تبدیلی کہاں ہے ؟۔۔۔۔۔ روبینہ فیصل/اختصاریہ

حکومتی نظام یا ملک میں تبدیلی کے لئے عمران خان اکیلا ہر محاذ پر ڈٹا ہوا ہے ۔ اسی گلے سڑے نظام کے ڈھیٹ ذہنیت والے لوگوں کے ساتھ تبدیلی لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ نون والوں نے کمر کسنی تھی ۔۔ مگر پی ٹی آئی والے کیا کررہے ہیں ؟ ؟۔۔۔وہ ابھی تک کنٹینر پر چڑھے نعرے مارنے جیسا رویہ کیوں اپنائے ہو ئے ہیں ؟ تبدیلی ایک حکمران کی نیک نیتی اور خلوص سے نہیں آسکتی اس کا ساتھ دینے والوں کے رویے  میں بھی تبدیلی آنا بہت ضروری ہے ۔ عمران خان سے محبت کا یا ملک سے محبت کا یہ ثبوت نہیں کہ آپ ناقدین پر یا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ دست و گریبان ہوجائیں تو اس سے آپ کی محبت کو محبت وطنی اور فرض شناسی یا عمران سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ مل جائے گا ۔۔

اس وقت تبدیلی کا مطلب ہر پاکستانی  کو چاہے وہ ملک میں بیٹھا ہے یا باہر اپنی بنیادی سوچ جس میں وقت کی پابندی، سادگی، دوسروں کا احترام اور سب سے بڑھ کر خود احتسابی شامل ہے ۔عمران خان جب یہ کہتا تھا کہ احتساب مجھ سے شروع ہو گا تو اس کا مطلب صرف مالی کرپشن نہیں ہے ۔۔ سماجی طور پر ہم کہاں کھڑے ہیں ۔کل مجھے کوئی اور بتا رہا تھا کہ ایک خاتون صرف اس وجہ سے محفلوں میں دیر سے پہنچتی ہے کہ اس طرح وہ اپنی اہمیت جتاتی ہیں ۔اور ایک دن کوئی  اور ان سے لیٹ پہنچا تو اس بات پر وہ میزبان سے ناراض ہو گئیں ( سیرسیلی) کہ  آپ نے مجھے وقت غلط کیوں بتایا تھا ۔۔۔اور یہ حقیقی واقعہ ہے ۔اور وہ خاتون پی ٹی آئی کی جانثار ہیں ۔۔۔

جب میزبان نے مجھے یہ بات بتائی تو میں نے کہا آئندہ سے یہ تبدیلی کی بات کریں یا عمران کی خاطر لال پیلی ہوں تو انہیں کہیں کہ پہلے خود احتسابی شروع کریں ۔۔عمران خان سے محبت کرنے والوں سے درخواست ہے کہ کسی کے لطیفے یا پھبتی یا تنقید پر لال پیلا ہونے سے بہتر ہے کہ عمران کا مان رکھنے اور اس کا ساتھ دینے کے لئے یہ سب باتیں اتنی ہی فضول ہیں جتنی اس پر ہو نے والی تنقید ۔کپتان کا ساتھ دینا ہے تو اپنے بنیادی رویے میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں ۔۔خان قوم کو مہذب ،وقت کا پابند اور سادگی پسند دیکھنا چاہتا ہے ۔یہ چھوٹا سا کام آپ کریں جو اس کے بڑے بڑے کاموں کے لیے ایندھن ثابت ہو گا ۔اس کی خاطر لوگوں کے ساتھ لڑنے بھڑنے سے کسی کو ایک ٹکے کا فائدہ نہیں ۔۔کام کرنے والے خاموشی سے اور گریس سے کام کرتے جاتے ہیں ۔۔شور وہ مچاتے ہیں جنہوں نے صرف شور ہی مچانا ہوتا ہے کرنا کرانا کچھ نہیں ہوتا ۔

عمران کو اس وقت بے وقوف ہمدردوں کی نہیں بلکہ باشعور سمجھدار مہذب قوم کی ضرورت ہے ۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *