قلمکار

شہر کی قلمکار تنظیم کی میٹنگ جاری تھی۔۔
سامنے پڑے چائےکے کَپوں سے جھومتا ہوا بھاپ اُٹھ رہاتھا۔۔
میٹنگ میں موجود قلمکار ، قلم کی حقیقی طاقت اور اُسکی موجودہ پستی پر بحث کر رہے تھے۔۔۔
شاید وہ قلم کے یوں بےبس ہوجانے کی وجوہ ڈھونڈھ رہے تھے۔۔۔۔
اسی دوران دروازے پہ ہلکی دستک ہوئی، اور ایک نوجوان داخل ہوا.. سب نے اُسکی طرف دیکھا
وہ بولا.. "ایکسکیوزمی! کسی کے پاس اگر پین ہو، تو پلیز؟؟.."
سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا،، کچھ نے تو اپنے جیب بھی ٹٹولے۔۔۔
اور پھر، نوجوان سے معذرت کرلی ۔۔۔۔

بصرعلی خان
نیم سویا نیم جاگا طالب علم ..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *