دو طرح کے لوگ۔۔۔راحیل طارق

ہمارے ہاں دو “گول” کی جستجو کے لیے میرے مطابق دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ایک وہ لوگ جو اپنے لیے
“First Achieve Goal ”
کا لفظ استعمال کرتے ییں ان کے نزدیک پہلے اپنا مقصد حاصل کرنا ہوتا ہے چاہے وہ نوکری ہو یا کوئی  بزنس یا کوئی دوسرا پروفیشن وہ اپنے “گول” کو پہلے ہی دن سے متعین کرلیتے ہیں اور دنیا و مافیا سے بے نیاز سے و بےخبر وہ گول کو حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ان کے نزدیک خوشی  غمی  کوئی  معنی نہیں رکھتی ۔مگر ان کا گول انہیں زیادہ محنت کرنے اور گول حاصل کرنے پر مجبور کرتا ہے بالآخر ایک دن وہ اپنے گول کو حاصل کرلیتے ہیں اس کے بعد وہ کسی بڑی جاب، بزنس یا دوسری کسی بڑی پوسٹ پر ضرور بیٹھ جاتے ہیں اس کے بعد وہ اپنی زندگی کو انجوائے کرتے ہیں۔۔

ہمارے ہاں ایک دوسرا طبقہ بھی ہے جن کا مقصد بھی “گول” کو حاصل کرنا ہی ہوتا ہے مگر دوران گول حاصل کرنے کے وہ زندگی کے ہر رخ کا مزہ چھکنے کے عادی  ہوتے ہیں۔ان کی طبیعت میں قدرتی تغیرات ہوتے ہیں جو بار بار انہیں کچھ نیا کرنے سمجھنے سوچنے اور مزہ چکھنے کی طرف مائل کرتے رہتے ہیں۔ایسے افراد دوران سفرِ گول ہر منزل پر رکنے کے عادی ہوتے ہیں اور وہاں سے ضرورت کا نیا سامان لے کر اور پرانا سامان اتار کر گول کے سفر کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔۔
پہلی قسم کے لوگوں کی نسبت یہ زیادہ سوشل ہوتے ہیں اور ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے مگر پہلی قسم کے لوگ ان سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں اس لیے وہ دوران سفر گول راستے میں زیادہ وقت اترنے یا چلنے میں نہیں لگاتے۔۔

رزلٹ  کے بعد پہلی قسم والے لوگ منزل پر جلدی پہنچ جاتے ہیں ، دوسری قسم والے لوگ ذرا  دیر سے پہنچتے ہیں مگر ایسے لوگوں کو تاریخ ایک دور میں ہٹلر اور تباہی کی داستان ثابت کردیتی ہے جبکہ دوسرے رخ میں ابراہم لنکن سے جدید امریکہ سے تشبیہہ دیتی ہے۔۔دوسری قسم والے لوگ پوری فیلڈ میں جب پہنچتے ہیں تو بہت جلد وہ پہلی قسم والوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔۔دوسری قسم کے لوگ  کسی جانور کی طرح بھاگم بھاگ پھر موت اور قبر کی طرز پر نہیں چلتے بلکہ وہ دوران سفر ہر طرح کے اصول و ضوابط طے کرتے ہیں جو حقیقی زندگی میں اُن کو بہت فائدہ دیتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *