محنت۔۔۔۔حسنین امام

ہم زندگی کے بارے میں بہت ہی عجیب وغریب نظریات رکھتے ہیں۔ جن میں سے ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ ہماری زندگی و موت، رزق، دوستی و دشمنی غرض سب قدرت کے تابع ہے اور ہمارا اس پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس نظریے کے ہماری زندگی پر بہت سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قسمت پر اس اندھے یقین کا یہ منفی پہلو ہمیں محنت سے جی چرانے کی ترغیب دیتا ہے۔ اگر خدا نے سب کچھ ہمارے لیے طے کیا بھی ہے تو اس کے حصول کے لیے محنت کو وسیلہ بنا دیا گیا ہے۔

رسولِ خدا کے سامنے ایک روز ایک شخص نے شکایت کی کہ آپ نے تو کہا تھا کہ ہماری ہر شے خدا کی حفاظت میں ہے لیکن آج میں اپنی اونٹنی کو چرتا چھوڑ کر نماز پڑھ رہا تھا جب نماز سے فارغ ہوا تو میری اونٹنی وہاں نہ تھی۔ آپ صلی الله عليه وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم نے اونٹنی کو کھونٹے کے ساتھ باندھا تھا؟ تو اس پر اس شخص نے جواب دیا جب ہر چیز اللہ کی حفاظت میں ہے تو کھونٹے کے ساتھ باندھنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا۔

“بیشک ہر چیز اللہ کی حفاظت میں ہے لیکن ہر چیز کی حفاظت کے لیے کسی چیز کو وسیلہ بنایا گیا ہے”

اسی طرح اگر انسان کی قسمت میں پہلے سے سب کچھ لکھا جا چکا ہے تو اس کے حصول کا وسیلہ تو بہرحال محنت ہی ہے۔

سورۃ النجم: آیت 39 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

“انسان کے لیے کچھ نہیں سوائے اس کے جس کی اس نے کوشش کی۔”

بقول علامہ اقبال

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

کچھ لوگوں کا خیال ہے ہم کوشش تو کرتے ہیں لیکن کامیابی حاصل نہیں ہوتی، میرے خیال سے کامیابی آپکا امتحان لیتی ہے جو اس امتحان پے پورا اترتا ہے کامیابی صرف اسی کے قدم چومتی ہے۔ ایک چینی کہاوت ہے کہ

“رات کے تاریک ترین لمحات صبح سے تھوڑی دیر قبل آتے ہیں۔”

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ پر یقین رکھے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے۔ حدیثِ قدسی ہے کہ “اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان میں رہتا ہوں وہ میرے بارے میں جیسا سوچتا ہے ایسا ہی اسی کے ساتھ ہوتا ہے۔” اس سے یہ تو ثابت ہوا کہ نیک گمان رکھنا کامیابی کی پہلی شرط ہے اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ ناکامیوں سے سبق بھی حاصل کرنا چاہئے لیکن ماہرِ نفسیات کے مطابق ہر وقت ناکامیوں کا سبب ڈھونڈتے رہنے سے انسانی زندگی پر منفی اثر ہوتا ہے اور آپکا ذہن آپ کو کوشش کرنے سے روکتا رہتا ہے جب ہم بامقصد زندگی نہیں گزار رہے ہوتے تو ہم کام پر صرف اتنی محنت کرتے ہیں کہ کسی کو شکایت کا موقع نہ دیں۔ مگر جب ہم بامقصد زندگی گزارتے ہیں تو ہم کام پر بھرپور محنت کرتے ہیں کیونکہ تب ہم اسے صرف وقت گزاری یا نپٹانے کے لیے نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اس سے لطف حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح بامقصد ہونا بھی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

انسان زندگی بھر ماضی کی غلطیوں یا مستقبل کی فکر میں مبتلا رہتا ہے۔ اس فکر اور پریشانی میں وہ اپنے حال سے غافل ہو جاتا ہے۔ زندگی میں ماضی اور مستقبل کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے۔ ماضی اس لیے نہیں کہ آپ اسے بدل نہیں سکتے اور مستقبل اس لیے نہیں کہ  آپ اسے جان نہیں سکتے، کیونکہ علم غیب صرف اللہ کے پاس ہے لیکن کبھی کبھی اللہ انسان کو ضرورت کے مطابق یہ علم عطا کر سکتا ہے۔

سورۃ آل عمران: آیت 179 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ “یہ اللہ کا طریقہ نہیں کہ تم کو غیب کے بارے میں مطلع کر دے لیکن غیب کی باتیں بتانے کے لیے وہ جس کو چاہتا منتخب کر لیتا ہے.” اور اگر آپ اس آنے والے واقعہ کو بدل لے تو مطلب یہ واقعہ ہونے ہی نہیں والا تھا لیکن یہ کسی مخلوق کی طاقت سے باہر کے وہ اللہ کے فیصلوں کو بدل سکے۔

اس لیے کامیابی صرف اور صرف حال میں ہی ہے اگر ہم محنت کرے تو ہمارا حال بدلے گا اور اس طرح مستقبل خودبخود بہتر ہو جائے گا۔

سورۃ النجم: آیت 39 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ “یعنی راز صرف اور صرف حال میں ہے۔”

کامیابی کے لیے انسان کا اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا بھی ضروری ہے، انسان چاہے تو اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر محنت، ایمان داری اور خلوص نیت سے مخیر العقول کارنامے سرانجام دے سکتا ہے۔

لیس براؤن ایک ماہر تعلیم گزرا ہے، براؤن کو اس کے والدین نے پیدائشی   ذہنی معذوری کے باعث یتیم خانے میں داخل کروا دیا۔ اس کے استاد نے اس میں آگے بڑھنے کی لگن بیدار کی۔ اس نے براؤن سے کہا کہ  تم نے خود  اپنی راہ متعین کرنی ہے اور لوگوں کی اپنے بارے میں رائے غلط ثابت کرنی ہے۔ اس نے محنت کر کے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر ماہر تعلیم وٹرینر بن گیا۔ اس دور میں امریکہ میں اس کے پائے کا ماہرِ تعلیم کوئی نہیں تھا اور وہ 2 ہزار ڈالر فی گھنٹہ معاوضہ وصول کرتا تھا۔ اگر آپ کامیاب افراد کی زندگی کا مطالعہ کریں  تو ان میں سے ہر شخص نے جب جدوجہد شروع کی تو وہ تنہا تھا اور جب بھی کسی نے کوئی نئی چیز پیش کی تو وہ تنہا تھا اور جب بھی کسی نے کوئی نئی چیز پیش کی تو آغاز میں لوگوں کی استہزا کا نشانہ بنا۔

قدرت ہمیشہ مساوات کے اصول پر عمل کرتی ہے کبھی انسان کو اس محنت کا پھل فوری طور پر نہیں ملتا اور کبھی محنت سے زیادہ مل جاتا ہے۔ قدرت اس وقت کسی  کی مدد نہیں کرتی جب تک وہ پہلے اپنی استطاعت کے مطابق بھرپور محنت نہ کر لے۔ سورۃ الرعد: آیت 10 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ “اللہ تعالیٰ نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جب تک وہ اپنی حالت خود نہ بدلیں۔”

کامیابی صرف یہی نہیں کہ آپ منزل پر پہنچ جائیں کامیابی کے حصول کے دوران کے تجربے اور علم بھی کامیابی کا درجہ رکھتی ہے۔ اللہ نے کسی بھی کامیابی کے لیے محنت کو وسیلہ مقرر کیا ہے۔ غزوہ بدر کے بعد نازل ہونے والی آیات سے ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی فرشتوں کے ذریعے مدد فرمائی، سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فرشتوں کے  ذریعے فتح دلوانی تھی تو پھر آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو اتنی سختیاں جھیلنے کی کیا ضرورت تھی لیکن اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے احباب یہ سختیاں برداشت نہ کرتے تو کبھی بھی فتح یاب نہ ہوتے یعنی آپ کی فتح کے لیے وسیلہ مشکلات پر ثابت قدم رہنا تھا۔ بالکل اسی طرح کامیابی کے لیے وسیلہ محنت ہے۔

حسنین امام
حسنین امام
حسنین امام (خانقاہی) سیاسیات کے طالبعلم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *