تاریخ کے نازک موڑ پر قومی سیاست اور مسلمان !

عمر فراہی!

ہندوستانی سیاست میں بی جے پی کے مضبوط ہوتے ہوئے قدم اور سیکولرپارٹیوں کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت سے ملک کے مسلمانوں کا تشویش میں مبتلا ہونا لازمی ہے ۔یہ بھی ایک سچائی ہے کہ ملک کی سیکولر پارٹیوں کا کرداربھی مسلمانوں کے تئیں مشکوک ہی رہا ہے انہوں نے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے اورمطمئن کرنے کی بجائےمایوس ہی کیا ہے ۔خاص طور سے کانگریس کے ساٹھ سالہ دور حکومت میں کانگریس کی کسی مرکزی قیادت نے کسی بھی مسئلے میں مسلمانوں کو یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ ان کے ساتھ ہے بلکہ بابری مسجد میں تالا لگانے سے لیکر فسادات میں مسلمانوں کے قتل عام اور 2004 سے 2014 تک من موہن کی حکومت میں مختلف بم دھماکوں میں بے قصورمسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا لامتناہی سلسلہ بھی کانگریس کی حکومتوں میں بلاروک ٹوک جاری رہا۔ کانگریس کے اسی آخری دور میں ملک کے اندر جو لوٹ کھسوٹ ہوئی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عام آدمی بھی کانگریس سے بدظن ہوتا چلا گیا۔انا ہزارے کو بدعنوانی کے خلاف گاندھی کے طرز پر ستیہ گرہ جیسی تحریک شروع کرنی پڑی ۔مسلمانوں میں کچھ لوگوں نے شک کیا کہ اناہزارے کی تحریک بھی کانگریس کو بدنام کرنے کیلئے بی جے پی کی طرف سے اٹھائی گئی ایک تحریک تھی تاکہ آنے والے الیکشن میں بی جے پی کو اس کا فائدہ ملے ۔انا ہزارے نے بغیر کسی سیاسی متبادل کے جس طرح کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا تھا اس کا فائدہ تو بی جے پی کو ہی ملنا تھا جو ملا بھی لیکن اناہزارے کی تحریک کانگریس کے دور میں ہی ناکام ہوچکی تھی۔

ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ انا ہزارے یہ بھول گئے کہ بدلتے ہوئے دور اور بدلتی ہوئی نسلوں کی ذہنیت کے ساتھ ساتھ تحریکوں کا طریقہ کار بھی بدلتا رہتا ہے۔ہر دور میں وقت کے گاندھی بھوک ہڑتال سے آزادی حاصل نہیں کرسکتے۔ ہر دور میں ہندی چینی بھائی بھائی کا نعرہ دیکر سرحدوں کی حفاظت نہیں کی جاسکتی چونکہ گاندھی اورگاندھی کی تحریک آزادی کے مد مقابل ایک بیرونی غاصب دشمن تھا اور اس دشمن سے ہم اپنی آبادی کے اندر جنگ لڑ رہے تھے اور وہ ہماری تہذیب و ثقافت اور زبان و مذہب سے بھی مختلف تھا جس کا جذباتی فائدہ بھی تحریک آزادی کے لیڈران کو ملا ۔اس کے علاوہ انگریز مستقبل کی ہندوستانی ریاست کے تناظر میں ایک پرامن سیکولر سیاسی تحریک سے فائدہ اٹھانے کا بھی متمنی تھا یا آزادی کے بعد بھی ہندوستان سے جو اس کے سیاسی اور جغرافیائی مفاد وابستہ تھے وہ خطرے میں پڑ سکتا تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ انگریزوں نے سبھاش چندر بوس کے مقابلے میں گاندھی اور نہرو کی تحریک کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ لوگ کہتے ہیں کہ سبھاش چندر بوس کے جلاوطن ہونے یا غائب ہونے میں ہمارے ہی لیڈران کی سازش تھی۔خیر حکومت اور اقتدار کیلئے ایسی چال بازیاں ہر دور میں ہوتی رہی ہیں ۔یعنی کچھ لوگ اور کچھ تحریکیں کسی کو استعمال کرتی رہی ہیں اور کچھ لوگ دوسروں کیلئے استعمال بھی ہوتے رہے ہیں۔

اگر آرایس ایس نے اناہزارے کا استعمال کیا اور اناہزارے بھی استعمال ہوئے تو یہ آرایس ایس کے لوگوں کی قابلیت اور صلاحیت تھی کہ وہ ایسا کرسکے۔ مگر جو مسلم تنظیمیں اور تحریکیں ایسا نہیں کرسکیں وہ صرف واویلا مچا کر یا اپنے مخالفین پر الزامات لگا کر کوئی معرکہ سر نہیں کر سکتیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ انا ہزارے کی تحریک سے اروند کیجریوال نے شاید یہی سیکھا تھا کہ ہندوستانی سیاست میں بدعنوانی کا مقابلہ کرنے کیلئے بدعنوان اور بداخلاق لیڈران کے خلاف سیاسی محاذ ہی ایک متبادل حل ہے ۔عام آدمی پارٹی کے وجود میں آنے کے بعد اس پارٹی کو بھی کچھ مسلم دانشوروں نے آرایس ایس کی بی پارٹی قرار دیا لیکن اروند کیجریوال کے ساتھ یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن جیسے غیر فرقہ پرست صاف ستھری ذہنیت کے مالک افراد کی شمولیت اور کانگریس کی منافقت سے بدظن مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے عام آدمی پارٹی کو کانگریس کا متبادل قرار دیا اور دلی کے الیکشن میں مسلمانوں نے کھل کر عام آدمی پارٹی کی حمایت بھی کی۔ خود اروند کیجریوال نے لوک سبھا کے الیکشن میں بنارس سے نریندر مودی کے خلاف کھڑے ہو کر ملک کی سیکولر عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ فرقہ پرست نہیں ہیں ۔اگر دیکھا جائے تو ملک کی سیکولر ذہنیت عوام کیلئے عام آدمی پارٹی اور کیجریو ال واحد ایک امید ہیں جو اس وقت بی جے پی کے فاشسٹ عزائم کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ لیکن جس طرح عام آدمی پارٹی کے صدر اروند کیجریوال نے ڈیڑھ سال پہلے یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن سے اختلاف کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے باہر کا راستہ دکھایا ایک نوزائیدہ پارٹی کے صدر کا یہ فیصلہ دانشمندانہ نہیں کہا جاسکتا ۔

بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کا یہ موقف بالکل صحیح تھا کہ عام آدمی پارٹی صرف دلی میں ہی نہ سمٹ کر اپنی قومی سیاسی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے دیگر ریاستوں کے الیکشن میں بھی سرگرم حصہ لیتی۔ممکن ہے کہ پارٹی کو بہت زیادہ سیٹیں نہ ملتیں لیکن دیگر ریاستوں میں سیاسی سرگرمیوں سے پارٹی کا ایک مضبوط کیڈر تیار ہوتا اور ملکی سطح پر لیڈرشپ پروان چڑھتی اور ایک مضبوط اپوزیشن تیار ہوتا۔ ماضی میں کانگریس اور بعد میں بی جے پی نے اس کے باوجود کہ 1984 تک پارلیمنٹ میں اس کے صرف دو ہی ممبران تھے پورے ملک میں مسلسل اپنی تحریک کو جاری رکھا اور بالآخر اسے یہ کامیابی مل بھی چکی ہے ۔ خاص طور سے میڈیا کے اس اشتہاری پروپگنڈہ کے دور میں جہاں زیادہ سے زیادہ شو بازی اورشور مچانے والی بھیڑ کی اہمیت اور ضرورت ہے عام آدمی پارٹی کے لیڈران اگر تنہا نہیں بھی ہیں تو بھی کسی بھی پارٹی کی نمائندگی دلی میں بیٹھے ہوئےصرف چار یا پانچ لوگوں سے نہیں کی جاسکتی ۔ادھر چھ مہینے پہلے ایک بار پھر پارٹی نے دلی کے ایک ایم ایل اے امانت اللہ خان کو جس طرح پارٹی سے معطل کر کے مسلمانوں میں بحث کا عنوان دے دیا کہ عام آدمی پارٹی کسی بیباک مسلم لیڈر کو برداشت کیوں نہیں کر پارہی ہے ؟اس معاملے میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ امانت اللہ خان نے کسی بیباکی کا کوئی مظاہرہ نہیں کیا تھا بلکہ کہا جائے تو یہ ایک ایسی غیر سنجیدہ اور غیر اصولی حرکت ہے جو اگر کسی تنظیم اور تحریک کی روایت بن گئی تو ایسی تحریکوں کو انتشار سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔

انہیں اگر کمار وشواس کے بارے میں یہ شک تھا کہ وہ آرایس ایس کے ایجنٹ ہیں تو اس کی اطلاع پورے ثبوت کے ساتھ پارٹی کی میٹنگ میں رکھنا چاہیے تھا۔ خیر اب جس طرح سے بی جے پی نے ملک کے حالات کو نازک موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا ہے سیکولر پارٹیوں کے مسلم سیاستدانوں کی یہ ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اس نازک موقعہ پر اپنی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں اور دانشمندی کا ثبوت دیں ورنہ جس طرح بنگلہ دیش میں حسینہ واجد نے وہاں کی تمام مخالف سیاسی پارٹیوں کو ڈرا دھمکا کر انتخابی سیاست سے دور کر دیا ہے اور کسی بھی مضبوط سیاسی پارٹی کے مد مقابل نہ ہونے کی وجہ سے خود ساختہ جمہوری ڈکٹیٹر بن چکی ہیں مودی اور بی جے پی کے تیور بھی کچھ ٹھیک نظر نہیں آرہے ہیں۔ بہار میں نتیش کمار نے جس طرح بی جے پی کے سامنے سر خم کر دیا ہے ابھی ایسے اور بھی سر فاشسٹ سیاست کی زد میں آنا باقی ہیں بس انتظار کیجئے!

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *