صالحین کا وزیراعظم کیوں نہیں

محترم سلیم صافی صاحب نے جماعت اسلامی کے” حق” میں جو کالم لکھا ہے اس کے محرکات کا اندازہ تو ان کے درج ذیل جملوں سے لگایا جاسکتا ہے.

“لیکن عجیب تماشا ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی ’’بدتمیز جمہوریہ سوشل میڈیا‘‘ کی سلطنت کے وزیراعظم، انقلابی اور پاک صاف باور کرائے جا رہے ہیں جبکہ سراج الحق کی طرف کوئی توجہ نہیں دلا رہا۔”

“تشویش مجھے اس بات کی ہے کہ پاکستان کا لبرل میڈیا اپنے رویے سے جماعت اسلامی کو یہ سبق دے رہا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے بجائے تشدد اور دھرنوں کی طرف مائل ہوجائے”

محرکات کے علاوہ ان کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب بھی میری ناقص رائے میں انہی دو جملوں میں پوشیدہ ہے. صافی صاحب تو تحریک انصاف کی قیادت کو انقلابی اور پاک صاف قرار دینے پہ شکوہ کناں ہیں جبکہ میری رائے میں اسلامی انقلاب اور پاک صاف قیادت کی دعویدار جماعت اسلامی اپنے انہی نعروں اور دعووں کی وجہ سے مقبولیت کھو بیٹھی ہے. صافی صاحب “لبرل” میڈیا سے نالاں ہیں کہ وہ جماعت اسلامی کو تشدد اور دھرنوں کی طرف مائل کر رہا ہے جبکہ میری رائے میں ہر مخالف پر لبرل, بیرونی ایجنٹ اور بے حیائی پھیلانے کا بے دھڑک الزام لگانا بھی مذہبی جماعتوں کی غیر مقبولیت کی ایک وجہ ہے اور تشدد اور دھرنا تو خالصتاً جماعت کے عطا کردہ تحفے ہیں. کرپشن سے پاک ہونے کے دعوے کی حقیقت بھی ہر اس حلقے کے لوگ بہتر جانتے ہیں جہاں جماعت کو کبھی اقتدار یا مقامی انتظامیہ میں کچھ حصہ ملا. مستثنیات البتہ جماعت سمیت ہر سیاسی پارٹی میں موجود ہیں. میں ہمیشہ جماعت کی قیادت کے سامنے یہ سوال رکھتا ہوں کہ آپ کے منشور میں شامل ہے کہ متناسب نمائندگی کے طریقہ انتخاب کیلیے کوشش کی جائے گی مگر گو امریکہ گو جیسی لاحاصل تحریکیں تو چلائی گئیں مگر منشور پہ عمل کیلیے کچھ نہیں کیا گیا.

افسوس کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کا پس منظر رکھنے والے ہمارے دوست آج تک یہ حقیقت سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان کے عوام نے مذہب کے نام پر سیاست کو ہمیشہ ناپسند کیا ہے. صالح ہونے کا دعوٰی رکھنے اور بزور اسلام نافذ کرنے کی خواہش رکھنے والوں پر اپنے جیسے گناہگاروں کو ہمیشہ ترجیح دی ہے.اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ جماعت کے اندر جمہوریت کا مقابلہ کوئی دوسری سیاسی جماعت نہیں کر سکتی. خدمت کے شعبے میں جماعت کا کام بھی بے مثال ہے. مگر شاید لوگوں کو لگتا ہے کہ اس سب کے پیچھے اقتدار کی خواہش ہے جبکہ عمران خان نے جب کینسر ہسپتال بنایا تھا اس وقت ان کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں تھے. صافی صاحب نے طیب اردوان کا حوالہ دیا. جماعت اسلامی کو اردووان صاحب سے سیکھنا چاہیے. سیاست, خدمت اور دعوت کی کھچڑی پکانے کی بجائے ہر شعبے کو علیحدہ کر کے موزوں افراد ہر شعبے کیلیے مخصوص کرنے چاہیے. مثال کے طور پر سید منور حسن صاحب دعوت کے شعبے کیلیے تو موزوں تھے مگر سیاست کیلیے قطعاً موزوں نہیں تھے. سیاست کو فرشتوں سے علیحدہ کرکے انسانوں کے حوالے کردینے سے بہتری کی امید رکھی جاسکتی ہے میڈیا کو طعنے دینے سے نہیں.

Avatar
فاروق امام
پسماندہ کہلائے اور رکھے جانے والے علاقے سے تعلق رکھنے والا ایک عام پاکستانی. ہر پاکستانی کی طرح ویلا مصروف اور نویلا " دانشگرد"

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *