• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • کور کمانڈرز کانفرنس میں جے آئی ٹی کی شفافیت پر اتفاق رائے

کور کمانڈرز کانفرنس میں جے آئی ٹی کی شفافیت پر اتفاق رائے

کور کمانڈرز کانفرنس میں جے آئی ٹی کی شفافیت پر اتفاق رائے
طاہر یاسین طاہر
پی ٹی آئی،جماعت اسلامی اور دیگر کی جانب سے سپریم کورٹ میں پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے خاندان کا نام آنے کے حوالے سے دائر درخواستوں پر فیصلہ آچکا ہے اور پانچ رکنی بینچ کے اکثریتی فیصلے کے مطابق اس کیس کی مزید تحقیق کے لیے سات روز کے اندر ایک جے آئی ٹی بنائی جائے گی جو شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے گی۔ حالانکہ اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ وزیر اعظم کے عہدے پر موجود ہوتے ہوئے کوئی جے آئی ٹی وزیر اعظم کے خلاف شفاف اور صاف تحقیقات نہیں کر سکے گی۔ان ہی سولات اور ملکی حالات پر کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی غور کیا گیا اور کانفرنس کے بعدمیڈیا کو جو پریس ریلیز جاری کی گئی اس کے مطابق پاک فوج کا کہنا ہے کہ وہ پاناما کیس میں مزید تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی میں شفاف اور قانونی طریقے سے اپنا کردار ادا کرے گی۔یہ بات پیر کو جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں منعقدہ کور کمانڈر کانفرنس کے بعد فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے مختصر بیان میں کہی گئی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوج پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ اس پر پورا اترے گی اور شفاف اور قانونی طریقے سے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی میں اپنا کردار نبھائے گی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو اس معاملے پر اپنے اکثریتی فیصلے میں سات دن میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو تحقیقاتی عمل کا حصہ بننے کو کہا تھا۔ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں بننے والی چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم میں قومی احتساب بیورو، سٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے نمائندوں کے علاوہ فوج کے خفیہ اداروں انٹر سروسز انٹیلیجنس اور ملٹری انٹیلیجنس کا بھی ایک ایک افسر شامل ہو گا۔اس کمیٹی کو تحقیقات کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے جس کے دوران وہ ہر دو ہفتے بعد اپنی کارگزاری کے بارے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔
خیال رہے کہ ملک میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے جہاں اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو اس کی تشکیل سے پہلے ہی مسترد کر دیا ہے، وہیں اس کی ساخت پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف اعتزاز احسن نے اس سلسلے میں کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کے ساتھ ان (شریف خاندان) کا تعلق خاندانی ہے۔ 19 اور 20 گریڈ کے افسران وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی کیا تحقیقات کریں گے؟ ہم اس جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہیں۔پاناما کیس کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے میں جہاں سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان نے اس معاملے کی مزید تحقیق کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا وہیں بینچ کے سربراہ سمیت دو ججوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں وزیراعظم کو صادق اور امین نہ رہنے کی بنیاد پر نااہل کرنے کو بھی کہا تھا۔اس فیصلے کے بعد سے وزیراعظم نواز شریف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ کم از کم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے تک مستعفی ہو جائیں۔
ہمیں اس امر میں کلام نہیں کہ پاناما لیکس میں وزیر اعظم صاحب کے بیٹوں اور خاندان کا نام آنے کے بعد ملکی سیاسی حرکیات میں زور دار لہریں پیدا ہوئی ہیں۔جے آئی ٹی کی تشکیل،اس کی ہیئت اور اس کے ممکنہ تحقیقاتی نتائج پر اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں واویلا کیے ہوئے ہیں۔ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ ماتحت اداروں کے افسران جے آئی ٹی کی تحقیقات میں کس طرح اپنے کام کے ساتھ انصاف کر سکیں گے؟جبکہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ وزیر اعظم تحقیقات مکمل ہونے تک اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔
بادی النظر میں یہی بات درست بھی معلوم ہوتی ہے کہ وزیر اعظم اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں اور اپنے آپ کو شفاف تحقیقات کے لیے پیش کریں، کیونکہ عدالتِ عظمیٰ کے دو ججز صاحبان برملا کہہ چکے ہیں کہ وزیر اعظم اب صادق اور امین نہیں رہے ہیں۔امر واقعی یہ ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل اور اس کے ممکنہ فیصلے پر اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات قابل ِفہم ہیں۔ کیونکہ ملکی تاریخ میں جے آئی ٹی اور تحقیقاتی کمیشنز وغیرہ کی تاریخ قابل ِتحسین نہیں ہے۔ان ہی تحفظات کے پیش نظر کور کمانڈرز کانفرنس میں قوم کو یہ اعتماد ،دلایا گیا کہ سپریم کورٹ نے جس اعتماد کا اظہار پاک فوج پہ کیا ہے، پاک فوج اس اعتماد پر پورا اترے گی اور جے آئی ٹی کی شفافیت کو ہر حال میں یقینی بنائے گی۔امید کرنی چاہیے کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات شفاف اور بغیر کسی دباو کے ہوں گی اور اس کے نتائج ملکی سیاست کا نیا اور قابل ِفخر رخ متعین کریں گے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *