خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں۔۔۔۔محمد منیب خان

مولانا وحید الدین خان کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ انسان کے ڈی این اے میں اس کے متعلق ساری معلومات موجود ہوتی ہیں ما سوائے موت کے۔ انسانی ڈی این اے جس کی تعداد ایک ٹریلین سیل تک ہوتی ہے وہ موت کی معلومات سے خالی ہے اس لیے رب کے واضح ارشاد “ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے” (القران) اور اپنی ساری زندگی میں اپنے پیاروں کو بچھڑتا دیکھنے کے باوجود انسان اپنی ذات بارے موت کا تصور نہیں رکھتا۔ زندگی کی دیوار کی آخری اینٹ گرنے تک انسان یہ امید رکھتا ہے کہ یہ دیوار نہیں گرے گی۔ لیکن زندگی بحرحال ختم ہو جاتی ہے۔

محترمہ کلثوم نواز صاحبہ بھی ایک سال تک کینسر جیسے موذی موذی مرض سے لڑ تے ہوئے بالآخر گیارہ ستمبر کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ اللہ ان کی قبر پہ رحمتیں نازل کرے۔ جمعہ کو بعد از دوپہر جب محترمہ کلثوم نواز کا جنازہ پڑھایا گیا تو وہ جنازہ محض محترمہ کلثوم نواز کا جنازہ نہیں تھا۔ وہ جنازہ ہماری اخلاقی اقدار کا جنازہ تھا۔ وہ جنازہ ہماری روایات اور معاشرتی رواداری کا جنازہ تھا۔ گذشتہ ایک سال تک جب محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کینسر کے خلاف لڑ رہی تھیں تو کیا کیا بہتان نہ لگایا گیا۔ کیسے کیسے انداز میں بیماری کی، شوہر اور بیٹی کی مزاج پرسی کی بھد اڑائی گئی۔ کیسے کیسے گھٹیا الزام لگائے گئے۔ یہ الزامات لگانے والے عام عوام ہوتے تو شاید مجھے اس قدر دکھ نہ ہوتا لیکن اس رو میں صف اوّل کے لیڈر بھی بہہ گئے۔ صرف ایک لمحے کے لیے یہ سب اپنی گریبان میں جھانک کے دیکھتے اور خود سے پوچھتے کہ کیا وہ اپنے کسی پیارے کی بیماری کا ناٹک کر سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو وہ دوسرے کو کس قدر گھٹیا سمجھتے ہوئے یہ اب تصور کر لیتے ہیں۔ صف اوّل کے لیڈران کو تو محترمہ کی وفات کے ساتھ ہی اپنی کہی باتوں پہ تاسف ہوا لیکن جو زہر عام لوگوں کے دل د دماغ میں گھول دیا گیا ہے وہ اب اپنا مکمل اثر دیکھاتا ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا پہ بہت سے ایسے تبصرے پڑھنے کو ملے جو ہماری تہذیب اور سماجی رواداری کے خلاف تھے۔

محترمہ کلثوم نواز کون تھی۔ عام لوگوں کے لیے شاید یہی حوالہ ہو کہ وہ نواز شریف کی شریک حیات تھیں اور ملک کی واحد خاتون تھیں جو تین بار خاتون اوّل بنیں۔ لیکن صرف یہ حوالہ غالباً ان کی اپنی ذات کا مکمل تعارف نہیں۔ محترمہ کلثوم نواز صاحبہ گاما پہلوان کی نواسی تھیں۔ والد صاحب پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے بھی اس دور میں تعلیم کا انتظام کیا جب بیٹیوں کی تعلیم کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ خود محترم کے  والد ایک سرکاری ہسپتال میں ملازمت کرتے تھے اور درد دل ایسا کہ شام کو مصری شاہ واقع کلینک میں ضرور مندوں کا مفت علاج کرتے۔ خود محترمہ کو  اردو ادب  سے بے حد شغف تھا اور یہی شغف تھا کہ انہوں نے پی ایچ ڈی کی۔ لیکن ساری عمر کبھی اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھا۔ غالباً اس کیوجہ یہ تھی کہ ان کے مقالے کے سپروائزر مشہور نقاد سہیل احمد صاحب تھے اور سہیل احمد صاحب نے بھی کبھی اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کا سابقہ نہیں لگایا۔ محترمہ بلا کسی شک و شبہ کے نواز شریف کے دو مشیروں میں سے ایک تھی۔ نواز شریف کے پہلے مشیر ان کے والد میاں محمد شریف تھے۔ جبکہ کلثوم نواز صاحبہ ان کی دوسری مشیر تھی۔ اگر آج محترمہ کو مادر جمہوریت پکارا جا رہا ہے تو اس کی واحد وجہ ان کا مشرف کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔ ایک ایسے دور میں جب خاوند اور دیور جیل میں تھے اور پارٹی کے لوگ تتر بتر ہوتے جا رہے تھے۔ اور کچھ گرفتار ہو چکے تھے۔ ایسے حالات میں محترمہ اپنے گھر سے نکلی اور ایک ڈکٹیٹر کے سامنے ڈٹ گئیں اس دور کی چند ماہ کی جدو جہد کے بعد ہی مشرف کو محسوس ہوا کہ میاں صاحب کو زیادہ دیر جیل میں رکھنا کوئی کامیاب حکمت علمی نہ ہو گی اور انہوں نے نواز شریف کو خاندان سمیت جلا وطن کر دیا۔ محترمہ کو کبھی لائم لائٹ میں رہنا پسند نہیں تھا اس لیے جب جب نوازشریف وزیراعظم نے کلثوم نواز صاحبہ کا کبھی کوئی بیان اخبارات میں نہیں چھپا۔ ڈاکٹر صفدر محمود اپنے کالم میں بیان کر چکے ہیں کہ کبھی کسی کی سفارش کے لیے انہیں خاتون اوّل کا کوئی پیغام نہ آیا۔ ایسے کردار کی حامل خاتون کے جنازے پہ اسی لیے ہر شعبہ فکر کے لوگ پہنچے۔ 

اب جبکہ محترمہ کلثوم نواز کو سپرد خاک کیا جا چکا  ہے تو مجھے ان کے جلاوطنی کے وقت کہے گئے وہ الفاظ یاد آ رہے ہیں کہ “ہم جانا نہیں چاہتے، ہمیں بھیجا جا رہا ہے، لیکن جہاں پہ ہم جا رہے ہیں وہاں اللہ نے ہمیں بلایا ہے” خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں۔ اللہ پاک مرحومہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *