مریض پاکستان اور چورن فروشی ۔۔۔ خواجہ حبیب

طبیعت خراب تھی، جی متلا رہا تھا، صبح کا ناشتہ بھی ہو نہ پایا تھا۔ مخدوش صورتحال کو دیکھتے ہوئے والدہ نے سکول سے چھٹی کرا دینا ہی بہتر سمجھا۔ معدے میں تیزابیت اور سینے میں جلن کی کچھ پیڑھ کے بعد آخرکار ایک قے سی آئی۔ قے کیا تھی، ایک ملغوبہ تھا مختلف رنگوں کے ان چورنوں کا جو سکول کے گیٹ کے باہر چھابڑی والا بابا بیچتا تھا اور ہم بڑی رغبت سے کھایا کرتے تھے۔ ایک کو مولی والا چورن کہا جاتا تھا جو تیزاب کی طرح انتہائی ترش ہوتا تھا شاید اسی سبب سب بچوں کو بیحد مرغوب تھا۔ بابا اس پر نجانے کیا عمل کرتا تھا کہ آگ کا شعلہ سا نکلتا تھا۔ یہی چورن منجملہ لال، ہرے، کالے کے ساتھ معدے میں نجانے کیا آگ لگاتا ہو گا کہ صحت پر یہ صورتحال آن پڑی تھی۔ اماں حضور کو بتانا ہی نہیں پڑا، سب سمجھ گئیں، کوئی بہانہ کارگر تو ہونا نہ تھا، سو لاچار خاموشی سے سننے میں ہی عافیت سمجھی گئی۔ آفرین ہے قے کی کہ اس کی آمد کیساتھ ہی طبیعت بہتری کی طرف مائل ہونے لگی اور بھائی کے سکول سے آنے سے پہلے ہی مریض چنگا بھلا ہو کر گلی کے آوارگان کے ہمراہ کھیلنے میں مشغول ہو چکا تھا۔ یہ آوارگان بھی شاید متاثرین چورن رہے ہونگے، کون جانے۔

بچپن کا یہ واقعہ آج کے ملکی حالات کے تناظر میں یاد آیا۔ آج بھی مارکیٹ میں مختلف انواع و اقسام کے سیاسی، لسانی، مسلکی، اداراتی اور نجانے کیسے کیسے چورن دلکش رنگوں کی پیکنگ میں دستیاب ہیں جن کی کامیاب مارکیٹنگ کیلئے بھر پور پبلسٹی کیجاتی ہے۔ مولوی چورن، لسانی چورن، پیندیسری چورن، خاکی چورن، میٹھا میٹھا سبز چورن، سرخ چورن جسے کھا کر ایشیا سرخ نظر آتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایک چورن تو ایسا بھی ہے یاں کہ کھاؤ تو بندہ ہی غائب، نظروں سے اوجھل۔

کوئی چورن آگ لگاتا ہے۔ کوئی چورن کھاؤ تو دن میں بھی خواب یا یوں کہیں کہ سبز باغ دکھاتا ہے۔ تکفیری چورن کھانے والا نوجوان خود کو بہتر حوروں کے جھرمٹ میں گاؤ تکیہ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا بہشت کی بہتی دودھ اور شھد کی نہروں کا نظارہ کر رہا ہوتا ہے۔ اس ندیدے چورن خور فدائی کو جیکٹ پھاڑنے سے بھلا کون روک سکتا ہے۔

پیندیسری چورن ڈکارنے والے کو خوابوں کے خبط سے ہونے لگتے ہیں۔ کسی کو خواب میں حکم ہوتا ہے کہ فلانے پر جوتا اچھالا جائے، کسی کا مکھڑا سیاہی سے آلودہ کیا جائے۔ ایک پیندیسری خور نے زیرِ تیزابیت ایک خواب دیکھا کہ بابے اسے کسی کو ٹھوکنے کا کہہ رہے ہیں۔ خوابی تیزابیت کے زیرِ اثر آؤ دیکھا نہ تاؤ اور لگا دیا آتشیں ہتھیار کا داؤ، پستول کے فائر سے عوام کے محافظ وزیر کو گھائل کر دیا۔ 

ایک عفیفہ چورن خور خواب دیکھتی ہے کہ ہستئیِ کامل اسے حکم دے رہے ہیں کہ جنت نظیر اپنا بستا بسایا گھر چھوڑ کر پرائے گھر کی چوکھٹ بن جائے۔ خبط میں لا پرواہ کتنی زندگیوں کو متاثر کر کے وہ سب کچھ کر گزرتی ہے۔ نا معلوم روحانی چوکھٹ با مراد ہوئی یا مکینِ مکان فیضیاب ہوا مگر قلیل وقت، اور جلد ہی جب چورن کی تیزابیت کسی نشے کی طرح ہرن ہوئی تو دوجی جگہ کی چوکھٹ کو نئے گھر میں اپنی حیثیت کا ادراک ہوا۔ ہائے حیف، کیا چورن اور کیا کیا روحانی خواب!

پینسٹھ نمبر چورن کے بعد پھر اکہتر نمبر کے تیزابی چورن کی لگی آگ سے مریض کی جان تو بچ گئی مگر دایاں بازو ہی اکھاڑنا پڑا، اس کی قربانی دینا ہی پڑی۔ عظیم سانحے کے بعد، سقوطِ دستِ راست کے بعد بھی چورن فروش طرح طرح کے چورن آزما رہے ہیں کہ مریض شاید چنگا ہو جائے۔ ادھر مرض ہے کہ جوں جوں چورن پیتھی کی دوا کی مرض موا بڑھتا ہی گیا۔ کیا کیا نیا چورن دنیا نے یاں نہیں دیکھا۔ جلابی چورن، کارگلی چورن، سیاچینی چورن. کوئی معجزہ ہی ہے کہ اتنی چورن ضیافتوں کے بعد بھی مریض بقیدِ حیات ہے۔ چشمِ فلک نے بھی یاں کیا کیا تماشا دیکھا۔ کہتے ہیں مینڈکی کو زکام ہوا، چورن والے بابے کے ہاتھ میں ہتھوڑا اور کرنے لگا بندر کی سی منصفی۔ اونٹ نکالنے آیا تھا  مگر خالی نکیل پر دھمال چوکڑیاں۔ انصاف مرحوم، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ 

آخری کیل جو رہ گئی تھی شاید  وہ کلمے والے مریض کو سرے سے نا اہل کر کے ہی ٹھونک دی جائے کہ ملک کی کیا بات ہے بس چورن کمپنی کی تشہیر اچھی ہونی چاہیے۔ لیجئے صاحب انساپی چورن تیار ہے۔ چورن فروشوں کی مشترکہ کاوش کے نتیجے میں عجب چوں چوں کا مربہ ہے یہ  شاہکار انساپی چورن۔  

اتنے چورن آزمانے کے بعد قوم کی طبیعت بگڑ چکی ہے۔ قوم ایک کے بعد ایک چورن سے بیزار ہو چکی ہے۔ حقیقی تعلیم کی بجائے چورن،  صحت اور ادویات کے نام پر بھی چورن، انصاف کی بجائے چورن تو دفاع کے نام پر بھی یہی چورن۔ اور تو اور، مسالک کے نام پر چورن مگر زرا ادب سے کہ ہے یہ بڑا با مقدس چورن۔ شعبدہ باز چورن فروش ہر شعبہ میں ڈگڈگی بجا کر عوام کو اپنے کھیل میں الجھا رہے ہیں۔ عوام بھی کہاں پیچھے رہنے والے ہیں، ایک کے بعد ایک آزما رہے ہیں نیا چورن۔ چورن خوانی کے زیرِ اثر قوم حکومت کرنا حکمرانوں کیلیے مشکل ہو چکا ہے، چورن فروشوں کی شاید منشاء بھی یہی ہے۔ انکے ہمہ قسم چورنوں کی تیزابیت نے حکومت کی رٹ انتہائی کمزور کر چھوڑی ہے۔ اتنے تجربات کے بعد بھی مریض حیات ہے، شاید یہ بھی اغیار کی کوئی سازش ہے۔

اب نئے چورن کے چرچے ہیں یاں  بہت، پانچویں  پیڑھی کے اس  چورن کے بارے کہا جاتا ہے کہ سب چورنوں کا باپ ہو گا۔ مریض کا بس اللہ ہی حافظ۔ ہاتھ کو ہاتھ سے، ٹانگ کو ٹانگ سے، زبان کو زبان سے لڑا دیا جائیگا۔ آئندہ کے وارفیئر میں چورن فروشوں کا ہی اصل مقابلہ ہو گا۔ دشمن کے ملک میں بس دو چار چورن ایجنٹ بھیج دیجیئے اور بیٹھے تماشا دیکھیئے۔ جنگی طیاروں، ٹینکوں، مستعد افواج، ایٹم بم کو بروئے کار لائے بغیر صرف تماشا گر چورن ایجنٹوں کو لانچ کر کے وہ نتائج حاصل کیئے جا سکتے ہیں جو معلوم تاریخ میں شاید ہی کسی فاتح نے حاصل کیئے ہوں۔ لانچنگ کی بات ہوئی تو یاد آیا کہ ہمارے ہاں سمجھا جا رہا ہے کہ حالیہ پوشین چورن ہمسایہ کمپنی سے لانچ ہوا ہے اور انہی کی  کی مشہوری مطلوب و مقصود ہے۔ ہمسایوں نے بھی لگتا ہے چورن فیکٹری کھول رکھی ہے۔ گاجر چورن، کافوشن چورن کے بعد پوشین چورن انکی نئی پیشکش ہے۔ گاجر چورن کی طرح آخر الذکر بھی خوب ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے۔ 

چورن خوانی کا یہ کھیل کب ختم ہو گا؟ چورن خوانی کے مہلک اثرات کب زائل ہونگے؟ کیا مریض صحت یاب ہو کر وقت کے حقیقی چیلنجز کا سامنا کر سکے گا؟ 

بابا ڈنڈا بردار ہو یا ہتھوڑا نواز، نہیں چاہیئے کہ تشکیل وطن میں انکا کوئی کردار نہ تھا۔ کردار تھا تو ایک سیاستدان کا کہ جس کی جمہوری کاوشوں کا یہ ملک انعام ہے۔ جمہوری ملک کو جمہوری حکمران چاہیئں کہ ملک کی ابتداء و بقا جمہوریت ہی میں ہے۔ جمہوریت کمزور پڑتی ہے تو چورن فروش کمپنیوں کی بکری عروج کو پہنچتی ہے۔ 

چورن نگر کے اے باسیوں، اٹھو، نکلو چورن خوانی کے اثر سے کہ حقائق کی اک دنیا تمہاری منتظر ہے۔ کیا یہ قوم کبھی قے کر پائے گی کہ مرض میں افاقہ کی کوئی نوید ہو؟

آج پورا ملک اور اسکی عوام متاثرین چورن ہیں۔ کوئی کہتا ہے مجھے کیوں نکالا تو کوئی کسی کو آئین شکن مانتا ہے تو دوسرا غدار وطن کے القاب دیتا ہے۔ غدار وطن کا تمغہ تو ہر اس شخص کیلیے تیار ہوتا ہے جسکی بات کا مناسب جواب نہ ہو۔ ہماری محترمہ مادر وطن بھی ایسا ہی تمغہ اپنے نام کر گئیں۔ لو جی کر لو بات، انہیں بھی بھارتی ایجنٹ جیسے القابات سے نوازا گیا۔ شیخ مجیب کو بھی یہی کچھ کہا گیا جو بالآخر سقوط ڈھاکہ پر منتج ہوا۔ اب اس سے کوئی محروم رہ گیا ہے تو وہ ہیں ہمارے بابائے قوم،  معمار وطن جن کو کچھ سال اور جینے دیا جاتا تو شاید انہیں بھی اس تمغے سے محروم نہ رہنا پڑتا۔

ہر چورن ساز ادارہ دعویٰ کرتا ہے کہ صرف وہی مریض کا حقیقی ھمدرد ہے۔ رنگ برنگے چورن خوشنما و دیدہ زیب پیکنگز میں بند کر کے وہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ انکی مصنوعات تو گوہر نایاب سے بنی ہر زہر کا گویا تریاق ہیں۔ سیدھے سادھے عوام بھول جاتے ہیں کہ چورن بھی آخر علاج ہوتا ہے کیا؟ علاج تو کیا کرنا، چورن تو مریض کو امراض کی آماجگاہ بنا دیتا ہے۔ پیٹنٹ علاج کے ہوتے ہوئے ڈھکوسلا تدابیر کے زریعے معاملات کو سلجھانے کی ہر سعی ناکام تو ہوتی ہی ہے دیگر امراض قبیحہ کا باعث بھی بنتی ہے۔ بڑھتے بڑھتے مسائل کا یہ حال ہے کہ کہ یک نہ شد ہزار شد۔ صحت بجلی تعلیم اور دیگر تمام  قومی ایشوز دراصل انہی ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کا ہی شاخسانہ ہیں جو چورن ساز و عقلِ کل نابغہ ماہرین ترتیب دیتے ہیں۔ 

بھانت بھانت کے دلکش چورنوں کے سبب گرانی کی سی کیفیت ہے۔ کتھارسز کی صورت میں ایک قے ہی اس مرض کا مداوا کر سکتی ہے۔ ایک ایسی قے جو ان سب دلفریب نعروں اور رنگ برنگے چورنوں کا ملغوبہ ہو گی۔ لسانیاتی، قومیتی، مسلکی و اداراتی چورنوں پر مشتمل اس ملغوبہ سے نجات سے ہی مریض بھلا محسوس کرے گا اور اقوام عالم کو درپیش چیلنجز  میں اپنا فعال اور مثبت کردار ادا کر  سکے گا۔ پھر راوی بھی چین لکھے گا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *