محرم الحرام؛ مجالس اور اصلاح ۔۔۔ امجد عباس

ماہ محرم الحرام، 61 ہجری کے بعد، امام حسین سے منسوب ہو کے رہ گیا ہے- امام عالی مقام کی یاد منانے کے لیے دنیا بھر میں مجالس بپا ہوا کرتی ہیں- ان مجالس کے اہداف میں آپ کے مقام و مرتبہ، فضائل و مصائب کا بیان اور واقعہ کربلا کی تفہیم جیسے امور شامل ہیں-
جہاں آپ کی یاد میں منعقد ان محافل و مجالس کا انعقاد ضروری ہے تاکہ امام عالی مقام اور واقعہ کربلا کو یاد رکھا جا سکے وہیں ان محافل و مجالس کی اصلاح بھی لازم ہے تاکہ ان میں پڑھنے والے ذاکرین و علماء کرام، ذمہ داری کے ساتھ شرکاء کو صحیح معلومات دیں-
ان مجالس میں ذاکرین کا کردار اس قدر تک ہوتا ہے کہ وہ سامعین کو فضائل و مصائب بتائیں، انھیں نعت خواں فرض کر لیں جبکہ خطباء تفصیل سے واقعات کربلا اور مقاصد قیام امام عالی بیان کرنے کے ذمہ دار شمار ہوتے ہیں-
اب مشکل یہ ہے کہ یہ مجالس ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکی ہیں، ذاکرین اور خطباء کو محرم کے دس دن پڑھنے پر لاکھوں روپے ملتے ہیں، یہ ایک پروفیشن بن چکا ہے- پیسے کی ہوس میں بنیادی دینی و تاریخی معلومات سے عاری، باتونی افراد ٹوپی یا عمامہ پہنے خطباء سٹیجوں پر براجمان ہوتے ہیں جبکہ سریلی آواز والے، ان پڑھے، ذاکرین جہالت کی وجہ سے من گھڑت فضائل و مصائب پیش کر کے داد وصول کرتے ہیں-
ان مجالس کی اصلاح اس لیے لازم ہے تاکہ اپنے اور دوسرے، واقعہ کربلا کا صحیح پہلو سمجھ سکیں نیز امام حسین اور دین سے آگاہ ہو سکیں-
علماء کرام سال بھر شیعہ قوم کی تربیت لرتے ہیں، جبکہ جاہل ذاکرین اور خطباء، محرم کے دس دنوں میں ان کی محنت کو اکارت کر دیتے ہیں-
عوامی مجالس میں جاہل ذاکرین و خطباء کی غلط بیانیوں اور کذب و افتراء کی وجہ سے مکتب اہل بیت بدنام ہوتا ہے، ذرا ڈاکٹر ضمیر اختر کی نیپال والی بات کو ہی لے لیں کیا سے کیا مذاق اڑایا جا رہا ہے-
اگر جاہل ذاکرین و خطباء کو محرم کے دس دن فری ہینڈ دے دیا جائے تو ان مجالس میں شریک لاکھوں لوگوں کو بے دین، جاہل ہونے سے بچایا نہ جا سکے گا-
اگر ایک علاقے میں آنکھوں کی خرابی کی بنا پر آئی کیمپوں کا انعقاد ضروری ہو جائے تو کیا اناڑی عطائیوں کو بھی قبول کر لینا چاہیے؟ امام حسین کی یاد منانے کے لیے مجالس ضروری ہیں لیکن کیا جاہل ذاکرین و خطباء کو بھی گوارا کر لیا جائے؟
اچھا بتائیے ان عوامی محافل و مجالس سے معلومات میں اضافہ ہوتا ہے یا عقیدے اور عمل میں بگاڑ آتا ہے؟
مجالس کروائیے لیکن ان میں پڑھنے والے ذاکرین و خطباء ایسے بلائیے جو واقعی ٹھیک سے فضائل و مصائب پڑھتے اور علمی و معیاری گفتگو کرتے ہوں، تب فائدہ ہے ورنہ سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہ ہوگا-

تجربہ کیجیے، آج ہی گھر سے مجلس میں جاتے وقت ایک قلم اور ڈائری ساتھ لے جائیں، گھنٹے کی مجلس میں جو کچھ خطیب/ ذاکر نے بیان کیا ہو، اسے نوٹ کر لیں پھر گھر آکے جائزہ لیجیے کہ آپ کی معلومات یا امام حسین سے عقیدت میں کتنا اضافہ ہوا-

کہا جاتا ہے کہ ذاکرین تو بس قصیدے اور حسینی دوہڑے پڑھا کرتے ہیں، یہ عقیدے اور فقہ پر تو بات نہیں کرتے، اب چند قصیدوں کے جملے پڑھیے اور بتائیے کہ ان میں بیان کردہ باتیں کس قدر عقیدے کے منافی ہیں

* خدا نے کرب و بلا میں یہ بات مانی ہے
بچایا تو نے مجھے تیری مہربانی ہے-
(یہ معروف قصیدے کے بول ہیں)

* پڑھو تم بخاری میں لکھا ہوا ہے
خلیفہ اول بھی یہ کہہ رہا ہے
سنا ہے یہ میں نے نبی کی زبانی
علی کی ولا بن خلد بریں میں جانا بھی چاہو تو جا نہ سکو گے-
(صحیح بخاری میں ایسی کوئی روایت نہ ہے)

* ماؤں کی گود میں رہنے کے یہ محتاج نہیں
ماؤں کی گود میں آتے ہیں یہ قرآں کی طرح
(شاعر گویا کہنا چاہتا ہے کہ امام پیدا نہیں، نازل ہوتا ہے)
ایسی بیسیوں مثالیں دی جا سکتی ہیں، جاہل خطباء کی ہرزہ سرائیاں تو بے حد و بے شمار ہیں- یہ لوگ ان دس دنوں میں عام شرکاء کو کفر و شرک تک کی ترویج کرتے ہیں- چند خطباء کی مجالس سن لیجیے جیسے غضنفر تونسوی، جعفر جتوئی، علی حسنین کھرل، عطا حسین کاظمی وغیرہ، آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے-
ماہ محرم الحرام میں جہاں محافل و مجالس ذکر امام حسین لازم ہیں وہیں ان کی اصلاح بھی ضروری ہے تاکہ نہ تو کربلا فراموش ہو نہ حقائق مسخ ہوں – دونوں امور یکساں توجہ کے متقاضی ہیں-

 

امجد عباس، مفتی
امجد عباس، مفتی
اسلامک ریسرچ سکالر۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *