• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • رودادِ سفر: باپ، بیٹے اور بہو ۔۔۔۔ ایڈووکیٹ محمد علی جعفری/قسط 2

رودادِ سفر: باپ، بیٹے اور بہو ۔۔۔۔ ایڈووکیٹ محمد علی جعفری/قسط 2

“کربلا کب جائیں گے؟”،کاظمین میں دوسرا دن پورا ہوا اور سب نے ہمارے میک شفٹ سالار بھائی عدنان سے پوچھنا شروع کردیا۔کہا تو یہ گیا تھا کہ پرچم کشائی کرب و بلا میں دیکھیں گے،
مگر کربلا کون سی ریاست ہے بھئی جو یومِ جمہور پر پرچم لہرایا جائے؟؟؟
جوش کا بڑا مشہور شعر ہے،

عباسِ نامور کے لہو سے دھلا ہوا،
اب بھی حسینیت کا ہے پرچم،کھلا ہوا۔۔۔

اس شعر میں ترابی صاحب جو خطیبِ بے بدل تھے اور نشتر پارک میں عشرۂ محرم پر زیبِ منبر ہوا کرتے تھے، فرمایا کہ” شعری سقم ہے,لہو سے دھویا نہیں، رنگا جاتا ہے”, جوش کہنے لگے،”تم ٹھیک کہ رہے ہو، اب شعر یوں پڑھونگا،
عباسِ نامور کے لہو سے رنگا ہوا
اب بھی حسینیت کا ہے پرچم،ٹنگا ہوا۔

یہ بات جب ترابی صاحب کو معلوم ہوئی تو بصد احترام اعتراض واپس لیا اور کہنے لگے کہ پرانے شعر میں حسن تھا، جوش نے ٹھیک ہی کہا تھا۔۔

اینی وے!پرچم کی بات ہورہی تھی کیونکہ محرم کی چاند رات کو تمام روضوں ،بالخصوص امام حسین روضے پر سرخ رنگ کے جھنڈے لہراتے ہیں کہ ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی ہے،
تو جنگ کب تک جاری ہے؟
جب تک حسینیت عظمتِ انسانیت بحال نہ کروالے،تب تک۔۔۔۔
میرا عباس ٹاؤن والا روم میٹ دانش، یہ سن کر کہ چاند رات کو کربلا نہیں جائینگے بلکہ پرچم کشائی کی تقریب جوادین کے حرم میں دیکھیں گے، بہت اداس ہوا ، سرِ شام حرم تک کے جلوس میں ہمارے ساتھ نکلا اور جلو سے غائب ہوگیا، ہم ڈھونڈتے رہ گئے۔۔۔۔

ہم تو حرم میں آگئے، 830 بجے گھڑیال بجا اور ڈوٹ ٹائم پر تقریب شروع ہوئی، یہاں پرچم لہرایا اور پورا حرم فاطمہ کے لال کے پاک خون سے منسوب لال روشنی میں نہا گیا!!! وردِ زباں ایک ہی نعرہ تھا۔۔۔۔۔۔لبیکَ یا حسین!!!

مراسمِ عزا باقاعدہ شروع، اہل بیت کی مصیبت کے دن آ پہنچے۔۔۔۔۔اہلِ بکا، بکا کے دن۔۔۔۔۔آ پہنچے!!!
اعظم اللہ اجرک یا صاحب الزمان۔۔۔۔۔

واپس آئے تو ماحضر کے بعد کھڑکی سے گنبدوں کو حسرت سے دیکھا اور لیٹ گیا،ساڑھے گیارہ کا عمل تھا۔

رات تین بجے دانش تھکا ہوا لیکن ہشاش بشاش کمرے میں داخل ہوا،فاتحانہ انداز میں بتایا کہ وہ تو سید الشہدا کی زیارت کر کے کربلا سے آرہا ہے۔۔۔۔۔ایسی خوشی سے اس نے یہ بتایا،

اگر ماند،شبی مانَد
شبی دیگر نمی مانَد۔۔۔۔

بتا رہا کہ اچانک گروپ کے لڑکوں نے ٹیکسی کرنے کا فیصلہ کیا کہ بھئی کچھ بھی ہو، استقبالِ عزا کربلا میں ہوگا۔
اور ہوا بھی یہی۔۔۔۔

آئے عشّاق، گئے وعدۂ فردا لے کر۔۔۔۔۔

مگر ہم تو چراغِ رخِ زیبا کی زیارت سے محروم تھے ناں۔۔۔۔
وہ کہنے لگا، “ٹریفک بہت تھا،ڈیڑھ گھنٹے، تین میں پورے ہوئے اور وہ رش کہ الحفیظ و الاماں، لیکن بھاگم بھاگ جب ٹیکسی رکوا کے نکل، بلکہ اچھل کر باہر آئے اور سوق(بازار) سے گزرے تو بیچ میں سے بدلی کے چاند کی طرح حرم کا گنبد نظر آیا تو وقت کی نبض، بوڑھے بیمار مریض کی حرکتِ قلب کی طرح رک گئی۔۔۔”

میں کربلا میں کھڑا ہوں ،
لباسِ سوگ میں ہوں
کروڑوں لوگ ہیں،
سارے لباسِ سوگ میں ہیں۔
حسین ابن علی کو سلام کرنا ہے۔۔۔۔۔

کہتا ہے کہ ،”حرم پہنچا، بچوں کی طرح لپٹ کر بیٹھا رہا، نعرے گونج رہے تھے۔”

عہد وللہ،یازہرا ماننسا حسینا(اے ہماری بی بی فاطمہ، وعدہ ہے کہ حسین کو نہ بھلائیں گے بھی)۔۔۔۔

وہ داستان گوئی کر رہا ہے، ہوٹل کے اطاق(کمرے) میں اور ہمارے دل میں کرب و بلا برپا ہے۔۔ اچانک بہن کی واٹس ایپ کال آئی کہ “کہاں پہنچے، کیا کیا ہوا، بھانجا علی عبداللہ بہت یاد کر رہا ہے, بھیّا صحیح سے کھا پی رہے ہو ناں؟ارم باجی لوگ ٹھیک ہیں؟”,(اس کی نند اور نندوئی بھی اپنے پیارے بچوں،اصغر اور سکینہ کے ساتھ عازمِ زیارت تھے).

تو یہ فسوں ٹوٹا، وہ انتظار تھا جس کا، تو یہ سحر ہی سہی۔۔
صبح تڑکے اٹھے اور امامینِ جوادین کے پاس پہنچ گئے، صحن اور دروازوں کے پاس جلیل القدر علماء و مجتہدین کرام کی قبورِ مبارک ہیں، سب آئمہ کے قدومِ مسعود پر فدا ہیں۔۔۔

میں روزے کی جالی کے کونے میں بیٹھ کر مزار کو دیکھ کر خاموشی سے آنسو بہاتا رہا یہاں تک کے زمین پر ماربل کے ڈھیلے ٹکڑے پر ہاتھ پڑا تو “ڈھک” کر کے آواز آئی اور دھیان مولا کی غربت پر چلا گیا، باہر آتے ہوئے بھی کہیں کہیں گچ اور مینہ کاری غائب ہے اور اینٹ گارا منہ چڑا رہا ہے۔۔۔۔۔ یا للعجب!!!

11ستمبر کی صبح یہاں 930 بج ریے ہیں اور سورج چاچا بھی سج دھج سے بج رہے ہیں، بڑی بس آ گئی ہے،8 کی بجائے 930 بجے نکلنے پر بس عراقی ڈرائیور ہمارے عارضی سالار عدنان سے ایسے بات کررہا ہے جیسے پاکستان سے امریکہ، ڈپٹ کر بات کرے ہے کہ کرامات کرے ہے۔۔۔!!!
منزل ہے اگلی، مزارِ بہلولِ دانا، سامرہ(مزارِ امامین علی النقی و حسن ابن علی العسکری و ان کی زوجہ بی بی نرجس خاتون)، مزار سید محمد نقوی و الحلہ کی مسجد رد الشمس

بہلول، آلِ عباس سے خلیفہ کے نذدیکی کزن تھے اور علوی(شیعہ) تھے، حکومت نے جب کریک ڈاؤن شروع کیا تو انہوں نے امام سے اجازت طلب کی کہ حکم کریں۔
امام نے جواب بھیجا “ج” تو پناہِ ربِ کریم من الشیطان الرجیم سے تین اصحاب میں سے ایک نے مراد لی
جبال،
ایک نے جلاوطنی
اور انہوں نے جنون!!!

بادشاہ کا ہونہار کزن ،دربار کی جان،منصبِ قضاوت سے ایک دم مجنون و دیوانہ ہوا پھر رہاہے، اور تو اور وہ جنت کے رئیل اسٹیٹ کا بھی بزنس کر رہا ہے، ملکہ زبیدہ کو ایک نہیں 7 گھر جنت کے بیچ دیے اور کتنے ہی فیصلے کھیل ہی کھیل میں اس امام موسی الکاظم کے صحابی وہب بن عمر نے کردیے اور خلیفہ ہارون کو اپنے تئیں دن میں تارے دکھا گئے، لیکن دیوانہ تو دیوانہ ہوا کرتا ہے ناں،

ان کی مرقد بغداد کے قبرستان میں ہے جس کے بالکل برابر میں بابا گرونانک نے چلہ کشی کی تھی، وہاں ایک کھجور کا درخت لگا ہوا ہے،
ہم کھڑے تھے تو پیچھے سے برائے تدفین ایک جنازہ آگیا اور اس قدیم قبرستان میں پیوستہ ہونے روانہ ہوگیا۔
زیارت کے لیےٹائم فقط بیس منٹ تھا، لوگ 47 اور جگہ تنگ، تو افراتفری تو مچنی تھی۔

جلدی مچا کر عدنان سب کو باہر لایا تو میری نظر باہر کے چمکتے ہوئے نیلے گنبد پر پڑی، اس سے چلتے چلتے ہی پوچھا کہ ,”یار یہ کس کا ہے؟” ہاتھ دبا کر کہنے لگا ,”نبی ہود و صالح ہیں لیکن جانا متی”, میں نے تو پہلے ہی ڈسکلیمر دیدیا تھا کہ نہیں جاؤں گا ورنہ خواتین وہ یورش کرتیں کہ کوئے یار و سوئے دار کا فرق مٹ جاتا۔

وہاں سے سامرہ گئے اور دریائے دجلہ کے دجل و فریب سے براستہ پل گزرے، وہی ناکہ بندیاں وہی پوچھ تاچھ اور یہ کیا؟ یہ تو فوجی چھاؤنی نہیں لگ رہی عدنان بھائی؟
“جی ہاں کیونکہ یہ فوج کا ایچ کیو ہے یہاں،دو سال پہلے داعش یہاں سےبس 10 کلومیٹر ہی دور تھی اور سارے “پیداعشی بھی”,
“آپ جس گیراج کی جانب کھڑے ہیں، وہاں پر 3 سال پہلے دھماکے میں غالب کے پرزے اڑے تھے”,
“یا مظہر العجائب!!!زائرین کی خیر ہو”٫

سامرہ خلیفہ مستعصم کا بنایا ہوا دارالحکومت تھا،اس نے یہاں ترک ، ایران و مملوک سپاہ تعینات کی ،محلات اور مسجد بنوائے جس کا مینار “الملویہ” ،جو ایک لمبے عرصے تک دنیا کا سب سے بڑا مینار تھا،بالکل فرینچ روٹی کے مشبہ بہ تھا جو ہم ناشتے میں کھاتے۔
آگے سِجن الحسن العسکری(زندان) تھا جو سیکورٹی وجوہات پر بند تھا،
ہم اس مزار میں داخل ہوئے،43 ڈگری کی گرمی اور ایک بجے۔۔۔۔۔اور یہ لکھا ہوا نظر آیا “رافقتکم السلامہ”
اتنی گرمی کہ نانی اور سب کا سب خاندان یاد دلا گئی!!!

مگر کیسی سلامتی صاحبو!!!, 2006 میں امامین کے روضے کو پورے طرح تباہ کردیا گیا،2007,2011,13,14 میں اور بھی حملے ہوئے تو یہ علاقہ مستقل کرفیو میں رہنے لگا، آج البتہ بہت بہتر حالت تھی۔

مقدس زیارات کو عرب “عُتَباتِ العالیہ” کہتے ہیں، اور1735میں سامرہ کی جنگ ایرانیوں سے عراق چھڑوا بیٹھی اور عثمانی یہاں کے والی ہوگئے۔

2004 میں امام بارگاہ علی رضا،کراچی میں بھی ایسا بلاسٹ ہوا کہ گنبد پھول کی طرح چٹک کر کھِل بھی گیا اور کھُل بھی!!! یہی کچھ یہاں سامرہ نے 2006 میں دیکھا،

سارے عراق و افغان جنگ کے تحفے ہیں،جب بھی وسائل کم ہوتے نظرآتے ہیں تو امریکہ بہادر ایسا شرماحضوری میں ہر دس بیس سال میں کر ہی جاتا ہے،
پہلےدنیا میں خانہ جنگی، پھر مال کی تنگی، اور پھر سیاست کی نے رنگی،

سونے کی اینٹیں، عراقی تیل کی اپنی مرضی کی سپلائی، ائر،نیول و برّی افواج کے بیس اور پرائیوٹ کنٹریکٹروں کی ریشہ دوانیاں۔

بلیک واٹر(پرائیویٹ سیکورٹی)، کالا پانی اور گوری لڑکیوں کی سپلائی….. کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں۔
اماں سیدھا کیوں نہیں کہتے کہ پیسے ختم، اور چاہیئیں، اس کے لیے متذکرہ ملک کا وقار(مٹی میں), زمیں پر خون اور اسٹاک مارکیٹ کا گراف گروانا ضروری ہے کیا؟

سامرہ ہمیشہ فوجی علاقہ رہا،امام علی الہادی النقی کو خلیفہ متوکل نے شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کیا اور 30 سال کی عمر میں مدینے سے اپنے عسکری محلے میں بلوالیا تا کہ فوج پہرا دے آپ پر،
پھر آپ جس شان سے یہاں آئے تو ایسا انبوہِ کثیر فرزندِ رسول اللہ کے استقبال کو امڈ آیا کہ سبحان اللہ، سبحان اللہ،
اور ہونا کیا تھا؟ وہی زہر کا پیالہ ،اور وہی فوجی حصار میں تدفین، نہ کوئی آئے نہ جائے۔

آپ کا مشہور واقعہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی مجلس میں ایک ہاشمی پر ایک عالم کو فضیلت دے کر اپنے قریب بٹھایا تو اس کے اعتراض کے جواب میں آیت سے جواب فرمایا کہ خدا نے جاننے والوں کو نا جاننے والوں پرفضیلت دی ہے۔

آپ نے فرمایا “نفس کی تہذیب کے لیے یہی کافی ہے کہ جو دوسرے کے لیے برا سمجھو اس سے خود دور رہو”

امام حسن عسکری نے 22 سال کی عمر میں منصبِ امامت سنبھالا جب آپ کے بابا کو 40 سال کی عمر میں مسموم کردیا گیا۔

آپ کے 28 سال کی عمر میں رتبۂ استسشہاد کو پہنچے اور امامت آپ کے کمسن 5 سالہ فرزند کو عطا ہوئی، ۔۔۔۔
باپ کا جنازہ رکھا تھا اور چچا تکبیر کہنے ہی والے تھے کہ ان کی عبا کو آخری حجتِ خدا نے جھٹکا اور ننہے سے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا,” چچا نماز امام کی امام پڑھائے گا!” وہ ہٹ گئے، نماز ہوئی اور جاسوسوں نے مع فوج دھاوا بولا،
لیکن مزار کے نیچے سرداب(زیرِزمین خانہ/انڈر گراؤنڈ) میں لوگوں نے حجت ابن الحسن، قائم آلِ محمد کو آخری دفعہ دیکھا۔۔۔۔

نرجس خاتون حسبِ روایت،سلطنتِ روم کی شاہزادی تھیں اور حضرتِ حجت کی مادرِ گرامی، وہ مزار میں اپنے تاجدارِ نامدارِ کے ساتھ جلوہ فگن ہیں۔

تو اب پونے تین ہورہے اور ہم مضیف(مہان خانہ/ڈائننگ ہال) گئے اور امام کے دسترخوان سے مستفیض ہوئے،میرِ مطبخ نے بینگن کو ٹماٹر کی گریوی میں ایسا اچھا برتا کہ ہم تا دَمِ اکل و شرب، اس بھُرتے کا ہی دم بھرتے رہے،ساتھ میں فرینچ بریڈ و خشکہ(سادے چاول).

وہاں سے آئے تو ارم باجی حرم میں بیٹھی ہیں اپنے شوہر کامران (ہمارے) بھائی کے انتظار میں۔۔۔۔ کھانے کا پوچھا تو وہ ٹال گئیں!!

پھر ہم وہاں سے سید محمد کے مزار گئے، سید محمد حضرت علی النقی کے فرزند اور امام حسن العسکری کے بھائی تھے،ڈرائیور کی کھوپڑی موسم کی طرح گرم اور جس دم مزار پہنچے، تھک گئے تھے سب،
بس سےاترے اور واک تھرو پر پہنچے، یہان بھی دو سال پہلے دھماکہ ہوا تھا، لیکن سمندِ شوق کو اللہ رے شوقِ آسائش،
اس راہ میں ہماری جان بھی مثلِ جامِ سفال ہے، ایک گئی تو دوسرا جَن، مولا کے دربار میں جائے گا، اور کہے گا کہ ،”اور اولاد ہوئی تو وہ بھی کٹ مرے گی، لیکن در پر سلام کہنے ضرور آئے گی، ڈرے گی نہیں!!!”

پورے عراق میں راستے میں مختلف شہداء کی تصویریں اور اقوال زریں لکھے ہیں تاکہ ٹیم اسپرٹ برقرار رہے!

اب ارم باجی جنہوں نے صبح سے کچھ نہ کھایا تھا وہ راضی برضا حرم میں بیٹھی مولا سے باتیں کر رہی تھیں، لیکن یہ سید محمد کا مزار ہے، جہاں بکرے/دنبے قربان ہوتے ہیں، اپنی زائرہ کو بھوکا جانے دیں گے؟؟
ان کے میاں وہاں کے مضیف سے چلو کباب اور اس کی گریوی لے آئے، انہوں نے اوپر دیکھ کر کہا،”شکریہ مولا”, اور اپنی پیاری سی بیٹی کے ساتھ سوغات نوشِ جان کی۔

اگلی منزل مسجد رد الشمس تھی، الحلہ کے پاس۔ یہاں جنابِ امیر نے جنگِ نہروان(خوارج کے خلاف) سے واپسی پر سورج پلٹایا تھا، اس کی عجیب بات یہ ہے کہ اس کا گنبد اتنا لمبوترا ہے کہ مندر کا گمان ہوتا ہے واللہ، لیکن کیا پتہ کوئی مخصوص طرزِ تعمیر ہو۔۔۔۔

لیکن نجف الاشرف تو ابھی ابھی 50 کلومیٹر دور ہے، ابوالائمہ،ابوالحسن، جنابِ امیر المومنین کا دیدار کہاں ہوا،
سڑکوں کی حالت اچھی نہیں اور نہ راستے میں کہکشاں لیکن مولا، آپ کی بس ایک دزدیدہ نگاہ کاشوق ہمیں کشاں کشاں کھینچ رہا ہے قریب۔۔۔۔۔
1230 بجے رات، ایشیا سیل کا اشتہار چلا چلا کر کہ رہا ہے

“اہلاً و سہلاً بزوار عتبات العالیہ فی النجف الاشرف”

علی، مولائے قنبر بود،
شب جائی کہ من بودم۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگے جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *