میرا دماغ بڑا کرنے والی ٹیم۔۔۔۔وہاراامباکر

آج ذرا کچھ شیخی بگھارنے دیں۔ میرے دماغ میں بہت کچھ ہے۔ اتنا کچھ کہ اپنے زمانہ طالب علمی میں میں تصور نہیں کر سکتا تھا کہ کسی شخص کا اتنا بڑا دماغ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس میں میرا کوئی خاص کمال نہیں۔ یہ بہت سے لوگوں کی وجہ سے ہے۔ ساتھ لگی تصویر کے لوگ بھی انہی میں سے ہیں۔ یہ کون ہیں؟ اس کو جاننے سے پہلے ایک چکر میرے دماغ کا۔

اس دماغ میں عجیب و غریب معلومات کے ڈھیر لگے ہیں۔ پاکستان کب بنا؟ میں نے ناشتے میں کیا کھایا تھا؟ پھوپھو کے گھر پہنچنے کا راستہ کیا ہے؟ پانی گیلا کیوں ہوتا ہے؟ لیکن اس ڈائریکٹ معلومات کے علاوہ بھی بہت کچھ اور ہے۔ چابی کہاں رکھی تھی؟ یہ میری اپنی اہلیہ کو پتہ ہے۔ دودھ والے کا بِل کتنا ہے؟ یہ ڈائری میں لکھا ہے۔ بازار سے کیا لے کر آنا ہے؟ اس کی فہرست جیب میں پڑی پرچی پر ہے۔ طیفے کا فون نمبر کیا ہے؟ یہ موبائل فون کی کانٹیکٹ لِسٹ میں۔ مجھے بس یہ علم ہے کہ کونسی معلومات کہاں سے حاصل کرنی ہے۔ میرے اردگرد کے لوگ ہوں یا آلات، ان میں سے وہ معلومات جس تک میں بآسانی رسائی حاصل کر سکوں، یہ میرے دماغ کی ایکسٹینشن ہے۔ (اگر آپ نے ابتدائی پروگرامنگ پڑھی ہے تو میرے دماغ میں پوانٹر پڑے ہیں جو اس معلومات کی طرف اشارہ کرتے ہیں)۔ مجھے ان سب کی تفصیل ذہن میں سنبھال کر نہیں رکھنی۔

لکھائی کی ایجاد اسی لئے انسان کی ترقی کا ایک بڑا اہم سنگِ میل تھی۔ اس نے معلومات کا تبادلہ اور اس کو انسانی ذہن سے باہر محفوظ کر کے انسانی ذہن کی توسیع میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ لکھائی کی تاریخ میں ہمیں جو ابتدائی الفاظ ملتے ہیں، وہ کوئی شاعری یا فلسفہ نہیں، حساب کتاب کے کھاتے ہیں جو انسانی میں رابطے کا انتہائی مفید ذریعہ تھے۔ ناقابلِ اعتبار انسانی یادداشت سے باہر اس کو ریکارڈ کر لینا تجارتی تعلقات کے لئے اہم سنگِ میل تھا۔

لیکن کسی بھی معلومات کا اس وقت تک فائدہ نہیں، جب تک اس تک رسائی نہ ہو سکے۔ الفاظ کے ڈھیر میں سے معلومات کیسے حاصل کی جائے۔ اس کے لئے ہم طرح طرح کے طریقے ڈھونڈتے آئے ہیں۔ کسی کتاب کا سٹرکچر اسی طرح بنایا جاتا ہے۔ پہلے ایک انڈیکس، جس میں اس کے ابواب کے صفحات کے نمبر لکھے ہوتے ہیں۔ کتاب کے آخر میں کی ورڈز۔ اپنے مطلب کا لفظ دیکھ کر ٹھیک صفحے تک پہنچ جائیں۔ میں اگر ہیملٹ اور گرٹروڈ کی لڑائی کو پڑھنا چاہتا ہوں اور یہ علم نہیں کہ شیکسپیئر کو کونسی کتاب کا کونسا صفحہ کھولوں تو تمام کتابیں سامنے ہوتے ہوئے بھی یہ بے کار ہے۔ انسائیکلوپیڈیا میں معلومات حروفِ تہجی کے حساب سے اسی لئے لکھی ہوتی ہے۔ لائبریری میں کتابیں کس طرح لگائی جائیں کہ رسائی آسان ہو، اس کے لئے تو لائبریری سائنس خود علم کا اپنا الگ شعبہ ہے۔ اگر شاپنگ کرتے وقت میں اپنی سودا سلف کی فہرست سے یہ نہیں دیکھ سکتا کہ انڈے لینے ہیں کہ نہیں، تو فہرست بنانے کا فائدہ نہیں۔

معلومات تک آسانی سے رسائی معلومات کا ریکارڈ رکھنے سے بھی زیادہ اہم ہے۔ کمپیوٹر کے انقلاب نے ریکارڈ کو ڈیجیٹل صورت میں منتقل کرنا ممکن بنایا۔ معلومات آسانی سے کاپی ہو سکتی ہے۔ خط کی جگہ ای میل اسی وقت پہنچ جاتی ہے۔ سٹوریج کی مسلسل بہتری کی وجہ سے اب دنیا کی بڑی لائبریری میری جیب میں آ سکتی ہے۔ لیکن اس سب کا فائدہ اس وقت تک نہیں جب تک اپنی دلچسپی کے حصے تک آسانی سے پہنچا نہ جا سکے۔

اس پس منظر کے بعد اب تعارف اس تصویر کے لوگوں کا۔ لیری پیج اور سرجئی برن سٹینفورڈ یونیورسٹی میں اپنا پراجیکٹ کر رہے تھے۔ اس وقت تک سرچ انجن الفظ کو کسی صفحے میں دیکھ کر متعین کرتے تھے کہ اس کو سرچ کے نتیجے میں آنے چاہیے یا نہیں۔ انہوں نے اپنے پراجیکٹ میں ایک نیا طریقہ استعمال کیا جس کو پیج رینک کا نام دیا گیا۔ اس میں کی جانے والی اہم بہتری یہ تھی کہ کسی پیج کی رینکنگ اس بات سے کی جاتی تھی کہ کونسے صفحے کو دوسرے صفحے ریفر کرتے ہیں۔ اس تکینیک کا اپنے پراجیکٹ کا اچھا نتیجہ دیکھنے کے بعد ان دونوں نے 4 ستمبر 1998 میں اپنی کمپنی بنائی۔ کچھ ابتدائی فنڈنگ لی۔ اس روز اپنے کلاس فیلو کریگ سلورسٹین کو پہلا ملازم رکھا۔ یہ گوگل کی پیدائش تھی۔ ساتھ لگی تصویر 1999 میں لی گئی۔ یہ اس وقت گوگل کی پوری ٹیم تھی جو سب سے پہلے گوگل سرچ انجن کو آن لائن لے گئی۔

صرف بیس برس پہلے ایک گیراج سے شروع ہونے والی یہ کمپینی آج دنیا کی تیسری سب سے زیادہ ویلیو ایبل کمپینی ہے۔ اس کی مارکیٹ ویلیو آج ساڑھے سات کھرب ڈالر ہے اور سالانہ آمدنی ایک کھرب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اس کی سات پراڈکٹس ایسی ہے جن کے استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے۔ اس میں گوگل سرچ، گوگل کروم، اینڈرائیڈ، یوٹیوب، گوگل پلے سٹور، گوگل میپ اور جی میل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی کامیاب اور ان سے بھی زیادہ ناکام پراڈکٹس بھی بنا چکی ہے (گوگل پلس، بز، ویو، ویڈیو، آنسرز، گلاس جیسی)۔ اس وقت ایک سیکنڈ میں 40000 سرچ اس کے ذریعے ہوتی ہیں۔ آج گوگل کے پچاسی ہزار ملازمین ہیں۔

تو اس نے میرا دماغ کیسے بڑا کیا؟ ڈیجیٹل شکل میں پڑے بے بہا مواد تک آسانی سے رسائی کا طریقہ دے کر۔ آپ مجھ سے اکبر بادشاہ کی تاریخ پیدائش پوچھ لیں، ماریطانیہ کے وزیرِ خارجہ کا نام، پچھلے سال سب سے زیادہ بکنے والی کتاب کے بارے میں یا پھر اٹھارہویں صدی میں ابخازیا کی تحریک آزادی کا انجام، مجھے سب پتہ ہے۔

میرے اتنے بڑے دماغ کے پیچھے اس تصویر کے لوگوں کا کردار ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *