قائد اعظم یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی،افسوسناک

قائد اعظم یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی،افسوسناک
طاہر یاسین طاہر
یہ نظام کی کمزوری ہے کہ آئے روز ہماری جامعات میں فساد ہو رہے ہیں،بد قسمتی سے ان فسادات کی شکل اب لسانی و صوبائی اور نسل پرستی تک جا پہنچی ہے۔گذشتہ روز اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں دو طلبا گروپوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 35 طلبا زخمی ہوگئے۔جبکہ یونیورسٹی میں دو طلبا گروپوں میں تصادم کے بعد انتظامیہ نے حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو طلب کیا۔مشتعل طلبا نے پولیس پر بھی پتھراؤ کیا اور حالات قابو سے باہر ہونے پر رینجرز کی نفری بھی طلب کی گئی۔تصادم کے نتیجے میں زخمی ہونے والے طلبا کو پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ہسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ 25 زخمی طلبا کو طبی امداد دے کر فارغ کردیا گیا جبکہ دیگر کا علاج جاری ہے۔ یاد رہے کہ دونوں طلبا گروپوں میں ایک ہفتہ قبل بھی تصادم ہوا تھا جس کے بعد سے ان کے درمیان کشیدگی چل رہی تھی۔دوسری جانب قائد اعظم یونیورسٹی کو کشیدہ صورتحال کے باعث ایک ہفتے کے لیے بند کردیا گیا، جبکہ پولیس نے طلباء کو فوری طور پر ہاسٹلز خالی کرنے کا بھی حکم دیا۔ تصادم میں ملوث دونوں گروپوں کے خلاف مقدمات درج کرکے یونیورسٹی میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔
یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں پنجاب یونیورسٹی میں بھی اسلامی جمعیت طلبا اور پختون طلبا تنظیموں کے درمیان بھی تصادم ہوا تھا۔قومی میڈیا میں یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ ایک ہفتہ قبل جامعہ کے تفریحی دورے کے دوران طلبا میں سیٹ پر جگہ لینے کے معاملے پر تکرار ہوئی تھی جس کے باعث نوبت یہاں تک آن پہنچی۔جھگڑے کی ویڈیو دیکھ کر بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ باقاعدہ ایک طے شدہ لڑائی تھی جس میں،ڈنڈوں،پتھروں کا آزادانہ استعمال کیا گیا جبکہ ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ہوائی فائرنگ ہوتے ہی طلبا جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے رہے جبکہ بہت سے طلبا نے ہاسٹل کی چھت سے چھلانگیں بھی لگائیں اور خود کو بچانے کی کوشش کی ۔چھلانگیں لگانے والوں میں بھی کئی ایک زخمی ہوئے۔ حسب روایت انتظامیہ نے پولیس اور رینجرز کی مدد سے فوری طور ہاسٹل کو خالی کرا لیا اور یونیورسٹی ایک ہفتہ کے لیے بند کر دی گئی۔یہ رویہ کسی بھی طور زیبا نہیں کہ یونیورسٹی کو بند کر دیا جائے۔بلکہ یہ نا اہلی ہے جس میں ضلعی انتظامیہ اور یونیورسٹی کی انتظامیہ برابر کی شریک ہیں۔
جامعات میں اپنی دھاک بٹھانے اور مخالف نظریات کے طلبا کو مارنے کا دھندا اسلامی جمعیت طلبا نے شروع کیا تھا،یا کم از کم یہ کام اس طلبا تنظیم سے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔اسلامی جمعیت طلبا نے بالخصوص پنجاب یونیورسٹی میں اساتذہ تک کو تشدد کا نشانہ بنایا،جبکہ ملک کی دیگر جامعات میں بھی مذکورہ طلبہ تنظیم اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی رہتی ہے۔قائد اعظم یونیورسٹی کے ہاسٹل سے غیر متعلقہ افراد بھی موجود پائے گئے۔ایسا تقریباً ملک کی تمام جامعات کے ہاسٹلز میں ہو رہا ہے۔پہلے پہل مذہبی شدت پسندوں نے اور سیاسی جماعتوں کے کام آنے والوں نے جامعات میں تشدد کی روش کو فروغ دیا اور اب اس کام میں صوبائی و لسانی تفریق نے بھی اپنا رنگ گہرا کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہے جس کے بارے اہل دانش اور صاحبان درد کو مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے اوراس کا حل پیش کرنا چاہیے۔ہماری جامعات میں انتہا پسندی اور نفرتیں اپنا اثر دکھا رہی ہیں۔بدقسمتی سے ہم سماجی رویوں میں جس متشدد صورتحال کے عکس گر بنے ہوئے ہیں اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلنا تھا۔
عالمی رینکنگ میں ہماری کوئی بھی یونیورسٹی پہلی 600 جامعات میں نہیں آتی ں،جبکہ دنگا فساد کرنے میں ہماری یونیورسٹیوں کی دنیا بھر میں مثالیں دی جاتی ہوں گی۔ہماری جامعات کے ہاسٹلز پر انتہا پسندانہ رویوں کے حامل افراد اور نفرت کا بیوپار کرنے والوں کا قبضہ ہے۔ یہ ایک تلخ سماجی حقیقت ہے۔یہ سوال بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ اگر ایک ہفتہ عشرہ پہلے بھی ان دو گروپوں میں تکرار ہوئی تھی تو یونیورسٹی انتظامیہ نے اس کا حل کیوں نہ تلاش کیا؟ اور کیوں نہ دونوں گروپوں میں صلح کرائی؟اگرچہ اس لڑائی کو صوبائی تعصب کا رنگ نہیں دیا جا سکتا کہ یونیورسٹیوں میں جھگڑوں کی دیگر سماجی و صنفی اور مذہبی وجوھات بھی ہوتی ہیں۔ لیکن سندھ اور بلوچستان کے طلبا گروپوں میں تصادم بڑھتی کو لسانی و صوبائی نفرتوں کو مزید گہرا کر دے گا۔
ہم سب کو اپنے تعلیمی نظام اور جامعات کے ماحول بارے سنجیدگی سے سوچتے ہوئے کسی نتیجہ تک پہنچنا ہو گا۔کسی بھی پر تشدد واقعہ کے بعد جامعات کو بند کر دینا انتظامی نا اہلی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ملک کی تمام یونیورسٹیز کے ہاسٹلز میں نہ صرف کومبنگ آپریشن کی ضرورت ہے بلکہ ان اہلکاروں کے خلاف بھی کومبنگ آپریشن کی ضرورت ہے جو جامعات کے اندر اسلحہ لے جانے میں معاونت کرتے ہیں۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *