• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستانی خواتین اول اور مرد اول۔۔۔ڈاکٹر عمران آفتاب

پاکستانی خواتین اول اور مرد اول۔۔۔ڈاکٹر عمران آفتاب

صدر عارف علوی کے حلف اٹھاتے ہی میڈیا میں ایک دلچسپ بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ پاکستان کی آئندہ خاتون اول کون ہوں گی۔ ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ ثمینہ علوی یا وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ عمران؟
یوں تو خاتون اول با ضابطہ طور پر کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے۔ روائتی طور پر وزیر اعظم یا صدر مملکت میں سے جس کی شریک حیات میڈیا پر زیادہ توجہ حاصل کر لے وہی خاتون اول کہلاتی ہے ۔ ماضی میں ایسا شاذ و نادر ہی ہوا ہے کہ صدر اور وزیر اعظم دونوں کی اہلیہ موجود ہوں اور ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بھی ہوں۔
پاکستان کی پہلی خاتون اول بیگم رعنا لیاقت علی خان تھیں۔ گورنر جنرل قائد اعظم کی پہلی اہلیہ ایمی بائی 1893 میں انتقال کر گئی تھیں۔ دوسری شریک حیات رتی جناح کا انتقال پاکستان بننے سے قبل ہو چکا تھا۔ البتہ قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح ان کی سیاسی رفیق کار کے طور پر موجود تھیں۔ ان کو حکومت پاکستان کی جانب سے بعد ازاں “مادر ملت” کا خطاب عطا کیا گیا۔

یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان 1956 تک سلطنت برطانیہ کی ڈومینین رہا۔ اور اس حیثیت میں 1947 سے 1952 تک سابق مادر ملکہ الزبتھ، شاہ جارج ششم کی اہلیہ کی حیثیت سے پاکستان کی ”کوئین کنسارٹ” رہیں۔ بعد ازاں ان کی صاحبزادی ملکہ الزبتھ دوم کی تاج پوشی کے بعد شہزادہ فلپ ، ”پرنس کنسارٹ” بن گئے۔ 23 مارچ 1956 کو آئین کی منظوری کے بعد پاکستان ڈومینین سے جمہوریہ بن گیا۔

لیاقت علی خان کی پہلی شادی اپنی کزن جہانگیرہ بیگم سے 1918 میں ہوئی تھی۔ مگر ملک کی پہلی خاتون اول ان کی دوسری بیگم، رعنا لیاقت علی خان بنیں۔ یہ 1905 میں اترپردیش کے ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اور 1990 میں وفات پائی۔ ”شیلا آئیرین پینٹ” کی لیاقت علی خان سے پہلی ملاقات 1931 میں دہلی میں ہوئی جہاں وہ “قانون و انصاف” پر لیکچر دینے آئے تھے۔ اگلے ہی سال دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ تحریک پاکستان میں بیگم رعنا نے اپنے شوہر قائد ملت کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔ آزادی کے بعد اپوا کی پہلی صدر بنیں۔ شہید ملت کی وفات کے بعد مختلف ممالک میں بیگم رعنا نے پاکستان کی سفارت کے فرائض سر انجام دیئے۔ بھٹو دور میں انہیں ملک کی پہلی خاتون گورنر مقرر کیا گیا۔ 1990 میں وفات پائی۔ تا دم تحریر، بیگم رعنا لیاقت علی خان، مزار قائد میں تدفین کا اعزاز حاصل کرنے والی آخری شخصیت ہیں۔

لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے وزارت عظمی کا منصب سنبھالا۔ اور ان کی اہلیہ شاہ بانو پاکستان کی فرسٹ لیڈی بن گئیں۔ گورنر جنرل غلام محمد کی اہلیہ کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔ تاہم قدرت اللہ شہاب نے ان کی ایک چہیتی غیر ملکی نرس کا تذکرہ “شہاب نامہ” میں کیا ہے۔ جس سے ان کی جذباتی وابستگی رہی۔ گورنر جنرل غلام محمد نے 1953 میں خواجہ ناظم الدین کی حکومت بر طرف کر دی۔ ان کے بعد 1958 تک قلیل مدت کے لیے بننے والے پانچ وزرا اعظم میں سے صرف سر فیروز خان نون کی اہلیہ مسز وقار النسا نون ہی فرسٹ لیڈی کی حیثیت سے شہرت حاصل کر سکیں۔ بیگم وقار النسا نون کے بارے میں ایک لطیفہ بہت مشہور ہوا تھا۔ سر فیروز خان نون کو سلطنت برطانیہ سے سر کا خطاب ملنے بعد ان کی پہلی اہلیہ کو “لیڈی نون” کا ٹائٹل دیا گیا۔ دوسری اہلیہ ہونے کے ناطے مسز وقار النسا نون کے لیے ٹائٹل کا معاملہ آیا تو کسی ستم ظریف نے ان کے لیے ”لیڈی آفٹر نون” کا ٹائٹل تجویز کیا۔ ان کا تعلق آسٹریلیا سے تھا اور اصل نام “وکٹوریا رکی” تھا۔ 1945 میں سر نون سے شادی کے بعد تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔ اور قیام پاکستان کے بعد بھی سماجی خدمات انجام دیتی رہیں۔ راولپنڈی میں وقار النسا گرلز کالج آج بھی، نون فاؤنڈیشن کے زیر انتظام، تعلیمی شعبے میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے ایک بھرپور کردار ادا کیا۔ جنرل ضیاء الحق کےدور میں مختصر مدت کے لیے ثقافت اور سیاحت کی وفاقی وزیر بھی رہیں۔ سنہ 2000 میں وفات پائی۔
1955 میں آخری گورنر جنرل اور 1956 میں پہلے صدر مملکت بننے والے سکندر مرزا کی اہلیہ ناہید سکندر مرزا سیاسی اور سماجی طور پر متحرک خاتون اول رہیں۔

ناہید اصفہانی کا تعلق ایران سے تھا۔ ان کے پہلے خاوند لیفٹننٹ کرنل افغانی پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کے ملٹری اتاشی تھے۔ ناہید افغانی کے ناہید سکندر مرزا بننے کا واقعہ بہت دلچسپ ہے۔ سکندر مرزا کی پہلی اہلیہ رفعت مرزا سے ان کے صاحبزادے ہمایوں مرزا 1952 میں لندن میں زیر تعلیم تھے۔ناہید افغانی کا نام پہلی مرتبہ سرکاری ریکارڈ میں انہی ایام میں ملتا ہے ۔ جب اس وقت کے سیکرٹری دفاع سکندر مرزا اپنے صاحبزادے کو ایرانی سفارت کار کرنل افغانی کی اہلیہ کے لیے لندن میں قیام و طعام کا بندوبست کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ 1953 کے موسم بہار میں رفعت مرزا خود لندن جا کر مسز افغانی کی بیٹی صفیہ افغانی کا داخلہ لندن کے ایک سکول میں کرواتی ہیں۔ 4 جون 1953 کو خبر آتی ہے کہ سکندر مرزا کے دوسرے بیٹے انور مرزا طیارہ کریش میں جاں بحق ہو گئے۔ سکندر مرزا پرسہ دینے اپنے بڑے صاحبزادے کے پاس لندن پہنچے تو اس موقع پر ناہید افغانی ان کے ہمراہ تھیں۔ باپ بیٹے میں اس موضوع پر تلخ کلامی بھی ہوئی۔ تاہم کچھ ہی دنوں بعد سکندر مرزا نے ہمایوں مرزا کو ان کی والدہ اور بہنوں کے پاس کراچی روانہ کر دیا۔ اور خود لندن کے ایک ہوٹل میں ناہید اصفہانی کے ساتھ مزید ایک ماہ تک مقیم رہے۔ 1954 میں مسلم لیگ مشرقی پاکستان میں الیکشن ہار گئی۔ سکندر مرزا کو بنگال کے صوبائی گورنر کی حیثیت سے بھیجا گیا تو رفعت مرزا کی بجائے خفیہ طور پر ناہید اصفہانی ان کے ہمراہ تھیں۔ ان کے ناہید سکندر بننے کی اصل تاریخ ہمیشہ مشکوک رہی۔ ناہید مرزا کے مطابق نکاح لندن سے واپسی پر جولائی 1953 میں منعقد ہؤا۔ اور باقاعدہ تقریب 5 ستمبر 1953 کو ہوئی۔ مگر اس کا سرکاری طور پر کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ اکتوبر 1954 میں یہ خفیہ نکاح اس وقت منظر عام پر آیا جب سکندر مرزا کے بیٹے ہمایوں نے پاکستان میں متعین امریکی سفیر ہوریس ہلڈرتھ کی بیٹی سے شادی کا اعلان کیا۔ رفعت مرزا اس وقت خواتین کے ایک وفد کے ہمراہ چین کے سرکاری دورے پر تھیں۔ ادھر کراچی میں ناہید مرزا کا دباؤ تھا کہ اب سکندر مرزا اپنے خاندان کو اس شادی کے بارے میں بتا دیں۔ ان حالات میں سکندر مرزا کراچی میں موجود اپنی چاروں بیٹیوں کو بتائے بغیر گھر سے غائب ہو گئے۔ انہوں نے ایک ہفتے بعد واپس آ کر اپنی بیٹیوں کو ناہید سکندر کے ساتھ شادی کرنے کی خبر سے مطلع کیا۔ پاکستانی اخبارات میں ہمایوں مرزا کی امریکہ میں شادی اور سکندر مرزا کی کراچی میں ناہید سے شادی کی خبریں ایک ساتھ ہی شائع ہوئیں۔ مگر جب دوماہ بعد ہمایوں مرزا نے کراچی میں اپنے پاکستانی عزیز و اقارب کے لیے ولیمہ کا اہتمام کیا تو اس میں اس وقت کے گورنر جنرل اور وزیر اعظم سمیت تمام اہم ملکی شخصیات موجود تھیں۔ سوائے وزیر داخلہ سکندر مرزا اور ناہید سکندر کے۔

سکندر مرزا نے اس کے بعد اپنی پہلی اہلیہ رفعت مرزا اور ان کے بچوں سے قطع تعلق کر لیا۔ 1955 میں غلام محمد کے استعفی کے بعد ملکہ الزبتھ دوم نے سکندر مرزا کو گورنر جنرل مقرر کیا۔ اور ناہید سکندر پاکستان کی ایک طاقتور خاتون اول کی حیثیت سے سامنے آئیں۔ لیکن 1958 میں جنرل ایوب کے ہاتھوں اقتدار سے معزولی کے بعد پاکستان کے اس مقتدر جوڑے نے لندن میں نہایت مشکل حالات میں اپنی زندگی کے ایام پورے کیے۔

جنرل ایوب خان کی اہلیہ با پردہ خاتون تھیں لہذا ان کے دور اقتدار میں خاتون اول کو میڈیا میں کوئی خاص اہمیت نہیں ملی۔1961 میں امریکہ کے تاریخی دورے پر صدر ایوب خان کی صاحبزادی نسیم اورنگزیب ان کے ہمراہ تھیں۔ جن کی امریکی خاتون اول جیکولین کینیڈی کے ہمراہ تصاویر کو بین الاقوامی میڈیا میں نمایاں کوریج دی گئی۔
ایوب خان کے بعد 1969 میں جنرل یحیٰ خان نے مارشل لا نافذ کیا۔ ان کی رنگین مزاجی کے قصے زبان زد و عام رہے۔ “جنرل رانی” کے نام سے مشہور اقلیم اختر اس زمانے میں طاقت کے ایوانوں کا ایک اہم کردار رہیں۔ اداکارہ “ترانہ” کے “قومی ترانہ” بننے کا لطیفہ بھی انہی دنوں کا قصہ ہے۔ 1971 میں سقوط بنگال کے بعد یحیٰ خان اقتدار بھٹو کے سپرد کر کے مستعفی ہو گئے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی اہلیہ امیر بیگم سے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ بھٹو کی دوسری اہلیہ نصرت اصفہانی ایرانی تھیں۔ اور ان کا تعلق ناہید سکندر مرزا کے خاندان سے تھا۔ کہا جاتا ہے کہ نوجوان بھٹو اور نصرت کی ملاقات ناہید مرزا کے ہاں ایک تقریب میں ہوئی۔ 1951 میں شادی کے بعد سے آخری دم تک نصرت بھٹو نے اپنے شوہر کی سیاست کا علم بلند رکھا۔ 1971 سے 1977 تک وہ پاکستان کی خاتون اول رہیں۔ مارشل لا کے بعد ضیا آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں مرتضی بھٹو کے قتل نے انہیں توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ 2011 میں ان کی وفات کے بعد پیپلز پارٹی حکومت نے انہیں ”مادر جمہوریت” کا خطاب دیا۔

صدر فضل الہی چوہدری کی اہلیہ ایک گھریلو خاتون تھیں۔ ان کے بعد جنرل ضیا الحق صدر بنے۔ جنرل ضیاء کی اہلیہ شفیقہ ضیا 1978 سے 1988 تک خاتون اول رہیں۔
1988 میں بے نظیر بھٹو نے اقتدار سنبھالا۔ صدر مملکت غلام اسحاق خان کی اہلیہ پردہ نشین رہیں لہذا اس دور میں خاتون اول کا عہدہ خالی رہا۔ البتہ آصف علی زرداری کو وزیر اعظم کے شوہر کی حیثیت سے ”مرد اول” کا غیر روائتی نام دیا گیا۔
نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز ان کے تینوں ادوار میں خاتون اول رہیں۔ 1999 میں مارشل لا کے بعد اپنے شوہر کی رہائی میں اہم کردار ادا کرنے والی کلثوم نواز آج کل  وفات پا چکی   ہیں۔

صدر فاروق لغاری اور رفیق تارڑ کی بیگمات کبھی منظر عام پر نہیں آئیں۔ صدر مشرف کے دور میں ان کی اہلیہ صہبا مشرف خاتون اول رہیں۔ ان کے پہلے دو وزرا اعظم جمالی اور شجاعت حسین کی بیگمات کا میڈیا پر کوئی خاص تذکرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ البتہ شوکت عزیز کی اہلیہ رخسانہ عزیز کو اس وقت میڈیا کے کچھ حلقوں نے “خاتون دوم” کا غیر رسمی خطاب دیا تھا۔ وزیر اعظم گیلانی کی اہلیہ فوزیہ گیلانی 2008 سے 2012 تک خاتون اول رہیں۔ 2012 سے 2013 تک نصرت پرویز اشرف ملک کی خاتون اول رہیں۔ 2013 سے 2018 تک صدر رہنے والے ممنون حسین کی اہلیہ محمودہ ممنون حسین کبھی کبھار ہی سرکاری تقریبات میں نظر آئیں۔ اس دور میں بیگم کلثوم نواز اور ثمینہ شاہد خاقان عباسی خاتون اول کے طور پر نمایاں رہیں۔

جمائیما گولڈ سمتھ اور ریحام خان کے بعد بشریٰ  موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی تیسری اہلیہ ہیں۔ یہ ایک روحانی شخصیت ہیں اور شرعی پردہ کرتی ہیں۔ لیکن مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ جب کہ صدر عارف علوی کی اہلیہ ثمینہ علوی کو بھی صدارتی الیکشن کے دوران بھرپور میڈیا کوریج دی گئی۔ خاتون اول کون سی خاتون قرار پاتی ہیں ، اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *