پانی میں مدھانی ۔ رمضان شاہ

 [post-views] جب سے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اردو لکھنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تب سے اردو پڑھنے والے لوگوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک خوش آئند بات ہے کیوں کہ اردو زبان دن با دن اپنے زوال کی طرف تیزی سے رواں دواں تھی میرے ادنی خیال کے مطابق اور اس زوال کے سفر کو وقتی وقفہ ضرور آیا ہے۔ ہم مختلف لوگوں کو پڑھتے ہیں اور ہر کسی کا اپنا منفرد انداز ہوتا ہے۔ اسی بنا پر ان لکھاریوں کی “فین بیس” بھی بنتی ہے اور اسی بنا پر کئی لوگ انکو پڑھنے سے گریز بھی کرتے ہیں۔ یعنی قبول کرنے اور رد کرنے کی وجہ شاید سب کی ایک ہوتی ہے گو معیار مختلف ہو سکتا ہے۔

اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ ہر کسی کا اپنا معیار ہوتا ہے اور وہ اسی معیار کے مطابق لکھنے والے کو پرکھتاہے کہ آیا یہ تحریر مجھے پڑھنی ہے یا نہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ پڑھنے والے ہمیشہ کی طرح یہ بھی ضرور دیکھتے ہیں کہ لکھنے والا ہمارے مکتب فکر یا کمیونٹی وغیر ہ کا ہے یا نہیں۔ لیکن یہ رخ اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔ مجھے بطور ایک قاری ایک بات آجکل شدّت سے محسوس ہوتی ہے۔ جب میں ویب سائٹس یا سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر سماجی مسائل پہ لکھنے والوں کو پڑھتا ہوں تو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ یہاں ہر کوئی صرف مسائل کی نشان دہی میں مصروف ہے۔ ہر کوئی لاش بچھائے بین کر رہا ہے کہ یہاں یہ مسلئہ ہے وہ مسلئہ ہے، یہاں مذہبی انتہا پسندی ہے، یہاں عدم برداشت ہے وغیرہ وغیرہ ؛ مگر بس بین ہی ڈال رہا ہے۔ کوئی محترم اگر حل لکھتے بھی ہیں تو وہ اپنے آخری پیراگراف میں دو چار لائنیں مختص کر دیتے ہیں بس اور باقی سارے کالم یا بلاگ میں وہی رونا رو رہے ہوتے ہیں۔ بس یونہی لگتا ہے کہ پانی میں مدھانی چلا رہے ہیں۔

یقین کیجیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کہ بہت بڑا احسان فرما رہے ہوں اپنے چاہنے والوں پر انکو وہ مسائل بتا کر جو یہ چاہنے والے روز بھگتتے ہیں۔ یہ وہی رویہ ہے جو ہمارے معاشرے کا خاصا بن چکا ہے۔ ہم اصلاح کرنے کے بجاے طعن و تشنیع اور گلہ شکوہ کرنے پہ زیادہ توانائی خرچ کرتے ہیں. لیکن دانشورو، خود میں اور ہم میں کچھ فرق تو رکھو۔ اگر دانش وارانہ طبقہ بھی اصلاح کے بجائے عام لوگوں کی طرح ہر وقت منفی بات کرے گا یا اپنی تحاریر میں فقط مسائل اور شکووں کا ہی ابلاغ کرے گا تو ہو گئی اصلاح اور آ گیا بدلاؤ۔ میرے خیال میں یہ رویہ اب بیزاری اور یکسانیت کا احساس پیدا کر رہا ہے۔

سماجی مسائل پر لکھنے والوں کو اب اس بات پہ ضرور غور کرنا ہو گا کہ مسائل کے ساتھ ساتھ انکے حل بھی فراہم کیے جائیں۔ یہ دانشور طبقہ حکمران نہ سہی مگر سوچ ساز ہے۔ یہ وہ استاد ہے جو گھر بیٹھے ہر کسی کو میسر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی دانست میں اپنی تحریر کے زریعے معاشرے کی تربیت کر رہے ہیں اور تربیت کا عمل مساوات پے چلتا ہے جہاں آپکو آگ اور پانی دونوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ تربیت فقط کمزوری کی نشاندھی ہی نئیں اس کے سدھار کے سکھانے کا بھی نام ہے۔ اے طبقہ دانشوراں، کیا آپ صرف معاشرے کو سکے کا ایک ہی رخ دکھانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ معاشرے کی one dimensional (یک رخی) تربیت ہی کرنا چاہتے ہیں؟ ذرا سوچیے صاحب۔ سیاپا تو آپ سب سے اچھا میرے گاوں کا وہ چاچا ٹل کر لیتا ہے جسے اردو کا الف بھی نہیں آتا۔ آئیے، ہم سب، دلیل کے ساتھ، مکالمہ ضرور کریں، مگر کوئی حل بھی دیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *