ہم جنسیت کے حساس موضوع پر

ہم جنسیت کے حساس موضوع پر

مکالمہ پہ آج نجمہ سلطانہ کی تحریر "لڑکیوں میں ہم جنس پرستی کا نفسیاتی جائزہ" پڑھنے کا موقع ملا۔ نفسیات میرا پسندیدہ موضوع ہے باوجود اسکے کہ کالج اور یونیورسٹی میں نفسیات میرے مضامین کا حصہ نہ تھا میں نے اپنی ذاتی دلچسپی کی بنیاد پہ اس مضمون کو نہ صرف پڑھا بلکہ کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں عملی طور پہ ڈاکٹر ریاض احمد (جو کہ آج کل ڈائریکٹر "پاکستان انسٹیٹیوٹ آف سائیکولوجی" کے عہدے پہ فائز ہیں )کے ساتھ براہ راست ملاقات اور ان سے نفسیات کے موضوع کو سمجھنے کا موقع ملا۔ اس زمانے میں ، میں نے لوئر مڈل کلاس کےکئی لوگوں خصوصاََ لڑکیوں کے مسائل کے پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان کو سائیکولوجی انسٹیٹیوٹ تک جانے کے لئے قائل کیا۔ اور انہیں علاج کے بعد نارمل ہوتے ہوئے بھی دیکھا۔ اس پوری تمہید کا مقصد صرف اتنا ہے کہ مجھ جیسے طفل مکتب کو نفسیات جیسے موضوع کی بہت زیادہ نہ سہی تھوڑی بہت شدھ بدھ ضرور ہے۔

نفسیات ایک ایسا علم ہے جسکے تحت بنیادی طور پر انسان کی ذہنی اور دماغی زندگی، اسکی ابتداء اور اسکے مختلف پہلوؤں سے بحث کی جاتی ہے۔ ماہرین علم نفسیات کی رو سے یہ ایک ایسی سائنس /علم ہےجس کے تحت انسان کے دماغ، ذہن، خیالات، احساسات، کردار اور اس سے سرزد ہونے والے مختلف افعال پر بحث کی جاتی ہے۔

مصنفہ کے مضمون کا عنوان پڑھیں تو نفسیاتی پہلو کا احاطہ کرنے والی ایک تحریر کا تاثر بنتا ہے۔ لیکن تحریر کو پڑھتے ہوئے تحریر کے عنوان اور تحریر کا کوئ میل نظر نہیں آتا۔لکھنے والے کی اردو ادب سے دوری اور علمِ نفسیات کے کسی بھی زاوئیے پر نظر نہ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی دیگرعوامل پہ غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل بھی قابلِ گرفت ہے۔
اوّل انتہائ سطحی اندازِ تحریر،دوئم نفسیات کے بجائے نچلے درجے کی جنسیات کی آئینہ دار، سوئم اور خطرناک غلطی مصنفہ کا ایک خاص علاقے، تعلیمی ادارے اور خاص زبان بولنے والوں کا حوالہ دے کر ایک انتہائی غیر ذمہ داری اور کم علمی کا ثبوت پیش کرنا ہے۔

اب جائزہ لیتے ہیں ہم جنس پرستی اور اس سے جُڑے چند حقائق کی۔ اس کے لئیےسب سے پہلے ہمیں اپنے معاشرے کے عمومی رویے کا جائزہ لینا پڑے گا۔ ہمارے معاشرے میں جنس سے متعلقہ معاملات کو ایک ایسا موضوع بنا دیا گیا ہے جس پر بات کرنے اور لکھنے کی اجازت نہیں۔ بد قسمتی سےہماری معاشرتی بُنت کتنی ہی پردے داری کرے یا جنس سے متعلقہ موضوعات پہ بات کرنے کو عزت ،بے عزتی اور فحاشی قرار دے لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ انسانی زندگی کا ایک اہم ترین پہلو ہے۔ جو قرآن کی پہلی وحی کی آیات بیان کرتی ہیں
"پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا
آدمی کو خون کے لوتھڑے سے بنایا"

انسان کی تخلیق رب کریم کی نظر میں کتنی اہم ہے وہ اس کے پہلے پیغام سے واضح ہے۔ انسان کی تخلیق اور ان سے جڑے حقائق پہ بات کرنا اگر غیر اخلاقی اور فحاشی کے زمرے میں آتا ہے تو یہ ہمارے معاشرے کے خود ساختہ اورنام نہاد اخلاقیات کا قصور ہے نہ کہ اس موضوع کا۔
ہم پڑھے لکھے ہیں یا غیر تعلیم یافتہ ہیں ، ہم یا تو اس پہ بات نہیں کریں گے یا کریں گے تو محض فحش زاوئیے سے۔ ہم حقائق سے نظر نہیں ملانا چاہتے اور اپنی ہی فطرت کو نام نہاد عزت و اخلاق کے پردے میں چھپا کے ہر وہ کام کرتے ہیں جس پہ بات کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔
لیکن حقائق اس کے قطعی برعکس ہیں۔ ہمارا معاشرہ بھی دیگر انسانی معاشروں کی طرح صدیوں سے ہم جنس پرستی کا شکار رہا ہے۔
عصمت چغتائ کا افسانہ "لحاف" 1934 میں لکھا گیا۔ عصمت کے کئ شاہکار افسانے ہیں لیکن خود اُن کے بقول :
لحاف سے پہلے اور لحاف کے بعد میں نے جو "کچھ لکھا اس پر کسی نے غور نہیں کیا۔لحاف کا لیبل اب بھی میری ہستی سے چپکا ہوا ہے۔ لحاف میری چڑ بن گیا۔ میں کچھ بھی لکھوں لحاف کی تہوں میں دب جاتا۔ لحاف نے مجھے بڑے جوتے کھلوائے"۔
لحاف میں عورت اور مرد دونوں کی ہم جنس پرستی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ عصمت کے اس افسانے میں عورت کی نفسیاتی پہلو کو بخوبی اجاگر کیا گیا ہے کہ وہ کون سے حقائق تھے جنہوں نے افسانے کے کردار بیگم جان کو ہم جنس پرستی کی طرف مائل کیا۔ اور ساتھ ہی بیگم جان کے شوہر کے ہم جنس پرستی کو بھی بتایا گیا ہے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب آج کل کی طرح عورتوں کو کوئی آزادی نہ تھی ۔تعلیمی اداروں تک بھی رسائی عام طبقے میں برا خیال کی جاتی تھی ۔پردے کا رواج عام تھا ۔ اس تفصیل کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آج کے وقت میں کوئی ہم جنس پرستی کو کسی جدیدیت کا شاخسانہ فلموں اور انٹرنیٹ کا نتیجہ سمجھتا ہے تو اس کو اپنی معلومات کو درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اگر تاریخی حقائق کا جائزہ لیں تو ہم جنس پرستی بلا صنفی امتیاز صدیوں سے ہر معاشرے کا حصہ رہی ہے۔ صدیوں پرانی ایسی تصاویر موجود ہیں جن میں مردو خواتین کو اس فعل میں ملوث پایا گیا۔ بلکہ قوم لوط کے قصے سے کون ہے جو واقف نہیں ۔ مشرقی مغرب دونوں معاشروں میں اس کا ہونا تاریخ سے ثابت ہے۔
ہم جنس پرست ہونے کی وجوہات پر پوری دنیا میں اتفاق نہیں پایا جاتا ہے۔ اسلام، عیسائیت اور یہودیت سمیت بہت سے مذاہب میں ہم جنس پسندی اور پرستی کو گناہ سمجھا جاتا ہے ۔ البتہ کچھ مذاہب میں اسے اختیاری طور پر یعنی آدمی کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ بہت سے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہم جنس پسندی اختیاری نہیں بلکہ جینیاتی اور پیدائش سے قبل ہارمون کے زیر اثر (جب بچہ رحم مادرمیں ہوتا ہے) ہوتا ہے ۔ بعض اوقات ماحول کی وجہ سے بھی آدمی اس کا عادی ہوجاتا ہے ۔ یہ بات تقریبا طے شدہ ہےکہ اب تک ہم جنس پسندی کی پختہ وجوہات کا علم نہیں ہوسکا ہے ۔کئی میڈیکل اور سائنٹیفک ریسرچ اس بارے میں پیش کی گئیں جن میں مختلف اسٹڈیز کی بنیاد پر نظریات پیش کئیے جاچکے ہیں۔
ہم جنس پرستی کو کئی صدیوں تک ایک ذہنی بیماری کے طور پر لیا جاتا رہا ہے ۔ نفسیات کے ماہرین بلا مبالغہ صدیوں تک اس کو ایک نفسیاتی مرض سمجھ کر علاج کے مختلف طریقے آزماتے رہےہیں۔ لیکن بیسویں صدی کے آخر میں کئی سائنسی تحقیقات نے اس رجحان کو تبدیل کرنے میں مدد کی ۔ حتی کے نفسیات کے ماہرین بھی اس امر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے کہ کچھ لوگوں میں یہ رویہ اور رجحان کے ہونے کا تعلق کسی بیماری سے نہیں۔
بیسویں صدی کے آخر تک بھی اس معاملے میں پوری دنیا میں ہم جنس پرست لوگوں خصوصا مردوں کے لئے ایک کراہیت کا عنصر پایا جاتا تھا۔ صرف جرمنی میں ہزاروں مردوں کو اس جرم میں جیلوں اور موت کی سزا کا نشانہ بننا پڑا۔ یہیودیت میں اس معاملے میں بہت سخت سزاؤں کا رجحان تھا ۔بہت سے مذاہب اس کو قبیح فعل قرار دیتے تھے اور اس میں ملوث افراد کو کراہت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور ان سے بہت امتیازی سلوک روا رکھا جاتا تھا۔
بدلتے وقت کے ساتھ مغرب کے بیشتر ممالک نے اس رجحان کو ایک قدرتی امر کے طور پہ قبول کرلیا ہے۔ اقوام متحدہ میں بھی 2011 میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کو قانون سازی کے زریعے تحفظ فراہم کیا گیا ہےجس پر بیشتر مغربی ممالک نے دستخط کرکے اس کو تسلیم کرلیا ہے۔ کئ ملکوں میں اب ہم جنس پرستی کو قانونی سرپرستی حاصل ہے۔
اگر ہم پاکستانی معاشرے میں ہم جنس پرستی کا حقیقی جائزہ لیں تو یہ ہمارے معاشرے کا وہ پہلو ہے جس پہ ایک طرف تو ہم بات کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں لیکن دوسری طرف دیکھیں تو بھیانک حقائق کا سامنا ہے۔
یونائیٹڈ نیشن کی ایجنسی کی رپورٹ شائع ہوتی رہیں ہیں کہ پاکستان میں ہم جنس پرستی ایک حقیقت ہے۔ بڑے شہروں کے لوگ عموماً زیادہ آسانی سے اس قسم کے تعلقات استوار کرسکتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہم جنس پسندوں کے باقاعدہ زیرزمین اجتماعات ہوتے ہیں اور پاکستانی ہم جنس پرستوں کے بیرون ملک تنظیموں سے بھی رابطے ہیں۔
مردوں میں ہم جنس پرستی کے حوالے سے اس معاشرے میں مواقع زیادہ ہیں۔ بدقسمتی سے مدارس اور مساجد میں کم عمر لڑکوں کے حوالے سے اس قسم کے واقعات تواتر سے رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔بعض اوقات ان کم عمر نوجوانوں کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ ان کی اپنی آنے والے زندگی پہ اس کے کیا اثرات پڑیں گے۔ یہ وہ حقیقی صورتِحال ہے جو کہ مردوں کے اس معاشرے میں ہم جنس پرستی کے حوالے سے رہی ہے۔ بظاہر خوش پوش نظر آنے والے، بڑے بڑے عہدوں پہ فائز لوگ جو شادی شدہ زندگی گزارتے ہیں لیکن در پردہ ہم جنس پرستوں کے نہ صرف خفیہ کلب کے ممبر ہیں بلکہ اس کے زیرانتظام باقاعدہ محفلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
اب اگر ہم بات کریں لڑکیوں میں ہم جنس پرستی کی توچاہے ہم اس حوالے سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیں ،اس موضوع کو ممنوعہ قرار دے کر بات کریں یا نہ کریں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایک اسلامی اور مذہبی ریاست میں رہنے والی خواتین کی ایک قابل ذکر تعداد اس رجحان کی حامل ہیں۔ اس حوالے سے کسی ایک قبیلے، جگہ،یا کسی ایک تعلیمی ادارے کا نام لینا انتہائی حماقت کے سوا کچھ اور نہیں۔
ہمارے معاشرے میں خواتین کا اس طرح کی سرگرمی میں ملوث ہونے کا ذکر ہم سب کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔وجوہات کیا ہیں۔ کیا مسلمان ہونا ہمیں اس قسم کی سرگرمیوں سے بچا سکتا ہے تو اسکا جواب نفی میں ہے۔ اگر تو آپ اس معاشرے کو اس گھٹن سے نجات دلانا چاہتے ہیں اس قبیح فعل سےبچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کو مناسب آگہی دینی ہوگی۔ جب قرآن و احادیث میں بھی انسان کی تخلیق کے حوالے سے موضوعات کا احاطہ کیا جاتا ہے تو ہم اپنے بچوں کو وہ معلومات مناسب اندازمیں کیوں نہیں پہنچا سکتے۔ اسلام اس معاملے میں بہت واضح احکام دیتا ہے۔اسلام میں سات سال کے بچے کا بستر علیحدہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے ۔اسلام جوائنٹ فیملی سسٹم کو سپورٹ نہیں کرتا۔ بظاہر یہ باتیں بہت چھوٹی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان بظاہر چھوٹے احکامات میں بہت ساری حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ مصنفہ کی اس تحریر کو پڑھ کر بہت سے لوگ اپنے بچیوں اور بہنوں کے تعلیم اور ان کے ہاسٹل پہ رہنے پر تحفظات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ لیکن تحفظات بچیوں اور بچوں کو تعلیم دینے میں نہیں ہونا چاہئیے بلکہ اس خفیہ راستوں کے لئے ہونا چاہئیے جو غلط قسم کی معلومات کی وجہ سے بچوں کو بھٹکا سکتی ہیں۔
ہم جنس پرستی اگر ہمارے معاشرے میں اس وقت فروغ پارہی ہے تو اس کی وجوہات کو سمجھنا ہوگا اس پہ بات کرنی ہوگی۔ اپنے بچوں کو اس حوالے سے بنیادی معلومات کی فراہمی یقینی بنانی ہوگی۔ ماؤں کو آگاہی دینی ہوگی کہ وہ اپنے بچوں پہ اعتماد کریں اور ان کو اچھے برے کی پوری آگاہی دیں ماؤں کو اپنی بیٹیوں کی سب سے اچھی دوست بنناسیکھنا ہوگا۔
تاکہ ان کی بیٹیاں بلا جھجھک اپنے ذہن میں اٹھتے سوال کے جواب کے لئے خفیہ ذرائع تلاش نہ کریں۔ اور کوئی دوسری عورت یا سہیلی اُن کے معصوم ذہن کو بھٹکا نہ سکے اور جنس کے حوالے سے غلط معلومات دے کر اس کو کسی اور راہ پہ نہ چلا سکے۔ کسی مسئلے کی سنگینی سے آنکھ چرانا اور اس پہ کبوتر کی طرح آنکھ بند کرنے سے مسائل حل ہونے کے بجائے پیچیدہ ہوجاتے ہے۔
بیسویں صدی کی خواتین میں اس رجحان کے ہونے کے عوامل بہت مختلف تھے لیکن آج کے دور میں ہر قسم کی انفارمیشن تک حد سے زیادہ اور آسانی تک پہنچ ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ نوعمر لڑکوں اورلڑکیوں تک اس طرح کےمعاملات تک باآسانی رسائی ، بے انتہاحساس موضوع ہے۔ جہاں تک ہمارے ملک کے ان حصوں کا تعلق ہے جہاں عورت کی حالت ابھی تک پسماندہ ترین ہے وہاں اس طرح کے مسائل کی نفسیاتی وجہ قطعی مختلف ہوتی ہے۔ مردوں کا نامناسب رویہ،کثرت ازدواج اور گھر کے مردوں کا غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونا کچھ ایسے نفسیاتی عوامل ہوسکتے ہیں جو کہ گھروں تک محدود رہنے والی خواتین کو اس طرف مائل کرسکتے ہیں۔ عصمت چغتائی نے کئی دہائیوں پہلے اپنے افسانے میں انہی نفسیاتی مسائل کو بیان کیا تھا۔ لیکن یہ مسئلہ اب بھی ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے جسے ایک مسلمان اور انسان کی حیثیت سے ہمیں نہ صرف سوچنا ہوگا بلکہ اسے سمجھنے اور حل کرنے کی جانب بھی اقدامات کرنے ہونگے۔
جب ایک لکھنے والا قلم اٹھاتا ہے تو اس کے ہاتھ میں موجود قلم اس کے پاس اس کے معاشرے کی امانت ہوتا ہے۔ ایک لکھنے والے کی مثال اس فزیشن کی سی ہوتی ہے جو بیماری کی تشخیص کرتا اور علاج کے مختلف طریقے تجویز کرتا ہے۔ باقی کی ذمہ داری اس کے پڑھنے والوں پہ ہوتی کہ وہ علاج کا کون سا راستہ منتخب کرتے ہیں۔ ہم جنس پرستی ایک عالمی مسئلہ ہے، اسکی جڑیں نفسیات، جینز، اور جسمانی ہوتی ہیں ،تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرے ایسے مسئلوں کو فیس کرتے ہیں، آنکھیں بند نہیں کرتے۔
دوستو میرا کام بس یہاں تک ۔
اب ہم اپنے اپنے دائرے میں کیا سُدھار لا سکتے ہیں یہ فیصلہ آپ پر۔

Sent from my iPhone

Avatar
ثمینہ رشید
ہم کہاں کہ یکتا تھے، کس ہنر میں دانا تھے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *