خواتین اول اور بیگم کلثوم نواز ۔۔۔۔شہزاد سلیم عباسی

پرانے اد وار میں خاتون اول کا لقب کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا تھا۔بعد میں مشرف دور کی شروعات سے ہی بعد خاتون اول کا درجہ پانا گویا ایک خواب بن گیا۔ صبہا مشرف اکثر جنرل (ر) مشرف کے ساتھ پروگرامات، تقاریب اور بیرونی دوروں پر نظر آتی تھی۔ کم و بیش 16 ایسی خواتین اول ہیں جو بوجوہ اپنی شناخت نہ بناسکیں۔لیکن چار ایسی خواتین ہیں جنہوں نے انتھک محنت کی اورسیاسی، سماجی،فلاحی اور عالمی سطح پر نام بنایا اور پارٹی اور گھریلو، دونوں ذمہ داریاں نبھائیں۔ پہلی خاتون اول رعنا لیاقت علی خان جن کی خدمات تاریخ پاکستان کا سنہری باب ہے۔رعنا بیگم کی تحریک پاکستان کے لیے محبت اور قربانی لازوال ہے۔ انہوں نے 1940کی تاریخی قرارداد لاہور کے کلیدی نکات متعارف کرائے تھے اور قائداعظم کی رہنمائی میں قرار داد کے مسود ہ کی تیاری میں اہم کردار اداکیا تھا۔رعنا بیگم نے حقوق ونسواں کے لیے جو کام کیے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ رعنا بیگم نے پاکستان نیشنل گارڈ، ویمن نیول ریزرو، گھریلوصنعتوں، تعلیمی اداروں بالخصوص ہوم اکنامکس کی تعلیم کے اداروں کے علاوہ پاکستان میں پہلی غیر سرکاری تنظیم اپوا بھی قائم کی تھی۔

پاکستان میں نصرت بھٹو کی قربانیاں لازوال ہیں۔ بیگم نصرت بھٹوکی طرح اعلیٰ پائے کے گھرانے کی شاید ہی کوئی خاتون ایسی ہوجس نے اپنی زندگی میں شوہر اور تین بچوں کی لاشیں  نہ اٹھائیں ہوں۔بیگم نصرت بھٹو 1929  میں ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کراچی میں مقیم رہے اور بڑی کاروباری شخصیت تھے۔نصرت بھٹو کی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے 1951 میں کراچی میں شادی ہوئی۔ ان کے چار بچے ہوئے۔ جن میں بینظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو شامل ہیں۔نصرت بھٹو کی زندگی میں سکھ کم اور دکھ بہت نظر آتے ہیں۔ ان کے شوہر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 51 سال کی عمر میں انیس اناسی کو فوجی صدر ضیاالحق کے دور میں پھانسی ہوئی۔ان کے جواں سال بیٹے شاہنواز بھٹو کی27 برس کی عمر میں فرانس میں مشکوک حالات میں موت واقع ہوئی۔ جب کہ ان کے بڑے صاحبزادے مرتضی بھٹو کی ا1996  میں بیالیس برس کی عمر میں اپنی ہمشیرہ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت ہوئی۔

بیگم نصرت بھٹو کی بڑی صاحبزادی اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں سنہ دو ہزار سات کو دہشت گردی کے حملے میں54  برس کی عمر میں قتل کیا گیا۔شاہنواز بھٹو کے 1985 میں قتل کے بعد ان کی میت پاکستان لانے کے سوال پر بینظیر بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو میں کچھ تلخی ہوئی تو اس وقت بیگم صاحبہ نے بیٹی کی رائے کو تقویت دی۔ کیونکہ میر مرتضیٰ بضد تھے کہ وہ اپنے بھائی کی میت پاکستان لے جائیں گے۔ جب کہ بینظیر بھٹو کی رائے تھی کہ فوجی ڈکٹیٹر ضیاالحق انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اس لیے وہ ملک سے باہر رہیں۔بیگم نصرت بھٹو اپنے شوہر کی وزارت اعظمیٰ تک سیاست میں سرگرم نہیں رہیں لیکن جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو ایک فوجی آمر ضیاالحق نے قید کیا تو ان کا حادثاتی طور پر سیاسی سفر شروع ہوا۔انیس سو اناسی میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو وہ پاکستان ی سیاست کا ایک نمایاں کردار بنیں اور فوجی ڈکٹیٹر کو للکارا اور ان کے سامنے ہار نہیں مانی۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی انیس سو اناسی سے 1983  تک چیئرپرسن رہیں۔ 1982میں کینسرکے باعث لندن چلی گئیں تو ان کی بڑی صاحبزادی بینظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔بیگم بھٹو اپنے صاحبزادے میر مرتضی بھٹو کے قتل کے بعد ’الزائمر‘ نامی دماغی بیماری میں مبتلا ہوگئیں۔

ایمرجنسیوں اور سخت مشکل حالات کاکوہ ہمالیہ بن کر مقابلہ کرنے والی بیگم کلثوم نواز کا انتقال ملک وقوم اور بالخصوص ن لیگ کے کارکنوں اور لواحقین کے لیے بڑا صدمہ ہے۔ مرحومہ ایک باوقار،با وجاہت، نڈر اور باہمت خاتون تھیں جنہوں نے اپنی بیماری اور نامساعد حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔بیگم کلثوم نواز نے جنرل پرویز مشرف کے فوجی آمریت کے دور میں جمہوریت اورانسانی آزادی کے لیے آمریت کے خلاف جدوجہد کی۔وہ پاکستان کی واحد خاتون ہیں جنہیں تین مرتبہ خاتون اول رہنے کااعزاز حاصل تھا۔ مرحومہ نے ملک کی خواتین کوجائز حقوق دلانے کیلئے بھی بھرپور جدوجہد کی۔ انہوں نے 1999میں پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت اس وقت سنبھالی جب میاں نواز شریف کو پابند سلاسل کیا گیا تو مرحومہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے پاکستان مسلم لیگ ن کو 1999سے 2002تک ایک نئی پہچا ن اور شناخت دی۔بیگم کلثوم نواز جنہوں نے میاں شریف سے لیکر بیٹے کی جبری جلاوطنیوں اور قید و بند کی صعبتوں اور مختلف سازشوں کا بڑی دلیری سے مقابلہ کیا اور ہمیشہ نواز شریف کے شانہ بشاہ کھڑی رہیں۔بیگم کلثوم نے جمہوریت کے تسلسل کے لیے ایسے قیمتی انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جو تاریخ پاکستانی کے روشن اوراق میں ہمیشہ بھینی خوشبو پھیلاتے رہیں گے اور بیگم کلثوم نواز کی جد وجہد، وطن و اسلام سے محبت اور ادب و شاستگی ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ و جاوید رہے گی۔ اس عظیم سانحہ پروزیراعظم عمران خان کو صوابدیدی اختیارات اور قانونی طور پر موجود طریقہ کار ”پرول“ کو استعمال کرتے ہوئے شریف خاندان کی پرول رہائی کو کم از کم 20 دن کرد ینا چاہیے تاکہ وہ تعزیت کے لیے آنے والوں کیساتھ مل سکیں اور اپنے دکھ بانٹ سکیں۔ کیوں کہ مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *