نیّت اور نفسیات ۔۔۔۔ادریس آزاد

انسانی نفسیات کو دنیا کا سب سے گہرا اور پیچیدہ علم سمجھا جاتاہے۔ زبان ابھی اِس قابل نہیں ہوئی کہ کسی کا حال ِ دِل بیان کرسکے۔ دنیا کی تمام تر تہذیبی ترقی کا دارومدار عمل پراور عمل کا دارومدار نیّت پر ہے، جبکہ نیّت تک رسائی کا کوئی معلوم طریقہ موجود نہیں۔ ایک انسان، بطور انسان صرف اپنی نیّت سے خود ہی واقف ہوسکتاہے۔

اگرچہ منطق کے پاس ایسے آلات ہیں جن کے استعمال سے موٹے موٹے معاملات میں نیّت کا کھوج لگایا جاسکتاہے۔ جیسا کہ بعض انفارمل مغالطوں کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے۔ لیکن زیادہ تر انسانی، نفسیاتی اعمال میں نیّت کا اندازہ لگانا منطق کے بس سے بھی باہر ہوجاتاہے۔

حتیٰ کہ بعض ایسے اعمال بھی ہیں جن کی نیّت کا خود صاحبِ عمل کو بھی علم نہیں ہوتا۔ مثلاً ہم جب کسی شخص کو قرض دیتے ہیں۔ فرض کریں ہم کسی کو ایک مہینے کے لیے دس ہزار روپیہ قرض دیتے ہیں۔ اب ظاہر ہے وہ بندہ ایک مہینے بعد قرض لوٹا دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ لیکن پورا مہینہ اگر وہ ہمیں کہیں نظر آجائے تو ہم اس سے ’’سلام‘‘ کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ سُود کے زمرے میں آئے گا لیکن ہم اس بات سے بے خبر ہیں۔

جان بُوجھ کر کسی پر احسان کرنا قطعاً مستحسن نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح مروت، دلاسہ، تسلی ایسے اخلاقی اعمال کے وقت ہمیں اپنی نیّت کا خود علم نہیں ہوتا۔

آپ کہہ سکتے ہیں ، جس چیز کا خود کو علم نہیں ہوسکتا وہ نیّت کہلانے کی حقدار کیسے ہوسکتی ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہارمونز بڑے بڑے کام دکھاتے ہیں۔ کیمیائی تعاملات کا ایک پورا نظام ہے انسانی بدن میں، جو خود کار ہے۔ غصہ، غم، خوشی، ہمدردی۔۔۔۔۔۔یہ سب نفسیاتی سے زیادہ کیمیائی ہیں۔

ہر اُس عمل کے بارے میں ہم اپنی ہی نیّت سے بے خبر ہوتے ہیں جس میں اموشنز انوالو ہوجائیں۔ یعنی ہماری کوئی بدنی خواہش ہم سے وہ کام کرواتی ہے جسے ہم اچھا یا برا سمجھ کر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بے شمار اموشنل اعمال ایسے ہوتے ہیں جو اخلاقاً اچھے بلکہ مستحسن بھی ہوسکتے ہیں، جیسا کہ اپنے بچوں سے پیار کرنا۔ لیکن ایسے اعمال کو ہمیں پیچیدہ نفسیاتی اعمال سے الگ کرکے دیکھنا چاہیے، کیونکہ یہ جبلت کہلاتے اورعام انسانوں کی قدرت و اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔

امام ابُو حنیفہؒ کا ایک واقعہ ان کی سیرت کی کتابوں میں ملتاہے کہ آپ ایک مرتبہ دھوپ میں کھڑے تھے۔ پاس سے کوئی شخص گزرا اور اس نے کہا، ’’شیخ! آپ دھوپ میں کیوں کھڑے ہیں؟ پاس ہی دیوار کا سایہ ہے ، اس کے سائے میں کھڑے ہوجائیں!‘‘ ۔ فرمانے لگے، ’’جس شخص کے گھر کی دیوار کا سایہ ہے، اُسی سے اپنا دیا ہوا قرض واپس لینے آیا ہوں۔ اگر اس کی دیوار کے سائے میں کھڑا ہوگیا تو یہ سایہ سُود کے زمرے میں آئے گا‘‘۔

عرف ِ عام میں اس گہرائی تک اپنے اعمال پر نظر اور ان کو درست رکھنے کے عمل کا نام تقویٰ ہے۔ لیکن منطقی طور پر یہ اعلیٰ اخلاقیات ہے جو ارتقائی عمل ہے اور بحیثیتِ مجموعی پوری دنیا میں ارتقائی طرز پر جاری و ساری ہے۔ایسے گہرے نفسیاتی اعمال کی قابل ِ تحسین انجام دہی میں مغربی ممالک کے عوام نسبتاً بہتر ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *