کتابوں سے دوستی کیجئے ۔۔۔۔۔۔ عبدالرؤف خٹک

زندگی میں دو باتوں کا خاص خیال رکھیں ایک تو اپنی خریدیں ہوئی کتاب اور ایک قلم کبھی بھی کسی دوست یار کو مت دیں وہ بھی ادھار ،یہ دو چیزیں کبھی بھی نہیں لوٹائی جاتیں ،مجھے اچھے سے یاد ہے کہ مجھ سے جب بھی دوستوں نے پڑھنے کے لئے کتاب مانگی وہ کبھی واپسی نہیں ملی ،اور قلم کی تو بات ہی چھوڑ دو یہ تو آپ کا باس ہو یا آپ کا چپراسی آپ کا جاننے والا ہو یا انجان ، قلم واپس  بالکل بھی نہیں ملتا ۔

مجھے یاد ہے میں اک کتاب خرید کر گھر لے آیا تھا جو مستنصر حسین تارڑ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کتاب تھی غالباً نام تھا گزارہ نہیں ہوتا ،یہ اک مزاح بر مبنی کتاب تھی ،
اک دن ایک دوست مجھ سے یہ کتاب پڑھنے کے لیے لے گیا اور یہ کہہ گیا کہ کچھ دن بعد لوٹا دونگا ،کافی دن گزرنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ وہ کتاب دوست سے واپس   لی جائے ،جب دوست سے کتاب واپسی ملی تو کتاب کے اندر سے کچھ صفحے غائب تھے  اور کچھ صفحے آدھے پھٹے ہوئے تھے ،مجھے بہت دکھ ہوا اور ا س  دوست سے شکایت کی کہ کتاب کے کچھ صفحے اندر سے غائب اور کچھ پھٹے ہوئے ہیں خیریت تو تھی ،وہ دوست بڑے ہی  معذرت خواہانہ انداز میں فرمانے لگے کہ بس کیا کہیے کہ آپ کی بھابھی کو کاغذ کھانے کی لت پڑ گئی ہے  ،وہ کتاب میں بستر پر رکھ کر باہر کسی کام سے چلا گیا تھا پیچھے سے آپ کی بھابھی نے اپنا کام کر دکھایا ۔

مجھے کافی افسوس بھی ہوا اور ہنسی بھی آئی اس بات پر کہ بھابھی محترمہ کاغذ پر ہی اکتفاء کرتی ہیں ، سوچنے لگا بڑے خوش قسمت ہیں آپ کہ کاغذ پر ہی گزارہ ہو جاتا ہے ،پھر میں خود سے ہی سوچنے لگا بھابھی کی جگہ بکری رکھ لیتے ۔۔۔
خیر بات کتابوں کی ہورہی تھی  اک زمانے میں کتابوں کی بڑی لت پڑ گئی تھی ہر ہفتے کتاب میلے میں پہنچ جاتے اور کچھ نہ کچھ کتابیں خرید ہی لاتے ،کتابیں خریدنے کا شوق تو تھا لیکن پڑھنے کا وہ جذبہ موجود نہیں تھا ،ہاں یہ ضرور تھا کہ جس دن نئی کتابیں آتیں اس دن کتابیں ہمارے ساتھ دن اور رات بستر پر ہوتیں اور ہم خوب انھیں پڑھتے ،لیکن پھر وہ کتابیں دوسرے دن ہماری اک پیٹی تھی ان کی نظر ہو جاتیں  ،اور دوبارہ کبھی موقع نہ ملتا ان کتابوں کو دوبارہ اٹھانے کا ،اور پڑھنے کا،اکثر دوست احباب پر رعب جمانے کے لئیے اپنی ساری کتابیں نکال باہر کرتے اور انھیں بتاتے کہ ہم بھی کسی فلاسفر سے کم نہیں ،دوست احباب کتابیں پڑھنے کے لئیے مانگتے  ،لیکن واپس  نہیں ملتی تھی جس کا کافی افسوس بھی ہوتا تھا ۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب وی سی آر  نیا نیا محلے میں وارد ہوا تھا اور دوست احباب کرائے پر وی سی آر لاتے اور فلمیں رات بھر دیکھتے اور ہم لائبریری جاکر  کرائے پر کتابیں لاکر پڑھتے ، اور وہ بھی اردو ادب  جس کا کوئی ثانی نہیں ،اور میرے وہ دوست مجھ پر ہنستے کہ یار ابھی تو کھیلنے کودنے کے دن ہیں اور آپ کتابوں کے کیڑے بنے پھرتے ہو ، لیکن میں کوئی جواب نہیں دے پاتا،وہ دن بھی یاد ہے جب نوجوانوں کی پسندیدہ شاعرہ پروین شاکر  اک حادثے میں زندگی کی بازی ہار گئی اور یہ روح فرسا خبر جب میرے کانوں میں پڑھی تو میں بے اختیار رو پڑا ،ان دنوں پروین شاکر اور احمد فراز کی شاعری کا بڑا چرچا تھا ،میں اکثر ان کی شاعری کی کتابیں خرید کر لاتا اور پڑھتا تھا ۔

آج بھی اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ جو دوستی کتاب سے رہی  اور کتاب سے جو سیکھنے کو ملا  وہ میرے لئیے کسی اعزاز سے کم نہیں ،کتاب صرف آپ کی دوست ہی نہیں بلکہ قدم قدم پر آپ کی راہنمائی کرتی ہے ،اور آپ کو اچھے برے کی تمیز بھی سکھاتی ہے ،آپ کو زمانہ شناس اور اچھے برے سے روشناس کرتی ہے ،یہ آپ کی نگہبان ،سربراہ ہوتی ہے  لیکن آپ کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتی  بلکہ بڑے خلوص اور پیار سے آپ کی تربیت کرتی ہے اور آپ کو سکھاتی ہے کہ معاشرے میں آپ کا کردار رہن سہن، اتار چڑھاؤ ،اخلاقیات ،ادبیات، معاشیات  ،معاشرت ، ان سب معاملات میں یہ آپ کی راہنمائی کرتی ہے اگر آپ اس سے دوستی کرکے استفادہ حاصل کرنا چاہو تو یہ اک بہترین علم دوست  گھر ہے،

اور یہ اک حقیقت بھی ہے کہ میں نے دوست کم  رکھے اور کتابوں سے دوستی زیادہ رکھی اور کتابوں سے جو میں سیکھ پایا شاید وہ میں دوستوں سے نہیں سیکھ پاتا ،
آج اگر مجھ کو اپنے بولنے یا لکھنے پر کچھ ملکہ ہے تو اس میں بھی میری کتابوں کا بڑا عمل دخل ہے ، اور فخر محسوس کرتا ہوں یہ بات کرنے میں کہ آپ کا بہترین ہتھیار آپ کی کتاب ہے وہ آپ کو زندگی کے رموز و اوقاف سکھاتی ہے ،وہ آپ کو زندگی کا چلن بتاتی ہے ، یہ مشکلوں سے نکالنے میں بھی آپ کی مدد کرتی ہے ،
کتابوں کو دوست جانیے اور کتابوں سے دوستی کیجیے ،آج کے اس پرفتن اور گٹھن زدہ ماحول میں جہاں ہر چیز اپنا حقیقی رنگ کھوتی جارہی ہے وہیں لوگ اس بہترین دوست نما کتاب سے بھی بیزار اور دور ہوتے جارہے ہیں ،آج کتاب کی جگہ موبائل اور ایپس نے لے لی ہے ،اب لوگ کتاب کی جگہ ان سے استفادہ لیتے ہیں ،لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ کتاب کا متبادل نہیں ہوسکتا ۔

کتابوں میں ہمارے اسلاف اور بزرگوں کی خوشبو کی آمیزش ہے ،ہم جب اپنے ادب کو اپنے سینے سے لگاتے ہیں تو اس میں سے اپنائیت کی خوشبو اور چاشنی کی سی لذت حاصل ہوتی ہے ،میں اپنے بزرگوں کے قول  قصے واقعات کو انہیں کتابوں میں محفوظ رکھنا چاھتا ہوں ، تاکہ نئی نسل کو بھی اس بات کی جانکاری ہو کہ کتابیں ہمارا اثاثہ ہیں ،آج کا نوجوان کتاب سے بالکل دور ہوچکا ہے ،نہ وہ تاریخ جانتا ہے ،اور نہ ہی اسلاف کا دیا ہوا ورثہ ،ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نوجوانوں میں یہ شعور اجاگر کریں کہ کتابوں کا مطالعہ کریں ،کتابوں سے دوستی کریں ،تاکہ آپ میں ادب کا شوق بھی اجاگر ہو اور ادب کی کرنیں بھی پھوٹیں ،جو لوگ مطالعہ چھوڑ دیتے ہیں وہ اپنے بزرگوں کی میراث بھی کھودیتے ہیں ، ہمیں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں میں مطالعے کا شوق اجاگر کرنا چاہیے ،

Avatar
Khatak
مجھے لوگوں کو اپنی تعلیم سے متاثر نہیں کرنا بلکہ اپنے اخلاق اور اپنے روشن افکار سے لوگوں کے دل میں گھر کرنا ہے ۔یہ ہے سب سے بڑی خدمت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *