کوانٹم میکانیات کا حقیقی دنیا میں اطلاق/محمد شہباز علی

کیا کوانٹم میکانیات کا حقیقی دنیا میں اطلاق ممکن ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کے بارے کوانٹم طبیعات کی آمد سے لے کر آج تک کے سائنسدانوں میں کافی دلچسپی پائی جاتی ہے۔ عام طور پر کوانٹم میکانیات کی مناسبت  سے کافی متنازع نکتہ ہائے نظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو دراصل اسکی وضاحت کے سلسلے میں پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن کوانٹم میکانیات کے استعمال سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والے انقلاب کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں لکھا جاتا ۔ اس مضمون میں اس اہم موضوع کے حوالے سے چند اہم اور بڑی ایجادات کا ذکر کریں گے۔

کوانٹم ٹیکنالوجی کا پہلا انقلاب آج سے کوئی ایک صدی قبل برپا ہوا۔ اس سلسلے میں سیمی کنڈکٹر ڈائیوڈ کی دریافت انتہائی اہم ہے۔ ڈائیوڈ ، بنیادی طور پر سیمی کنڈکٹر مادے سے ملکر بنتا ہے جس کا ایک سرا، پی ٹائپ جبکہ دوسرا این ٹائپ کہلاتا ہے اور ان دونوں کو جوڑنے سے ’پی این جنکشن‘ یا سیمی کنڈکٹر ڈائیوڈ بنتا ہے۔ ڈائیوڈ کے دنوں سروں کی درمیانی حد پر ایک طرح کا پوٹینشل بیرئیر بنتا ہے جو اس حد کے دونوں جانب موجود برقی بار کو بہنے سے روکے رکھتا ہے۔ ڈائیوڈ کا ایک استعمال سرکٹ بریکر کے طور بھی ہوتا ہے کیونکہ جب کسی ڈائیوڈ کو ایک حد سے زیادہ وولٹیج ملتا ہے تو اس کا جنکشن ٹوٹ جاتا ہے اور یوں کرنٹ بہنا بند ہوجاتا ہے۔اگر ڈائیوڈ کو کسی بیرونی وولٹیج سے منسلک کریں یا برقی بہاؤ کے رستے میں لگا دیں تو یہ ایک جانب کرنٹ بہنے دیتا ہے اور دوسری جانب اسے روکتا ہے اور یوں اس سے سوئچ کا کام لیا جا سکتا ہے۔ د وسری جانب اسی ڈائیوڈ کو سولر سیل کی شکل میں سورج کی روشنی سے بجلی بنانے میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کو فوٹوڈائیوڈ بھی کہتے ہیں۔ آئن سٹائن کے فوٹون کے تصور نے فوٹو ڈائیوڈ بنانے میں بنیادی تصورات فراہم کئے جو فوٹوالیکٹرک اثر کی وضاحت میں سامنے آئے اور جس پر آئن سٹائن کو فزکس کا نوبل انعام بھی ملا۔

فوٹوالیکٹرک اثر یہ ہے کہ جب روشنی کے ذرّات ایک خاص تعدد کی حامل توانائی سے کسی مناسب مادے کے ساتھ ملتے ہیں تو ان کی یہ توانائی اس مادے میں موجود الیکٹرانوں کو منتقل ہوجاتی ہے بشرطیکہ کہ اس مادے کے الیکٹران اس توانائی کو جذب کرنے کے قابل ہوں۔ اگر یہ توانائی اس مادے کے ورک فنکشن کے برابر ہو تو پھر یہ الیکٹران اس مادے میں موجود ایٹموں کے مرکزوں سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ اگر جذب ہونے والے فوٹون کی توانائی ورک فنکشن سے زیادہ ہو تو یہ آزاد الیکٹران کسی برقی تار کے راستے برقی بہاؤ پیدا کرنے کا کام دے سکتے ہیں۔ یوں ہم ڈائیوڈ میں بہنے والے برقی کرنٹ کی مقدار معلوم کر کے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس توانائی یا تعدد کا فوٹون موصول ہوا ہے۔ یوں ایک فوٹوڈائیوڈ دراصل روشنی کی کوانٹم خصوصیت کو استعمال میں لاکر مختلف طرح کی شعاعوں کی شدت اور تعدد یا توانائی وغیرہ کو معلوم کرنے کا کام دیتا ہے۔ ڈائیوڈ کو بطور ایل ای ڈی Light emitting diode بھی استعمال کیا جاتا ہے جو کہ فوٹو ڈائیوڈ کے الٹ عمل ہے ۔ کوانٹم نظریے کے مطابق اگر دو متضاد برقی بار کے حامل ذرات ایک جگہ پر ملیں تو وہاں ایکدوسرے کو فنا کر کے فوٹون کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ لہذا، اگر کسی ڈائیوڈ کے بیرئیر وولٹیج کو بیرونی وولٹیج سے کم کیا جائے تو اس میں سے گزرنے والے متضاد برقی ذرے باہم ملکر مناسب توانائی کا فوٹون خارج کرتے ہیں۔ جدید موبائل اور ٹی وی سکرینوں سے لے کر مختلف طرح کے سینسر اور لیزرز وغیرہ میں اس اثر کا استعمال ہوتا ہے۔

سیمی کنڈکٹر سے بنی دوسری اہم دریافت جو سامنے آئی وہ ٹرانزسٹر ہے۔ 1947 میں امریکہ کی مشہور بیل لیبارٹری میں بارڈین، شاکلے اور بریٹین نے دنیا کا پہلا ٹرانزسٹر ایجاد کیا ،جس پر ان تینوں کو 1956 میں فزکس کا نوبل انعام دیا گیا۔ ٹرانزسٹر کی بہت سی اقسام ہیں اور یوں انکے کام میں بھی تھوڑا بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ مگر بنیادی فزکس کوانٹم ہی کی ہے۔مثال کے طور پر بائی پولر جنکشن ٹرانزسٹرمیں دو پی ٹائپ اور ایک این ٹائپ (پی این پی) یا دو این ٹائپ اور ایک پی ٹائپ (این پی این) سیمی کنڈکٹر مٹیریلزموجود ہوتے ہیں۔ یوں ایک ٹرانزسٹر کے تین سرے یا ٹرمینل ہوتے ہیں۔ ایک سرا جیسے بیس base کہتے ہیں بقیہ دونوں سروں یعنی emitter اور collector میں مشترک ہوتا ہے۔ ایمیٹر اور بیس پر دی جانے والی ان پٹ کا سگنل، کلیکٹر اور بیس پر جا کر آؤٹ پٹ دیتا ہے۔ ٹرانزسٹر کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ آؤٹ پٹ کا سگنل، ان پٹ سے بڑا ہوسکتا ہے اور یہی خوبی اسے ایمپلی فائر بناتی ہے۔ جیسے مائکروفون میں بول کر آپ اپنی آواز ایمپلی فائرکے ذریعے بلند کر لیتے ہیں۔ ٹرانزسٹر کو ایک ایمپلی فائر یا سوئچ دونوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سوئچ کا کام ہوتا ہے کہ وہ ایک جانب کرنٹ کو بہنے دیتا ہے اور دوسری جانب روکتا ہے جیسے ہم کسی بلب کو آن یا آف کرتے ہیں۔ ٹرانزسٹر سے بھی یہی کام لیا جاسکتا ہے جس کے لئے روزمرہ کی نسبت بہت کم وولٹیج درکار ہوتا ہے۔ کمپیوٹر سائنس میں جنہیں کلاسیکل بٹس bits کہتے ہیں وہ ٹرانزسٹر کے بطور سوئچ کام کرنے کی ہی دو حالتیں ہیں یعنی بٹس میں صفر اور ایک سے مراد ٹرانزسٹر کی حالت آف یا آن ہونا ہے۔ تمام لاجیکل گیٹس ایک یا ایک سے زیادہ ٹرانزسٹرز کی مدد سے ترتیب پاتے ہیں۔

آج ہماری تمام تر الیکٹرانکس میں یہی ٹرانزسٹر بمع دیگر چیزوں کے استعمال ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ہم انتہائی چھوٹے ٹرانزسٹر بنانے کے قابل ہوئے تو بہت سے ٹرانزسٹرز کو ایک ہی سرکٹ میں جوڑ کر انٹیگریٹد سرکٹ یا آئی سی بنائے جانے لگے جو ریڈیو، کمپیوٹر، موبائل فون، کیمرہ اور دیگر الیکٹرانکس کا بنیادی جزو ہیں۔ پوری سیمی کنڈکٹر انڈسٹری جیسے امریکہ کی سیلیکون ویلی کا دارومدار ٹرانزسٹر پر ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ہر سال دنیا بھر میں کھربوں ٹرانزسٹر بنائے جاتے ہیں۔ ٹرانزسٹروں نے ناسا کے اپولو پروجیکٹ کے لیے بھی راہ ہموار کی ،جو سب سے پہلے انسانوں کو چاند پر لے گیا۔ ٹرانزسٹر کی دریافت، سیمی کنڈکٹر مادے کی کوانٹم میکانیاتی وضاحت کا نتیجہ ہے جس کی بدولت انرجی بینڈ تھیوری سامنے آئی جو مادے میں برقی بہاؤ کی بہتر وضاحت پیش کرتی ہے اور اسی کے ذریعے سیمی کنڈکٹر کی وضاحت ہوتی ہے۔بہت سے الیکٹرانک آلات کوانٹم ٹنلنگ کے اثر سے کام کرتے ہیں۔ USB ڈرائیوز میں پائی جانے والی فلیش میموری چپس اپنے میموری سیلز کو ختم کرنے کے لیے کوانٹم ٹنلنگ کا استعمال کرتی ہیں۔

کوانٹم میکانیات کا ایک اطلاق انفرادی ایٹموں سے مختلف مالیکیولز بننے اور انکی کیمیائی خصوصیات کو سمجھنے میں ہوتا ہے۔ اسے کوانٹم کیمسٹری کہتے ہیں۔ پالی نے اپنے مشہور زمانہ اصول کی مدد سے مختلف عناصر کی تراکیب اور دوری جدول میں انکی مناسب جگہ کو ایٹمی سطح پرسمجھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ کیمسٹری اور خاص طور سے فزیکل کیمسٹری کے ماہرین کا زیادہ تر انحصار سپیکٹروسکوپی پر ہے جسکی مدد سے وہ کسی کیمیائی مادے کی فزیکل خصوصیات جاننے کا کام کرتے ہیں جس میں ایک اہم کام اس کے مالیکیولوں کی ساخت معلوم کرنا اور اسکے الیکٹرانوں کی حالتیں دریافت کرنا ہے جس کے لئے کوانٹم میکانیات لازم ہے۔ بہت سے حیاتیاتی مظاہر کی وضاحتیں کیمیائی بانڈ کی ساخت کے مطالعے پر منحصر ہیں خاص طور پر میکرو مالیکیول جیسے کہ ڈی این اے کی ساخت وغیرہ۔

کوانٹم میکانیات کا ایک اہم استعمال لیزر ٹیکنالوجی کی شکل میں بھی ہوتا ہے۔ 1917 میں آئن سٹائن نے سیمی کلاسیکل دلائل کے ذریعے لیزر کے بنیادی اصولوں کے متعلق ایک پرچہ لکھا جس میں اس نے پلانک اور بوہرکے کام کو آگے بڑھایا۔ بوہر نے واضح کیا کہ ایٹم میں موجود الیکٹرانوں کے مدار کوانٹائزڈ ہوتے ہیں۔ یعنی یہ کہ جب الیکٹران کسی زیادہ توانائی کے مدار سے کم توانائی کے مدار میں ’جمپ‘ لگاتا ہے تو اس عمل میں دونوں مداروں کی توانائی کے فرق کے برابر ایک فوٹون خارج ہوتا ہے اور اسکی یہ توانائی متعین ہوتی ہے۔ آئن سٹائن نے اپنے پرچے میں ایسے تین مختلف طرح کے عوامل کے لئے احتمال یا پرابیبلٹی معلوم کرنے کا طریقہ وضع کیا جنہیں آئن سٹائن کے عددی سر Einstein’s coefficients کہتے ہیں۔ یہ تین مختلف عوامل بے ساختہ اخراج، تحریک شدہ اخراج اور انجذاب کہلاتے ہیں۔ ان میں سے تحریک شدہ اخراج کا عمل لیزرمیں استعمال ہوتاہے۔ لیزر میں یک سمتی اور انتہائی شدت کی حامل لائٹ یا روشنی خارج ہوتی ہے۔ لیزر کی ابتدائی شکل میزر کہلاتی ہے جس میں مائکروویوز سے کام لیا جاتا ہے۔ میزر کی دریافت پر 1964 کا فزکس نوبل انعام تین سائنسدانوں چارلس ٹاؤنز، باسوو اور پروخوروو کو دیا گیا۔ بعد ازاں لیزر ٹیکنالوجی میں آج تک کافی اضافہ ہوچکا ہے۔ 2018 میں ڈونا سٹرک لینڈ، آرتھر آشکن اور جیرارڈ مورو کو انتہائی شدت اور انتہائی کم مدت کی لیزر پلس دریافت کرنے پر فزکس کا نوبل انعام دیا گیا۔

لیزر آپٹیکل ڈسک ڈرائیوز، لیزر پرنٹرز، بارکوڈ سکینرز، ڈی این اے کی ترتیب سازی کے آلات، فائبر آپٹک، اور فری اسپیس آپٹیکل کمیونیکیشن، سیمی کنڈکٹنگ چپ مینوفیکچرنگ (فوٹو لیتھوگرافی)، لیزر سرجری اور جلد کے علاج، لیزرکٹنگ اور لیزر ویلڈنگ، اہداف کو نشان زد کرنے اور حد اور رفتار کی پیمائش کرنے والے آلات،تفریح کے لیے لیزر لائٹنگ ڈسپلے میں لیزر ٹیکنالوجی کا استعمال ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ تعلیم و تحقیق کے شعبے سمیت دیگر انڈسٹری میں لیزر کے بڑھتے استعمال کی بدولت دنیا میں کھربوں ڈالر مالیت کی لیزر انڈسٹری موجود ہے۔

اگرچہ کوانٹم میکانکس بنیادی طور پر مادے اور توانائی کے چھوٹے جوہری نظاموں پر لاگو ہوتے ہیں، کچھ نظام بڑے پیمانے پر کوانٹم میکانکی اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔ انتہائی سیالیت یا سپرفلوئڈ، مطلق صفر کے قریب درجہ حرارت پر مائع کا بغیر رگڑ کے بہاؤ بڑے پیمانے کی ایک معروف مثال ہے۔ اسی طرح سپر کنڈکٹیویٹی بھی ایسی ہی مثال ہے جس میں کافی کم درجہ حرارت پر کسی کنڈکٹنگ مواد میں ایک الیکٹران گیس کا مزاحمت کے بغیر بہاؤ ہوتا ہے۔ ایک سپر کنڈکٹنگ مقناطیس ایک برقی مقناطیس ہے جو سپر کنڈکٹنگ تار سے بنتا ہے۔ انہیں کام میں لانے کے لئے کرائیوجینک درجہ حرارت پر ٹھنڈا کرنا ضروری ہے۔ چونکہ سپر کنڈکٹنگ حالت میں تار میں کوئی برقی مزاحمت نہیں ہوتی ہے اس وجہ سے یہ عام تار سے کہیں زیادہ برقی کرنٹ چلا سکتی ہے جس سے شدید مقناطیسی میدان پیدا ہوتے ہیں۔ سپر کنڈکٹنگ میگنٹ سب سے زیادہ مضبوط مقناطیسی میدان پیدا کر سکتے ہیں۔ہسپتالوں میں MRI آلات اور سائنسی آلات جیسے NMR سپیکٹرو میٹر، ماس سپیکٹرو میٹر، فیوژن ری ایکٹرز اور پارٹیکل ایکسلریٹر میں یہی سپرکنڈکٹر استعمال ہوتے ہیں۔ جاپان میں تعمیر کیے جانے والے مقناطیسی لیویٹیشن (میگلیو) ریلوے سسٹم میں گاڑیوں کی لیویٹیشن، منتخب راتوں کی جانب انکی رہنمائی اور پروپلشن کے لیے بھی یہی سپرکنڈکٹنگ میگنٹ استعمال ہوتے ہیں۔ آج کل ایسے سپرکنڈکٹر مادے تلاش کرنے پر تحقیق جاری ہے جو عام درجہ حرارت پر بھی کام کر سکیں۔

آج ہم کوانٹم فزکس میں ایک نئے انقلاب کے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ پہلے کوانٹم انقلاب نے لیزر اور ٹرانزسٹر جیسی ایجادات فراہم کیں جن میں سائنسدانوں نے کوانٹم میکانیات کے اصولوں کا علم حاصل کیا اور ان اصولوں پر عمل کرنے والے آلات بنائے۔ اس دوسرے کوانٹم انقلاب کی تعریف کوانٹم کمپیوٹنگ اور کوانٹم سینسنگ جیسی ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت سے ہوتی ہے ۔ اس نئے انقلاب میں کوانٹم دنیا کی زیادہ گہری سمجھ اور انفرادی ذرات کی سطح تک درستگی کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ دوسرے کوانٹم انقلاب کا ابتدائی کام 1960 کی دہائی میں شروع ہواجب شمالی آئرش کے ماہر طبیعیات جان سٹیورٹ بیل نےتجویز پیش کی کہ الجھے ہوئے یا انٹینگلڈ ذرات عجیب کوانٹم طریقوں سے منسلک ہوتے ہیں اور نام نہاد “پوشیدہ متغیرات” کے ساتھ ان کی وضاحت نہیں کی جاسکتی ہے۔ 70 اور 80 کی دہائیوں میں کیے گئےتجربات نے اس بات کی تصدیق کی کہ دو الجھے ہوئے ذروں میں سے ایک کی پیمائش کرنا واقعی دوسرے کی حالت کا تعین کرتا ہے اور یہ عمل اس قدر تیزی سے ہوتا ہے کہ کوئی عام سگنل دو چیزوں کے درمیان اتنا تیز سفر نہیں کر سکتا ہے۔

دوسرے کوانٹم انقلاب کے لیے دوسرا اہم جزو انفارمیشن تھیوری تھا جو کہ کلاوڈ شینن اور ایلن ٹیورنگ جیسے علمبرداروں کے ذریعہ تیار کردہ ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کا مرکب تھا۔ 1994 میں معلوماتی تھیوری کے ساتھ کوانٹم میکینکس کو یکجا کرنے سے ریاضی دان پیٹر شور نے کوانٹم کمپیوٹر کے لیے ایک تیز فیکٹرنگ الگورتھم متعارف کرایا۔ کوانٹم کمپیوٹر ایک ایسا کمپیوٹر ہےجس کے بٹس سپرپوزیشن میں موجود ہوتے ہیں اور انہیں الجھایا جا سکتا ہے۔ شور الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے ایک کوانٹم کمپیوٹر کلاسیکی کمپیوٹر سے کہیں زیادہ مؤثر طریقے سے کوئی مسئلہ حل کر سکتا ہے۔ یہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی اہمیت کا سب سے واضح اور ابتدائی مظاہرہ تھا۔ اسی سے متعلقہ ایک اور اہم مسئلہ کرپٹوگرافی ہے۔ بڑے اعداد کے پرائم فیکٹرز کی شناخت انتہائی دشوار کام ہے اور اسی لئے آن لائن ڈیٹا محفوظ رہتا ہے۔ خفیہ کردہ معلومات کو غیر مقفل کرنے کے لیے کمپیوٹر کو اس سے وابستہ ایک بڑے اعداد کے پرائم فیکٹرز کا علم ہونا چاہیے جس کے لئے ایک کلاسیکی کمپیوٹر کو ہزاروں سال لگ سکتے ہیں۔ شور الگورتھم کے استعمال سے یہ اندازہ لگانا صرف چند لمحوں کا کام ہے۔ آج کے کوانٹم کمپیوٹر ابھی اتنے ترقی یافتہ نہیں ہیں کہ شور کے الگورتھم کو نافذ کر سکیں۔کوانٹم کمپیوٹرز بنانے کے لئے انتہائی نازک کوانٹم کنکشنز کی ضرورت ہوتی ہے جو ابھی ہمارے کلاسیکی کمپیوٹرز میں موجود نہیں مگر دنیا بھر میں سینکڑوں کمپنیاں اور ہزاروں سائنسدان اس سمت میں کام کر رہے ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹنگ کے علاوہ لیزرز کا استعمال کرتے ہوئےمحققین نے ایٹموں کی توانائی کو کم کرنا اور انہیں ٹھنڈا کرنا سیکھا ہے۔ لیزر ایٹموں کو بالکل صفر سے اوپر ایک ڈگری کے اربویں حصے تک ٹھنڈا کر سکتی ہے جو روایتی کولنگ تکنیک سے کہیں زیادہ ٹھنڈا ہے۔ 1995 میں سائنس دانوں نے مادے کی ایک حالت بوز آئن سٹائن کنڈینسیٹ کا مشاہدہ کرنے کے لیے لیزر کولنگ کا استعمال کیا۔ اسی طرح حالیہ برسوں میں ایک مختلف شعبہ سامنے آیا ہے جو کوانٹم مکینیکل سسٹمز کو مختلف مادی مقداروں جیسے مقناطیسی اور برقی میدان، وقت اور تعدد، گردش، درجہ حرارت اور دباؤ وغیرہ کی پیمائش کےلیے سینسر کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔کوانٹم سینسر میں کوانٹم سسٹمز کی مرکزی کمزوری یعنی بیرونی خلل کے لیے ان کی مضبوط حساسیت کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اگرچہ کوانٹم سائنس اور انجینئرنگ میں تحقیق کے ایک الگ شعبے کے طور پر کوانٹم سینسنگ ابھی نیا شعبہ ہے مگر بہت سے تصورات طبیعیات میں نئے نہیں ہیں۔ اعلیٰ ریزولوشن سپیکٹروسکوپی، خاص طور پر جوہری طبیعیات اور مقناطیسی گونج میں کئی دہائیوں سے ترقی ہوتی رہی ہے۔ چند قابل ذکر مثالوں میں جوہری گھڑیاں، جوہری بخارات کے مقناطیسی میٹر اور سپر کنڈکٹنگ کوانٹم مداخلت کے آلات شامل ہیں۔ جس چیز کو “نیا” سمجھا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ کوانٹم سسٹمز کی تحقیقات سنگل ایٹم کی سطح پر ہو رہی ہیں۔ اس میں کوانٹم الجھن کو حساسیت بڑھانے کے لیے ایک وسیلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

بہرحال، کوانٹم میکانیات سے حقیقی دنیا کی تفہیم کے ساتھ ساتھ ہمارے گردوپیش کی دنیا کو تبدیل کرنے کا بھی کام لیا جا رہا ہے۔ تاریخ انسانی پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی پتا چل جاتا ہے کہ گزشتہ صدی کی سائنس نے انسانی علم اور تکنیکی ترقی میں وہ جست لگائی ہے جو صدیوں پرانے فلسفوں سے بھی ممکن نہیں ہوئی۔ سائنس صرف منطقی دلائل تک محدود نہیں بلکہ حقیقی دنیا میں انکے اطلاق کا بھی نام ہے۔ ہمیں بھی اگر آج کی دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ان ایجادات اور تیزی سے بدلتی دنیا کے پیچھے کام کرتی سائنس کی فہم حاصل کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply