سفر ِعشق۔ علی زیدی

حصہ اول (کوئٹہ تا پنڈی)

ہائے!!! کہاں سے شروع کریں؟ ہم چہار سال سے اس انتظار میں بیٹھے رہے کہ دوست اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال سکیں تاکہ اس آخری حسرت کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ، مگرافسوس کہ ہیچ۔ دوسری جانب بار بار امی اور ابو ہمارے “پاؤں باندھنے” کی بات کر رہے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ ہم اپنی اوقات سے زیادہ عیاشی کر چکے ہیں۔
اکثر ایسا ہوتا تھا کہ ہم، ہر سیمیسٹر میں یہ منصوبہ بندی کرتے کہ اگر اس دفعہ پاس ہو جائیں توضرور یہ آخری حسرت پوری کریں گے، مگر خدا کے کرم اور ہمارے صبر و تحمل کو سلام کہ ہم مسلسل فیل ہی ہوتے رہے۔
خیر، ہرفیل ہونے کے بعد ہم دل کو یہی تسلی دیتے کہ یہ ڈگری اور سرٹیفیکیٹ تو دنیاوی چیزیں ہیں۔ ہم مطمئن تھے کہ آج تک جتنے بڑے لوگ دنیا میں پیدا ہوئے ہیں وہ سب کے سب علمی نصاب کے لحاظ سے اپنے ہم عصروں میں سب سے پیچھے رہے ہیں۔ اور ویسے بھی ہم علم کے دیوانے ہیں، ڈگری یا سرٹیفیکیٹ تو بس نام کی چیز ہے۔
ایک اور اہم نقطہ یہ، کہ ہمیں ایک مہینے میں حصولِ معاش کے لیے ایک ایسے ملک میں جانا تھا جس کی اقتصادی حالت پاکستان سے بھی گئی گزری تھی۔
لہٰذا یہ ہمارے لیے آخری موقع تھا۔
آخری نقطہ یہ، کہ اب ہم عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے تھےجہاں اگر یہ کام نہ کر پاتے تو شاید پھر کبھی نہ کر پاتے۔ نہیں، ہم آپ کو اپنی عمر نہیں بتائیں گے۔ (یہ بات ٹھیک ہے کہ کہا جاتا ہے کہ خواتین سے انکی عمر نہیں پوچھی جاتی مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مرد حضرات اپنی عمر کی عالمی سطح پر تشہیر کرتے رہیں)۔ آپ بس اتنا سمجھ لیجیے کہ ہم اپنے شباب کے آخری ایام میں قدم زن تھے۔ اس لیے ہمارے لیے وقت بہت کم تھا۔

لوگ اکثر یہ پوچھتے ہیں کہ ہم اپنی یہ حسرت کیوں پوری کرنا چاہتے ہیں؟ اول تو یہ کہ ہم اپنی ہر دیوانگی کو خارشِ دل کا نام دیتے ہیں۔ ہماری کچھ ایسی ہی خواہشیں ہیں جن کو پورا “نہ” کرنے پر دل میں عجیب کھجلی ہونے لگتی ہے۔ اب کیا بتائیں کہ کیوں؟ بھائی کچھ کجھلیوں کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ بس کجھانا پڑتا ہے۔ بہ قول اقبال ماما کے:
تنگی دل کا گلہ کیا، یہ وہ کافر دل ہے
کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا
ابھی کل ہی کی بات ہے۔
امی نے 2 ہزار روپے دیئے اور کہا “یہ 2 ہزار بلقیس کی امی کو دے دینا اور کہنا کہ کمیٹی کے پیسے ہیں، اور ہاں ان سے ہماری وہ دیگچی بھی لیتے آنا جو وہ کل رات لے گئی تھی۔ یاد سے۔ ۔ ۔ بھولنا نہیں”۔
ہم چل دیئے۔ ہم نے گھر کی گھنٹی بجائی تو بلقیس نے ہی دروازہ کھولا۔ ہم اندر داخل ہو ئے اور بولے ” سلام بلقیس باجی” ۔ ہم نے لفظ “باجی” پر بلا وجہ زور دیا۔
بلقیس نے ہمارے کندھوں پر ایک زوردار ہاتھ مارا اور کہنے لگی”بدتمیز، کتنی بار تجھے سمجھایا ہے کہ مجھے باجی مت پکارا کرو ۔ میں تم سے صرف ایک سال ہی تو بڑی ہوں”۔
“ایک سال بڑی ہو یا پونے سال، ہو تو بڑی ناں؟ ” ہم نے بھی اس کی گردن پر دھول جمانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے کیونکہ وہاں چادر کے نیچے پلاسٹک کا بنا موٹا ہیئر کلپ موجود تھا جس نے اس کے بالوں کو مظبوطی سے جھکڑ رکھا تھا۔
خیر یہ بتاو خالہ کہاں ہیں؟ہم نے پوچھا۔
امی فاتحہ کے لیے حاجی ناصر کے گھر گئی ہیں۔ تجھے پتا ہے ناں کہ جو کشتی سمندر کے راستے میں ڈوبی تھی اس میں حاجی ناصر کا بیٹھا خداداد بھی تھا۔
اچھا اچھا بس کر۔ تجھے تو زیادہ بولنے کی بیماری ہے۔ میں نے صرف اتنا پوچھا تھا کہ خالہ کہاں ہیں۔اور تم لیلا مجنوں کے قصے سنانے لگی۔ یہ لو دو ہزار روپے۔ خالہ سے کہ کہنا کمیٹی کے پیسے ہیں۔ اور ۔ ۔ ۔ امی نے کچھ اور بھی کہا تھا ۔ ۔ ۔ اب ۔ ۔ ۔ یاد نہیں آ رہا۔
بلقیس نے پیسے لیے اور کہا، “علی، سنا ہے تم اکیلے ہی شمال جا رہے ہو؟”
ہم نے اس کی طرف دیکھ کر کہا “پہلی بات یہ کہ اس جگہ کا نام ہے وادی کاغان ہے، نہ کہ شمال، اور جہاں تک تمھارے سوال کا تعلق ہے تو اس کا جواب ہے ہاں، اب مجھ سے اور انتظار نہیں ہوتا۔ مجھے اکیلے ہی جانا ہوگا”۔
بلقیس نے نوٹوں کے کئی تہہ کرتے ہوئے کہا، “ان حالات میں وہاں کیوں جا رہے ہو، وہ بھی اکیلے؟”
ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے ہم نے ایک گہری سانس لے کرکہا “خدا کی خوبصورتی کو دیکھنے ”
یہ سنتے ہی بلقیس نے سر سے چادر سرکائی اوراپنے سیاہ لمبے بال کھول کر کاندھوں پر گرایی کر کہا:
“یہ لو، جی بھر کے دیکھ لو، خدا کابنایا ہواایک شاہکار”
ہم نے قے آنے کی اداکاری کی تو وہ چپل اتارنے لگی۔ ہم بھاگ کر گھر سے باہر آئے۔ دروازہ بند کرتے ہی ایسی آواز آئی جس سے ہم نے اندازہ لگا لیا کہ بلقیس کا چپلِ مبارک ہمارے سر کے بجائے دروازہ سے ہمکلام ہو گیا ہوگا۔
بہ ہر حال۔ بات اپنی جگہ۔
ہم نے تو ارادہ کر لیا تھا کہ اس بار ہم ضرور جائیں گے۔ بھاڑ میں جائے زندگی۔ کراچی میں ایک سال کی غلامی کے بعد ہم نے تقریباَساٹھ ہزار روپئےاس سفر کے لیے جمع کر رکھے تھے۔ ہمیں بلکل اندازہ نہیں تھا کہ کتنا خرچہ آئے گا۔ حلقہ احباب میں سے مراد علی اور سعادت صبوری اکثر “فیری میڈوز” تک جایا کرتےتھے۔ اس لیے سامان کے لیے ان ہی سے مشورہ چاہا۔ انھوں نے کہا “چاہے جتنی بھی گرمی ہو، ایک جیکٹ ضرور ساتھ رکھنا، وہاں کا موسم نوجوان کے دل کی طرح خودسر ہوتا ہے جو کبھی ایک جیسا نہیں رہتا”۔
نے تاب ہجر میں ہے نا آرام وصل میں
کمبخت دل کو چین نہیں ہے کسی طرح
مگر جب مراد اور سعادت کو معلوم ہوا کہ ہم اکیلے ہی رخت سفر باندھ رہے ہیں تو وہ بھی حیران رہ گئے ۔
جانے سے پہلے ہم نے کراچی میں مقیم حلقہ احباب میں سب سے زیادہ فہم و شعور رکھنے والے تجربہ کار شخص کی طرف رجوع کیا۔ وہ تھے یاسر ماما۔ ہم سب یاسر کو پیار سےماماکہہ کر بلاتے ہیں ورنہ وہ ہمارے ہم عمر ہیں۔
ہم نے یاسر ماما سے پوچھا کہ سفر کے لیے کونسے وسائل اور سامان لیے جائے- یاسر ماما نے سگریٹ کا ایک عمیق کش لگایا اور ہماری آنکھوں کی طرف غور سے دیکھتے ہوے بولا “دیکھو زوئی، شمال کی طرف جا رہے ہو، تو تین چیزیں ضرورساتھ رکھنا۔
ہمارے پوچھنے پر انہوں نے ایک ایک لفظ کے درمیان سگریٹ کا کش لگاتے ہوے بڑی آہستگی سے بولا” چھری۔۔۔ لایٹر۔۔۔ اور سگریٹ”۔
“مگر ہم سگریٹ نہیں پیتے ماما” ہم نے احتجاجاً کہا۔
“میں بھی نہیں پیتا” ماما نے سگریٹ زمیں پر پھینکنے کے بعد اسے پیر سے مسلتے ہوئے کہا “بس کبھی کبھار پی لیتا ہوں۔” اور پھر بڑے عاجزانہ انداز میں کہا ” خدا کا شکر ہے 8 سال سے پی رہا ہوں مگر آج تک سگریٹ کا عادی نہیں ہوا”۔
“مگر ماما ہمیں وہاںسگریٹ لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟” ہم نے دوبارہ شکایت کی۔
“دیکھو زوئی ” ماما نے اگلا سگریٹ جلاتے ہوے کہا ” تم اچانک صاف ستھرے ماحول میں جاؤگے تو بیمار پڑ جاؤگے، تمھارے جسم کو شفاف فضا کی ضرورت تو ہے مگر تم اس کے عادی نہیں، لہٰذااپنے ساتھ تھوڑا سا دھواں لے جاؤ”۔

ہم کمر بستہ ہوگئے اور جانے کی تیاری شروع کر دی۔ گھر میںایک چھوٹا سا چولہا پڑا تھا جوسفر کے لیے موزوں تھا، ہم نے وہ بستے میں ڈالا، ساتھ ہی ایک عدد چھری، جیکٹ، لایٹر، 2 عدد پیراہن اورجرابیں بھی رکھ دیں۔ اسی طرح رضا اسلان کی کتاب
No god but God
بھی لے لی۔ پھر ہم نے لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے
Sophie’s world
بھی ساتھ رکھا حالانکہ بالکل پڑھنا مقصود نہیں تھا۔
DSLR Camera
تو ہمارے بس میں تھا نہیں کہ ہم خرید سکیں (ہم کوئی سید مہدی بخاری تھوڑی ہیں؟)، اور دوست سے بھی نہیں لینا چاہتے تھے کیونکہ اکیلے کا سفر اور اس دوران ایسا نازک برقی آلہ ساتھ رکھنا زیادہ عقلمندی کی بات نہیں ۔ ہم نے اپنا سامسنگ گیلیسی سمارٹ فون بھی ساتھ نہیں لیا (جی ہاں ہمارے پاس بھی سامسنگ گیلیکسی ہے) کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ ہمارا دھیان صرف اور صرف زلال نہر وں، آبشاروں، جنگلات، باغات ، سرسبز پہاڑیوں اور شفاف فضا پر ہو، نا کہ ہمارے گرانقدر وسائل پر۔اس لیے ہم نے اپنے سامان میں کوئی ایسی چیز شامل نہیں کی جس کے کھو جانے سے ہم فکرمند ہو جائیں۔ ویسے بھی امی کے بقول ہم بہت “سر بہ ہوا” رہتے ہیں۔ ہمیں اپنے اطراف کی کبھی کوئی فکر نہیں ہوتی۔
پھرہم نے فاطمہ خالہ سے انکا چھوٹا سا ڈیجیٹل کیمرا مانگ لیا۔ کیمرہ اتنا قدیم تھا کہ ہمیں لگا شاید عالمی جنگ دوم کی تصاویر اسی کیمرہ سے کھینچی گئی ہوں گی۔ لہٰذا ہم نےسوچاکہ یہ کھو بھی جائے تو کوئی فکر نہیں۔
پھر آخری بار ہم نے اپنے دوست امان (امن و امان)کو فون کر کے کہا “یہ آخری موقع ہے۔ میں جا رہا ہوں۔ آنا چاہتے ہو تو چلو ساتھ چلتے ہیں”۔
امان نےایک آہ بھری اور کہا “میرا نہیں ہوگا یار۔ تجھے تو پتا ہے۔ تم جاؤ۔ ”
بس پھر کیا تھا، بستہ پیٹھ پر پہن کر ہم روانہ ہوگئے۔
“اکیلے جانے میں کوئی مزہ نہیں” کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن کی انتظارگاہ میں ہمارے پہلو میں بیٹھےشخص نے ہم سے مخاطب ہوتے ہوے کہا ۔
عجیب شخص تھا۔ ایک ہی گفتگو میں بات بات پر یہ دلائل دینے شروع کر دیئے کہ ہمارا ہر فیصلہ روز اول سے غلط ہی رہا ہے۔
ہمارا ملک نہ چھوڑنے کا فیصلہ۔ حصول تعلیم کے لیے کراچی جانے کا فیصلہ۔ سنتی تعلیم کو چھوڑنے کے فیصلہ، فی الحال شادی نہ کرنے کا فیصلہ۔ ایک دفعہ تو وہ یہ بھی کہنے والے تھے کہ ہمارہ ہزارہ اور شیعہ ہونے میں بھی ہمارا ہی قصور ہے۔
بس وہ بولتے جا رہے تھے اور ہم صرف سر ہلا رہے تھے۔ بھلا ہم کر بھی کیا سکتے تھے۔ مسلسل دعاؤں کے بعد ٹرین آگئی اور ان سے ہماری جان چھوٹی۔

جب ہم بوگی میں داخل ہوے تو ایک عمر رسیدہ شخص وہاں پہلے سے موجود تھا۔ سلام کرنے کے بعد ہم اپنی نشست پر بیٹھ گئے اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص جو ہر بات پہ ہماری سرزنش کر رہا تھا کسی سے ہاتھ اٹھا اٹھا کر بات کر رہاتھا۔ ہم کھڑکی چھوڑ کر اندر کی طرف کھسک گئے۔ کچھ لمحہ خاموشی چھائی رہی۔ پھر ایک اور شخص سلام کر کے اندر داخل ہوا۔ کڑک سفید کپڑوں میں ملبوس شخص کے ساتھ تین اور لوگ بھی تھے جو اس شخص کو بار بار “سر” کا خطاب دے رہے تھے۔ ہم جان گئے کہ حضور کوئی بڑے سرکاری افسر ہوں گے۔

ٹرین نے درد بھری تین چیخیں ماریں اور روانہ ہوگئی جس کےبعد مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر شیشے کی کھڑکی کو باہر کی طرف سےآہنی ڈھکن /پردے لگا کر بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے بوگی بلکل تاریک ہوگئی۔ ہماری پریشانی دیکھتے ہوے کڑک سفید کپڑوں والے شخص نے کہا “گھبرانے کی کوئی بات نہیں، کچھ دیر میں دوبارہ کھول دیں گے، بات یہ ہے کہ اس علاقے کے لوگ ٹرین کی بوگیوں پر سنگ و خشت برسا کر اپنے پیار کا ثبوت دیتے ہیں “۔ ہم خاموش ہوگئے ۔پھر کچھ دیر میں آہنی پردے کو ہٹا لیا گیا اور ہم دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگے۔

اسی دوران کڑک سفید کپڑوں والے شخص (سر جی) نے ہم سے پوچھا کہ ہم کہاں کے رہنے والے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں؟ ہم نے سارا ماجرا سنایا تو وہ بہت خوش ہوئے اور بولے “جگرِ شیر رکھنے والے جوان ہو!”۔ جگر شیر والی بات توسمجھ میں نہیں آئی مگر جوان کہلانے پر ہماری خوشی دیکھنے کے قابل تھی۔ پھر جب ہم نے جگرِ شیر کی تشریح چاہی تو بہت زور دینے کے بعد انھوں نے کہا کہ انکو یہ فارسی شعر یاد نہیں آرہا۔
بات آگے بڑھی اور میرے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ سر جی ریلوے کے محکمے میں ایک معزز عہدہ رکھتے ہیں۔ بات ٹرینوں کی چل نکلی تو انھوں نے بہت ساری معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کے آبِ گم سے کولپور پر جاتے ہوئے یہ اسٹیشن پاکستان ریلوے نیٹورک کا سب سے اونچا استیشن ہے۔ انہوں نے مذید بتایاکہ بولان کا ریلوے ٹریک عجوبوں کے زمرے میں آتا ہے۔
مزے کی بات یہ کہ انھوں نے جامی صاحب کی فلم “مور” بھی دیکھ رکھی تھی جس کو انھوں نے ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا “جس نے بھی یہ فلم بنائی ہے انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے اورایک اسٹیشن ماسٹر کی زندگی کی عمدگی سے ترجمانی کی ہے۔ ایک اسٹیشن ماسٹر اپنے اسٹیشن سے ماں کی طرح ہی عقیدت رکھتا ہے۔ ”

ہماری باتوں کو سنتے ہوے عمر رسیدہ بابابھی گفتگو میں شامل ہوگئے۔ انھوں نے بتایا کے وہ پچھلی چار دہائیوںسے محکمہ تعلیم میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ عمر رسیدہ بابا جنہیں ہم اب حاجی صاحب کا خطاب دے رہے تھے نے بتایا کہ “اب محکمہ تعلیم کی حالت بہت خراب ہو گئی ہے۔” یہ سنتے ہی سر جی نے ان سے دنیا کا سب سے مشکل سوال کر ڈالا۔
حاجی صاحب! یہ بتائیں کہ اس کا حل کیا ہے؟
حاجی صاحب بغیر وقت لیے اپنی 2 انگلیوں کو دراز کرتے ہوے بولے “صرف 2 تعلیمی اصلاحات (ایجوکیشن ریفورمز) لائیں، سارا مسلہ حل ہو جاوے گا”
یہ سنتے ہی ہم اور سر جی حلقہ بگوش ہو گئے۔ حاجی صاحب نے اپنی آنکھوں کے طول و عرض میں اضافہ کرتے ہوے کہا ” پہلی بات تو یہ کہ شرط رکھی جائے کہ ہر سرکاری استاد کا بچہ سرکاری سکول میں ہی تعلیم حاصل کرے اور دوسری بات یہ کہ شعبہ تعلیم کوسیاست سے پاک رکھا جائے”
ہم اور سر جی دونوں چپ ہوگئے۔
اسی اثنا میں سر جی کے ایک ملازم نے ایک ڈبہ ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔ سر جی نے ڈبہ کھولا اور حاجی صاحب کو پیش کرتے ہوے کہنے لگے ” حاجی صاحب، یہ لیجیے، گھوٹکی کا ماوا” پھر ہماری طرف بڑھاکر بولے “یہ شیرینی(مٹھائی) کھانے کے بعد آپ گھوٹکی کو ضرور یاد رکھیں گے”۔ اور ہوا بھی یہی۔ لبِ جاناں کی طرح شیریں!۔ ہم صبح 8 بجے لاہور پہنچے۔ کھانے کو تو دل نہیں کر رہا تھا اس لیے ہم نے چائے منگوائی۔ چائے کیا تھی، گویامحبوب کی زلفوں سے ٹپکنے والا پانی تھا۔ ساری تھکاوٹ دور ہو گئی۔حاجی صاحب اگلے اسٹیشن پر اتر گئے مگر جاتے جاتےڈھیر ساری دعائیں دے گئے۔ کچھ سٹیشن کے بعد ہمارا آخری ہمسفر، سر جی، بھی اتر گیا۔ ہم اکیلے رہ گئے۔
عجیب لگ رہا تھا۔ مگر کیا ہم اسی چیز کے لئے نہیں آئے تھے؟ تنہائی، خاموشی، خود فکری، خود کلامی، خود شناسی۔
کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی جیسے
تمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا
احمد فراز

Avatar
علی زیدی
علی زیدی تھرڈ ڈویژنر ہیں اور بد قسمتی سے اکاؤنٹنگ کے طالبعلم ہیں۔ افسانہ، غزل اور نظم بھی لکھتے رہتے ہیں۔ انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: Kafandooz@

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *