• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • پرسپیکٹو کیا ہے؟۔۔۔۔۔محمد جواد عمر/حصہ چہارم (آخری حصہ)

پرسپیکٹو کیا ہے؟۔۔۔۔۔محمد جواد عمر/حصہ چہارم (آخری حصہ)

اگر ہم فضاء میں بلند خود سے کافی دور کسی متحرک چیز جس کی حرکت کی سمت ہمارے لیے عمودی Perpendicular ہو ,،کا مشاہدہ کریں تو پرسپیکٹو کے عمل کی وجہ سے اس کی حرکت کا راستہ ہمیں آرک نما دیکھائی دیتا ہے ،یعنی اس راستہ پر درمیان میں سے وہ چیز ہمیں زمین سے زیادہ بلند جبکہ شروع اور آخر پر ہمیں زمین کی جانب جھکتی ہوئی زمین سے قریب لگتی نظر آتی ہے،مثال کے طور ہم میں سے اکثر لوگوں نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ جب ہم دور سے آندھی کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھتے ہیں تو دور سے ہمیں وہ درمیان سے بلند جبکہ کناروں پر زمین سے لگی ہوئی دیکھائی دیتی ہے وہ ایک قوس بنا کر آرہی ہوتی ہے اور ہم یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ شاید آندھی کا درمیان والا حصہ کنارے والے حصوں سے رفتار میں زیادہ آگے ہے اس لیے وہ آگے بڑھا ہوا اور بلند ہے حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک سیدھ میں آگے بڑھ رہی ہوتی ہے اور پرسپیکٹو کی وجہ سے ہمیں ایسا دیکھائی دے رہا ہوتا ہے ،پرسپیکٹو کے اس ہی فینا من کو نام نہاد فلیٹ ارتھرز جیسے Eric Dubay , D.r Zack نے قطب جنوبی کے ستاروں کی جنوبی قطبی مرکز کے گرد حرکت ( Southern hemisphere Star trails ) کے نظارے کی وجہ بنا کر پیش کیا ہے ،مگر وہ یہاں ایک بار پھر دھوکا دہی سے کام لے رہے ہیں میں یہاں زیادہ تفصیلی وضاحت کے بغیر اتنا کہوں گا کہ اگر قطب جنوبی پر star trails کا جنوبی قطبی مرکز کے گرد گھومنے کی وجہ اوپر بیان کیا گیا پرسپیکٹو ہے تو ہمیں پاکستان سے آسمان پر جنوب میں دیکھائی دینے والے ستارے بھی شمالی قطبی مرکز کی بجائے پرسپیکٹو کی وجہ سے جنوبی قطبی مرکز کے گرد گھومتے نظر آتے.
اب ذرا Star Trails کے بارے حقیقی مشاہدے کی بات ہوجائے کیونکہ اکثر قارئین اس سے ناواقف ہوسکتے ہیں ، Star Trails سے مراد رات کو آسمان پر تمام نظر آنے والے اجرام فلکی کی زمین کی محوری گردش کی وجہ سے مشرق سے مغرب کی طرف حرکت کے راستہ کی مکمل لائنوں کی صورت میں نشان دہی ،خط استوا سے شمال کے ممالک میں تمام اجرام فلکی شمالی قطبی مرکز کے گرد Anticlockwise مشرق سے مغرب گھومتے نظر آتے ہیں جبکہ خط استوا سے جنوب کے ممالک میں تمام اجرام فلکی جنوبی قطبی مرکز کے گرد clockwise گھومتے نظر آتے جو بعین ایک گیند نما زمین پر ہی ممکن ہے مگر فلیٹ ارتھ تھیوری کے مطابق تمام اجرام فلکی لامتناہی پلین زمین پر صرف ایک ہی مرکز یعنی شمالی قطب کے گرد گومتے ہیں ،اگر آپ کسی بڑے نام نہاد فلیٹ ارتھر سے یہ سوال پوچھیں کہ قطب جنوبی میں ستاروں کی ٹریلز جنوبی قطبی مرکز کے گرد گھڑی وار کیوں ہے تو وہ لازمی طور پر آپ کو Eric Dubay کی دھوکا دہی پر مبنی ویڈیو دیکھائیں گے جس کی پہلے تو آپ کو سمجھ ہی نہیں آئے گی اگر محنت کرکے سمجھ آ بھی گئی تو آپ کو اس پوسٹ کے اوائل میں بیان کیے گئے پرسپیکٹو کو من گھڑت طور پر غلط انداز میں بتا کر وجہ بتانے کی کوشش کی ہوئی ملے گی .
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمیں آسمان گنبد نما (Dome) کیوں دیکھائی دیتا ہے تو جناب اس کی وجہ بھی وہی پرسپیکٹو ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے اور کیا کبھی آپ کے زہن میں یہ سوال بھی آیا ہے کہ زمین پر کھڑے ہوکر ہمیں آسمان یا بادل گنبد بناتے تو دیکھائی دیتے ہیں مگر جب ہم جہاز میں بیٹھ کر نیچے زمین کو دیکھتے ہیں تو زمین ہمیں پرسپیکٹو کی وجہ سے گنبد Dome نما کیوں نہیں دیکھائی دیتی بلکہ بالکل پلین دیکھائی دیتی ہے ؟
*یہاں اس ہی مشاہدے سے فلیٹ ارتھرز زمین کو فلیٹ بنانے کی ایک مضبوط کوشش کے ذریعے عام فہم لوگوں کو ورغلا جاتے ہیں*
حالنکہ اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو مختصر طور پر جب آپ جہاز سے نیچے زمین کو دیکھیتے ہیں تو پرسپیکٹو اور زمین کا کروی خم ایک دوسرے کو ختم کردیتے ہیں اس لیے زمین ہمیں فلیٹ نظر آتی ہے یعنی جب آپ زمین پر کھڑے ہوکر آسمان کا مہراب بنا دیکھتے ہیں تو یہ پرسپیکٹو ہوگا جب آپ بادلوں سے پار بلند اوپر سے نیچے زمین کو دیکھیں گے تو زمین کے کروی خم کو پرسپیکٹو ختم کردے گا .
فلیٹ ارتھ تھیوری پچاس فیصد سے زائد پرسپیکٹو Perspective پر استوار ہے ،اس تھیوری میں تمام مشاہدات کو پرسپیکٹو کے ذریعے غلط لبادہ اوڑھا کر ترتیب دیا گیا ہے ،کیونکہ زیادہ تر لوگ ایک بہت ہی اہم عمل Optical visionary phenomenon perspective سے ناواقف ہیں اس لیے وہ فلیٹ ارتھر بن جاتے ہیں .
اس وقت پوری دنیا میں فلیٹ ارتھ تھیوری جو ایک طرح سے قدیم تھیوری ہے مگر اس کو تاریخ کے بہت سارے محقیقین و مفکرین درست نہیں مانتے تھے جیسے ارشمیدس ، ارسطو ، وغیرہ ,سولہویں صدی سے پہلے زمین کو فلیٹ نہ ماننا جرم سمجھا جاتا تھا کیوں کہ تحریف شدہ بائبل کے مطابق من گھڑت طور پر زمین کو مشاہداتی طور پر فلیٹ گردانا گیا تھا ،مگر گلیلیو نے دوربین کی ایجاد کے بعد باقائدہ طور پر زمین کو گیند نما کہا .
مسلمان سائنسدان بھی زمین کو گیند نما مانتے تھے اور انھوں نے یونانیوں کے تجربات کو دہرا کر نئے انداز میں تحقیق سے ثابت کیا کہ زمین فلیٹ نہیں بلکہ گیند نما ہے .
نوٹ : میں نے عنوان تحریر “پرسپیکٹو کیا ہے” کو ایسے لوگوں کے لیے لکھا ہے جو سائنس کے علم سے زیادہ واقف نہیں اس لیے اس تحریر کے تمام حصوں میں میں نے سائنسی پچیدہ اصطلاحات لکھنے سے گریز کیا تاکہ سب کو آسانی سے سمجھایا جاسکے ،اس تحریر میں تمام پہلوؤں میں صرف پرسپیکٹو کے تعلق کے حوالہ سے بات کی گئی ہے دوسرے عوامل کو شامل نہیں کیا گیا

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *