• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • قدرتی ذہانت سے مصنوعی ذہانت تک – پیریوڈک ٹیبل کے کارنامے۔۔۔وہارا امباکر

قدرتی ذہانت سے مصنوعی ذہانت تک – پیریوڈک ٹیبل کے کارنامے۔۔۔وہارا امباکر

ساڑھے چار ارب سال پہلے زمین وجود میں آئی۔ اپنے سے پچھلی نسل کے ستاروں کی باقیات سے۔ مرتے وقت ان ستاروں نے طرح طرح کے عناصر کو جنم دیا تھا۔ ہائیڈروجن، آکسیجن، ایلومینیم، لوہا، سنکھیا، یورینیم سب کچھ یہاں موجود تھا۔ لیکن ان میں سے ایک عنصر تھا جو اس زمین کی تمام دلچسپی کا باعث بنا۔ یہ کاربن تھا۔

زمین کی تمام زندگی کاربن کی بنیاد پر ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ بڑی سادہ سی۔ اس کے بیرونی شیل میں چار الیکٹران ہیں۔ اس وجہ سے یہ چار عناصر کے ساتھ اپنا جوڑ بنا سکتا ہے اور یہ جوڑ کسی سے الیکٹران چھیننے یا دینے کا نہیں بلکہ شئیر کرنے کا ہے۔ اسی وجہ سے یہ دوسرے کاربن کے ساتھ ہاتھ پکڑ کر لمبے مالیکیول بنا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے پیچیدہ نامیاتی کیمیکل بن سکتے ییں۔ یہ ہی آرگینک کیمسٹری کی بنیاد ہے۔

اس خاصیت سے امینو ایسڈ بنے، انزائم، ڈی این اے اور خلیے۔ اس زمین کی اصل خوبصورتی یعنی زندگی بڑھتی گئی۔

کیمسٹری میں کہا جاتا ہے کہ نیوکلئیس کسی عنصر کو شناخت دیتا ہے اور الیکٹران شخصیت۔ بیرونی شیل میں چار الیکٹران رکھنے والا عنصر صرف کاربن ہی نہیں تھا۔ پیروڈک ٹیبل میں گروپ 4 کی باقی عناصر بھی ایسے ہیں۔ کیا ان سے بھی زندگی بن سکتی ہے؟

سیلیکون سے زندگی کا بننا ناممکن تو نہیں لیکن محال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی خودمختار ہے اور الگ تھلگ نہیں بلکہ پورے ایکوسسٹم کے ساتھ کام کرتی ہے۔ اس کی توانائی کی زنجیر چلانے میں سب سے زیادہ اہم اس کی آخری سطح پر توانائی کا حاصل کئے جانا ہے۔ کاربن کی زندگی میں سب سے زیادہ اہم مادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جس سے توانائی کی تمام زنجیر کا آغاز ہوتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی شکل میں ہے لیکن سیلیکون ڈائی آکسائیڈ چار ہزار ڈگری تک ٹھوس ہی رہتی ہے اور توانائی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔

زندگی کی صلاحیت سے عاری سیلیکون سب سے زیادہ ریت کی صورت میں زمین پر گمنام لیٹا رہا۔ دوسری طرف زندگی کے چکر میں انسان ابھرا جس نے زمین کے عناصر سے کھیلنا شروع کیا۔ اس سیلیکون کو پگھلا کر شیشہ بنایا۔ شیشے سے روزمرہ کی اشیاء، پھر عنیک، عینک سے ٹیلی سکوپ اور مائیکروسکوپ۔ اس عنصر کی مدد سے انسان نے انتہائی چھوٹی اور انتہائی دور چیزوں کی دیکھنا اور سمجھنا سیکھا، لیکن اس کا ایک اور حیرت انگیز استعمال ابھی باقی تھا۔

الیکٹرانکس شروع ہوئی۔ ابتدائی الیکٹرانکس کا ایک یونٹ بڑی سی ویکیوم ٹیوب تھی جو خاصی مہنگی تھی اور جلد خراب ہو جایا کرتی۔ اس یونٹ بنانے میں ایک بنیادی بات یہ کہ اس نے بجلی کو ایک طرف جانے دینا ہے اور دوسری طرف روکنا ہے۔ ویکیوم ٹیوب میں اس کا متبادل بنانے کے لئے ایسا عنصر چاہیۓ جو اچھا کنڈکٹر بھی نہ ہو اور بجلی کو روکے بھی نا۔ یہ سیمی کنڈکٹر کہلاتے ہیں۔ بیرونی شیل میں چار الیکٹران رکھنے والے عناصر اس کے لئے بہترین ہیں۔ (سیمی کنڈکٹر کی تفصیل پھر کبھی)۔ کاربن اس کے لئے زیادہ اچھا نہیں کیونکہ اس کا بیرونی شیل نیوکلئس کے قریب ہے۔ اس کے لئے اس سے دو منزلیں نیچے جرمینیم کا انتخاب ہوا۔ دسمبر 1947 میں سب سے پہلے براڈین اور براٹین نے جرمینیم سے بنی پہلی ٹیوب بنائی جس کو ٹرانسسٹر کا نام دیا۔

ٹرانسسٹر سے ریڈیو آئے اور الیکٹرانکس میں انقلاب لیکن سائنسدان للچائی نظروں سے سیلیکون کی طرف دیکھ رہے تھے۔ یہ بہت عام تھا اور مٹی سے بھی سستا۔ جرمینیم بہتر کنڈکٹر تھا اور جلد گرم بھی ہو جاتا۔ سیلیکون کو سدھانے والے بارنم تھے جنہوں نے ایک ڈرامائی انداز میں 1954 میں ایک کانفرنس کے دوران پہلے جرمینم ٹرانسسٹر سے بنے گراموفون کو ابلتے تیل میں ڈالا۔ اس کے خاموش ہو جانے پر اپنی جیب سے سیلیکون کا ٹرانسسٹر نکالا اور اسے فٹ کر دیا۔ یہ تیل میں ڈالنے کے بعد بھی چلتا رہا۔ اس ڈرامائی کانفرنس کے بعد ان سے یہ خریدنے کی لگنی والی قطار جرمینیم کی موت تھی جو مختصر سے عروج کے بعد پھر پیریوڈک ٹیبل کی گمنامی کا حصہ بن گیا۔

براڈین، بریڈلے اور شاکلے کو 1956 میں اس پر نوبل انعام ملا جو حیرت انگیز اس لئے تھا کہ یہ اس سے پہلے اپلائیڈ فزکس میں نہیں دیے جاتے تھے۔ لیکن ابھی ایک بڑا مسئلہ اور ایک اور ہیرو کی انٹری باقی تھی۔ یہ مسئلہ اعداد کا جبر تھا اور ہیرو جیک کلبی تھے۔

سرکٹ میں بڑی تعداد میں ٹرانسسٹر لگتے تھے۔ بنانے کا عمل مہنگا تھا۔ نازک تاریں ٹوٹ جاتی تھیں یا جگہ سے ہل جاتی تھیں۔ ہزاروں لوگ مل کر متلف حصے جوڑ کر یہ بنایا کرتے تھے۔ کلبی نے سیمی کنڈکٹر کے ہی ایک ٹکڑے کے اندر ہی یہ سب کچھ جوڑ لیا جیسے ایک مسجمہ ساز پتھر کے ایک ہی ٹکڑے سے ہاتھ پاؤں بنا لیتا ہے۔ یہ انٹیگریٹڈ سرکٹ تھا۔ ہاتھ سے لکھنے کے بجائے اب اس کو پرنٹ کر کے کاپیاں بنائی جا سکتی تھیں۔ یہ سیمی کنڈکٹر کی دنیا کا پرنٹںگ پریس تھا۔ کلبی کو بھی اپنے کام میں نوبل پرائز ملا۔

اس سرکٹ سے جیبی کیلکولیٹر بنے، مائیکروچپ جو گاڑیوں میں استعمال ہوئے۔ سیلیکون سیمی کنڈکٹر نے انسان کو چاند پر بھیجا، انٹرنیٹ چلایا، موبائل فون اور کمپیوٹر۔ کمپیوٹر سے مصنوعی ذہانت نکلی۔ یہ خودمختار زندگی نہیں تھی تو اس کو اپنی توانائی کی زنجیر میں سیلیکون ڈائی آکسائیڈ ٹھوس ہونے سے فرق نہیں پڑتا تھا۔ سیلیکون کی اس ذہانت اور کاربن کی ذہانت میں جو قدر مشترک ہے، وہ ان کے باہری شیل کے چار الیکٹران ہیں۔ نیوٹن نے کہا تھا کہ وہ اپنے سے پچھلے لوگوں کے کندھوں میں چڑھ کر اپنا قد اونچا کرتے ہیں۔ سیلیکون نے بھی اس میں جرمینیم کا سہارا لیا ہے۔ آج جرمینیم کی گمنامی اور سیلیکون ویلی کے ہونے میں ریت کی صورت میں اس کے سستا ہونے کا کمال ہے۔ اپنی اسی خاصیت کی وجہ سے سیلیکون سولر سیلز کا بھی سب سے اہم عنصر ہے۔ اسی ٹیبل میں موجود ٹین اور سیسہ کے اپنے استعمال ہیں لیکن کیوں اس طرح کے سفر سے محروم رہ گئے؟ اپنے زیادہ بھاری ہونے کی وجہ سے۔

جہاں کاربن کی اربوں سال کے قدرتی سفر کی کہانی یک خلوی زندگی سے انسان تک دلچسپ ہے، وہیں پر پیروڈک ٹیبل میں اس سے نچلے اور لمبے عرصے تک گمنام رہنے والے عنصر سیلیکون کی شیشے سے انٹرنیٹ اور ذہانت اور شمسی توانائی تک کے مصنوعی سفر کی کہانی بھی کم دلچسپ نہیں۔ صرف دیکھنا یہ ہے کہ سیلیکون اب کاربن کو کہاں تک لے کر جاتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *