سوشل میڈیا کی حکومت؟۔۔۔۔۔آصف محمود

پرانے پاکستان میں یہ صرف نونہالان انقلاب تھے ، ’کپتان خان دے جلسے وچ ‘ جن کا ’ نچنے نوں ‘ بہت دل کرتا تھا۔ معاملات اسی طرح چلتے رہے تو نئے پاکستان میں ساری قوم بہت جلد اسی ’ انقلابی اقدام‘ پر مجبور ہو جائے گی۔ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ یہ ایک پولیس سٹیشن کا منظر ہے۔پولیس افسر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے اور اس کی کرسی پر ایک سفید لباس اور ویسٹ کوٹ زیب تن فرمائے ایک صاحب تشریف فرما ہیں۔سوال پر سوال کیے جا رہے ہیں اور پولیس افسر گویا کٹہرے میں کھڑا ہے۔اول گمان گزرا یہ صاحب شاید پولیس کے کوئی اعلی افسر ہیں لیکن پھر معلوم ہوا یہ مری سے تحریک انصاف کے ایم پی اے لہطاسپ ستی صاحب ہیں۔صاحب نے تھانے کا اچانک دورہ فرمایا مگر اس اہتمام کے ساتھ کہ ایک کیمرہ مین ان کے ساتھ تھا تا کہ جب وہ پولیس کو ڈانٹنے کی کارروائی ڈالیں تو اس نیکی کو محفوظ کر کے سوشل میڈیا پر ڈالا جا سکے۔ کارروائی تو اب ڈال دی گئی ہے۔ نو منتخب ایم پی اے نے اقتدار کا اولین مزہ بھی لے لیا۔ علاقے میں دبدبہ بھی قائم ہو گیا کہ یہ ستی صاحب کا عہد خلافت ہے۔سوالات مگر کچھ اور ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ وہ کون سا قانون ہے جو ایک ایم پی اے کو اس طرح پولیس سٹیشن میں گھس کر ان کی ڈانٹ ڈپٹ کرنے اور ریکارڈ منگواکر دیکھنے کی اجازت دیتا ہے؟ کل سے پولیس آرڈر کھول کر بیٹھا ہوں ایسا کوئی ضابطہ مجھے نظر نہیں آیا۔ صوبائی اسمبلی کا کوئی ایسا بائی لاء بھی موجود نہیں جو کسی ایم پی اے کو اس کی اجازت دیتا ہو۔ نئے پاکستان کے رکن صوبائی اسمبلی کیا ہماری رہنمائی فرمائیں گے انہوں نے کس استحقاق کے تحت یہ نیکی کر کے سوشل میڈیا پر ڈلوائی؟وہ وزیر داخلہ ہوتے یا پارلیمان کی کسی ایسی کمیٹی کے رکن ہوتے جو پولیس کے امور کو دیکھنے کے لیے بنائی گئی ہوتی تب تو اس اقدام کاجواز ہوتا لیکن ایک ایم پی اے علاقے میں صرف رعب دبدبہ اور طنطنہ برقرار رکھنے کے لیے تھانوں کے دورے فرما کر افسران کو ڈانٹ آئے تا کہ سند رہے اور تھانے کے معاملات میں بوقت ضرورت کام آئے تو یہ لمحہ فکریہ ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف کا دعوی ہے کہ وہ پولیس کو سیاسی اثرو رسوخ سے آزاد کرے گی۔ کیا اس رویے کے ساتھ یہ کام ہو سکے گا؟ پولیس پر سیاسی دبائو کیسے آتا ہے؟ انہی دوروں سے آتا ہے۔ یہ دورے اصل میں مقامی پولیس کو یہ بتانے کے لیے ہوتے ہیں کہ حاکم ہم ہیں اور تھانے ہماری مرضی سے چلائے جائیں۔جب پولیس کا اپنا ایک نظام اور ڈھانچہ موجود ہے تو اس ڈھانچے کو فعال اور متحرک ہونا چاہیے۔ کسی کی سرزنش بھی کرنی ہے تو پولیس کا متعلقہ افسر ہی کرے تو جچتا ہے۔ ادارے تبھی مضبوط ہوتے ہیں جب ان کے اہلکار صرف اپنے افسران کو جواب دہ ہوں۔کسی ایم پی اے کو بھی شکایت ہو تو وہ افسران سے اسی طرح شکایت کرے جو طریقہ قانون میں موجود ہے۔پولیس کے مقامی اہلکار جب اس طرح براہ راست اہل سیاست کو جوابدہ ہو جائیں تو یہیں سے خرابی شروع ہو جاتی ہے۔رینجرز اور ایف سی بھی امن عامہ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ، کیا کسی ایم پی اے کی جرأت ہے جو اسی طرح رینجرز اور ایف سی کی کسی پوسٹ میں جا گھسے اور افسر کو اٹھا کر اس کی سیٹ پر بیٹھ جائے اور اسے سامنے کھڑا کر کے اس کی جواب طلبی شروع کر دے؟ایم پی اے تو رہا ایک طرف کوئی غیر متعلقہ وزیر بھی یہ جرات کر کے دکھائے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران اسلامی جمہوریہ سوشل میڈیا تک محدود ہو گئے ہیں۔ چھاپے مار اور سوشل میڈیا پر ڈال۔ یہ رویہ نیک نیتی کے ساتھ بھی اپنایا گیا ہو تب بھی نقصان دہ ہو گا۔سراج الحق اور شہباز شریف اپنے اپنے انداز سے اس فن کو اپنے کمال پر پہنچا چکے ہیں۔ روز ہم دیکھتے تھے ایک نئی ویڈیو شیئر ہوتی تھی۔ سراج الحق عام آدمی کے ساتھ چائے پی رہے ہیں ، سراج الحق گاڑی کو دھکا لگا رہے ہیں ، سراج الحق گندم کاٹ رہے ہیں اور روز ہم پڑھتے تھے شہباز شریف کا فلاں ہسپتال پر چھاپہ۔یہ کام اب پٹ چکا۔ تحریک انصاف شاید اس میں کوئی نیا کمال نہ دکھا سکے۔ہر روز کچھ نیا کر کے سوشل میڈیا پر ڈالنے کی جستجو میں ڈر ہے کہ حکومت سراج الحق صاحب کی طرح تفنن طبع کا عنوان نہ بن جائے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ برادرم شہریار آفریدی این ایچ اے کے افسران کی سرزنش کر رہے ہوں یا کسی فلمی ہیرو کی طرح کسی جگہ پر انٹری دے رہے ہوں ان کے ہر خفیہ اور اچانک دورے میں ایک کیمرہ مین ساتھ ہوتا ہے جو ان فلمی مناظر کی شوٹنگ کر کے سوشل میڈیا پر ڈالنا نہیں بھولتا۔ایک دو بار تو یہ چیزیں بھلی لگیں لیکن ایک ہی فلم کوئی کتنے روز دیکھے؟اب تو ویسے بھی کمال ہو گیا ہے۔ وزیر محترم اپنے دفتر میں نماز پڑھ رہے ہوں تو یہ نیکی بھی ان کی ٹیم سوشل میڈیا پر ڈال کر ثواب دارین حاصل کرنا نہیں بھولتی۔سیدنا علیؓ نے فرمایا تھا اقتدار آدمی کو بدلتا نہیںبے نقاب کر دیتا ہے۔یہاں حالت یہ ہے کہ اسلام آباد سے علی اعوان کو ضمنی انتخابات میں پارٹی نے ٹکٹ جاری کیا تو اگلے ہی دن انہوں سے سیکرٹری رکھ لیا۔ اب عوام الناس کے لیے حکم یہ ہے کہ براہ راست مجھے فون نہ کیا کریں ڈیکورم کا خیال رکھیں۔یاد رہے کہ ابھی اقتدار ملے صرف ایک مہینہ ہوا ہے۔اس ایک مہینے میں اگر ان کی ترک تازیوں کا عالم یہ ہے تو ذرا تصور کیجیے ایک سال بعد ہر سو حکومت ہی کے چرچے ہوں گے یا کسی کو مُلا نصیر الدین بھی یاد ہو گا۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *