کبھی ہم بھی خُوبصورت تھے ۔۔۔ ہارون ملک

پاکستان اور ہم سب ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے ، کبھی یہاں پر بھی پرندے (سیاح) موسموں کے حساب سے آتے تھے، رہتے تھے انجوائے کرتے تھے اور پھر چلے جاتے۔ پھر کبھی ہمارا کراچی ایسا بھی تھا جیسا آج دُبئی ہے، دُنیا کی ہر پرواز وہاں آتی ہے، رُکتی ہے اور اگلا پُڑاؤ کہاں ہوگا یہ دُبئی سے طے ہوتا ہے ۔

کبھی ہمارے ساحل بھی نیلگُوں پانیوں کے لئے مشہور تھے اور ہمارے کراچی کا temperate climate دُنیا بھر میں اپنی مِثال آپ تھا۔ یہاں کی دُھوپ میں نرمی اور گرمی تو تھی ہی لیکن ایک مہمان نوازی اور جذبہ دوستی ایسا بھی تھا جِس کی نظیر کہیں اور نہیں مِلتی تھی وُہ جذبہ تو کہیں نہ کہیں اب بھی موجُود ہے لیکن وُہ نیلگوں پانی ہم نے برباد کردیئے ہیں ۔

افغان رُوس جنگ کیا ہماری تھی؟ نہیں بالکل نہیں لیکن اُس نے افغانستان کا تو جو حشر کیا سو کیا ہم مُفت (مُفت کا لفظ محاورتاً ہے) میں مارے گئے، ہمارے شہر اُجڑ گئے، ہمارے ساحل، پہاڑ اور وادیاں وحشت کی نظر ہو گئیں ۔ آج میری عُمر کے لوگ، مُجھ سے پانچ سات بڑے اور دو چار سال چھوٹے شاید میری سمجھ سکیں، ہمارے بڑوں نے تو وُہ پاکستان دیکھا ہُوا ہے۔ لیکن ہماری نوجوان نسل جو پچیس سال سے آس پاس ہے اُس کو یہ بات بالکل نہیں سمجھ آنے والی کہ ہم نے کیا کھویا ہے ؟

زیادہ تر لوگ اِس کو ضیا الحق کا کارنامہ گردانتے ہیں لیکن یہ آدھا سچ ہے، ضیا الحق سے بھی پہلے جب بُھٹو کو اِسلامی اتحادی تحاریک نے گُھٹنے ٹیکنے پر مجبُور کیا تو بُھٹو جیسا شخص بھی یہ دباؤ برداشت نہ کرسکا اور یُوں سیاست میں religious clerics کا عمل دخل یا یُوں کہئیے طاقت نے مضبُوط جڑیں پکڑ لیں۔
بات یہاں تک بھی رہتی تو شاید ٹھیک تھی، ضیاالحق نے جِس شِدت پسندی اور مذہبی عدم برداشت کی بُنیادیں رکھیں، جو نظامِ تعلیم ہمیں غیر مُسلموں سے نفرت کا سبق پڑھاتا رہا اُس میں واضح تبدیلی نہ مُحترمہ بے نظیر بُھٹو کے دو ادوار کرسکے نہ جناب میاں نواز شریف کے دو دو ادوار کرسکے۔ آخری فوجی آمر جنرل مُشرف نے چند ایک اقدامات کئے، پاکستان کا روشن چہرہ جِس پر دُھول اور مٹی پڑ چُکی تھی صاف کرنے کی کوشش کی۔ لال مسجد کے شِدت پسندوں کا آپریشن ہو یا آزاد میڈیا کا قیام یہ سب دُرست سمت کی طرف پہلا قدم تھا لیکن مُشرف بھی اپنے اقتدار کو طُول دینے کے چکر میں غلطیوں پر غلطی کرتا گیا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

دوبارہ تھوڑا سا ماضی کا سفر ، میں جب لڑکپن سے نوجوانی کی طرف بڑھ رہا تھا، تب نازیہ حسن اور زوہیب حسن گانے بُہت بھاتے تھے، کرکٹ، ہاکی، سُنو کر، سکواش جیسے کھیلوں میں ہمارا شاندار نام تھا۔ ہر شے اچھی لگتی تھی اور ابھی بربادی کہیں دُور تھی لیکن اب ۔۔۔۔۔

یہ کیسا سفر ہے، کیسا آسیب ہے کہ حرکت تو ہورہی ہے لیکن سفر معکُوس ہے۔ ہم کہاں سے چلے تھے اور کہاں آگئے ہیں؟ دُنیا میں ترقی ہورہی ہے اور ہم دِن بدن پیچھے جارہے ہیں (کم از کم ذہنی طور پر)۔ آج ہمارا تعلیم یافتہ (ڈگری والا بندہ تعلیم یافتہ سمجھا جاتا ہے) جوان جب یورپ پر تنقید کرتا ہے اگر اُسے کہا جائے کہ آپ تو کبھی وہاں نہیں گئے یا نہیں رہے تو وُہ کہتا ہے کہ انٹرنیٹ پر سب دستیاب ہے۔ ہائے خُدا یہ سمجھ اور یہ عقل۔

یعنی جِس مُعاشرے میں آپ رہے ہی نہیں جہاں آپ کبھی گئے ہی نہیں اُس کی اقدار اور معاشرتی تانے بانے آپ گُوگل سے سمجھیں گے! کمال ہوگیا یہ تو۔ آج کل ہمارے ہاں یورپ کی اقدار، خاندانی نظام، مذہبی اور چند دیگر پہلوؤں کا تقابل چل رہا ہ۔ یہ ایک لمبی تفصیل ہے، کوشش کروں گا کہ سٹیپ بائی سٹیپ اِن کو ڈسکس کیا جائے لیکن اُس سے پہلے چند ماضی کی باتیں اور یادیں تصاویر میں، کہ کبھی ہم بھی خُوبصورت تھے، کتابوں میں بسی خُوشبُو کی مانند ۔۔۔۔ابھی زیادہ تصاویر ہتھے نہیں لگیں ساتھ ساتھ لگا دی جائیں گی۔

نوٹ: یہ تصاویر محض ماضی کی چند یادیں اور باتیں ہیں ، اِن کا افغان رُوس جنگ یا بعد از افغان جنگ سے کُوئی تعلق نہیں۔

(جاری ہے)

ہارون ملک
ہارون ملک
Based in London, living in ideas

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *