• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • امریکہ سعودی معاملات اور پاکستان ۔۔۔ عمیر فاروق

امریکہ سعودی معاملات اور پاکستان ۔۔۔ عمیر فاروق

جمال خشوجی کے قتل کے نتیجہ میں امریکہ میں متعین سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان سعودیہ پہنچ چکے ہیں اور امریکی دباؤ ہے کہ موجودہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد کے عہدہ سے برطرف کرکے اس کی جگہ خالد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کیا جائے۔

اس کو تسلیم کرتے ہوئے کہ جمال خشوجی کا قتل یقیناً ناقابل دفاع بہیمانہ جرم تھا سوال یہ ہے کہ صحافی تو کشمیر میں بھی قتل ہوتے رہے لیکن امریکہ اتنا سنجیدہ کبھی نہ ہوا جتنا اب ہوگیا ۔ آخر کیوں؟

یہ انسانی حقوق کا معاملہ نہین بلکہ سیاسی اور معاشی مفادات کا معاملہ ہے جبھی امریکہ نے اتنا سخت مؤقف اپنایا۔

اس کی وجہ سمجھنے سے قبل ضروری ہے کہ خود امریکہ کے لئے سعودیہ کی اہمیت کو واضح طور سے سمجھا جائے ۔ سعودیہ امریکہ کے لئے برطانیہ یا اسرائیل سے بھی زیادہ اہم ہے یہاں امریکی مفادات کسی بھی ملک سے زیادہ گہرے اور گوناگوں ہیں۔

اوّل کہ سعودیہ اور خیلجی ممالک کا پٹرولیم ڈالر مین ہی بکتا رہے تاکہ ڈالر بطور عالمی کرنسی امریکہ کی معیشت کی بنیاد رہے۔

دوم سعودیہ اسلامی دہشت گردی کے مالی اور نظریاتی پاور ہاؤس کا کام کرتا رہے تاکہ مشرق وسطی، چین روس وغیرہ کہیں بھی کسی بھی خطہ کو امریکی اشارہ پہ دہشت گردی کا شکار کرکے سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار کیا جاسکے
سوم مسلم ملکوں کی اندر کی سیاست، امریکہ مسلم ملکوں کے ترقی پسند اور روشن خیال طبقہ پہ این جی اوز کے ذریعے اثر انداز ہوتا ہے اور روایت پسند مذہبی طبقہ پہ سعودیہ کے ذریعے ، اس طرح جو طبقہ بھی طاقت میں آئے بالوسطہ یا بلاواسطہ امریکہ کے ہی زیراثر رہتا ہے۔

سعودیہ  کی اہمیت سمجھنے کے بعد ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ بالاخر امریکہ شہزادہ محمد سے برافروختہ کیوں ہے ؟

ہوا یہ کہ گزشتہ دور میں شہزادہ محمد نے سعودیہ کی تاریخ کے اہم اور انقلابی فیصلے کئے۔ اس نے سعودیہ کی روایتی پالیسی کہ سیکیورٹی کے لئے صرف امریکہ پہ انحصار کیا جائے سے چھٹکارا پانے کا فیصلہ کیا اور پہلی بار روس اور چین سے بیک وقت تعلقات اور اعتماد کا رشتہ قائم کرنے کی طرف بڑھا اور کامیاب رہا، یقیناً پس پردہ اس میں پاکستان کو بھی کردار رہا۔چین اور روس کو یقین دلایا گیا  کہ اسلامی دہشت گردی کے ضمن میں اقدامات کیے جائیں گے لیکن چین کے ساتھ پٹرولیم کی یوان میں فروخت کا اصولی معاہدہ بہت اہم اور دھماکہ خیز تھا البتہ اس پہ ابھی عمل شروع نہیں ہوا۔

یہ سب امریکہ کے لئے پریشان کن تھا کہ سعودیہ کا سی پیک میں عملی شراکت کا معاہدہ امریکی اونٹ کی کمر پہ آخری تنکا ثابت ہوا تب سے سعودیہ امریکہ تعلقات تناؤ کا شکار ہیں امریکہ یہ برداشت ہی نہیں کرسکتا کہ سعودیہ اس کی اجاراداری سے باہر نکلے یہ امریکہ کی عالمی سلطنت کے لئے خطرہ ہے۔

عمران کے دورہ سعودیہ کو صرف پاکستان کے معاشی تناظر میں دیکھنا غلطی ہوگی۔  ملائشیا اور چین کا مجوزہ دورہ بہت اہم ہے۔ چین اس وقت بہت طاقت کی پوزیشن میں ہے اور روس کے ساتھ اس کا ملاپ فوجی طاقت کی کمی کو پورا کرتا ہے۔

ملائشیا میں مہاتیر محمد دوبارہ اقتدار میں ہے ، وہی مہاتیر محمد جس نے برسوں قبل یہ کہا تھا کہ آخر مسلم ممالک تیل ڈالر میں بیچنا ترک کرکے امریکہ کو گھٹنوں کے بل کیوں نہیں لاتے ؟

دیکھنا یہ ہے کہ سعودی کیا چپ چاپ اس دفعہ بھی امریکی دباؤ کے آگے ڈھیر ہوجاتے ہیں ؟

میرا خیال ہے نہیں۔  عمران یقیناً کوئی اہم سعودی پیغام لیکر چین اور ملائشیا جارہا ہے۔ شائد شہزادہ محمد نے مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر سعودیہ نے فی الحال درمیانی راہ اپنائی ہے اور شہزادہ محمد کو معزول کرنے کی بجائے شاہ سلمان نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں۔  کچھ انتظار کرتے نظر آتے ہیں وہ بھی۔
آنے والے دن عالمی اور خطہ کی سیاست میں بہت اہم ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کوئی دھماکہ نہیں ہوگا۔ اہم فیصلے ہوجائیں گے جو کم سے کم ہمارے یا انڈین میڈیا کی کوئی خاص زینت نہ بنیں گے اور ان کو معمول سمجھا جائے گا۔

آخر میں یہ کہ کل چند دوستونں کو کہا تھا کہ یمن کے معاملہ پہ کوئی ثالثی نہیں ہورہی،
اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں یمن کے قضیہ پہ ثالثی کا امکان موجود ہے۔

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *