قصہ مکالمہ دبئی کا ۔۔۔ مکالمہ ٹیم

خبر آئی دبئی آرہا ہوں اور سب سے ملنا ہے۔ کہا سبحان اللہ، مرحبا بکم فی امارات، اور انشاءاللہ مل لیتے ہیں۔ کہنے لگے ۱۱ اکتوبر ۲۰۱۸ کی رات کو تیس لوگوں کا انتظام کر لو۔

“تیس لوگ؟ وہ بھی دیار غیر میں؟ ویک اینڈ چھوڑ کر، گھر بار، دوست یار، بیوی بچے، بیٹی بیٹے، بار بی کیو، پائے، نہاری  پروگرام چھوڑ کر؟ کلام کو، مکالمے کو؟ رانا صاحب۔۔۔ گھٹ کر لو۔”

“اچھا؟ ۔۔۔ چلو پھر جو مناسب سمجھو بندوبست کر لو۔”

یہ تھا اس گفتگو کا مختصر سا ایک حصہ جو اس محفل سے چند دن پہلے وقت پذیر ہوئی۔ مجھے بحیثیت اس محفل کا ایک منتظم مکالمہ سے جڑے دوستوں کی محبت کی امید تو ہمیشہ رہی مگر سچ یہ ہے کہ میں اس محبت کا ٹھیک سے اندازہ نہ کر پایا۔ ابتداءً چار لوگوں سے کب تیس لوگ بنے پتہ ہی نہ چلا۔ مختصر سے نوٹس پہ امارات کے مختلف حصوں سے جمعرات کی شام جب ٹریفک اپنے عروج پر ہو، مکالمہ کے نام پر اکٹھا ہونا بلاشبہ آپ حضرات کی محبت تھی۔ بقول انعام بھائی، معاذ اب ان کی ولایت پر ایمان لا چکا۔ 

انعام بھائی جو ایک بزنس ٹرپ پر تھے، کی مہربانی رہی کہ ایک دن صرف مکالمہ کے لیے وقف کیا۔ ارادہ تو انہیں کافی کچھ دکھانے کو تھا مگر جو مزہ عاشق بھائی کی جادوگری اور ثاقب کے کیمرہ تھامے ہاتھ دیکھنے میں آیا وہ شاید ہی کچھ اور دیکھنے میں آتا۔ 

مکالمہ ٹیم اور تمام اراکین محفل محترم شکور پٹھان صاحب کے نہایت مشکور رہے کہ انہوں نے شارجہ سے سفر کر کے دبئی مرینہ ہماری مجلس میں شمولیت یقینی بنائی، ہمیں اپنی موجودگی سے عزت بخشی اور جان محفل بنے رہے۔ 

ہمیں سب سے زیادہ خوشی اس بات کی رہی کہ اراکین مجلس کی جانب سے مذہبی، مسلکی یا کسی قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر مکالمے کی فضاء کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔ اس بات کا ارادہ کیا گیا کہ معاشرے میں عدم تشدد کو پنپنے کے لیے مکالمہ ناگزیر ہے۔ محفل میں اس بات کا ارادہ بھی کیا گیا کہ آئیندہ اس قسم کے پروگرامز کو باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا۔ پروگرام کے باقاعدہ اختتام کے بعد “آف دی ریکارڈ” گفتگو بھی نہایت دلچسپ رہی۔ 

مکالمہ دبئی کو ایک یادگار بنانے کے لئے ٹیم مکالمہ جناب شہزاد صاحب اور رؤف بھائی کی خصوصی شکرگزار ہے جنہوں نے جوری گورمے کیفے میں اس پروگرام کا انعقاد ممکن فرمایا۔ محترم ذیشان بھائی کا شکریہ کہ وہ ناصرف ایک گھنٹہ اکیلے ہی ماحول کی رنگینیاں برداشت کرنے پر مجبور رہے اور بعد ازاں پروگرام کے دوران اپنے بزوکہ نما کیمرے سے تمام خوبصورت مناظر محفوظ کرتے رہے۔ ثاقب کا شکریہ کہ لرزتے ہاتھوں سے بھی لائیو ویڈیو میں لرزش نہ آنے دی۔ عاشق بھائی نے جو میجک ٹرکس دکھائیں انہوں نے محفل کا لطف کی دوبالا کر ڈالا۔ عاشق بھیا کا بھی ایک بار پھر شکریہ۔

ہم امید کرتے ہیں کہ ہمیشہ یونہی آپ کی محبتیں سمیٹتے رہیں گے اور یہ عزم کرتے ہیں کہ مکالمہ کمیونٹی آپ کا ساتھ لیے اسی طرح ہمیشہ آگے بڑھتی رہے گی۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *