منحوس کہیں کا۔۔۔رابعہ الربا

جب سے اس نے یہ واقعہ پڑھا تھا وہ آپ ہی آپ تلملا رہی تھی۔ اس کے اندر کی آگ بڑھتی جا رہی تھی۔
پہلے والا وکیل بھی مسلسل آئیں بائیں شائیں کر رہا تھا۔ شاید کیس اس کی پکڑ اور گرفت میں ہی نہیں آ رہا تھا۔
مجھے سب نے منع کیا تھا کہ یہ وکیل کیس لے کر نہیں چل سکتا اور میرے تو خیر نصیب۔۔۔۔ ستارے ہر وقت گردش میں ہی رہتے ہیں! آہ کوئی وکیل بھی میرا کیس لے کر کہیں بھی نہ چل سکا۔ پہلا وکیل تو میرا باپ تھا۔ جس نے مجھے میرے دوسرے وکیل، میرے شوہر کے حوالے بڑے شاندار طریقے سے کیا کہ دنیا عش عش کرتی رہ گئی۔ اور شادی کے بعد میں غش غش کرتی واپس آگئی۔
دوسرا وکیل میرا شوہر! جو مجھ سے سارے ثبوت گواہوں سمیت مانگ رہا تھا۔ جس کے پاس میں تین ماہ رہی اور مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ محبت کس چڑیا کا نام ہے۔ جو ایک مرد ایک عورت کو  دیتا ہے۔ وہ شوہر کی بانہوں کا گھر۔۔۔
جہاں عورت خود کو اتنا محفوط سمجھتی ہے کہ دنیا سے ٹکڑا جانے کا حوصلہ اس میں پیدا ہو جاتا ہے مجھے نہیں معلوم۔۔۔
وہ گھر کیسا ہوتا ہے مجھے نہیں معلوم۔۔۔
وہ مٹھاس کیسی ہوتی ہے جس کا ذکر سنا کرتی تھی۔
کچھ اگر تبدیل ہوا تو بس اتنا کہ اب میں پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ اوزون کی تہہ میں شگاف آگیا تھا اور اتنی بے دردی اور آلودگی سے آیا کہ مجھے گھن آنے لگی خود سے! اپنے آپ سے۔۔۔۔! کہ میرا سارا وجود پیاسا اور کنوارا تھا۔ صرف ایک جگہ ندیاں بہہ رہی تھیں۔ شدت پیاس سے میرا روم روم خشک ہو رہا تھا۔ مگر میں تر نہیں کر سکتی تھی۔ میرا سانس رکتے رکتے گھٹنے لگا تھا۔ میں روز سلگتی اور روز خود ہی راکھ میں بدل جاتی۔ اسے کسی طرح کا کوئی احساس نہیں تھا۔ اس کے احساس میں بس یہ تھاکہ اپنے گھر میں رکھا ہوا نکا ح نامہ لے آؤ، اپنے گھر کے کاغذات یہاں لے آؤ۔۔۔آخر وہ تمھاری ملکیت ہے، اپنی گاڑی کے کاغذات یہاں لے آؤ کہ تمھارا اصل گھر اب یہی ہے۔ مگر میں تو ابھی تک اس گھر میں پیاسی تھی۔
نکاح کے بعد والے گھر سے نا آشنا، کتنا بڑا کھیل کھیلا تھا میں نے، کہ اس دنیا میں سب انسان برابر ہیں اگر کوئی غریب ہے تو اس کی قسمت میں بھی تو بدل سکتی ہوں۔ مگر وہ کچھ کرے تو سہی، یہ مجھے یہاں آ کر علم ہوا کہ وہ تو کچھ کرتا ہی نہیں تھا۔ وہ کاروبار محض لفاظی،محض جھوٹ تھا۔
شادی کے پہلے ہی ہفتے جب میں ہنی مون کے خواب دیکھ رہی تھی۔ مجھے بتا دیا گیاکہ یہ خواب اپنے گھر سے پورے کر کے آنے تھے۔ میں ان چونچلوں کا قائل نہیں!
میں سمجھی کہ پیسے نہیں ہوں گے میں نے کہا ”چلیں میں آپ کو کھانے پر لے کر چلتی ہوں۔“ کسی قسم کی کوئی سواری تھی نہیں۔میں نے سوچا چلو پاس کے ہی کسی چھوٹے موٹے ہوٹل تک واک کرتے چلے جائیں گے۔
وہ بتوں کی طرح بے حس میرے ساتھ چل دیا۔ میں سارے راستے اس کے کسی بول کی منتظر رہی۔ مگر میرا انتظار تو ان تین مہینوں میں بھی ختم نہ ہو سکا۔ سامنے سے اچانک ایک بائیک آئی اور آ کر مجھ سے ٹکرا گئی۔ میرا پاؤں شدید زخمی ہوا اور چیسپا ویلیفیر کی امدادی گاڑی میں ڈال کر مجھے ہسپتال لے جایا گیا وہاں سے مرہم پٹی دوائیوں کے بعد ہم گھر آ گئے۔
کوئی دو ہفتے لگے میں بہتر ہوئی تو میرے ارمان پھر سے جاگ اٹھے۔ مگر وہ سوتا رہتا تھا۔ نیچے قالین پر اپنا بستر ڈالے، سارا دن، ساری ساری رات۔۔۔۔! ایک دن مجھے پتا چلاکہ اس کا کوئی دوست بھی نہیں ہے۔ ورنہ دوست یار ہی سمجھاتے ہیں۔ عجب خشک انسان تھا۔ عجیب روکھا سا کہ عورت کے قابل تھا ہی نہیں۔ عورت کو تو پھولوں کی پتیوں پر گری شبنم کی طرح بھیگا ہوا مرد چاہیے ہوتا ہے جو اپنی خوشبو و نمی سے اس کو بھی معطر و سیراب کر دے اور دنیا مہک چہک اٹھے۔
میرے سارے خواب میرے سارے ارمان ہر گزرتے دن کے ساتھ بھڑک اور بکھر رہے تھے۔ مگر وہ ہر شے سے بے خبر اپنی زندگی میں مست تھا۔ کہ صبح اٹھ کر بیوی کے ہاتھ کا پراٹھا اور انڈا چائے، جس نے ماں کے مرنے کے بعد برسوں ٹھیلوں و نیم ہوٹلوں سے ناشتہ کیا تھا، پھر بہو رانی کو حکم تھا کہ اس کی بہنوں کے کھانے کا بھی اہتمام کر رکھے، کیوں کہ وہ دیر سے سو کر اٹھتی ہیں۔ سارا دن کھانا، گھر کی صفائی ستھرائی، کپڑے، برتن میں گزر جاتا اور ساری رات انتظار وصل میں۔۔۔
نیند اب میری سہیلی نہیں رہی تھی۔
پھر لڑائیاں ہونے لگیں تو اس نے مجھ  پر ہاتھ اٹھا لیا۔ یہ آخری گھٹیا  پن مجھے آخری فیصلہ لینے پر مجبور کرنے لگا۔ سامان باندھ لیا مگر مجھے والدین کا فون سننے اور کرنے کی اجازت نہ تھی، مجھ سے موبائل بھی لے لیا گیا تھا۔
آخر میرے ماموں کو امی نے فون کیا جو کراچی میں ہی رہتے تھے تب وہ میرے گھر آئے۔ حالات دیکھے میرے آنسوؤں سے سمجھ گئے۔ مگر انھوں نے سمجھوتے کا مشورہ دیا۔ سمجھایا اور میں نے ہر لڑکی کی طرح ان کی بات مان لی۔ ایک چانس صرف ایک اور چانس۔۔۔۔!
یہ تو مجھے علم ہو چکا تھا کہ وہ پیسے خرچ کرنے والا نہیں ہے۔ جس کے گھر میں پابندی تھی کہ دو وقت کے علاوہ کھانا اور چائے نہیں بن سکتے وہاں سے مزید کیا امید رکھ سکتی تھی۔ جہاں فرج اور کچن کی الماریوں کی چابیاں اس کے باپ کے پاس تھیں اور وہ صبح جاتے ہوئے ناپ تول کر کھانا بنانے والی اشیاء باہر رکھ جاتا تھا۔ وہاں سے مجھے کیا امید ہو سکتی تھی اور وہاں میں کیسے امید سے ہوسکتی تھی۔ مگر بے امیدی کو امید میں بدلنے کی ایک اور کوشش میں نے کی۔
اسے راضی کیا کہ آج ساحل سمندر پر چلیں گے۔ وہ لے تو گیا مگر یہ یہاں کا سب سے گندا ساحل تھا۔ جن ساحلوں پر محبوب کے کندھوں پہ بے اختیار سر آ جاتا ہے۔ یہاں ایسی کوئی رومانیت نہیں تھی، کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لہروں کے ساتھ جھول رہے تھے، ریت میں سیپ کے ساتھ مومی لفافے، آٹے کے تھیلے، سیمنٹ کی خالی بوریاں تیر رہی تھیں۔ پانی پہ عجب بے رنگی تھی، جیسی اس کے اپنے چہرے پر تھی۔ دور دور تک وحشت ہواؤں کے ساتھ رقص کرتی پھر رہی تھی۔ دور دور تک ہوائیں میرے ارمان اڑائے پھر رہی تھیں۔ اس لڑکی کے ارمان جس نے سات سمندر پار کے خواب دیکھے ہوں۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ سطح زمین سے بلندایک سمندر کے کنارے کھڑی تڑپ رہی کہ کاش وہ اس کا ہاتھ تھام لے اور کہے۔۔”پانی کو کہتے ہیں آؤ اور ہمارے قدم چوم لو۔“
مگر میں دور کھڑی آتے جاتے پانی کو حسرت سے دیکھتی رہی اور وہ مجھے حیرت سے دیکھتا رہا۔ اور جاتے ہوئے مسوس سا ہو جاتاکہ یک دم تیز ہوائیں چلنے لگیں، لہریں جو دور دور تھیں اچانک دوڑ کر ساحل کی اور آنے لگیں۔ لوگ بلیک واٹر کہہ کر باہر کی اور دوڑنے لگے۔ ہر طرف سے دو لفظ ہی سنائی دے رہے تھے، ”بلیک واٹر“، ”بلیک واٹر“۔
مگر مجھے تو اس وقت بلیک واٹر سمجھ نہیں آ رہا تھاکہ یہ ظا لم کیا شے ہے پانی نے رنگ بھی تو نہیں بدلا تھا بس مزاج ہی تو بدلا تھا۔
اتنے میں ایک بے لگام اونٹ دوڑتا ہوا مجھ سے ٹکڑاتا آگے کی اور بڑھ گیا اور میں ایک طرف کو ذرا دور جا گری۔
لوگ مجھے پکڑنے کو بھاگے کہ کوئی تیز لہر حملہ نہ کر دے یا کوئی اور جانور مگر وہ بے سود کھڑا دیکھتا رہا۔
شروع شروع میں لوگ سمجھے کہ وہ میرا ملازم ہے شاید اس لیے اس کا رویہ ایسا ہے مگر بعد میں ان کی حیرت آنکھوں سے پڑھی جا سکتی تھی۔ یوں اس روز بھی میں کمر اور ٹانگوں کی تکلیف سے ہسپتال سے گھر آئی۔
کچھ ہفتے پھر بستر کے ساتھ بسر ہو گئے۔
ایک روز ونڈو شاپنگ کو لے گئی۔ ایک قمیض لٹکی دیکھ کر میں نے اس کی طرف بہت مان و اشتیاق سے دیکھا تو اس نے اتنی حقارت سے جواب دیاکہ میرا دل و دماغ جیسے کسی نے مائیکرو میں رکھ دیا ہو کہ اچانک میں بے ہوش ہو کر رستے میں ہی گر پڑی اور وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔
لوگوں نے مجھے گھر پہنچایا۔
تب اس کا ایک نیا روپ میرے سامنے آیا۔
”تم ڈرامے کرتی ہو، تا کہ لوگ تمھاری طرف متوجہ ہوں، تمھیں چھوئیں۔۔۔۔ تم ڈرامے باز عورت ہو۔“
بس یہیں  سے پھر نئی لڑائیاں نئے جھگڑے شروع ہو گئے کہ کہا جاتا ہے کہ عورت محبت کے بغیر تو رہ لیتی ہے عزت کے بنا نہیں رہ سکتی۔ اور شاید مرد محبت تو دے سکتا ہے عزت دینے کا ظرف اس کے پاس مقدر میں کم ہے۔
فون میرے پاس تھا نہیں، اس نے اپنا فون بند کر دیا ہوا تھا۔
ابا فکر مند تھے یا اماں معلوم نہیں مگر ابا ایک دن پہلے ہی ریل میں بیٹھ چکے تھے۔ اچانک وہ پہنچے تو گھر گزشتہ زلزلوں کا ملبہ بنا ہوا تھا۔
انھوں نے مجھے دیکھا، میری صحت دیکھی تو بے ساختہ ان کے آنسو نکل پڑے اور مجھ سے لپٹ گئے۔
چند ماہ قبل جس کو قابلِ رشک صحت کے ساتھ بھیجا تھا آج اسے کسی قیدی کی طرح زرد، یرقان زدہ دبلا دیکھ کر وہ ضبط نہ کر سکے۔ میرا ایک بیگ تیار کروایا اور کچھ ضروری سامان!
اپنے ایک دوست کو فون کیا وہ گاڑی لے کر آ گیا اور ہم ان کے گھر چلے گئے۔ وہ نالاں ہونے لگاکہ آپ نے کچھ بھی نہیں بتایا۔ بیٹی نے بھی کوئی فون تک نہیں کیا کبھی۔ اس کو جب سب احوال سنایا تو تسلی کے سوا اس کے پاس بھی کوئی چارا نہ تھا۔ ہم ایک رات وہاں رہے اور اگلے دن کی فلائٹ سے لاہور آ گئے۔ میرے پاس کچھ بھی نہ بچا تھا۔ جو کچھ لے کر گئی تھی اس کو اور اس کے گھر والوں کو کھلا چکی تھی۔
گھر پہنچی تو اماں سے لپٹ کر اتنا روئی کہ آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ آخر میرے ساتھ ہی یہ کیوں ہوا۔ کیا مجھ سے کبھی کوئی غلطی ہو گئی تھی، جس کی سزا تھی یا آپ لوگوں کی کسی غلطی کا مکافات دے کر آئی ہوں؟
اماں کافی دیر روتی رہیں، پھر ابا سے کہنے لگیں۔
”ناں تو یہ میرے ساتھ کرتا، نہ تیری بیٹی کو آج یہ دن دیکھنا پڑتا، میرے تو بھائی تھے جو میرا گھر ابھی تک چلا رہے ہیں اس کا تو کوئی بھی نہیں۔۔۔۔!
تینوں رونے لگے، پھر اماں اٹھیں اور چائے بنانے چلی گئیں۔ابا اٹھے اور دوسرے کمرے میں جا کر لیٹ گئے۔
وہ کرسی سے اٹھ کر بیڈ پر لیٹنے لگی کہ اچانک اس کا پیر پھسلا اور گر گئی۔ اس کے رونے اور چیخنے کی آواز سے دونوں پھر اس کے پاس آئے تو وہ اٹھ نہیں پا رہی تھی۔ دونوں نے اسے گود میں اٹھا کر بیڈ پر لٹایا، تکلیف تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔
ڈاکٹر کو بلایا تو اس نے خدشہ ظاہر کیاکہ ٹانگ ٹوٹ گئی ہے شاید۔ فوراً ہسپتال لے جائیں تو اچھا ہے۔ ایمبولینس آئی اور پتا چلا کہ ٹانگ ہی ٹوٹی ہے۔ آپریشن ہوا۔ اور پلستر کے بعد وہ بستر کی ہو گئی۔
ماں باپ کے سوا کوئی تھا نہیں، دونوں اس کی تیمارداری اور بیماری میں مصروف ہو گئے نہ دن رہا نہ رات، فقط آنکھوں میں آنسو۔۔۔۔ اور وقت کی رفتار تھم سی گئی دو ماہ بستر پر گزر گئے۔ ایک روز اسے شوہر کی یاد آئی تو فون کر لیا۔ کہ شاید اس کا دل بھی موم ہو گیا ہو ۔۔۔! مگر اس نے کوئی بات نہ سنی، بس اتنا کہا ”خود گئی ہو، خود ہی آ جانا، ہاں البتہ گھر اور گاڑی کے کاغذات اور نکاح نامہ لے کر آنا“ اور فون بند کر دیا۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ آج آخری فیصلہ کر ہی لیا۔ وکیل کو فون کیا جو اس کے باپ کا دوست تھا۔ اس سے یہ معاملہ حل نہیں ہو رہا تھا۔ اس نے کئی مہینے یونہی ضائع کر دئیے، اس کو چلنا بھول چکا تھا۔ واکر کے سہارے بھی قدم نہیں اٹھ رہے تھے۔ بس بستر تھا۔ نیٹ تھا، ٹی وی تھا اور وہ تھی!
ایک روز وہ نیٹ پر ایک خبر پڑھ رہی تھی کہ اس کی بے چینی بڑھ گئی۔ اس نے اپنی ایک دوست کے شوہر کو فون کیا۔ سب کچھ بتایا۔ اور گزارش کی کہ وہ اس کا کیس لڑے۔ وہ ایک بڑا وکیل تھا۔ داؤ پیچ سمجھتا تھا۔
تین ماہ کیس عدالت میں رہا۔ وہ ویل چیئر پر جاتی رہی۔ چوتھے ماہ اس کی دوست اپنے شوہر کے ساتھ کیس کی کامیابی پہ میٹھائی لے کر آئی۔
آج وہ بہت خوش لگ رہی تھی اس نے پہلا قدم بھی اٹھایا تھا۔
انعم نے اس کے منہ میں گلاب جامن ڈالتے ہوئے کہا۔
”کوئی بات نہیں زندگی سفر کا نام ہے۔ اور سفر میں ہمیں ہر طرح کے مسافر مل جاتے ہیں۔ ہر انسان کی بھی اپنی تاثیر ہوتی ہے، لہریں ہوتی ہیں۔ اور جب دو انسانوں کی لہریں اور تاثیر ٹکراتی ہیں تو ایک نئی تاثیر، ایک نئی لہر پیدا ہوتی ہے۔ کبھی یہ خوش گوار ہوتی ہے اور کبھی ناگوار بس جو ہوا، سو ہوا۔۔۔۔ اب سب بھول جاؤ ان شاء اللہ اب تمھاری دوسری شادی بہت خوشگوار ثابت ہوگی“
وہ قہقہے لگانے لگی۔
”منحوس کہیں کا۔۔۔!
منحوس کہیں کا۔۔۔ جب سے میری زندگی میں آیا ہے ہر طرف نحوست پھیلی ہوئی ہے ناگوار تاثیر والا۔۔۔۔ اس سے اچھی تو میں شادی سے پہلے تھی۔“
انعم کے شوہر نے اس کی بات کاٹتے ہوئے مسکراہٹ و شرارت سے کہا۔
”اچھا اب تو وہ واقعہ سنا دو جس کو پڑھ کر تم نے مضطرب ہو کر، مایوس  ہو کر مجھے فون کیا تھا۔“ اس نے زور دار قہقہہ لگایا، آئی پیڈ آن کیا اور وہ خبر جو اس نے ڈاؤن لوڈ کی ہوئی تھی اوپن کر کے دونوں کے آگے کر دی۔
واقعہ کچھ یوں تحریر تھا۔
سعودی گزٹ میں سدیدی لکھتے ہیں کہ ان کے ایک دوست کا کزن عدالت میں پیش ہوا اور جج سے درخواست کی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے۔ اور استدعا کرتا ہے کہ اسے اس کی اجازت دی جائے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی بیوی میں جسمانی یا اخلاقی لحاظ سے کوئی خامی نہیں ہے بلکہ وہ اس وجہ سے طلاق دینا چاہتا ہے کہ اس کی بیوی پہلے دن سے ہی نحوست کا باعث ہے۔
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے اس نے بتایا۔
میں جب اسے پہلی دفعہ دیکھا تو وہ میرے ہمسایوں کے ہاں ایک مہمان کے طور پر آئی ہوئی تھی۔ میں نے گاڑی پچھلے دروازے کے قریب کھڑی کی اور اس کے حسن سے لطف اندوز ہونے لگا۔ کہ اس دوران مجھے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی۔ کوڑے والا ٹرک میری گاڑی کے ساتھ ٹکرا چکا تھا اور میری گاڑی کا ستیا ناس ہو چکا تھا۔
جس دن میری فیملی رشتہ لے کر میری ہونے والی بیوی کے گھر جا رہی تھی تو راستے میں ایک حادثے میں میری ماں چل بسیں اور ہمیں راستہ تبدیل کر کے قبرستان جانا پڑا۔ جب افسوس کے دن ختم ہوئے تو میں نے شادی کر لی۔ لیکن پتا چلا کہ میں نے صرف مزید غموں کی راہ ہموار کی تھی۔ میں جب بھی اسے شاپنگ کے لیے لے کر جاتا تو جگہ جگہ میرا چالان کیا جاتا۔
میری شادی کے دن ہمسایوں کے گھر میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جو ہمارے گھر تک بھی آگئی اور باورچی خانہ اس کی لپیٹ میں آ گیا۔
اگلے دن میرے والد ہم سے ملنے آئے لیکن بیچارے سیڑھیوں سے گرے اور ٹانگ تڑوا بیٹھے۔
میرا بھائی اور بھابھی جب بھی ہم سے ملنے آتے تو ہمارے گھر آنے کے بعد آپس میں لڑپڑتے اور خوش ہونے کی بجائے ایک دوسرے کو کوستے ہوئے رخصت ہوتے۔ میرے رشتہ دار مجھے اکثر کہتے تھے کہ میری بیوی منحوس ہے لیکن میں نے کبھی ان کی بات پر کان نہ دھرا۔ گزشتہ ہفتے میری آمدنی کا واحد ذریعہ میری ملازمت بھی ختم ہو گئی۔
بالآخر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میری المناک زندگی کا سبب میری بیوی ہے اور میں اسے طلاق دینا چاہتا ہوں براہ کرم مجھے اس کی اجازت دی جائے۔“
دانا جج نے شفقت بھری نظروں سے سائل کی طرف دیکھا اور یوں گویا ہوا۔۔۔۔ ”ہمارے ساتھ پیش آنے والا ہر واقعہ بظاہر بُرا یا بھلا، قدرت کا فیصلہ ہے۔ ہمارے ساتھ پیش آنے والے المیے کسی انسان کی نحوست کا نتیجہ نہیں ہوتے تمھاری بیوی معصوم اور بے قصور ہے۔ اور تمھارے ساتھ پیش آنے والے حادثات میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ یہ محض اتفاقات تھے اپنی بیوی کا ہاتھ تھامو اور واپس چلے جاؤ۔ اور آئندہ کسی بھی بد قسمتی کے لیے اسے ذمہ دار مت ٹھہرانا۔
جب دل شکستہ شخص بیوی کا ہاتھ تھام کر عدالت سے رخصت ہو رہا تھا تو ایک ہر کارہ دوڑتا ہوا آیا اور جج کی خدمت میں ایک سرکاری خط پیش کیا۔ خط میں ایک مختصر نوٹ لکھا تھا۔
”آپ کو جج کے عہدے سے فوری برطرف کیا جاتا ہے۔“
جج نے عدالت سے رخصت ہوتے ہوئے شخص کو پکار کر واپس بلایا، چند لمحے اس کا چہرہ تکتا رہا۔
اور پھر بولا۔
”اس عورت کو اسی وقت طلاق دے دو۔“
اور تینوں کھکھلا کر ہنس پڑے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *