حسین شہید سہروردی کا خط خلیق الزماں صاحب کے نام !

یوم آزادی کے قریب شاید آزادی سے قبل “حسین شہید سہروردی” کا” خلیق الزماں” کے نام لکھا یہ خط تاریخ کے طالبعلموں کے لیے دلچسپی کا باعث ہو۔

مائی ڈئیر خلیق الزماں صاحب!
ہم اس وقت اس پر غور وخوض کررہے ہیں کہ ہندواکثریتی صوبوں میں اقلیتوں خصوصاً مسلم اقلیت کے لیے کیا ہونا چاہیے؟۔میں نے اس مسئلہ پر اس سے پہلے غور نہیں کیا تھا۔ کیوں کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ صوبہ بنگال کا بٹوارہ ہوگا اور مسلمان بنگا ل کے کسی حصے میں اقلیت ہو جائیں گے۔ میرا خیال ہے کہ فلیگ (جھنڈے) کے سلسلہ میں آ پ کی تقریر بہت بصیرت افروز تھی،کیونکہ اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ سے ہماری وفاداری سے متعلق ہندوؤں کے دلوں میں یقیناً شکوک و شبہات پیدا ہوتے۔ یہاں آج کل ہندوؤں اور مسلمانوں میں اچھے احساسات ہیں اور ہم امید کرسکتے ہیں کہ یہ قائم رہیں گے۔ جس کی بڑی وجہ ہمارا انڈین فلیگ کو قبول کرنا اور جے ہند کے نعرے کو اپنانا ہے ،اس کے باوجود کہ ہمیں مسلمانوں کے مستقبل کی پالیسی سے متعلق غور کرنا ہے،اور اس کا جواب اس پر منحصر ہے کہ کیا ہم ہندو حکومتوں پر اعتماد کرسکتے ہیں ،کہ وہ ہمارے مفاد کا لحاظ کریں گی،یا وہ اہم موقع پر اس کو نظر انداز کریں گی؟۔۔۔ہمارے سامنے حسبِ ذیل راہیں کھلی معلوم ہوتی ہیں۔

1۔ہم اپنی اسلامی روایات کے مطابق بہترین اسلامی تخیلات پر قائم رہ کر دونوں کی ساتھ میں تھوڑی بہت پیروی کریں گے،مگر اس راستے کے لیے ہمیں بہت زیاہ مضبوط اور منظم ہونا چاہیے،اور قربانیوں کے لیے تیار ہونا ہے،اور اس سلسلے میں ہمیں پاکستان سے امداد کی توقع رکھنا ہوگی،اس طرح ہم ہندوؤں کی نظر میں باعزت ہوسکتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ان کا غیض و غضب قائم رہے گا، وہ کوشش کریں گے کہ ہم مضبوط نہ ہوسکیں،اور مجھے شک ہے کہ پاکستا ن اس میں ہماری مدد کرسکے گا؟۔۔۔ہوسٹیج(یرغمال)کا اصول ختم ہوگیا ہے،اس خوف سے کہ پاکستان میں ہندوؤں کی جان کو خطرہ ہوگا، ہندوستان کے ہندوؤں کو مسلمانوں کی جان لینے سے گریز کرنا ہوگا۔ کیوں کہ جب انسان مجنون ہوجاتے ہیں تو یہ سوالات اس کے پیش نظر نہیں رہتے،علاوہ ازیں حکا م اعلیٰ کی کوششوں کے باوجود امن و اما ن کے محافظ خود بہت فرقہ پرست ہیں،وہ مسلمانوں کے خلاف جذبات رکھتے ہیں،اور کسی مسلمان کے خون یا اس کے مال کی لوٹ میں ذرا بھی مداخلت نہ کریں گے۔ ان وجوہات سے میں علیحدگی کے تخیل اور دو قومی نظریہ کے موافق نہیں ہوں۔

2۔بحیثیت ایک ہندوستانی شہری کے ہم اپنے ہندو ہمسایوں کے ساتھ دوستانہ طریقہ پر رہیں،میرے نزدیک یہ سب سے اچھا راستہ ہے،مگر اس میں دقتیں یہ ہیں،
الف۔ہندو ہمیں قبول بھی کرے گا یا اپنی وجاہت کا اظہار کرکے مسلمانوں کو ذلیل کرے گا؟
ب۔وہ آپ کے ساتھ خلوص برتے گا یا نہیں،؟۔۔۔مجھے جو چیز گاندھی جی سے وابستہ کرتی ہے وہ ان کا اس امر پر اصرار ہے کہ ہندو قوت اور اقتدار کے جذبہ کا اظہار کرکے اقلیتوں کو احساسِ کمتری نہ دلائیں ” اقلیتوں کو اپنے حقوق لینے کے لیے جان دینے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے”۔۔۔۔۔۔
ہندوؤں کے مزاج کو اس رنگ پر ڈالنے کے لیے بہت پروپیگنڈا کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے بہت وقت درکار ہوگا۔ مجھے خوف ہے کہ کیا وہ آپ کی عزت کریں گے؟۔۔۔اگر آپ میں کوئی قوت نہ ہوگی یعنی یہ کہ اگر آپ اپنی عصبیت کو خیر باد کہہ دیں گے،پھر دوسری طرف یہ سوال ہے کہ جب آپ قوت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے،تو ان کے دلوں میں آپ کی وفاداری کے متعلق شکوک پیدا ہوں گے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا رویہ ہندوؤں کی جانب کیا ہوگا ؟۔۔۔کیا ہم اس طریقے سے عمل کریں جیسے مسلم لیگی یا کانگریسی اختلاف،یا ہم ایک متحدہ پارٹی ہندو اور مسلمانوں کی بنائیں،اگر ہم مسلم ہی بن کر رہنا چاہیں تو وہ ہم سے الگ رہیں گے،جیسے کانگریس!اور مخلوط انتخاب سے ہم میں مسلم نیشنلسٹ ایسی قوم پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

3۔ایک راستہ ہے کہ ہم بالکل ان میں ضم ہوجائیں، جیسے کہ کچھ مقامات پر بہار میں ہندوؤں کا یہ نظریہ مسلمانوں کے متعلق ہے۔اس کے روکنے کے تین طریقے ہیں،
ٌ ٌ۱۔ ہم اپنا مضبوط بلا ک بنائیں، اس غر ض کے لیے ہم ہندوؤں کا تعاون حاصل کرنے کے لیے پوری سعی کریں،اس میں ہماری بچت ہے،اور یہ ہماری ثقافت کے لیے بھی ضرورئی ہے۔
۲۔انتقالِ آبادی جب تک کہ وہ جاری رہ سکے،حالانکہ پنجاب میں ہمیں دل شکن سبق ملا،پھر بھی میرا خیال ہے کہ انتقال ِ آبادی بالکل ناممکن ہے،یہ بات بھی مشکوک ہے کہ جو لوگ ادھر سے ادھر ہوئے ہیں وہ کتنے دن بچیں گے؟میر اخیال یہ ہے کہ ہمیں تمام خطرات برداشت کرکے اپنی جگہ ٹھہرے رہنا چاہیے۔
۳۔موت،یہ نہایت ہی بھیانک خیال ہے، محض اپنے لیے نہیں بلکہ ہندو اور مسلمان دونوں کے خیال سے،کیوں کہ اس کے بعد پھر قتل کے علاوہ اور کچھ نہیں رہ جاتا،

لہذا اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کرنا کیا ہے؟۔۔۔ان مسائل پر آپ نے بہت غور کیا ہوگا، کیوں کہ آپ کے سامنے یہ مسائل بہت دیر سے موجود ہیں، میں ان معاملات میں آپ کی ہدایات چاہتا ہوں، میرا ذاتی خیال ہے کہ پاکستان نے ان مسلمانوں کے لیے جو اُن حصوں میں رہتے ہیں،ایک آزاد وطن دے دیا ہے،مگر ہندی مسلمانوں کے لیے کوئی لینڈ نہیں ہے،انڈین یونین کے مسلمان بے یارومددگار رہ گئے ہیں، اور ان کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنا ہے،اس لیے ہمیں سوچنا ہے کہ ہم اپنا نظام کس سانچے میں ڈھالیں، یہ امر واقع ہے کہ اب ایک پاکستان گورنمنٹ ہے جس سے مسلمانوں کی کچھ اہمیت بن جاتی ہے مگر اسی وجہ سے وہ زیادہ موجب عتاب بھی ہوتے ہیں، اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کون سی راہ اختیار کریں، میرا ذاتی خیال ہے کہ مسلم اقلیت کو صوبوں میں اپنا راستہ خود متعین کرنا ہے۔۔۔۔ قائداعظم اور مسلم لیگ پاکستان میں۔۔۔ مصروف و مشغول ہیں، میرے نزدیک ایک حل یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک اپنی اپنی اقلیتوں کو اپنا لیں، جس سے اکثریت کا احساس ِ برتری ختم ہوجائے،اس مسئلہ میں پوری قوت صَرف کرنا پڑے گی،اور ہماری خوش بختی یہ ہے کہ اس تحریک کومہاتما گاندھی آگے بڑھا رہے ہیں، اسی راستی میں صلح،امن اور انسانی عزت پرورش پا سکتی ہے،آپ کی رائے کیا ہے؟۔۔۔کہ ہم کچھ لوگ پہلے مل کر مشورہ کرلیں اور اگر اس کے بعد ضرورت ہو تو صوبوں کی مسلم اقلیت کے نمائندوں کا ایک کنونشن بلائیں،؟جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں،میں آپ کی ہدایت کا متمنی و منتظر ہوں۔
آ پ کا مخلص
شہید سہروردی!

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *