اسلام، اکیسویں صدی میں۔۔۔۔وہارا امباکر

اسلام خطرے میں نہیں اور نہ ہو گا۔ جب تک انسان باقی ہیں، یہ بھی باقی رہے گا۔ جہاں پر مذاہب پر پابندیاں لگیں، ہفتوں اور مہنیوں کے لئے نہیں بلکہ نسلوں کے لئے، وہاں پر بھی یہ اسی طرح موجود رہا۔ بلقان ہو یا وسطی ایشیا، یہ شناخت قائم رہی۔ بازار کی گہما گہمی، فیکٹری کے شور اور زندگی کے بے رنگ اور بے معنی لمحوں میں مؤذن کی پانچ دفعہ فضا میں بکھرتی آواز اس کے ماننے والوں کو بلاتی رہی ہے۔ سجدے میں گرا سچا عبادت گزار، انکساری سیکھ کر اور بہتر شخص بن کر باہر نکلتا ہے۔ یہ صدیوں سے ہوتا آیا ہے اور صدیوں تک ہوتا رہے گا۔ اس کو دنیا سے کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ جس طرح اپنے سے کہیں بڑی ذات کے آگے اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کرنے والا فرد ایک بہتر انسان بننے کا عزم لے کر نکلتا ہے، کیا مسلمان مجموعی طور پر اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کر کے خود اپنی شناخت بہتر بنانے کے اہل ہیں؟

دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق میں ظلم کا بازار گرم کیا۔ اوبامہ کہتے ہیں کہ اس سب کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اوبامہ غلط کہتے ہیں۔
مرسی یو ایس اے نامی اسلامی فلاحی تنظیم پچھلے تیس برس سے امریکہ میں فلاحی کام کر رہی ہے۔ انورالعولقی کہتے تھے کہ امریکیوں کی مدد کرنے کی وجہ سے یہ کافر ہو گئے۔ انورالعولقی غلط کہتے تھے۔
بوکو حرام نے نائجیریا کو خون سے نہلا دیا، تعلیم میں رکاوٹیں ڈالیں۔ لڑکیوں کو اغوا کر کے لے گئے۔ ڈاکٹر محمد عبدل اسلام ابراہیم کہتے ہیں کہ یہ مسلمان نہیں۔ ڈاکٹر صاحب غلط کہتے ہیں۔
گرامین بینک نے میں بنگلہ دیش میں کئی ملین افراد کو غربت کے چکر سے آزادی دلائی اور محمد یونس کو اس پر نوبل انعام دیا گیا۔ مولانا منیر الزمان ربانی کہتے ہیں کہ یہ دائرہ اسلام میں نہیں۔ منیرالزمان غلط کہتے ہیں۔

خود کش حملے کرنے والے ہوں، خواتین کے حقوق سلب کرنے والے یا پھر انسانوں سے نفرتیں بکھیرنے والے۔ یہ اسلام کے نام پر کیا جاتا ہے۔
دوسروں کی بے لوث مدد کرنے والے ہوں، بوڑھے والدین کا سہارا بننے والے یا دیانت کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے والے۔ یہ اسلام کے نام پر کیا جاتا ہے۔

اگر یہ عمل کی دنیا ہے، باتوں کی نہیں، تو پھر اسلام وہ ہے جو مسلمان کرتے ہیں۔ کیا مسلمان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے سے فرق لوگوں سے نفرت اور بغض رکھا جائے، ہر قسم کے علم اور عقل کا رد کیا جائے، دنیا کو جاننے سے انکار کر دیا جائے، سازشی نظریات کے سہارے زندگی گزاری جائے، اپنے خول میں یا پھر اپنے ماضی میں بند ہو جایا جائے؟ اگر مسلمان ایسے ہیں تو ہاں، اس کا یہی مطلب ہے۔ لیکن اس کے پونے دو ارب ماننے والے بہت مختلف مطلب بھی بنا سکتے ہیں۔ بہت سے اس کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے اور اعداد وشمار یہ بتاتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں علم کے میدان میں ان کا حصہ شرمناک حد تک کم ہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ، خواتین کے حقوق، جان و مال کے تحفظ، رہنے کی بہتر جگہوں جیسے انڈیکس میں مسلمان اکثریت والے ممالک دنیا کی اوسط سے پیچھے ہیں۔ جب کیمپوں میں شام کے مہاجرین کو انتخاب دیا گیا کہ وہ کس ملک میں جانا پسند کریں گے تو جن ممالک میں جانے کی خواہش کا ہر ایک نے اظہار کیا، ان میں سے مسلمان اکثریت کا کوئی ملک نہیں تھا۔ اول نمبر پر جرمنی تھا، دوسرے پر کینیڈا۔ اس سب کی وجہ کسی اور کی سازش نہیں۔ ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔ کیا اس کو بدلا جا سکتا ہے؟ ہاں، مگر اس کے لئے باہر سے کوئی نہیں آئے گا۔

اسلام خطرے میں نہیں اور نہ ہو گا۔ جب تک انسان باقی ہیں، یہ بھی باقی رہے گا۔ سچے عبادت گزار اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کر کے بہتر انسان بنتے رہیں گے۔ کیا مسلمان مجموعی طور پر ایسا کر سکنے کے اہل ہیں؟

اوبامہ ہوں یا مولانا منیرالزمان، کسی کو اس شناخت سے الگ نہیں کر سکتے۔ اس کی شناخت وہی ہے جو اس کو ماننے والوں کی۔ تو پھر یہ شناخت ہے کیا؟ یہ مسلمانوں کا عمل بتائے گا۔ اکیسویں صدی میں یہ کیسا ہو گا؟

معلوم نہیں، لیکن دنیا دیکھ رہی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *