رودادِ سفر،اسیرِبغداد۔۔۔۔محمد علی جعفری/حصہ اول

بقر عید کے تیسرے دن میں حسبِ معمول اپنے تخت، بلکہ پایه تخت پر سویا رہا، ساڑھے بارہ بجے میرے دوست مجتبیٰ عرف مجی شاہ کا فون آیا، کہتا ہے کہ ،”علی یار ایک پاسپورٹ کی جگہ ہے، تم جاؤ گے کیا؟”, ہم نے ہاں کردی اور عشّاق کے قافلے میں ہم بھی شامل ہوگئے،9 ستمبر کی صبح، کراچی سے براستہ دوحہ(قطر) دو پانیوں کی سرزمین، اولین گہوارۂ تہذیب ِ انسانی، بابل و نینوا عراق کی راجھدانی، بیت الحکمۃ بغداد پہنچے، حال احوال اور دفتری سستی اور چابک دستی دیکھ کر بالکل کراچی کراچی والی فیلنگ آئی۔

وہاں مطار(ہوائی اڈے) سے سامان بس میں ڈھویا اور “سعد،سعد”(اچھا،اچھا) کی گردان کرنے والے ڈرائیور نے ہمیں ایئرپورٹ سے باہر ٹیکسی و بس اڈے تک لا کھڑا کیا۔

جس قافلے میں ہم شامل ہیں وہاں شومئی قسمت سے روح و رواں کا ویزہ نہ آیا، ہم ایسوں کو اذنِ زیارت مل توگیا لیکن 80 میں سے فقط 30 لوگ ہی پہلے بیچ میں شامل رہے اور ہمارے اچھے دوست مجی شاہ بھی عراقی امبیسی  میں اس “لنک ڈاؤن” کا شکار ہوگئے اور ان کا ویزہ اتوارکی بجائے بدھ،جمعرات تک موخر ہوگیا۔لیکن انہوں نے راشن پانی مبلغ 80 بندوں کا ہمارے 30 کے قافلے کے سر کردیا کہ اس کو لے کر بازار میں پا بجولاں چلیں۔۔۔
مجی نے ہی ہمیں فرودگاہ چھوڑا اپنی کھٹارا میں جس پر وہ پورے کراچی کو خیرپور سمجھ کر مٹر گشت کرتے ہیں۔

خیر تو میں بس اڈے پر کھڑا ہوں اور 40 ڈگری میں ہاٹ فیل کررہا ہوں۔ اتی دیر میں بس مل جاتی ہے لیکن سامان تو اتنا ہے کہ نشستوں کی جانب رکھنے پر اس ڈرائیور نے سر ہلا کر عربی میں جو کہا اس کا مفہوم یہ ہے کہ،”اتنی جگہ کہاں ہے(بسِ) دلِ داغدار میں۔”
اوپر سامان رکھنے میں یہ سنکٹ تھا کہ ماہِ عزا کی آمد کے ساتھ دوسرے انسانوں کو کافر سمجھ کر مارنے کا کھیل اپنے جوبن پر آجایا کرتا ہے،اسی لیے تکفیری اپنی جیکٹ اور گاڑیوں میں بارود بھر کر، پھرتے ہیں “انفجار” کی قوت لیے ہوئے!!

ڈرائیور جوان عراقی تھا، بقیہ آدھا سامان پہنچانے اوپر چڑھ گیا اور “یا حاجی،حاجی ہنا”، کہہ کہہ کر بیگ ،مسالے اور چاول کے کٹًے “یا علی” (عین پر پورا زور لگا کر) کہہ کہہ کر رکھتا جاتا۔
پھر سب بس میں آئے تو سوئے کاظمیہ، کاظمین، بس چل نکلی لیکن جگہ جگہ پولیس کے ناکے ،لائٹ آرمورڈ وہیکلزAPC (آل پارٹیز کانفرنس نہیں)،اور نیلی وردی میں مستعد اہلکار مع ہری وردی والی فوج کے، چوکنے نظر آئے۔عراق نے جتنی خوں ریزی دیکھی ہے، اس کا اندازہ یا افغانستان والے کر سکتے ہیں، یا پاکستان خصوصاً کراچی والے۔
اسی لیے ہر گاڑی کی جامع تلاشی کی وجہ سے ہمیں بغداد سے کاظمین آدھے گھنٹے کی بجائے ساڑھے تین گھنٹے لگے، اور ہرے بھرے بغداد سے مٹی مٹی، گنجان آباد کاظمین میں داخل ہوئے، راستے میں رائٹ برادران کی انسپریشن ماہر طبیعیات،مہندس و شاعر، عباس بن فرناس کا مجسمہ ایستادہ تھا جو اپنے ہاتھوں میں میکینکل پر جوڑ کر ہاتھوں کے طوطے کی طرح اڑنے کے لیے پر تول رہا، پرواز بہت کامیاب نہ تھی اور اڑنے کی چاہ میں اس عالی دماغ نے زخم کھائے” ہر چند اس میں ہاتھ/پاؤں تمہارے قلم ہوئے” لیکن مدینۃ الحکمت بغداد میں ایسے ایسے نابغے پیدا ہوئے کہ اسے بلاشبہ یونانِ ثانی کہا جاتا تھا۔اور افسوس ،صد افسوس کہ الف لیلوی داستان والا بغداد اب دھماکوں، فوجی قافلوں اور ان کے تعمیراتی ٹھیکوں میں بد عنوانی کی وجہ سے بدنام ہے۔

خیر اب تو سارے ہی شکوہِ قیصری رخصت ہوگئے اور الکاظمیہ، کاظمین جب آیا تو مجھےایسا لگا کہ جیسے حیدرآباد پکے قلعے کے بازار سے گزر رہے ہیں، وہی تنگ بازار،ویسے ہی موڑ۔۔۔۔۔اور یہاں کی ہماری منزل آگئی، “فندق الرایا”,فریش وریش ہوکر پہلے کمرہ 301 میں پہنچےپھر اس سے اوپر ڈائننگ ہال میں جب داخل ہوئے تو امامین کے دونوں گنبد،بقعہ نور نظر آئے اور دل کو کچھ تسلی ہوئی، یہ دو گنبد دادا اور پوتے کےجلوہ فگن ہونے کی علامت ہیں۔

امام موسیٰ ابن جعفر،الکاظم اور ان کے پیارے پوتے امام محمد ابن علی التقی الجواد کا مزارِ و مرقدِ مطہر یہاں موجود ہے۔

موسی ابن جعفر کو باب الحوائج کہا جاتا ہے اور آپ عالمِ تشیع کے ساتویں امام ہیں، شیعہ بعدِ پیمبر 12 آئمہ کے پیرو یعنی اثنا  عشر  ہیں۔ ان میں سے کچھ چہار امامی، کچھ شش یعنی فقط 6 کو مانتے ہیں جو کہ تاریخی مباحث کا حصہ ہے جس کا یہاں بیان بے سود ہے۔

ان کو راہبِ بنو ہاشم کہا جاتا ہے، کیونکہ طبیعت میں آپ کی ایسا استغنٰی  و ایسی بے نیازی تھی جب حاکم نے آپ کو تیسری وآخری دفعہ داخلِ زنداں کروایا اور  ایک جاسوس کو قیدی بنا کر آہ کے سیل میں بھیجا۔۔کچھ دیر بعد وہ بھی سر بسجدہ تھا۔

خیر جیل کے وارڈن سندی بن شاہک نے آپ کو زہر دیا اور آپ کے جنازے کو بغداد کے پل پر رکھ دیا گیا، تاکہ اٹھانے والوں کو جبری طور پر ریاستی کارندے اٹھالیں۔۔۔لیکن مظلوم کا لاشہ تھا، کون شیعہ کون غیر شیعہ۔۔۔۔۔عوام ٹوٹ پڑی اور اس سید و امام کو قریش کے قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔

بادشاہِ وقت، موسی ابن جعفر کو دوستوں سے زیادہ پہچانتا تھا, کہتا تھا کہ یہ عرب کے سب سے بڑے عالم اور سزاوارِ حکومت و لائقِ خلافت ہیں لیکن اپنے بیٹے کا وہ سوال جس میں اس نے پوچھا کہ ایسا کیوں نہیں کرتا تو وہی مشہور جملہ کہا کہ'”الملک عقیم” یعنی حکومت بانجھ ہوتی ہے اور حکومت کی راہ میں اگر بیٹا بھی سامنے آئے تو اس کی آنکھیں نوچ لی جائیں گی۔

آپ کے پوتے محمد ابن علی التقی “الجواد” یعنی سخی کہلاتے ہیں،اور 23 سال کی ہی قلیل عمر میں خلیفہ کے حکم پر اس کی بیٹی کے زہر اور بغض و عناد کا شکار بنے،حالانکہ خلیفہ نے انہیں اپنا داماد بھی بنالیا تھا تاکہ گھر میں ایک جاسوس رہے بیٹی  کی صورت میں، کہ  انہوں نے کم سنی کے باوجود اپنا عقد خود پڑھایا تھا۔کیوں کہ خلیفہ کے دربار میں ان کے پائے کا ایک بھی عالم نہ تھا۔موجودہ عقدِ نکاح کا  خطبہ بھی امام محمد تقی کا فیض بیان ہے۔تو ان کے پدر بزرگوار یعنی امام علی ابن موسی الرضا کی مرقد کہاں ہے؟وہ تو مشہد(طوس) ایران میں مدفون ہیں۔تو عرض یہ ہے کہ یہ سب غریب الوطن ہوئے،سب مدینے میں متولد ہوئے لیکن نانا کے مدینے میں آسودگی میسر نہ ہوئی۔

میں ظہر کے وقت روضے پر حاضر ہوا، مرقد کا جلال کہیے یا دادا پوتے کی کرامت، نگاہ اٹھا کر دیکھا بھی نہ گیا، عرب متولی نے زور سے صدا لگائی “وفّاکم بالصلواۃ علی محمد و آلِ محمد”
اور مزار کا احاطہ “محمد و آلِ محمد”  کے شورسے گونج اٹھا ہے۔۔

جاری ہے!

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگے جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *