سپاہ سالار جنرل محمد موسی خان ہزارہ ۔۔۔ اسحاق محمدی

پاکستان آرمی کے سابق کمانڈر انچیف جنرل محمد موسی خان ہزارہ 20 اکتوبر 1908ء کو کوئیٹہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سردار یزدان بخش خان المعروف یزدان خان نے 1890ء میں امیر جابر عبدالرحمان خان کی ہزارہ نسل کشی کی پالیسی سے بچنے کے لئے اس وقت کی برٹش بلوچستان میں مہاجرت اختیار کی تھی۔ وہ ہزارہ پائینر میں نائب صوبیدار کے عہدہ پر تھے، جہاں سے وہ ایک داخلی چپقلیش کی بنا پر قبل از وقت ریٹائر ہوئے تھے۔ موسی خان ہزارہ نے میٹرک تک تعلیم سنڈیمن ہائی سکول میں حاصل کی۔ سردار یزدان خان کے تعلقات ہزارہ پائینر کے بانی جنرل جیکب سے بہت اچھے تھے، انہی کی سفارش پر نوجوان موسی خان نےسپاہی کی حیثیت 18 روپے ماہوار تنخواہ پر 1926ء میں ہزارہ پائنر میں شمولیت اختیار کی۔ ہزارہ پائنر بنیادی طور پر انجئیرنگ کور کا حصہ تھا جس کے ذمے مواصلات یعنی روڈ، ریلوے ٹریکس کی تعمیر و دیکھ بھال تھا۔ اس وقت ہزارہ پائنر ژوب میں تعینات تھا۔ نوجوان موسی خان کیلئے یہ سخت امتحان کا دور تھا کیونکہ اسے سخت ترین جسمانی مشقت جیسے بیلچہ،کدال، جبل کا کام کرکے پہاڑ کاٹنا پڑ رہا تھا۔ بقول ان کے اس وقت ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے اور کام کے دوران خون رس رہا تھا لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔ 

1927ء میں ان کی شادی ان کی کزن خانم گل شاہ سے ہوئی۔ بالآخر 6 سال کی طویل محنت، مشقت اور انتظار کے بعد 1932ء میں موسی خان ھزارہ پہلے 40 مقامی انڈیئنز کے ساتھ برٹش آرمی آفیسرز رینک میں شامل ہوگئے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل مقامی لوگ صرف صوبیدار میجر کے عہدہ (نان کمیشنڈ آفیسر) تک ترقی کے حق دار تھے۔ ڈیرہ دھون ملٹری ایکیڈمی میں انکی تربیت ہوئی جہاں سے وہ 1935ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔ 1941ء – 1938ء میں وہ دوسری عالمی جنگ کے دوران برما اور شمالی افریقی محاذ پر تعینات رہے۔ شمالی افریقہ کے محاذ پر اعلی عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے پر وہ “آرڈر آف دی برٹش ایمپائر” سے بھی نوازے گئے جو بہت کم ہندوستانیوں کے حصے میں آئے۔ محمد موسی خان ہزارہ  کی ترقی کے مدارج:

 

1937ء لیفٹینینٹ

1941ء کیپٹن  

1942ء میجر 

1947ء لیفٹینینٹ کرنل 

1948ء برگیڈیئر

1951ء میجر جنرل  اور کمانڈر مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش)

1957 لیفٹینینٹ جنرل کے عہدے پر ترقی اور چیف آف اسٹاف مقرر

27 اکتوبر 1958ء کو فُل جرنل کے عہدے پر ترقی اور، پاکستان مسلح افواج کے کمانڈرانچیف مقرر ہوئے۔ اس طرح 1926ء میں ایک عام سپاہی کی حیثیت سے اپنے سفر کا آغاز ہزارہ پائینر سے کرنے والے محمد موسی خان ہزارہ اپنی انتھک محنت، لگن اور استقامت سے 32 سال بعد دنیا کی پانچویں بڑی فوج کے سپاہ سالار کے اعلی ترین عہدے پر فائز ہوگئے۔

امپیریل ڈیفنس کالج لندن سیمت دنیا کی بہترین عسکری درسگاہوں سے فارغ التحصیل جنرل محمد موسی خان ہزارہ ایک خالص پیشہ ور آرمی سربراہ کی حیثیت سے اپنی فوج کی پیشہ ورانہ تربیت اور جنگی صلاحیتوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید آلات حرب و ضرب کی خریداری پر خاصی توجہ دی جس کا ذکر انہوں نے تفصیل سے اپنی کتابوں “جوان ٹو جنرل” اور “مائی ورژن” میں کیا ھے۔ وہ خاص طور لیڈرشپ کوالٹی پر زیادہ زور دیتے تھے۔ بقول ان کے چاہے کوئی 10 سپاہیوں کی کمانڈ کررہے ہو یا پوری فوج کی ان میں قائدانہ صلاحیت اس حد تک ضروری ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں”۔ انکی یہ کاوشیں 1965ء کی پاک – بھارت جنگ کے دوران کام آئی جب پاکستانی افواج نے پانچ گنا بڑی حملہ آور بھارتی افواج کا مشرقی و مغربی پاکستان کی بری، بحری اور فضا میں ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ لاہور، سیالکوٹ اور چونڈہ میں دونوں ملکوں کی تاریخ کی بڑی لڑائیاں لڑی گئیں۔ خاص طور پراس میں چونڈہ کا محاذ اس وجہ زیادہ مشہور ہوا جہاں دونوں ملکوں کی طرف دوسری عالمی جنگ کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی لڑی گئی جس میں بھارت کی طرف سے 225 ٹینک اور ڈیڑھ لاکھ آرمی کا مقابلہ پاکستان کے 150 ٹینک اور پچاس ہزار آرمی کررہی تھی۔ اس مشہور جنگ کے بارے میں خود جنرل موسی خان نے ایک محفل کے دوران بتایا کہ “وہ قیامت کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اس دن چونڈہ کا محاذ ایک قیامت کا منظر پیش کررہا تھا۔ زمین میں سینکڑوں ٹینکیں گولے داغ رہے تھے جبکہ فضا سے جنگی جہاز آگ برسا رہے تھے۔ بقول ان کے اس وقت وہ ایک ہیلی کاپٹر سے اس ہولناک مناظر کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی فوج کی کمان بھی سنبھال رہے تھے”۔ یہ بات مشہورھے کہ بھارتی جنرل نے 6 ستمبر کی رات حملہ کرتے ہوئے دعوا کیا تھا کہ وہ ناشتہ لاہور جیم خانہ میں کریں گے جو ہمیشہ کیلئے شرمندہ تعبیر رہا۔ اسی لیے جنرل محمد موسی خان ہزارہ  کو 1965ء کی جنگ کا ہیرو کہتے ہیں۔ وہ 8 سال اس منصب جلیلہ پر فائز رہ کر 17 ستمبر 1966ء کو ریٹائر ہونے کے بعد گورنر مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) مقرر ہوئے اور مارچ 1969ء تک وہ اس عہدے پر رہے۔ ان کے بعد مرحوم کو کئی دفعہ سفارت کی پیشکش بھی ہوئیں لیکن انہوں نے قبول نہیں کی۔

6 جولائی 1985ء کے المناک سانحے کے دوران انھوں نے ہزارہ قوم اور جنرل ضیاء کی مارشل لائی حکومت کے درمیان  تاریخی  کردار ادا کیا جس کی بناء پر دسمبر 1985ء میں گورنر بلوچستان مقرر ہوئے۔ وہ 12 مارچ 1992ء یعنی اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے جس کے دوران انھوں نے گڈ گورننس کی بہترین مثال قائم کی۔

 جنرل محمد موسی خان ہزارہ کئی اعزازات سے بھی نوازے گئے جن میں ہلال امتیاز ملیٹری، ہلال جرات ملیٹری،  ہلال قائداعظم سولئین، ہلال پاکستان سولئین شامل ہیں۔ وہ ہاکی کے بھی بہترین کھلاڑی تھے۔ ان کے نام سے آل پاکستان جنرل موسی خان ٹورنامینٹ کافی سالوں تک منعقد ہوتی رہی۔ خانم گل شاہ سے  ان کے 6 بچے ہوئے۔ اسماعیل موسی (بچپن میں انتقال ہوا) ابراہیم موسی گالف کے اچھے کھلاڑی تھے (جوانی میں انتقال ھوا) حسن موسی اسکواش کے اچھے کھلاڑی اور ورلڈ سکواش فیڈریشن کے نائب صدر تھے ( کراچی میں مذہبی دہشتگردی کا نشانہ بنے)، عذرا موسی جنکی شادی ائرمارشل شربت علی چنگیزی سے ہوئی، مریم موسی جن کی شادی ڈاکٹر آغا انصار حسین سے ہوئی، اور زینب موسی جن کی شادی ونگ کمانڈر سکندرعلی سے ہوئی۔ 

جنرل محمد موسی خان ہزارہ اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک سادہ مزاج، پاکیزہ سیرت، اورکرپشن سے پاک انسان تھے۔ بلوچستان گورنرشپ کے دوران اکثر بغیر باڈی گارڈ کوئٹہ شہر اور مضافات خاص طور ہزارہ قبرستان، اپنی مرحومہ بیگم کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آیا کرتے تھے۔ لوگوں سے بڑی محبت سے ملتے۔ یقیناً وہ اپنے طرز کے ان گنے چنے حکمرانوں میں تھے جن کو پاکستان اور پاکستانی عوام سے محبت تھی۔ اقدار و روایات کے امین تھے۔ مرحوم برگیڈئر خادم حسین خان چنگیزی نے ایک دفعہ بتایا کہ “آرمی چیف بننے کے بعد جب جنرل موسی خان ہزارہ پہلی بار کوئٹہ آئے تو دیگر ہزارہ لوگوں کے علاوہ ان کے والد سردار یزدان خان (مرحوم) بھی ویلر چیئر پر آئے ہوئے تھے حالانکہ جنرل موسی خان نے ان کی پیرینہ سالی کے باعث ان کو نہ لانے کی تاکید کی تھی۔ جب انہیں اپنے والد کے آنے کا پتہ چلا تو تمام پروٹوکول کو نظرانداز کرتے ہوئے فوراً ان کے پاس پہنچے ادب سے جھک کر انکے ہاتھ کا بوسہ لیا، خیریت دریافت کی اور پھر استقبالیہ کی طرف چلے گئے۔ ان کے اس عمل سے حاضرین عش عش کر اٹھے اور مان گئے کہ موسی خان ہزارہ واقعی میں اس منصب جلیلہ کے لائق ہیں۔ ان کا ایک اور واقعہ بھی مشہور ھے گورنرشپ کے دوران ایک دن وہ ہدہ کی طرف نکل گئے۔ وہاں ایک بزرگ بلوچ کو دیکھا جو اکیلا گارے سے اپنے گھر کی چھت کی لیپائی کچھ اسطرح کررہا تھا کہ پہلے نیچے اتر کر بالٹی میں گھارا ڈالتا اور پھرچھت پر چڑھ کر بذریعہ رسی اوپر کھینچ لیتا اور لیپائی کرتا۔ جنرل موسی خان ہزارہ نے اپنے ڈرائیور حاجی نصراللہ کو گاڑی ایک کونے میں لگانے کو کہا اور خود اس بزرگ کی طرف چلے گئے۔ استسفار پر بزرگ نے بتایا کہ ان کا کوئی بیٹا نہیں اس لئے انہیں اکیلے یہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔ اس پر گورنر موسی خان نے کہا “گھارا میں ڈالتا ھوں آپ اوپر اپنی لیپائی کریں اور آخر میں اپنا کارڈ بھی دیتے گئے”۔ کہتے ہیں کئی دنوں بعد اس بزرگ نے وہ کارڈ کسی پڑھے لکھے کو دکھایا تو سن کر یقین ہی نہیں ہوا کہ وہ مدد کرنے والا شخص کوئی اور نہیں خود گورنر بلوچستان جنرل محمد موسی خان ہزارہ تھے۔ بعد میں وہ کارڈ لیکر گورنر ہاوس گیا اور حسب ضرورت امداد بھی ملی۔ اتفاق جنرل اسٹور کے سجاد علی بتاتے تھے کہ موسی خان ہزارہ کے دور میں گورنر ہاؤس کے بندے ایک پیکیٹ مصالہ کی بھی رسید ضرور لے کر جاتے۔ مرحوم  ہرسال کروڑوں روپے قومی خزانے میں واپس کراتے۔ یہ روایت عرصے سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے سے مفقود ہے۔ 

 مزید طوالت سے بچنے کیلئے ایک آخری نکتے کا ذکر کرکے مضمون کا اختتام کرتے ہیں اور وہ ان کے جسد خاکی کی ایران منتقلی ہے۔ میرے خیال میں برصغیر پاک و ہند کے شیعہ و سنی دونوں کے ایک طبقے میں یہ ایک طرح رواج سا پڑگیا تھا کہ وہ عقیدتی بنیادوں پر مذہبی شہروں جیسے بقیع، نجف، کربلا، بغداد وغیرہ  میں مدفون ہونا چاہتے تھے۔ چونکہ صدر صدام حسین کے دور کے عراق میں ایسا ممکن نہ تھا سو جنرل موسی خان ہزارہ نے مشہد میں روضہ امام رضا سے متصل قبرستان میں مدفون ہونے کو ایک متبادل آپشن کے طورپر چنا ورنہ قرائین بتاتے ہیں کہ ان کی پہلی ترجیح  نجف اشرف ہی تھی جوکہ ان کا ذاتی اور عقیدتی فیصلہ تھا۔ حب الوطنی یا غیر حب الوطنی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ جنرل مرحوم اپنے عمل سے ثابت کرچکے تھے کہ اس پائے کے محب وطن پاکستان میں اگر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور رہے ہیں۔ ان کی حب الوطنی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ انھوں نے نہ صرف بھارتی جارحیت کے مقابل اس کے دونوں بازووں کا کامیاب دفاع کیا بلکہ کئی عشرے ایوان اقتدار کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہنے کے باوجود کسی قسم کے کرپشن اور سکینڈلز سے پاک صاف اور مبرا بھی رہے، جبکہ دوسری طرف سب کے علم میں ہیں کہ عرصے سے نام نہاد محبان وطن، ملک و قوم کی لوٹ مار تو اپنا پیدائیشی حق گردانتے آئے ہیں بلکہ کچھ مزید اصلی قسم کے محبان نے مشرقی پاکستان اور سیاچن کو بھارت کے حوالے کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کیا۔

 اس عظیم انسان کی روح کو سلام 

نوٹ:

مرحوم جنرل محمد موسی خان ہزارہ کی کوئی جامع بائیوگرافی اردو اور فارسی میں دستیاب نہیں۔ اس لئے اس تحریر کی ضرورت عرصے سے محسوس کی جارہی تھی۔ امید ہے کوئی دوست اس کا فارسی ترجمہ بھی جلد کردے گا جس کا حلقہ، اردو سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ زیادہ ترمعلومات ان کی خود نوشت سوانح حیات “جوان ٹو جنرل” سے لی گئی ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *