• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اسلامی جمعیت طلبہ – پنجاب یونیورسٹی اور دہشت گرد۔۔۔۔۔غیور شاہ

اسلامی جمعیت طلبہ – پنجاب یونیورسٹی اور دہشت گرد۔۔۔۔۔غیور شاہ

پنجاب یونیورسٹی سمیت میں خصوصاً  جبکہ دوسرے تعلیمی اداروں میں عموماً  ہنگامہ آرائی یا توڑ پھوڑ ہو، اسلحہ کی نمائش ہو، طلبہ اور طالبات پر تشدد کے واقعات ہوں، طالبات اور اساتذہ کی بے حرمتی کی جائے یا کسی نہتے طالب علم کا خون ناحق بہایا جائے تو اسلامی جمیعت طلبہ کا نام ہی ذہن میں آتا ہے – جس کی سب سے بنیادی وجہ یہی ہے کہ جماعت اسلامی کی ذیلی طلبہ تنظیم ہونے کے ناطے اسلامی جمیعت طلبہ اپنے تیئں پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنے کی داعی ہے – اس لئے وہ اپنے کارکنوں کی طرف سے کی جانے والی تخریب کاری، مجرمانہ اور طلبہ دشمن سرگرمیوں کو بڑے مقاصد کے حصول کے لئیے “چھوٹی موٹی” برائی قبول کرنے کا جواز فراہم کرتے ہیں –

جماعت اسلامی نے قیام پاکستان کے بعد 1948ء میں اسلامی جمیعت طلبہ کی بنیاد رکھ دی تھی جس کا بنیادی کام طلبہ کو سیاست سے باز رکھنا اور طلبہ میں اسلامی تعلیمات سے متعلق آگاہی پیدا کرنا تھا ۔ جنرل ایوب ےکے  مارشل لاء کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کا کوئی کردار نظر نہیں آتا، ماسوائے اس دور کے اختتام پر آخری چند ماہ کے دوران جب 1968ء میں ایوبی آمریت کے خلاف طلبہ اور عوام کی عظیم جمہوری تحریک کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی تھی ۔ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) کی اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے یکایک اور راتوں رات جمیعت نے روپ بدلہ اور سیاسی بن گئی – جمیعت نے طلبہ سیاست میں قدم رکھتے ہی طلبہ تحریک کو نام نہاد نظریاتی تقسیم کا شکار کرنا شروع کر دیا – آمریت کے خلاف بر سر پیکار سیاسی اور طلبہ راہنماؤں کے خلاف اسلام دشمنی کے فتوؤں کی گونج سنائی دینے لگی – یوں جماعت اسلامی اور اسلامی جمیعت طلبہ نے مذہب کا سیاست میں استعمال کر کے عوامی جمہوری تحریک کو زک پہنچانے کے لئے حتی المقدور کوشش کی –

تعلیمی اداروں میں جمیعت کا مؤثر عمل دخل جنرل یحییٰ کے وزیر اطلاعات جنرل شیر علی خاں پٹودی (بھارتی اداکار سیف علی خاں کے سگے تایا) کی سر پرستی میں شروع ہوا – اسے ریاستی اداروں کی جانب سے مذہبی, سیاسی تحریکوں اور انتہا پسندوں کی پشت پناہی کا آغاز کہنا غلط نہ ہو گا – یہ یاد رہے کہ اس وقت جماعت اسلامی کے امیر میاں محمد طفیل مرحوم نے یحییٰ مارشل لا کو اسلام دوست حکومت کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری کر دیا تھا ۔

دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی جمیعت طلبہ نے کراچی اور پنجاب کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کر دئیے ۔ پر امن تعلیمی ماحول پراگندہ ہونے لگا –  ڈنڈہ بردار جتھے دندناتے نظر آنے لگے، چاقو اور پستول کا کلچر پرورش پانے لگا ۔ نوجوانوں میں مذہبی انتہا پسندی یا یوں کہیے کہ طالبانی اسلام کے بیج بوئے جانے کا آغاز ہوچکا تھا –

مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش، اندرون سندھ، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں بوجوہ جمیعت کے قدم نہ جمنے پائے کیونکہ ایک تو وہاں جماعت اسلامی کا سیاسی اور نظریاتی اثر نہ ہونے کے برابر تھا، دوسرا بنگالی، سندھی، پختون اور بلوچ قوم پرست تحریکوں کے ابھار نے اسلامی نظام کی نعرہ بازی کو پسپا کر دیا تھا – مگر اس کے باوجود جنرل یحیی کی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ البدر اور الشمس جیسے دہشت گرد گروپ پیدا کئے گئے جو اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے نوجوان تھنڈر سکواڈز پر مشتمل تھے – یہاں سے ہی اسلامی جمعیت طلبہ نے تشدد اور اسلحہ کا استعمال سیکھا اور انسانی خون بہانے کی لت میں بھی مبتلا ہوئے –

جنرل ضیا کا مارشل لا، جماعت اسلامی اور اسلامی جمیعت طلبہ کے لئے سونے پہ سہاگہ ثابت ہوا ۔ بھٹو کو تختہ دار تک پہنچانے کے لئے جماعت اسلامی اور جمیعت نے فوجی آمر ضیاء کا بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے ساتھ دیا – یاد رہے کہ جماعت اسلامی فوجی آمر ضیاء کی حکومت کا حصہ بھی رہی – جنرل ضیاء نے سیاسی اور طلبہ سرگرمیوں اور منتخب طلبہ یونینوں پر پابندیاں لگا دیں ۔ مگر اسلامی جمیعت طلبہ نے ضیاء مارشل لا کی سر پرستی میں آزادی سے تعلیمی اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا کام جاری رکھا ۔ اس کے برعکس ترقی پسند طلبہ تنظیموں پر نہ صرف پابندی لگائی گئی بلکہ ان کے راہنماؤں کو گرفتار کر کے ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قید کی سزاؤں کا حق دار ٹھہرایا گیا –

افغانستان میں سوویت یونین کی فوجی مداخلت کے خلاف امریکی سرپرستی میں نام نہاد جہاد سے جماعت اسلامی اور اسلامی جمیعت طلبہ کے وارے نیارے ہو گئے – کارکنوں کو مسلح جنگ کی تربیت، ڈالروں اور اسلحہ کی ریل پیل نے جماعت اسلامی اور جمیعت طلبہ کو طاقت کے نشے میں مخمور کر دیا – کس کی مجال تھی کہ ان کے آگے پر مار سکے – طالب علم، اساتذہ اور انتظامیہ جمیعت کی طاقت کے سامنے بھیگی بلی بنے نظر آتے تھے اور بشمول راقم جو سر اٹھاتے تھے وہ شدید پھینٹی بھی کھاتے تھے اور جھوٹے مقدمات کا سامنا بھی کرتے تھے –

اس دوران تعلیمی اداروں خصوصاً  پنجاب یونیورسٹی کے  ہاسٹلز نام نہاد جہادیوں کی پناہ گاہیں بن چکی تھیں ۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو دھمکیاں دینا, انہیں مارنا پیٹنا تک ایک معمول بن چکا تھا – جماعت اسلامی کے سابق ممبر اسمبلی نے ایک استاد کو تھپڑ مارا تو جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کو بھی یہ افسوس کرنا پڑا کہ “تم نے میری ساری زندگی کی جدوجہد کو ضائع کر دیا” – پنجاب یونیورسٹی کے سابقہ وائس  چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کو بھی جمعیت کے ایک ہوسٹل ناظم شہزاد نے تھپڑ مارا تھا – جبکہ یکم اپریل 2010ء جامعہ پنجاب کا اساتذہ کی تذلیل کے حوالہ سے شاید سب سے سیاہ ترین دن تھا جب شعبہ ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز کے پروفیسر اور چئیرمین ڈسپلن کمیٹی افتخار بلوچ پر اسلامی جمیعت کے 30 سے زائد کارکنوں  نے قاتلانہ حملہ کیا اور ان کو اس وقت تک مارا گیا جب تک کہ اپنے طور پر یقین نہ آگیا کہ وہ مر چکے ہیں – لیکن اس قاتلانہ حملے میں افتخار بلوچ صاحب بمشکل بچ گئے تھے ۔ اُن کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے جمعیت کے لیڈروں کو یونیورسٹی سے نکالنے کی جرات کی تھی –

اساتذہ پر ہونے والی یہ گستاخی کسی بھی دہشت گردی سے ہرگز کم نہیں ہے مگر پھر بھی اتمام حجت کے لئیے صرف ماضی قریب کے ہی چند اور دہشت گرد واقعات کا ذکر ضمناً  کر دیتے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھ ہر طرح کی دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں –

دہشت گرد تنظیم “جند اللہ” کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس کے مؤجد اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین ہی ہیں – لاہور، شکارپور اور کراچی کے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم “جند اللہ” کا بانی شیخ عطا الرحمان جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کا رہنما تھا ۔ عطاء الرحمان سابق کور کمانڈر کراچی پر قاتلانہ حملہ کے جرم میں گرفتار ہوا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت سے اُسے سزائے موت سنائی گئی تھی ۔

اس کے علاوہ 2012ء میں شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں اسلامی جمعیت طلبہ کا ایک لیڈر، جو NED انجینئرنگ کا گریجویٹ تھا، ہلاک ہوگیا – ’انصار الشریعہ‘ نامی دہشت گرد تنظیم کا کمانڈر سروش صدیقی فزکس کا پوسٹ گریجویٹ طالب علم بھی اسلامی جمعیت طلبہ کا رکن درجہ کا ممبر رہا ہے – ستمبر 2013ء میں خفیہ اداروں نے جامعہ پنجاب کے ہاسٹل کے ایک کمرے سے ایک ہائی پروفائل القاعدہ دہشت گرد کو گرفتار کیا تھا اور جمعیت ہی کے ایک ناظم شہزاد کی گرفتاری بھی اس ضمن میں عمل میں آئی تھی کیونکہ اس نے اس دہشت گرد کو کافی دنوں سے ہاسٹل میں چھپا کر رکھا ہوا تھا – امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قاتل عمر سعید شیخ، القاعدہ کے آئی ٹی ایکسپرٹ نعیم نور خان، القاعدہ کے کارکن ڈاکٹر ارشد وحید، ٹائم اسکوئر کے منصوبہ ساز فیصل شہزاد، ڈنمارک کے سفارت خانے پر حملے کے ذمہ دار حماد عادل اور کراچی ڈاک یارڈ سے نیوی کے جہاز کا ہائی جیکر اویس جاکھرانی جیسے ہائی پروفائل دہشت گردوں کی اکثریت جمعیت کے عہدے دار رہی ہے اور جمعیت سے تعلق کی وجہ سے ہی القاعدہ سے منسلک ہوئے اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث رہے ہیں –

مذہبی دہشت گردی کو تو جمعیت ہمیشہ جہاد کا نام دے کر بچنے کی کوشش کرتی ہے مگر مذہب کے نام پر سادہ لوح طلبہ و طالبات کو بےوقوف بنانے اور گمراہ کرنے والی اس مذہبی فاشسٹ تنظیم جمعیت کے کارکنوں کی اخلاقی حالت بھی بہت گھٹیا ہی ہے – اس کا مظاہرہ 2 دسمبر 2013ء میں ہونے والے ایک پولیس  آپریشن کے دوران ہوا جب سابق وی سی کے حکم پر یونیورسٹی ہاسٹل نمبر 16 کو خالی کرانے کے لئے پولیس کی مدد طلب کی گئی ۔جمعیت کے اس وقت کے ناظم نے کچھ جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مل کر نہ صرف ہاسٹل پہ ناجائز قبضہ کر رکھا تھا بلکہ اسے  غیر اخلاقی سرگرمیوں کا مرکز بھی بنا رکھا تھا -اس ناجائز قبضہ کے خلاف کارروائی میں شراب کی بوتلیں، بھنگ، چرس کے سگریٹ اور اسلحہ برآمد کیا گیا تھا۔ اس دوران جمعیت کے کارکنان نے پولیس پہ پتھراؤ بھی کیا تھا –

قصہ مختصر کہ سوویت فوجوں کے انخلاء کے بعد جہادی گروہوں کی اہمیت ختم ہو گئی ہے اور جہادیوں اور ان کے حامیوں کو ڈالروں کی تھیلیاں ملنی بند ہو گئی ہیں – اس نام نہاد جہاد کے منطقی نتیجے میں دہشت گرد افغانستان کی سرحدوں کو عبور کرکے پاکستان کے کونے کونے میں تباہی پھیلانے لگ گئے ہیں ۔ مذہب کے نام پر خودکش اور دہشت گرد حملوں میں ہزاروں معصوم پاکستانی عوام کو زندگیوں سے محروم ہونا پڑ رہا ہے – اس طرح بلآخر پاکستانی عوام کے سامنے نام نہاد جہاد کا دہشت گرد چہرہ بھی بے نقاب ہونے لگا ہے – خودکش اور دہشت گرد حملوں کی گونج امریکہ اور یورپی شہروں میں بھی سنائی دینے لگی ہے – اور دہشت گردی کا یہ عفریت اتنا طاقتور ھو چکا ہے کہ اس نے اپنے خالق امریکہ کو بھی للکارنا شروع کر دیا ہے ۔ لہذا وقت کی نزاکت کے تحت جماعت اسلامی اور جمعیت نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی کیونکہ ان پاکستان میں حالات نے نیا موڑ لیا ہے اور نام نہاد جہاد کی کھلی حمایت کرنا مشکل نظر آتا ہے – اسامہ بن لادن کے علاوہ القاعدہ اور طالبان کے کئی سر کردہ دہشت گرد راہ ملک عدم  ہو چکے ہیں – تین دھائیوں (یعنی 30 سالوں) سے زیادہ عرصہ نام نہاد جہاد کے نام پر دہشت گردی کی مدد گار اور مدافعت کرنے والی جماعت اسلامی اور اسلامی جمیعت طلبہ کا اصل چہرہ اب عوام میں بے نقاب ہونے سے بچانے کے لئیے اسلامی جمیعت طلبہ کو اپنی آخری پناہ گاہ پنجاب یونیورسٹی ہی نظر آتی ہے – اس لئیے  اس پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے وہ ہر جتن کر رہی ہے – یہ الگ بات ہے کہ عامہ الناس کی اس بیداری کے نتیجہ میں اب جامعہ پنجاب میں بھی طلبہ و طالبات جمعیت کی غنڈہ گردی کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں – یہ بھی کیا کم ہے کہ جمعیت کے سابق عہدے دار اور موجودہ وی سی ڈاکٹر نیاز کو بھی بالآخر یونیورسٹی کی ایک طالبہ کے شوہر کو پھینٹی لگانے والے 5 جمعیت کارکنوں اور ایک سیکورٹی گارڈ کو تماشہ دیکھنے کے جرم میں معطل کرنا پڑا جس کا ہمارے دور میں کوئی تصور تک نہ تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”اسلامی جمعیت طلبہ – پنجاب یونیورسٹی اور دہشت گرد۔۔۔۔۔غیور شاہ

  1. میرے ایک دوست نے بتایا ہے کہ مودودی صاحب کے بیٹے بھی یہی خیالات رکھتے ہیں جن کی آپ بات کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔جمعیت کو جماعت سے علیحدہ ہونا چاہیے

    1. جمعیت ہمیشہ سے خود کو جماعت سے الگ ہی کہتی رہی ہے – مگر درحقیقت نتھا سنگھ & بنتا سنگھ ون & سیم تھنگ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *