کمالیہ کی پھولن دیوی ۔۔۔ رانا عبدالروف خاں

آئیے اس سے ملئیے یہ ہے کمالیہ کی پھولن دیوی۔ یہ کوئی افسانوی کردار نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا اسی کمالیہ شہر کا ایک کردار ہے۔عمر بیالیس سال کے قریب، رنگ سیاہ قد پانچ فٹ کے قریب، فربہ جسم، منہ میں پان یا سگریٹ، اکثر شراب کے نشے میں دُھت رہتی ہے۔ یہ کمالیہ شہر کی واحد عورت ہے جو جرائم پیشہ افراد کی حقیقی ڈان ہے۔ اس کا نام ہے رانی اوڈھنی۔شروع شروع میں قبضہ مافیا رانی اوڈھنی سے کسی بھی پراپرٹی کا قبضہ لینے کے لئیے رابطہ کرتے تھے۔ رانی پراپرٹی کی لوکیشن کے حساب سے قبضہ دلانے کا وعدہ کرتی، سودہ طے ہوتا، وہ پیسے پکڑتی اور ساتھ اپنی برادری کی آٹھ دس ہٹی کٹی عورتوں کولیتی، اُن کے ہاتھ میں مضبوط ڈنڈے پکڑاتی اور اُس پراپرٹی پہ چلی جاتی جس کا قبضہ لینا ہوتا تھا۔ وہ دروازے پہ لات مار کر اندر داخل ہوجاتی، مردوں کی طرح سے ننگی گالیاں دیتی اور اُس کے راستے میں جو بھی آتا خواہ وہ عورت ہوتی یا مرد اُسے پیٹنا شروع کردیتی، گھر کا سامان اُٹھا کر باہر پھینکتی اور ہندوستانی فلموں کی طرح سے سگریٹ سلگا کر ٹانگوں پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھ جاتی۔ جگہ کا قبضہ اپنے گاہک کے سپرد کرتی اور واپس چلی آتی۔

پھر آہستہ آہستہ اُس کا نام بہت گونجنے لگا۔ اکثر لوگ اُسے دیکھتے ہیں پراپرٹی کا قبضہ اُس کے حوالے کردیتے۔ اب ساتھ ساتھ کچھ لوگوں نے رانی اوڈھنی سے رابطہ کرنا شروع کردیا کہ فلاں فلاں ہمارے دشمن ہیں بس اُنہیں سرعام لتر پولہ کرنا ہے اور بےعزت کرنا ہے۔ رانی اپنے کام کے پیسے طے کرکے ایڈوانس وصول کرلیتی اور ہر شریف آدمی کو سربازار پکڑتی ، گالیاں دیتی اور مارتی۔ کوئی بھی رانی اوڈھنی کو روکنے کی کوشش نہ کرتا۔ نہ کوئی پولیس والا رانی اوڈھنی کے خلاف پرچہ درج کرتا۔ وہ جسے چاہتی سر بازار رُسوا کردیتی، وہ جسے چاہتی گالیاں دے دیتی ہر کوئی اُس کے عورت ہونے کی وجہ سے اس سے متھا لگانے سے کتراتا تھا۔

پھر آہستہ آہستہ رانی اوڈھنی نے منشیات بیچنی شروع کردی، وہ کھلے عام شراب، چرس اور ہیروئین فروخت کرتی کوئی پولیس والا اُس کے خلاف کاروائی نہ کرتا۔ بہت سے ایس ایچ اوز، ڈیس ایس پی اور ڈی پی او آئے لیکن آج تک کوئی بھی رانی اوڈھنی کو گرفتار نہ کرسکا۔

وہ جس کا مکان کرائے پر لے لیتے پھر اُسے خالی نہ کرتی اور لوگ منت ترلوں کے بعد اُس سے اپنا مکان خالی کرواتے۔ پھر وہ گلبہار کالونی کے ساتھ ماسٹر الیون کے کرکٹ گراونڈ کے پاس ایک مکان میں شفٹ ہوگئی۔ وہ مکان کافی بڑا تھا جہاں وہ کئی سال سے سرعام جواء کروارہی تھی، یہ مکان کیا تھا جرائم پیشہ لوگوں کا مسکن تھا۔ جہاں کھلے عام ہیروئین پینے والے ہیروئین پیتے، شراب نوش کرتے، روزانہ لاکھوں کا جواء کھیلتے اور پولیس والے جاننے کے باوجود انجان بنے رہتے۔ رانی اوڈھنی کے گھر سے پتہ نہیں پولیس کو کتنی بڑی رقم ملتی تھی کہ سب نے اُس طرف سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ بہت سے ڈی ایس پی حضرات کی رانی اوڈھنی کے بدنام زمانہ اڈے کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی لیکن پولیس افسران کی پراسرا خاموشی کی کسی کو بھی سمجھ نہ آتی۔

رانی اوڈھنی کے کچھ صحافیوں کے ساتھ بھی مضبوط قسم کے تعلقات ہیں جس کی وجہ سے آج تک کمالیہ کے کسی صحافی نے اُس کے خلاف ایک خبر نہیں لگائی اور نہ ہی پولیس کی بے بسی اور نااہلی کو نمایاں کیا اور نہ ہی کبھی ریاستی اداروں سے سوال کیا کہ رانی اوڈھنی کے خلاف کیوں قانون حرکت میں نہیں آتا۔
کچھ صحافی رانی اوڈھنی سے تعلق نبھاتے رہے اور کچھ بے چارے اُس کے خوف سے چپ کرکے بیٹھے رہے کہ کیا پتہ کب رانی اپنے ساتھیوں سمیت اُس پر حملہ کردے، بے عزت کردے اور پھر خود ہی اپنے کپڑے پھاڑ کر مظلوم بن جائے۔ رانی اوڈھنی کے معاملے پر وہ صحافی جو اے سی صاحب کے سیکورٹی گارڈ کو موشن لگنے کی خبر تو شائع کرتے رہے لیکن افسوس اُن کی آنکھوں کے سامنے ایک منشیات فروش عورت نشہ جیسی لعنت بیچتی رہی اوراُن کے قلم حرکت میں نہ آئے۔ قلم کی حُرمت کی قسمیں کھانے والے ان صحافیوں کے قلم کی سیاہی خشک ہوجاتی جب رانی اوڈھنی کا نام آتا۔ انکی آنکھوں کے سامنے سرعام جواء خانہ چلتا رہا اور یہ مصلحتوں کا شکار رہے۔ یہ کھُلی اور جاگتی آنکھوں سے رانی اوڈھنی کے اڈے پر پولیس کا آنا جانا بھی دیکھتے رہے لیکن ان کے لب سلے رہے۔

کچھ پولیس والے جنہوں نے رانی کی بدمعاشی کو چیلنج کیا وہ بااثر افراد کے کہنے پر معطل کروادئیے گئے اور نشان عبرت بنادئے گئے تاکہ کبھی کوئی پولیس والا اُس کی طرف میلی نظر سے نہ دیکھے۔ سچ تو یہ ہے کہ پولیس والے بھی رانی اوڈھنی کی بدمعاشی کے آگے مجھے بے بس نظر آئے۔

رانی اوڈھنی کے یہ کارنامے شاید لمبے عرصے تک چلتے اور یونہی چلتے رہتے کبھی کوئی رکاوٹ نہ آتی اگر محلہ اسلام پورہ کا تیس سال کا ایک نوجوان محمد اعجاز قتل نہ ہوتا۔ کیونکہ اس قتل کے سارے تانے بانے رانی اوڈھنی کے جواء خانہ اور منشیات فروش اڈے سے جُڑے ہیں۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ ڈوگراں کی سراں والی گلی میں رہنے والا پپو ڈوگر رانی اوڈھنی کے ڈیرے پر آتاجاتا تھا۔ پپو وہاں جواء کھیل رہاتھا اور شراب پی رہا تھا کہ کسی بات پر وہاں پر موجود محلہ اسلام پورہ کے ارشاد عرف شادا سے رانی اوڈھنی کی تُو توُ میں میں ہوگئی رانی اوڈھنی نے غصے میں ارشاد کے منہ پر تھپڑ ماردیا جواب میں ارشاد نے بھی رانی اوڈھنی کو تھپڑ ماردیا۔ پپو ڈوگر رانی اوڈھنی کی حمایت میں کھڑا ہوگیا اور ارشاد عرف شادے سے لڑنے لگا۔ جب جھگڑا زیادہ بڑھنے لگا تو وہاں موجود لوگوں نے بیچ بچاو کروادیا اور ارشاد عرف شادے کو گھر سے باہر بھیج دیا۔ اسی جھگڑے میں پپو ڈوگر نے رانی کو پڑنے والے تھپڑ کا بہت بُرا منایا۔ یہ ایک دوسرے کو نبٹ لینے کی دھمکیاں دینے لگے۔ پھر دودن بعد پپو ڈوگر نے ارشاد کو پھر کال کی اور کہا کہ تم سے نبٹنا ہے جواب میں ارشاد نے کہا کہ میں چھ نمبر چونگی پہ جہاں سیوریج کے کنوئیں موجود ہیں وہاں پر موجود ہوں آجاو جو کرنا ہے کرلو۔ پپو یہ سُنتے ہی اپنے چند ساتھیوں کو لے کر وہاں جاپہنچا اور ارشاد کو پکڑ کر مارنا شروع کردیا۔ ارشاد مار کھاتا رہا اور پھر لوگوں نے بیچ بچاو کروادیا۔ ارشاد کو اور اُس کے بھائی کو اس بات کا بہت رنج تھا کہ پپو نے ہمارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے اور رانی اوڈھنی کے کہنے پر ہم سے لڑنے آیا ہے۔

پھر بیس تاریخ کو ارشاد کا چھوٹا بھائی محمد اعجاز اپنے دودوستوں کے ساتھ پاکیزہ ہوٹل پہ جاکر ایک کلو کڑاھی کا آرڈر دیتا ہے۔ پاکیزہ پہ رش ہوتا ہے تو وہ موٹر سائیکل نکال لیتے ہیں اور ڈوگراں دی سراں میں سے بلاوجہ ہی گزرتے ہیں۔ اُدھر پپو ڈوگر کے ساتھ طاہر عرف طاری ڈوگر بھی موجود تھا۔ انہوں نے جب اعجاز کو گزرتے دیکھا تو یہ سمجھے شاید یہ لڑنے کے لئیے آیا ہے۔ اعجاز موٹربائیک پہ ایک دفعہ تو گزرگیا لیکن تھوڑی دیر بعد وہ واپس اُسی ڈوگراں دی سراں والی گلی سے گزر رہا تھا کہ پیچھے سے کسی نے اعجاز کی کمر پر ایک فائرکیا جس سے اعجاز فوری طور پر موٹر سائیکل سے گرگیا۔ یہ فائر کس نے کیا یہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا ہے ہوسکتا ہے پولیس تفتیش میں قاتل سامنے آجائے کہ کس نے فائرنگ کی۔ جونہی اعجاز موٹرسائیکل سے گرا تو پیچھے ایک اور فائر ہوا جو کہ موٹر سائیکل چلانے والے غلام فرید نامی نوجوان کی پنڈلی پہ لگا لیکن انہوں نے موٹر سائیکل نہیں روکی اور سیدھے ہسپتال چلے گئے۔ اعجاز کو فائرنگ کرنے والے لوگوں نے پکڑ کر دوبارہ مارنا شروع کردیا اور اُس کے جسم میں ایک اور گولی کو اُتاردیا گیا۔ جب وہ ادھ موا ہوگیا تو پھر قاتلوں نے اُسے اپنے گھر سے موٹرسائیکل پہ اُٹھا کر عید گاہ چوک سے اسلام پورہ جانے والی سڑک پر پھینک دیا۔ یہ کوئی رات دس بجے کا واقعہ تھا۔ لوگ اکھٹے ہوگئے تو دیکھا کہ اعجاز ابھی سانس لے رہا تھا۔ لیکن اعجاز کے جسم سے خون بہت بہ رہا تھا۔ اُسے وہاں پر پانی پلایا گیا اور موٹر سائیکل پر ہی اُٹھا کرسول ہسپتال لے جایا گیا جسے بنیادی طبی امداد کے بعد ڈاکٹرز نے فیصل آباد الائیڈ ہسپتال ریفر کردیا کہ راستے میں ہی اعجاز دم توڑگیا۔
پاکیزہ ہوٹل پر ایک کلو کڑاھی پکی پکائی رہ گئی۔ گھر میں بوڑھی ماں اپنے بیٹے کا انتظار کرتی رہ گئی اور اُس وقت دھاڑیں مارمار کر رونے لگی جب اُس کے بیٹے کا لاشہ سامنا آیا۔

اعجاز کی نہ کوئی دشمنی تھی نہ کوئی رنجش پر ایک حقیقت ضرورتھی کہ اُسے اپنے بڑے بھائی کو پڑنے والی مار کا بہت دُکھ تھا اور وہ اُس کا بدلہ بھی لینا چاہتا تھا لیکن بیس تاریخ کو اعجاز اُس گلی میں لڑنے کی نیت سے نہیں گیا تھا اگر لڑنے کی نیت سے جاتا تو مسلح ہوکرجاتا۔ وہ نہتا تھا پاکیزہ ہوٹل پہ رش ہونے کی وجہ سے اُس نے کہا کہ چلو اُدھر سے چکر لگاکر آتے ہیں اور یہی چکر اُس کی زندگی کا آخری چکر ثابت ہوا۔ اے کاش پپوڈوگر اُسے ویسے ہی گلی میں گزرنے پر نظر انداز کردیتا کیونکہ پلڑا تو ان کا بھاری تھا مارا تو انہوں نے  تھا اعجاز کے بھائی کو لیکن آج کل لوگوں کے ذہنی مسائل اتنے بڑھ گئے ہیں کہ تحمل مزاجی بالکل ہی ختم ہوچکی ہے۔ کاش پپو اعجاز کو فائر نہ مارتا اگر فائر کرہی دیا تھا تب ہی اُسے کیس طرح سے ہسپتال پہنچا دیتے لیکن ستم ظریفی تو یہ ہے کہ فائر کرنے کے بعد اعجاز موٹرسائیکل سے گرگیا، یہ پھر اُس کے سر میں پسٹل کے بٹ مارتے رہے، ٹھڈے مارتے رہے اور دوسرا فائربھی اُس کے جسم میں اُتار دیا جسے میں حیوانگی کی بدترین مثال کہوں تو کم نہ ہوگا۔

ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔ سُنا ہے قاتل پکڑے گئے ہیں ۔ ایف آئی آر میں رانی اوڈھنی کو بھی نامزد کیاگیا ہے۔ رانی اوڈھنی ابھی تک مفرور ہے اُس کے گھر کو تالے لگے ہوئے ہیں۔ اور پولیس اُسے تاحال گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ میرے خیال میں رانی اوڈھنی جیسے لوگ گرفتار بھی نہیں ہوتے۔ اگر گرفتار ہوبھی گئی تو پولیس نے ضمنیاں ہی ایسی بھرنی ہیں کہ وہ چند ہی دن کے بعد ضمانت پر رہا ہوکر آجائے گی اور پھر سے اپنے جوئے اور منشیات کے اڈے کو چلانا شروع کردی گی۔ یا پھر پولیس تفتیش ہی اتنی ناقص کرے گی کہ رانی اوڈھنی کو ویسے ہی بے گناہ کردے گی اور ایسا ہی انصاف ہمارے تھانوں میں ہورہا ہے۔

میرے چند مخلص دوست اورعزیز مجھ سے لڑتے ہیں، ناراض ہوتے ہیں کہ تمہیں کیا ہے؟ تم خاموش ہوکر کیوں نہیں بیٹھ سکتے۔ تم نے سچ بولنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ تمہاری تحریروں کو بے شک بہت سے لائیکس ملتے ہونگے لیکن تم آگ سے کھیل رہے ہو۔ تم اس شہر کے بہت سے لوگوں کو اپنا دشمن بنا رہے ہو۔ کہیں تمہارے یہ سارے دشمن اکھٹے ہوکر تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچادیں۔ پولیس، صحافی، جرائم پیشہ لوگ سب کے سب تمہارے دشمن بنے ہوئے ہیں اور تم پر حملہ کرنے کی تاک میں ہیں۔ اس لئیے یہ سچ کی دُکان بند کرو بالکل ویسے جیوجیسے لاکھوں کی آبادی کا یہ شہر خاموشی سے جی رہا ہے۔ اپنی زبان کو اپنے مونہہ کے اندر رکھو اور تم اکیلے اس مافیا کا مقابلہ کیسے کرو گے۔ آخر کار جو بھی تمہارے ساتھ ہونا ہے تمہاری فیملی کو اُس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ لائیکس دینے والے، واہ واہ کرنے والے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں گے اور تم کوئی چی گویرا، مارٹن لوتھرکنگ، ہوچی من یا نیلسن منڈیلا نہیں ہو جو تیری خاطر اس شہر کے لوگ سڑکوں پہ نکلیں۔

یہ سب باتیں میرے مخلص دوست اور عزیز کرتے ہیں جو یقینی طور پر میرے خیرخواہ ہیں۔ میں اُنہیں صرف ایک ہی جواب دیتا ہوں کہ ہوا کے رُخ کے مخالف چلنے والا بھی کوئی ایک ہونا چاہیے، کوئی ایسا ہونا چاہیے جو مظلوموں کی آواز بننے والا ہو اور ظالم کو للکارنے والا ہو، کوئی ایک ایسا بھی ہونا چاہیے جو اکیلا ہونے کے باوجود اپنے اندر اتنی ہمت رکھتا ہو کہ ظالم کے سامنے ڈٹ جائے۔ مرنا تو سبھی نے ہے اور میں نے بھی ایک دن مرجانا ہے۔ لیکن اگر میں جرآت مندی اور بہادری سے مارا جاوں تو اور نہیں تو کم از کم میری اولاد اور میری نسلیں تو مجھ پر فخر کرسکیں گی۔ اس لئیے یہ دشوار راستہ جو میں نے اختیار کیا ہے یہ میری اپنی چوائس ہے۔ اس راستے پہ چلتے ہوئے مجھے پھولوں کے ہار کسی نے نہیں پہنانے۔ میں سب کو ناگوار گزرتا ہوں، بُرا بھی لگتا ہوں۔ پیٹھ پیچھے بہت سے لوگ کبھی مجھے شہرت کا بھوکا کہتے ہیں تو کبھی ایک ایسے مفاد پرست کے طور پر دیکھتے ہیں جو اپنی تحریروں سے فائدے اُٹھاتا ہے۔ اور کچھ ایسے ہیں جو واقعی میری آواز میں آواز ملاتے ہیں۔

مجھے کچھ لوگ نفرت اور حقارت سے دانشوڑ بھی کہتے ہیں حالانکہ وہ مجھ سے بڑے ذہین، بلا کے لکھنے والے اور زیادہ قابل ہیں۔ لیکن افسوس ہوتا ہے کہ اُن دانشوروں کی دانش پتہ نہیں کہاں گھاس چرنے چلی جاتی ہے جب کبھی پولیس کی نااہلی یا نا انصافی منظر عام پر آتی ہے۔ یہ دانشور ملکی حالات پر تو بہت بولتے ہیں لیکن اپنے شہر کے کسی بھی مسئلہ پر بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ میں ان سب سے کہتا ہوں مجھ سے اختلاف کیجئے لیکن خدارا کسی اُصول کی بناء پر کیجئے۔ اگر میں اچھا کام کررہا ہوں تو اُسے دل پر مت لیں، حسد کی آگ میں مت جلیں بلکہ کھُلے دل کے ساتھ میرا ساتھ دیں۔ اگر میں کہیں غلط کام کررہا ہوں تو پھر بھی اپنی آواز کو دبائیے مت بلکہ پوری شدت سےکُھلے عام میری مخالفت کریں اور میری اصلاح کریں۔

خواہش یہی ہے کہ شہر میں کم از کم ایک آواز تو ایسی ہونی چاہیے جواس شہر میں حق اور سچ کی آواز ہو۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *