ٹانگری۔۔۔عارف خٹک

یہ کہانی روایات، رسوم اور اونچے شملوں میں مقید ہر اس مجبور و لاچار ماں، بیٹی اور بیوی کی کہانی ہے۔ جن کے رعش زدہ ہاتھ آج بھی ہمارے لئے دعاوں کیلئے اٹھے ہوتے ہیں۔ یا وہ آج بھی کہیں اپنی لاوارث قبروں پر بال کھولیں بین کررہی ہوتیں ہیں۔
یہ تحریر اپنی بیٹی عانی خٹک کے نام کرتا ہوں۔

سن 1994
عید کی نماز پڑھ کر خوشی خوشی قدم بڑھاتا گھر کی جانب روانہ ہوا۔ نئے کپڑے تھے یہ الگ بات کہ ماں نے گلی گلی پھیری لگانے والے کابلی والے سے مزری ملیشیاء کا یہ کالا کپڑا ادھار پر خرید کر خود سلوا کر دیئے تھے تاکہ میں عید پہ پہن لوں اور اسکول بھی پہن کر جا سکوں۔ پلاسٹک کے جوتے تھے جو بہت پیارے تھے۔ پالش کی بچت الگ ہوتی تھی۔ جب حد سے زیادہ گندے یا میلے کچیلے ہوجاتے تو گاوں سے دو کلومیٹر دور ندی پہ شام کو جاکر دھولیتا اور اگلے دن چمکتے جوتے پہن کر اسکول جاتا۔ پیروں میں وہی پلاسٹک والے جوتے تھے۔ مگر چہرہ خوشی سے لال ہورہا تھا کہ آج اماں نے گھر میں مرغی پکائی ہوگی۔ میری جیب میں اماں کیلئے ایک سرپرائز تھا۔ پتاسے اور ٹانگری۔ اماں کی پسندیدہ مٹھائی۔

میری عمر 14  سال تھی۔ چھ بہنیں اور چار بھائی ، میں سب سے بڑا تھا۔ لہذا وقت سے پہلے بالغ ہوگیا تھا۔ ذمہ داری کچھ یوں بھی بڑھ گئی تھی کہ والد کی قلیل تنخواہ میں والدہ ہماری ضروریات خوراک پوری کرتے کرتےذہنی طور پر مفلوج ہوجایا کرتی تھیں تو میں ہی ان کا ساتھ دیتا ۔گاوں کے واحد دکاندار چچا سے پانچ سال کی عمر میں ادھار آٹے دال کی بارگیننگ کرتے کرتے اور بڑا ہوچکا تھا۔
ابا کی تنخواہ کا ساڑھے چار ہزار روپے کا منی آڈر جب گاؤں کے ڈاک خانے میں موصول ہوجانے کی اطلاع ملتی۔ تو دو دن تک پیدل تین کلومیٹر دور پہاڑوں میں واقع ڈاکیے کے گھر جاتا تو وہ ٹرخا دیتا کہ کل آجانا پیسے مل جائیں گے۔ ہمارے پیسے وہ اپنی کسی ضرورت کیلئے استعمال کرلیتا تھا۔ پیسے ملتے ہی دکاندار کا سارا حساب چکتا دیا جاتا۔ اور پھر ادھار کا کھاتہ نئے سرے شروع ہوجاتا۔
ماں کا پھٹا آنچل ہمیشہ پھٹا ہی رہا وہ جون جولائی کی گرمی میں بھی تپتی زمین  پر ننگے پیر ندی پر کپڑے دھونے جاتی تھی۔ سر پر دو مٹکے اور پہلو میں ایک مٹکا لٹکا کر ننگے پیر میلوں دور سے پانی بھر لاتی۔ اور پھر کام میں جت جاتی۔ ماں کے پیر کے تلوے اتنے سخت ہوچکے تھے کہ کانٹا چھبنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پورے گاؤں میں مشہور تھا کہ نصیباں کے پیر گوشت پوست کے نہیں پتھر کے بنے ہوئے ہیں۔
علی الصبح ہم بہن بھائیوں کو سوتا چھوڑ کر گاوں کی عورتوں کے ساتھ ننگے پاؤں ، رومال میں سوکھی روٹی پیاز کے ساتھ باندھ کر پہاڑوں پر لکڑیاں کاٹنے چلی جاتی اور واپسی میں سر پہ من بھر گیلی لکڑیاں لاد کر دوپہر کو واپس اتی۔ پھر کھانا بناکر ہمیں کھلاتی۔

ماں کو میٹھا بہت پسند تھا۔ گاؤں دیہات میں اگر کسی کے ہاں ولادت ہوتی۔تو ماں ضرور جاتی ۔ کیونکہ بچے کی پیدائش پر پشتون روایات کے تحت میٹھی میٹھی گولیاں جسے پتاسہ کہا جاتا ہے۔اور آٹے سے بنے ہوئے ہوئی مٹھائی (ٹانگری) جو انگلی برابر ہوتی ہے۔ بانٹے جاتے۔ اماں جھولی بھر کر گھر لیکر آتی۔ اور ہمیں کھلانے کیساتھ ساتھ خود بھی آنکھیں بند کرکے مزے سے کھاتیں۔

مجھے یاد ہے 1995 میں میری چھوٹی بہن کی ولادت قریب تھی۔ ولادت سے ایک دن قبل مجھے گھر بٹھا کر تاکید کی کہ اپنی توجہ پڑھائی پر دوں ساتھ ساتھ بہن بھائیوں کی رکھوالی کروں۔خود اسی حالت میں پڑوسنوں کے ساتھ گندم کٹائی پر چلی گئی۔ تاکہ پتاسے اور ٹانگری مل سکے۔ اگلی صبح جب میں نیند سے اٹھا تو اماں کی گود میں میری ننھی منی  سی چھوٹی بہن تھی۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کا کھانا پھر بھی اماں نے بنایا۔ کھانے میں لسی سے بنی ہوئی کڑھی تھی جو ہماری  ہفتہ وار مینیو میں چوبیس گھنٹے کے بعد لازمی بنتی تھی۔ اماں نے مجھے دکاندار کے پاس بھیجا کہ جاکر ادھار پر ٹانگری اور پتاسے لے آؤ تاکہ وہ بھی گاؤں والوں کو دکھا سکے کہ نصیباں بھی کسی سے کم نہیں۔ مگر شام کو میں خالی ہاتھ  آیا۔ دکاندار نے پچھلا ادھار چکانے کا کہا ہے۔ اس دن ماں کی آنکھوں میں پہلی بار نمی دیکھی۔
ہر مہینے ابا کا خط مہینے کے آخر میں آجاتا تھا۔ میں لکھنا ٘پڑھنا جانتا تھا سو اماں کا جوابی خط مجھے ہی لکھنا پڑتا تھا۔ اماں ہر خط کے آخر میں لکھتی تھی۔ الحمداللہ بہت اچھا گزارہ چل رہا ہے۔ میں جب “گزارہ” لکھنے لگتا تو میرے ہاتھ کانپ جاتے کہ گزارہ کسے کہتے ہیں۔ مگر لکھ دیتا۔۔اماں کی شادی 1978 میں مبلغ 500 روپے کے عوض ہوئی تھی۔ ماں باپ نے اپنی غربت کا بوجھ کسی اور کے سر منڈھ دیا تھا۔ بھائی نے جائیداد پہ یہ کہہ کر ماں سے دستخط کروا لئے کہ پشتون روایات میں بہنیں بھائیوں سے حصہ نہیں لے سکتیں۔ ایسی بہنوں کیلئے پشتون معاشرے میں ایک بہت برا لفظ ہے۔ میں نے کبھی ماموں کو یا نانا کو اپنے گھر آتے نہیں دیکھا۔ میں ماں سے پوچھتا تو وہ اپنے میکے کا دفاع یہ کہہ کر کرتیں کہ “ان کا گھر چار کلومیٹر دور ہے ابا کمزور ہے اور بھائی مصروف ہوتا ہے، آجائیں گے کسی دن فارغ ہوکر”

1999 میں ابا ریٹائر ہوگئے۔ ان کو پانچ لاکھ پینشن کا مل گیا۔ اماں نے کبھی اتنے پیسے اکٹھے دیکھے نہیں تھے۔ پورا دن ابا سے کہتی رہیں کہ پینشن کی رقم مجھے دکھانا ضرور۔ زندگی میں پہلی بار میں نے اماں کو نیا دوپٹہ اوڑھے دیکھا۔ جو ابا نے لاکر دیا تھا۔ نیا دوپٹہ پہن کر وہ اترائی اترائی بھاگتی رہی اور اپنی دیورانیوں کو جلاتی رہی۔ اس دن ہمارے گھر میں گوشت بھی پکا تھا۔
اگلے دن ابا نے اپنا فیصلہ سنایا کہ گیارہ بچوں کو پالتے پالتے اماں بوڑھی ہوگئی ہے۔ لہذا وہ دوسری شادی کررہے ہیں۔ دادا اور چچا نے فائرنگ کرکے گویا ابا کو اجازت دے دی۔ ماں کو اس دن میں نے پہلی اور آخری بار ہچکیاں لیتے دیکھا۔ چھوٹے بہن بھائی بھی خوش کہ اب ان کے  گھر میں خوشیوں کے ڈھول بجیں گے۔ وہ نئے کپڑے پہنیں گے۔
ابا دوسری دلہن لیکر آگئے اماں بھاگ کر دوسرے کمرے میں چھپ گئیں ۔ رشتہ داروں نے جاکر اماں کو پشتون ولی کا سبق پڑھایا کہ پشتون بیویاں جی دار ہوتی ہیں۔ نئی مہمان کا استقبال مسکراہٹ سے کرتی ھیں ۔ اماں مرے مرے قدموں سے دلہن کے پاس گئی۔ اور اس کے گلے سے لپٹ گئیں ۔ دونوں رونے لگ گئیں۔ میں یہ معمہ آج تک نہیں سمجھ سکا۔ اسی دوران کسی نے ٹانگری اماں کو پکڑا دیئے اور ماں سب کچھ بھول کر خوشی خوشی ٹانگری کھانے لگیں۔

سال 2015
میں نے اپنی نئی ماڈل کی فورچونر پشاور کینٹ میں موجود مٹھائی کی مشہور و معروف دکان کے سامنے روک دی۔ اماں کو سہارا دے کر میں اور میری شہری بیگم نے گاڑی سے اترنے میں مدد کی۔ دکان کے اندر گئے۔ اماں سے کہا اماں کون سی مٹھائی پیک کروا دوں؟۔ ڈبڈباتی آنکھوں سے مسکرائی۔ چہرے کی جھریاں مزید گہری ہوگئیں۔ کہنے لگیں “بیٹا ان سے کہو پتاسے یا ٹانگری مل جائیں گے؟”۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے دل میں کہیں دور چھناکے کی سی آواز ائی۔ اماں کو چومتے ہوئے پوچھا کہو تو پوری دکان لیکر دوں؟۔
دکاندار نے روایتی مٹھائی پتاسے اور ٹانگری کا ٹوکرا اماں کے سامنے رکھا۔ ماں نے کپکپاتے ہاتھوں سے ایک ٹانگری اٹھائی۔ اور منہ میں رکھ لی۔ میری بیگم نے بھی اماں کی تقلید کرتے ہوئی ٹانگری اٹھائی اور جیسے ہی وہ منہ تک لیکر جانے لگی۔ میں نے بیگم کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔اور ٹانگری اس کے ہاتھ سے لیکر واپس ٹوکرے میں رکھ دی۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”ٹانگری۔۔۔عارف خٹک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *