الفاظ ۔۔۔ !

الفاظ کیا ہیں ؟ کب سے ہیں ؟ کیوں ان کا عادی ہوجاتا ہے انسان کس طرح سے ؟ ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کے بے تحاشا جواب ہیں بھی اور نہیں بھی۔ کیونکہ سارے جواب نا مکمل سے ہیں ۔
کچھ کہتے ہیں کائنات میں الفاظ پہلے سے موجود تھے ،سمندر کے شور میں ، جانوروں کی آوازوں میں ، ہواوں میں سُر ،یہ سب کچھ پہلے سے موجود تھے ۔بس فقط انسان جب وجود میں آیا تو خاموش تھا اُس نے ان سب سے ہی الفاظ وقت کے ساتھ رفتہ رفتہ انسانی ارتقاء کے ذریعے سیکھے اور پھر لاکھوں سال میں انسان ان کا عادی ہوگیا اور اس قدر ہوگیا کہ وہ انسان کے خون کی مانند اُس پر اثر کرنے لگے ،جب جو بھی لفظ بولا جاتا ہے وہ رقم ہوجاتا ہے ۔ہواوں میں معلق وہ ایک اثر پیدا کرتا ہے جس کی وجہ ہمارا رویہ ہوتا ہے۔ کس رویے سے ہم، یا کس لہجے میں الفاظ ادا کرہے ہیں۔ آپ جب اپنے ارد گرد نظر ڈالینگے تو آپ کومعلوم ہوگا ۔
جیسا ہمارے معاشرے میں گالی دے کر بات کرنا ایک عام سی بات ہے۔ عورتیں ہوں یا آدمی مگر یہ گالی ہمیں کیوں لگتی ہے وجہ کیا ہے اس میں ہمارا لہجہ اور ہمارے جذبات پر منحصر ہے اگر آپ کسی کو یار کہہ کر کوئی بھی گالی دے دیں اسکو برداشت ہوجائیگی ۔ یہی گالی ابے یا غصیلے لہجے میں ادا کرینگے تو وہ آپ کو مارنے کو دوڑیگا ۔ جب کہ دیکھا جائے کسی بھی لفظ کہ کوئی معنی نہیں بس پیغام پہنچانے کا وقتی ذریعہ ہے مگر یہ الفاظ اور انکا لہجہ ہے جو قتل کرنے تک پر انسان کو آمادہ کرتاہے۔
یہ الفاظ ہی ہیں جو ہمیں کسی کے سامنے اچھا برا یا بہت برا بنادیتے ہیں ،جب کہ انکے کوئی معنی نہیں ہوتے ۔اگر دیکھا جائے ہم بس اپنی رائے دے رہے ہوتے ہیں یا قائم کررہے ہوتے ہیں ۔اگر میں کہوں کہ میں محسن ہوں جب کہ میں محسن نہیں ہوں، وہ ایسے کیونکہ میں بس مٹی آگ ہوا اور پانی کا مرکب ہوں، پیغام پہنچانے کے لئے مخاطب کرنے کو مجھے نام دیا گیا محسن ۔ورنہ میں نہیں ہوں اور یہ آگ ہوا مٹی پانی کا جو میرا جسم ہے مگر یہ چار مختلف چیزوں کا مجموعہ ہوں۔ اور اس کے اندر لاتعداد چیزوں کا مجموعہ۔ اب یہ الفاظ سارے بے معنی سے ہوگئے۔ اگر آپ غور کریں، مگر یہ الفاظ ہی ہیں ۔
جس سے دنیا کا ارتقاء آگے بڑھ رہا ہے انسانی شعور، سائنس ،فلسفہ ہردنیاوی اور مذہبی کتاب ان لفظوں کی مرہون منت ہے اوریہاں تک کہ جس کو لوگ خالق کائنات کہتے ہیں اُس نے بھی ان ہی لفظوں کے ذریعے اپنی بات لوگوں تک ہر دور میں پہنچائی۔ مختلف کتابوں کی شکل میں۔ لفظوں کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ہم انسان الفاظ بولنا سیکھ جاتے ہیں مگر ان الفاظوں کو ،کب ،کہاں ؟کیسے؟ استعمال کرنا ہے ۔ یہ سیکھنے کو ساری عمر لگ جاتی ہیں اور ایک لفظ زندگی سے وجود میں آتے ہیں اور ایک لفظ موت پر مرجاتے ہیں اور پھر ایک لفظ یاد رہ جاتے ہیں ۔ یہ الفاظ ہی ہیں جن کی بنیاد پر ارسطو،افلاطون،فیثا غورث،انبیاء اکرام، رام ،کرشنا، عیسٰی و موسٰی ،بدھا اور اوشو وغیرہ آج تک زندہ ہیں ۔ بس اپنے وجود کو اپنے لفظوں کے تابع کرنا ہی زندگی کا حاصل ہے اور یہی الفاظ کا بہترین حق ادا کرنا ہے ۔ آئیں میں اور آپ ،اپنے الفاظوں کو ایک دوسرے سے بہتر کرنا اور کس موقع پر کیا بولنا ہے ،سیکھیں ۔ الفاظ جن کے بغیر میں اور آپ نہیں۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *