے ہی نہیں بلکہ ہم ایسی خبریں بنانے اور خود خبر بننے کے مرحلے میں داخل ہوگئے۔

اس وقت سوشل میڈیا کی دنیا میں ہر شخص کی دکانداری خوب چمک رہی ہے اور کاروبارِ نظریات و دانشوری خوب پھل پھول رہا ہے لیکن جس طرح ہم عام کاروبار میں مسابقت و عداوت کا چلن روا رکھتے ہیں اور یا منافقت تیرا ہی آسرا کے بل بوتے پر رقیب و مد مقابل کی ٹانگ کھینچتے ہیں بلکل اسی طرح بلکہ اس سے ہزار گنا زیادہ اس چلن کا شکار اس مصنوعی مگر حقیقی دنیا میں ہیں۔

میں بارہا اس بات کا تذکرہ کرچکا ہوں اور میرے حلقہ احباب میں شامل افراد اس بات سے واقف ہیں کہ میں دونوں انتہاؤں اور نظریات کا قائل   نہیں بلکہ میں چونکہ پاکستانی مسلمان ہوں جس کا ماننا ہے کہ اسلام جاری و ساری اور ترو تازہ دین ہے جس میں اعتدال اور میزان کو تقوی کا حصہ بناکر ہر مسلمان کے لیئے تقوی کو پسند کیا گیا اور متقی مسلمان کو معاشرے کا محافظ و ضامن قرار دیا گیا ہے اور متقی مسلمان اوپر سے محب وطن پاکستانی بھی ہو تو سونے پر سہاگہ والی بات بن جاتی ہے۔

لہذا اپنی اسی اعتدال و میزان والی یا سیدھے سبھاؤ غیر جانبدار طبعیت اور تربیت کے رہتے میرا حلقہ دونوں انتہاؤں کے پروردہ و پرست احباب سے پُر ہے۔

میں معتدل, بنیاد پرست اور آزاد خیال, ہر طرح کے مسلمان سے منسلک ہوں اور میرا ان جملہ نظریات و کیفیات اور احساسات کے حاملین سے تعلق دوستانہ اور مربیانہ ہے۔

اسی وجہ سے میں جب بات کرتا ہوں تو کوشش کرتا ہوں کہ مدلل اور مکمل بات کروں ادب و آداب اور اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر تاکہ کسی بھی نظریہ کے حامل دوست احباب شکایت کنندہ بن کر میرا گریبان نہ پکڑ سکیں اور میری بات کی گہرائی ماپ کر مافی الضمیر اور معنی و مطالب کے ساتھ موقف کو سمجھ سکیں۔

سوشل میڈیا پر ویسے تو میں گزشتہ دس سال سے زائد عرصے سے مختلف ناموں سے ایکٹو رہا ہوں پر اپنی اصل شناخت کے ساتھ میں 2016ء سے ایکٹو ہوں بطور آن لائن جرنلسٹ, کالمنسٹ اور سب سے عام و معروف صنف بلاگنگ میں ایک معروف بلاگر کے۔

اب اگر میں اپنے شوق اور پیشے کے لحاظ سے سوشل میڈیا کا عرصہ گنوں تو یہ دو سال سے کچھ اوپر بنتا ہے۔

اس دوسالا دور صحافت و بلاگنگ میں مجھے جن تین انسانوں نے فیسبک سے باہر بلاگنگ ویب سائیٹس پر متعارف کروایا اور میری شدید حوصلہ افزائی کی اور قدم قدم پر رہنمائی کی اور پڑھایا وہ بلا مبالغہ دلیل کے چیف ایڈیٹر سر’ سید عامر ہاشم خاکوانی , مکالمہ کے چیف ایڈیٹر سر انعام رانا   اور اہل قلم کے چیف ایڈیٹر بھائی نعیم الرحمن   ہیں۔

ان تین استادوں کی بدولت آج میں کسی پہچان کا حامل ہوں اور لوگ میری عزت کرتے ہیں۔

اتنی لمبی تمہید اور تفصیل کے بعد اب بات کرتا ہوں اس مدعے کی جو گزشتہ ہفتے آسیہ مسیح کے کیس کے متنازعہ فیصلے سے شروع ہوا۔

جس میں کیا لبرلز اور کیا فنڈا مینٹلز, سب نے اپنا اپنا کردار خوب ادا کیا سڑکوں اور اس ورچوئل دنیا میں املاک و اخلاق کی توڑ پھوڑ سے۔

اسی طرح  انعام رانا صاحب کے مبینہ دوست و شاگرد اور بلاگر (یاد رہے یہ مذہبی رجحان رکھنے والے حلقے میں شدید نفرت سے یاد کیے جاتے ہیں بوجہ ان کی شدت پسندی اور اخلاقی کج روی کے) قمر نقیب خان نے عزت و وقار جیسی معاشرتی املاک کے حامل انسان انعام رانا پر حملہ کرکے انکی ان املاک کو نقصان پہنچایا اور آگ لگانے کی حتی المقدور کوشش کی۔

قمر صاحب نے آنچل خان نامی فیک اکاؤنٹ سے انعام رانا صاب کی تصویر شائع کی جس پر کچھ اسطرح کی عبارت (عبارت کا مفہوم ہی لکھ رہا ہوں من وعن لکھنے کی ضرورت نہیں) درج تھی کہ “یہ ہے وہ بدبخت وکیل جس نے آسیہ مسیح کا کیس لڑا اور اس کو رہا کروایا, تمام مسلمان اس پر لعنت کرکے اس تصویر کو شیئر کریں۔” وغیرہ وغیرہ۔

اس پر ردعمل حسب معمول اور حسب توقع آیا۔۔ مطلب وہ تصویر ہزاروں لاکھوں افراد تک شیئر ہوتی ہوئی پہنچی اور انعام رانا صاحب کی جان و مال کو شدید خطرہ لاحق ہوا جیسا کہ اس بھیڑ چال والے ملک میں اکثر ہوتا ہے۔

اب جب انعام رانا صاب نے اپنی عقل و دانش اور اسر و رسوخ کا استعمال کرکے کھرے ڈھونڈے تو وہ انہی قمر صاحب تک آئے, لیکن یہ صاف مکر گئے بلکہ ایک اور دوست سفیر ملک کی بلی چڑھا دی اور ان کا نام لیکر گمراہ کیا, انعام رانا صاحب نے اس شخص کا پتہ کروایا تو وہ عرب امارات کا نکلا اور متعلقہ اداروں کی حراست میں اس نے وہ بھانڈا پھوڑ دیا جو قمر زبردستی اس کے سر باندھ رہا تھا اور بے قصور ثابت ہوکر انعام رانا صاحب کی مدد سے ہی رہا ہوا۔

اب جب بات کھلی اور “دلی تک گئی” تو قمر صاحب نے فیصل آبادی جگت کی یاد تازہ کروادی کہ “باجی ڈرگئی”۔

مطلب نیا پینترا کھیلا کہ جی میں تو مولویوں کی حقیقت آشکار کرنے کی غرض سے سوشل ایکسپیریمنٹ کررہا تھا تاکہ لوگوں کو شعور آسکے کہ مولوی کتنے جاہل اور لائی لگ مخلوق ہیں جو جھوٹ کے پیچھے چل کر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور تباہی مچاتے ہیں۔

اب ان صاحب کی تو یہ ادا ٹھہری جبکہ ایک متمول اور معزز انسان کی جان پر بنی سو بنی وہ الگ جبکہ ذہنی خجالت و کوفت کا وہ اور اس کا خاندان شکار ہوا وہ الگ اور مذہب پرست طبقے سے ان کی نفرت و دشمنی کی حد آشکار ہوئی وہ الگ۔

بات اتنی سی ہے کہ جو بات ہے نہیں وہ کرکے بنائی جائے یہ کونسی انسانیت ہے اور کیسی اخلاقیات؟

قمر نقیب کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیئے کہ مولوی تو جب بات حرمت رسول ص کی آئے تب کہیں ہوش و حواس سے بیگانہ ہوکر آپا کھوتا ہے لیکن قمر نقیب جیسے نام نہاد لبرل تو ہر وقت ہوش و حواس سے یکسر بیگانہ اور آپا کھوئے رکھتے ہیں کہ وجہ وہی ہے جو سگ کی کھمبے سے دشمنی کی ہے۔

مذہب اور بات کریں اسلام کی تو اسکی عمر بہرحال لبرلزم سے زیادہ ہی ہے تو وہ فرق ختم نہیں ہوسکتا جس کی وجہ سے خجالت فطری بات ہے پر صرف نشانہ مذہب پرست بنیں یہ کہاں کا انصاف اور رواج ہے؟

خیر قضیہ ابھی نمٹا کہ نہیں اس کی مجھے خبر نہیں پر میں اتنا جانتا ہوں کہ اسلام سے زیادہ انسانیت اور انسان کا جانی, مالی اور اخلاقی تحفظ دنیا کے کسی مذہب اور نظریہ میں نہیں۔

بہرحال انعام رانا صاحب سے میرا تعارف اور تعلق بس دو سال پرانا ہی ہے اور فیسبک و مکالمہ کی حد تک ہی ہے پر ان دو سالوں میں شاید ایک آدھ دفعہ کے علاوہ ان کی کسی بات سے مجھے آزاد خیالی کی مہک نہیں آئی اور اب اس قضیئے کے دوران بھی ان کا تحمل اور تدبر اور حضرت محمد ص سے عشق کا اظہار بہت کچھ بتانے اور سمجھانے کو کافی ہے عوام الناس کو اگر کوئی سمجھنا چاہے۔

قمر نقیب خان کو “جیسی کرنی ویسی بھرنی” کا مطلب بچپن میں سمجھ نہیں آیا ہوگا پر اللہ اور اللہ والوں سے بغض رکھ کر یہ گھٹیا حرکت کرنے کے بعد جو ذلالت نصیب میں آئی وہ اسے ساری زندگی یاد رہے گی اگر یہ انسان زندہ ضمیر اور اچھی تربیت و خاندان کا ہوا تو؟

وتعز من تشاء, اور اللہ جسے چاہے عزت دے یہ بات کب سمجھ آئے گی لوگوں کو؟

سوشل ایکسپریمنٹ نام کا ہتھیار اب واضح ہوگیا کہ بے بنیاد اور جھوٹی باتوں کے پھیلاؤ کی تاویل ہے جو دونوں انتہاؤں کے متشدد افراد کے زیر استعمال ہے۔

اگر ہم اللہ کا حکم مان کر چلتے تو ایسے ٹِرک ہماری زندگی میں ہلکی سی بھی ہلچل نہ مچاسکتے کہ جب کوئی فاسق و فاجر تمہارے پاس خبر لائے تو تصدیق کرلیا کرو۔

اس ساری کہانی کا سبق وہی ہے جو ہم بچپن سے پڑھتے آئے ہیں پر جدت کا تڑکہ لگانا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ

کوئی جاں سے گیا, آپ کی ادا ٹھہری؟

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *