• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • پاکستان اور افغانستان کا تعلقات اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ

پاکستان اور افغانستان کا تعلقات اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان نئے سرے سے تعلقات اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ ہوا ہے۔ وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں شاہ محمود قریشی افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے۔ سرکاری دورے پر کابل پہنچنے پر افغان وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے ان کا ایئرپورٹ پر استقبال کیا جس کے بعد وزیر خارجہ افغان صدارتی محل روانہ ہوگئے۔ افغان صدارتی محل میں شاہ محمود قریشی کا ان کے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی نے استقبال کیا۔

افغان صدر سے ملاقات

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جو تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور افغانستان میں امن سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر افغان صدر نے شاہ محمود قریشی کو وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی۔

وفود کی سطح پر مذاکرات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغان صدر اشرف غنی کی سربراہی میں وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے جس کا دورانیہ 45 منٹ مقرر تھا تاہم یہ مذاکرات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہے جس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی شاہ محمود قریشی نے کی۔

انصاف ٹوئٹر اکائونٹ

مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام امور پر مثبت انداز میں تفصیلاً بات چیت کی گئی جس میں دو طرفہ تجارتی امور، افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردا،ر بارڈر مینجمنٹ اور جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کی بندش سمیت دیگر اہم امور پر بات کی گئی۔ اس کے علاوہ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ دورہ پاکستان پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں دونوں جانب سے مزید ملاقاتوں اور مذاکرات کا عندیہ دیا گیا ہے۔

شاہ محمود کی افغان ہم منصب سے ملاقات

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی سے بھی ملاقات کی جس دوران گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ ہمارے چیلنجز ایک جیسے ہیں جن سے باہمی تعاون سے ہی نمٹنا ہے، افغانستان میں ورکنگ گروپ پر زیادہ کام کرنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے بھی امن اتناہی ضروری ہے جتنا افغانستان کے لیے ہے۔ ملاقات کے موقع پر شاہ محمود نے دو طرفہ معاملات کے حل کے لیے دونوں اطراف سے علمائے کرام کی میٹنگ کی تجویز دی۔

افغان چیف ایگزیکٹو سے ملاقات

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ہم منصب سے ملاقات کے بعد افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی جس میں انہوں نے شاہ محمود کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ عبداللہ عبداللہ نے شاہ محمود کو قالین کا تحفہ دیا، عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ امید ہے آپ اپنے اس منصب کے چیلنجز پر پورا اتریں گے جب کہ اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان آنے کا خیال اسی لیے آیا کیونکہ پاکستان افغانستان کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ افغان چیف ایگزیکٹو نے شاہ محمود قریشی کو قالین کا تحفہ دیا۔

شاہ محمود اور افغان وزیر خارجہ کی خوش گپیاں

افغان چیف ایگزیکٹو کی آمد سے پہلے شاہ محمود اور ان کے ہم منصب نے خوش گپیاں لگائیں۔ افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے شاہ محمود کو کہا کہ آپ کو انگوروں کا تحفہ بجھوائوں گا، میرے علاقے کے انگور اچھے ہیں، اس پر شاہ محمود قریشی مسکرادیے۔ صلاح الدین ربانی نے شاہ محود سے کہا کہ آپ کے علاقے کے بھی تو آم مشہور ہیں جس پر وزیر خارجہ نے کہا کہ آپ کو ملتان کے آم بجھوا دیں گے۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *