• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • خواتین کو تیزاب کے حملے سے بچانے والا ’میک اپ‘ تیار

خواتین کو تیزاب کے حملے سے بچانے والا ’میک اپ‘ تیار

دنیا بھر میں بے رحم مردوں کے ہاتھوں خواتین تیزاب گردی کا شکار ہورہی ہیں اور اب یہ واقعات مغرب میں بھی ہونے لگے ہیں، اس ضمن میں ایک خاتون ماہر نے ایسا میک اپ تیار کیا ہے جو تیزاب پھینکے جانے پر خواتین کے چہرے کو جھلسنے سے بچاسکتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

برطانیہ میں بھی خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے جس کے بعد ایک مقامی ماہر ڈاکٹر الماس احمد نے ایسا میک اپ تیار کیا ہے جو خواتین کو اس ہولناک حملے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔32 سالہ الماس احمد نے کہا کہ برطانوی ماڈل کیٹی پائپر پر تیزابی حملے کے بعد ایسے میک اپ کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے ’ اکیریئر‘ نامی مرکب بنایا ہے جو تیزاب کے ساتھ تعامل نہیں کرتا۔ الماس پرامید ہیں کہ یہ مرکب بہت آسانی کے ساتھ روایتی میک اپ، کریموں اور دھوپ سے بچانے والی لوشن میں ملایا جاسکتا ہے۔الماس نے بتایا کہ وہ گزشتہ 10 برس سے ایسے میک اپ پر کام کررہی ہیں جو خواتین پر اچانک ہونے والے تیزابی حملے سے بچاسکے۔ پہلے مرحلے میں انہوں نے اسے ایک فاؤنڈیشن کریم میں ملایا اس کے بعد وہ اس مرکب سے سن اسکرین اور موئسچرائزر بنائیں گی۔ڈاکٹر الماس احمد کے مطابق ان کا کیمیکل 400 درجے سینٹی گریڈ تک حرارت برداشت کرسکتا ہے اور اس کی تیاری پر وہ اپنی جیب سے لاکھوں روپے خرچ کرچکی ہیں۔ انہیں امید ہے مجاز ادارے ان کی نئی ایجاد کو استعمال کرنے کی اجازت دے دیں گے۔واضح رہے کہ لندن میں تیزاب گردی کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں اور 2016ء میں صرف لندن میں 450 افراد پر تیزاب پھینکا گیا جس کی وجہ مختلف جرائم پیشہ گروہوں کی باہمی چپقلش بتائی جاتی ہے، یہ شرح 2014ء کے واقعات کے مقابلے میں دگنا ہوگئی ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply