کھانے کا بل۔۔۔اے وسیم خٹک

ایک تھڑے کے ہوٹل میں بیٹھے صحافی کھانے کے دوران دن بھر کی روداد کے بارے گفتگو کر رہے تھے ایک بولا:

پتہ ہے آج پریس کانفرنس کے دوران وزیر صحت کو ایک سوال پر میں نے کافی خراب کردیا تھاـ جس پر وہ پھر آئیں بائیں شائیں کر رہا تھاـ دوسرا صحافی وزیر کھیل سے جب میں نے آج سپورٹس گراؤنڈ میں یوتھ گیم پر ہونے والے اخرجات پرسوال کیا تو وہ غصہ ہوگیا ـ ۔۔تیسرا صحافی گویا ہوا کہ میں نے بھی آج ڈی ایس پی پر کرائم ریٹ بڑھنے کے متعلق پوچھا تو اس کے پاس جواب ہی نہیں تھاـ۔۔۔

Advertisements
merkit.pk
tripako tours pakistan

صحافیوں کے درمیان یہی باتیں ہوتی رہیں ہر  ایک  نے کسی نا کسی کو خراب کیا تھا جس پر وہ فخر محسوس کر رہے تھے۔۔ ـ دن بھر کی روداد ختم ہونے کے بعد جب کھانے کا بل دینے کی باری آئی تو ہر ایک کی نگاہ دوسرے کی جیب پر ٹکی رہی کہ اب کھانے کا بل کون دے گا؟

  • merkit.pk
  • merkit.pk

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply