بنام چیف جسٹس آف پاکستان۔۔افشاں بنگش

SHOPPING

حضور والا، خاکم بدہن آپ کی نیت پر کوئی شک ہے اور نہ ہی ہم اس قدرجاہل ہیں کہ یہ نہ سمجھ سکیں کہ آپ نےاپنی حالیہ ترین تقریرمیں ‘عورت کے سکرٹ’ سے متعلق سترسال پرانا انگریزی قول کس مخصوص سیاق و سباق میں دہرایا تھا- کچھ لوگوں کو اعتراض ہےکہ آپ اپنی تقریرمیں اس مشہورانگریزی قول زریں کاحوالہ دینا بھول گئےجس میں کچھ یوں کہا گیا کہ ‘جج خود نہیں بولتےاپنےفیصلوں کےذریعے بولاکرتےہیں’- ہم سمجھ سکتےہیں کہ آپ کی حالیہ تقریرمیں اس قول کاحوالہ اس لیےغیرضروری تھا کہ آپ پہلےہی اس پرعمل فرماچکےتھے، آپکا ایک حالیہ فیصلہ بولا اورایسا بولاکہ اس کی گونج پوری دنیا میں سنی گئی،یہ فیصلہ تکنیکی اعتبار سےاتنا طاقتورتھا کہ دنیا میں کوئی وکیل تاقیامت اس کی نظیر مقدمہ میں پیش کرنےکی جرات مجتمع نہ کرسکےگا اور کہیں کسی نےکربھی دی تومتعلقہ جج اس کی تاب نہ  لاسکےگا-

کچھ عقل سےعاری لوگوں کا خیال ہےکہ فیصلےکےبعدآپ صاحبان کوکچھ عرصہ کے لیےخاموش بیٹھنا چاہیےتھا-مگر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ آپ ایسا نہیں کرسکتےتھے، تاریخ گواہ ہے کہ ہرمنتخب وزیراعظم کےحسب توفیق بندوق کی گولی کھانے،سولی پرلٹکائےجانے،ملک سے بھگائےجانےاوردفتر سے نکالےجانےکےفوری بعد پاکستانی قوم ہمیشہ خودکوقدرے’ یتیم’ سا محسوس کرتی ہے،ایسےمیں قوم کوایک مضبوط سہارےکی ضرورت ہوتی ہے-ماضی میں کوئی ایثار پسند باوردی سپوت آگےبڑھ کرقوم کا سہارا بن جاتاتھا اوراس وقت تک بنا رہتا تھا جب تک خوداس کوچارآدمیوں کےسہارےکی ضرورت نہ پڑ جاۓ- مگرآج حالات مختلف ہیں۔

آج اس مشکل وقت میں قوم کی مسیحائی آپ ہی فرما سکتےہیں، انتظامیہ کےکاموں کی نگرانی کر کے،اپنےچنیدہ معاملات میں ازخود نوٹس لے کر، اپنےخطابات سےقوم کی رہنمائی کرکے، کبھی ان کے جذبات گرما کر تو کبھی ان کےزخموں پرسوؤ موٹو کامرہم رکھ کر- کچھ غیررومانوی قسم کے لوگ ہیں جومعترض ہیں کہ یہ سرگرمیاں آپ کے پیشہ ورانہ اخلاقیات سے میل نہیں کھاتیں،ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ‘متجاوز’ مسیحائی سےقبل ، کیا یہ ضروری نہ ہو گا کہ آپ اپنے چراغ تلےلرزاں اندھیرے پر نگاہ کرلیں؟

یہ لوگ کہتے ہیں کہ عدالتی تقدس کےعالمی اصولوں کی رو سےاول آپ کےخطابات خاکم بدہن ہونےہی نہیں چاہییں،اوراگرہوں بھی تو ان خطابات کو  ذرائع ابلاغ پر نشر نہیں ہوناچاہیےاوراگرنشر ہوبھی جائیں تو الفاظ،اصطلاحات اوراقوال کااستعمال بہت احتیاط سےہونا چاہیے-وہ آپ کی گزشتہ تقریر میں بیان کردہ ‘بابا رحمت ‘ کی اصطلاح کو تختۂ مشق بنائےہوۓ ہیں-

خیر،اس قسم کےغیررومانوی افراد سےہم عام پاکستانیوں کا کوئی علاقہ نہیں ،ہم اچھی طرح سمجھتےہیں کہ ‘بابوں’ میں آپ کی دلچسپی محض اس لیے ہےکہ قوم کے نجانےکتنےشیرخواربچےآپ کی عدالتوں کی سیڑھیاں چڑھتےاترتےہوۓ ‘بابے’ہوچکے ہیں لہٰذا یہ اصطلاح عین آپ کے پیشےسےمتعلق ہے-آپ کی جانب سے اچانک اسپتال کا دورہ فرمانےکی وجہ بھی یہی رہی ہو گی کہ لاکھوں مدقوق مقدمات کےکروڑوں کاغذی پلندوں تلے دبے،اکھڑی سانسیں لیتےہوۓ عدالتی نظام کوکسی اچھےہسپتال کے شعبہ حادثات میں منتقل کرنےکی ضرورت پڑ گئی ہو گی-اور تو اور،عدالتوں سے ملحقہ طبیلوں میں ایک ایک ‘پھٹے’ سے ایک دوپسینےمیں ڈوبے وکلاء، تین چارپشتوں پر محیط ایک ہی خاندان کےدو تین قریب المرگ سائلین اور ان کی ہمرکاب تین چار ہانپتی ہوئی بکریاں بندھی ہوتی ہیں -سو،اب محترمی اگرمستقبل قریب میں جانوروں کی فلاح سے متعلق ازخود نوٹس لیں تو کیا یہ لوگ اس حوالے سے بھی آپ پر تنقید کریں گے ؟

کچھ بدبختوں کا دعویٰ ہےکہ عدالت عوام کے محصولات پر چلنے والا ادارہ ہےجس سے غیر ضروری جذبات یا تقدس کا کوئی تعلق نہیں ہے،ججوں کا کام ہے تنخواہ لے کرعوام کو انصاف کا بروقت اور مربوط قانونی خدمات فراہم کرنا،لہٰذاعدالتی طریق کارسب حالات میں، سب کے لیے ایک جیسا، یکساں، مرحلہ وار اور واضح ہوناچاہیے،ازخود نوٹس مسئلےکاحل نہیں بلکہ بار بار ایسا کرنامناسب عدالتی ڈھانچےکے فقدان اور نظام کی ناکامی کا مظہر ہے-ہماراخیال اگرچہ ان کم بخت ناقدین سے بالکل مختلف ہے-ہم جیسے معصوم، جذباتی اور سچے پاکستانی عوام کے نزدیک ایک موثرعدالتی نظام کا بہترین سربراہ بننےکی آزمودہ ترکیب وہی آپ والی ہے:

ایک عدد سوختہ و دریدہ لاش کا جنازہ کندھوں پر اٹھاۓ روتےسسکتےعوام الناس کی جماعت منتخب کریں، نبض پر ہاتھ رکھ کر ان کے جذبات کی شدت کوماپیں،اپنےحالیہ ‘موڈ ‘کوٹٹولیں، اب جذبات اور رحم دونوں کوعدالت کے باہر ٹنگی ترازو پرتولیں، موڈ ہو تو اچانک ‘لبیک یا سوؤموٹو’ کا نعرہ لگا کرعدل جہانگیری و سخاوت حاتم طائی  کی قبور پر دولتی رسید کریں، پھردوبارہ غائب ہوجائیں اور آپ کی نظرکرم سے محروم ہزاروں لاکھوں مظلومین یہ سوچ کر پچھتاتےر ہیں کہ وہ کیسے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو زیادہ سے زیادہ سوختہ ودریدہ و کربنا ک بنا کر دکھاسکتے تھے کہ آپ کو ان پر رحم آجاتا اورآپ ازخود نوٹس لےلیتے ورنہ عمومی عدالتی نظام سے تو کوئی امید ہو نہیں سکتی-

بعض ناہنجار ناقدین تو یہاں تک الزام لگاتے ہیں کہ آپ کے قبیل کے لوگوں نے گزشتہ سترسالوں میں ہمیشہ فوجی آمروں کوقانونی جواز فراہم کر کےان کا راستہ ہموار کیا، کچھ نے کرپٹ سیاستدانوں کے ہاتھوں خود کو بیچا- اسی بدعنوان ، آئین دشمن عدالتی رویےکےسبب ملک میں جمہوری نظام طاقت نہیں پکڑ سکا اورادارے کمزوررہ گئے، نتیجہ یہ کہ پاکستانی عوام جانوروں سے بدتر زندگی گزارنےپرمجبور ہیں اس پر مستزاد یہ کہ ان میں سماجی شعور بھی پنپ نہیں سکا ،عوام آج بھی فریاد کرتے پائے جاتےہیں کہ ‘مرے قاتل مرے دلدار مرے پاس رہو’، یعنی یہ مرے تھے جن کے سبب اسی عطار کے لونڈے سےدوا لینےکی دہایاں دیتے ہیں-مگر خیر،کوئی جو بھی کہتا رہے ہم تو سمجھتے ہیں کہ جب یہی لہو میں ڈوبے، زخمی ادھ مرے لوگ ،سب کو نظر انداز کرکے ، چیخ چیخ کر آپ کواور فوج کے سربراہ کو پکارتے ہیں توآپ کے دل حرارت ایمانی سے تڑپ اٹھتے ہوں گے، انصاف کے قلب سے ممتا کے سوتے پھوٹتے ہوں گے،آپ کو تجربہ ہوتا ہو گا کہ سوؤ موٹو سے انسانی انا کیسے پھول کر’موٹو’ہو جاتی ہے، احساس مسیحائی آپ کےدل میں دکھی انسانیت کے لیے ترحم کا الوہی جذبہ پیدا کرتا ہو گا،دل میں آتا ہو گا کہ اوپرخدا اورنیچے ہم دو ہی ہیں جو اس ملک خداداد کی دکھی انسانیت کوانصاف دے سکتے ہیں-

واللہ کتنا بڑا مقام ہے۔۔سبحان الله! یہ مزہ ترقی یافتہ ملکوں کےسیدھےسادھے موثر دفاعی اورعدالتی اداروں میں کہاں، جہاں پبلک سرونٹ اور فوجی اپنی تنخواہ لیتا ، نظام کے عین مطابق اپنا کام کرتا ہے اور گھر چلا جاتا ہے-

آخرمیں آپ سےمحبت کےسبب کچھ ہماری اپنی بھی گزارشات ہیں اگر ہو سکے تو توجہ فرمائیے گا- ہمیں معلوم ہےآپ جیسے ذہین افراد میں لکھنے کا رجحان پایا جانا ایک قدرتی امر ہے-مگر اس کے لیے اپنی ریٹائرمنٹ کا انتظار کرنا مناسب ہو گا، اس کے بعد آپ فلسفہ ، مذہب اور شاعری کی چند بہترین کتابیں لکھ کر اپنے ذوق اور ہمارے اشتیاق کی تسکین کیجئے گا،آپ کی تحریر کردہ کتب کا انتظار رہے گا-مگر اپنی زیر مطالعہ کتاب کے اشعار اور اقتسابات پر مشتمل ‘وینٹی ججمنٹس’ دینے سے گریز کیجئے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایسے فیصلوں کو تکنیکی اعتبار سے معیاری نہیں سمجھا جاتا مگر ہمارا خیال اس سے مختلف ہے ، ہمیں دقت یہ ہے کہ آپ کی دلچسپ تحریر میں جا بجا کسی مقدمہ کا ذکراور غیر متعلقہ قانونی باتیں بھی تحریر ہوتی ہیں جو آپ کی تحریر کی چاشنی کا مزہ مکدر کر دیتی ہیں –

دوسری گزارش یہ ہے کہ آپ جب بھی تقریر کرتے ہیں، وہ ہر چینل پر نشر ہوتی ہے، بہت خوشی ہوتی ہے مگر آپ کی گفتگو کا کوئی نہ کوئی حصہ سوشل میڈیا پر موجود ناہنجار شریرعناصر کے ہتھے چڑھ جاتا ہے وہ اس کا بہت مذاق بناتے ہیں، بہت دکھ ہوتا ہے- عوامی مباحثے کا حصہ بننا ، گند وصول کرنا اور گند اچھالنا سیاستدانوں کا کام ہے انہی کے لیے چھوڑ دیا جائے توبہتر ہے – اب یہ’بابےرحمتے’یا چرچل کی ‘سکرٹ’ والی بات بھی آئی  گئی ہوجائے گی مگر ہماری عالیہ اورعظمیٰ عدالتوں کے وقار کا کیا ہو گا، وقار چلا گیا تو کم از کم آپ کے مدت ملازمت میں واپس نہیں آئےگا .

SHOPPING

خیر اندیش __
عوام الناس، اسلامی جمہوریہ پاکستان !

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”بنام چیف جسٹس آف پاکستان۔۔افشاں بنگش

  1. واہ جی۔ بہترین تحریر۔ میٹھی چھری سے حلال کیا ھے خرانٹ بڈھا مرغا۔ اس جج کا جو کردار ھے وہ بالکل بھی ملک کی اعلی ترین عدلیہ کے چیف کے شایان شان نہیں ھے۔

  2. کمال ہے اتنی محنت کی ہے آپ نے کاش کچھ محنت اس پر بھی ہوجاتی کہ میثاقی سیاسی گدھوں کی اوقات کیا ہے فوجی ادوار اور ججز پر تنقید ایک خاص فاشسٹ جمہوریت سوچ کے لیئے تو ہوسکتی ہے مگر حقیقی جمہوریت کس احمق لیڈر نے نافذ کرنے کی کوشش کی ہے عوام کو اگر وقتی طور پر کچھ سکون مہنگائی اور دیگر پریشانیوں سے ملا ہے تو وہ مارشل لاء دور ہی ہے بابائے جمہوریت بھٹو صاحب کا لایا ہوا برطانوی طرز پارلیمانی نظام صرف بہت سارے چوروں ڈاکوں رسہ گیروں کو پارلیمنٹ کی مظبوط چھت اور عوام کے ٹیکسوں سے عیاشی کے سوا کچھ نہیں
    اسکرٹ چھوٹی ہو بڑی اس پر شرم پہہننے والے کو آنی چاہیئے چیف کا اس پر تبصرہ بلاضروت تھا

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *