• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ہندوستان کے سفر کی میٹھی کھٹی یادیں۔۔۔سلمٰی اعوان

ہندوستان کے سفر کی میٹھی کھٹی یادیں۔۔۔سلمٰی اعوان

پہلے چھٹی ملی پھر تھوڑی دیر بعد ہی ہو ا میں تیرتی اُس دل کش و دلربا حسینہ کی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی۔
یہ ڈاکٹر شائستہ نزہت تھی جو فون پر مجھ سے مخاطب تھی۔
”وزیراعلیٰ پنجاب جنا ب پرویز الہی بھارت کے شہر پٹیالہ میں ہونے والی ورلڈ پنجابی کانفرنس کے مہمان خصوصی ہوں گے۔ آپکا نام اُن کے ساتھ جانے والے وفد میں شامل کیا گیا ہے۔ کاغذات فوراََ بھجوایئے“۔
”نزہت  اگر تم سامنے ہوتیں تو میں تمہارا منہ چوم لیتی۔ ہندوستان جانے کی دیر ینہ تمنا بر آنے کا کتنا خوبصورت موقع مل گیا ہے۔“
میری آواز کی پو ر پور میں خوشی کی لہریں رقصاں تھیں۔ کھڑکی سے باہر آسمان کو دیکھا۔نومبر کا آسمان نکھرا نکھرا، کِھلا کِھلا، ہنستا مسکراتا محسوس ہو ا تھا۔
کسی بھی ملک جانے کے لیے اتنی پابندیاں اور سختی نہ تھی جتنی ہمسائیوں نے اپنے گھر آنے کیلئے عائد کر رکھی تھیں۔اور سچی بات ہے انکے گھر جانے کی بھی بڑی حسرت اور تمنا تھی۔ دونوں گوانڈیوں میں بہت سے معاشرتی اور تہذیبی ناطوں میں خاصی گوڑی قرابت داری ہونے کے باوجود ایک دوسرے دیکھنے اور جاننے کو دل تھا کہ مچل مچل جاتا تھا۔اِک آہ سی سینے میں اکثر و بیشتر بھانپڑ مچاتی رہتی تھی۔
جالندھر تو یوں بھی جنم بھومی تھی۔ اپنی جنم بھومی میں تو بندے کی جیسے نال گڑی ہوتی ہے۔
جانے کا نشہ دو آشتہ ہو رہا تھا کہ کم وبیش سب سہیلیاں جارہی تھیں۔ ایک سرکاری وفد اور دوسرا غیر سرکاری۔ دراصل کچھ ماہ قبل وزیراعلیٰ پرویز الہی کی دعوت پر انڈین پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن (ر) امر یندر سنگھ لاہور آئے تو وقت رُخصت انہوں نے اپنے ہم منصب وزیراعلیٰ کو تو سرکاری طور پر مدعو کیا پر اپنے یار دیرینہ فخر زمان کو بھی دعوت دیتے گئے۔
فخر زمان جو ورلڈ پنجابی کا نگریس پاکستانی چیپٹر کے چیئر مین اور روح رواں ہیں۔ پاک بھارت امن دوستی کی کاوشوں کے حوالے سے بھی اُنکا نام بڑا معتبر ہے۔ بھارتی پنجاب کے وزرا ء سفرا ء سے گہرے تعلقات ہیں۔ ہریانہ کے وزیراعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ بھی اُنکے پگڑی بدل بھائی بنے ہوئے ہیں۔
اوم پرکاش چند ماہ قبل ہی اپنے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے لاہور آئے تھے۔سوہدرہ میں بھائی کنیا لال کے کنوئیں سے پانی کی بھری مشک بھی تبرک کے طور پر ہریانہ لے کر گئے تھے۔اور جاتے جاتے فخر زمان کو دعوت بھی دیتے گئے۔
اب اِ ن مشترکہ دعوت ناموں سے لکھاریوں کی تو موجیں ہو گئیں۔ جو سرکاری وفد میں شامل ہونے سے رہ گئے انہیں فخر زمان گروپ نے پذیرائی دی۔ ہماری گوڑی سہیلی سیما پیروز کے میاں پیروز بخت قاضی اگر سرکاری وفد میں تھے تو سیما فخر زمان گروپ میں۔ نیلم احمد بشیر، پروین عاطف،بُشرٰی اعجاز،ثروت محی الدین، فرخندہ لودھی سب اکٹھی تھیں۔بچوں جیسا اضطراب اور خوشی رگ رگ سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔دن میں کوئی دسیوں بار ایک دوسرے کو فون کیئے جاتے۔کپڑوں پر تبادلۂ خیال ہوتا۔ جوڑے کتنے اور کیسے ہونے چاہئیں؟دعائیں مانگتے۔ ”ہائے ربّا چلے جائیں۔ بیچ میں کوئی پھڈ ا نہ پڑے۔اللہ میاں جی گھر اور باہر سب جگہ خیریت رہے۔“
شہزاد قیصر ہمارے سربراہ تھے۔ وزیراعلیٰ کی آمد دو دن بعد تھی۔
واہگہ بارڈر پر دونوں وفد اکٹھے ہو گئے تھے۔ سہیلیوں نے ایک دوسرے کو جپھیاں ڈالیں۔ منہ ماتھے یوں چومے جیسے زمانوں کی بچھڑی ہوئی ہوں۔بڑا رش تھا۔ڈاکٹر شائستہ نزھت سرپھینک، کا غذات کی خانہ پُری میں خود بھی جُتی ہوئی تھی۔
چلیے کاغذات کی خانہ پُری مکمل ہوئی۔ جانے کا اذن ملا۔ اپنے اپنے اٹیچی کیسوں کو دھکیلتے،باب آزادی کو دیکھتے،اُسپر لہراتے جھنڈ ے کیلئے دعائیں مانگتے،قُلیوں کے سروں پر سامان کے ڈھیر اُنکے لاغر سے بدنوں کو گھورتے،تجسس کی کُھلی آنکھیں چہار سو دوڑاتے،ہندوستانی علاقے میں داخل ہو گئے۔اٹاری بارڈر۔قدموں کی چھوٹی سی گنتی نے ایک ملک سے دوسرے ملک میں داخل کر دیا تھا۔ پل جھپکتے میں سارے جذبات بدل گئے۔ ہر شے اجنبی ہوگئی۔
پہلا موازنہ دونوں ملکوں کی امیگریشن آفس کی عمارات اور طریق کار کا ہوا۔ ہندوستان کو دُکھ کے ساتھ نمبر زیادہ دینے پڑے۔اپنے حکمرانوں پر لعن طعن اور پھٹکار بھیجی کہ اللّے تللّو ں سے فرصت ملے تو قوم کا سوچیں۔ ماحول اور لوگوں کے رویوّں سے متعلق عناصر کو آنکھوں میں فٹ ترازو میں تولتی امیگریشن کاؤنٹر پر کھڑی ہوئی تو اُدھیڑ عمر کے سِکھ نے ہنستے ہوئے کہا۔
”تہا ڈا خط تے بڑا سوہنا اے۔“(تمہاری لکھائی بڑی خوبصورت ہے)
میں تو اتنے ڈھیرسارے سِکھو ں کو ہی شوق و تجسّس کی بلندیوں سے مسلسل تانک رہی تھی کہ ایسا پیار ا کمپلیمنٹ ملا۔ شکریہ ادا کیا اور محبت سے اُسے دیکھا۔یہ میٹھے بول اور ایک دو تعریفی جُملے بھی کیا چیزہیں کہ دل کی دنیا کو پل میں ہی زیر زبر کر دیتے ہیں۔
کسٹم کے مراحل سے نکلے تو کِسی نے کرنسی کی بابت پوچھا۔مجھے ضرورت نہیں تھی۔ میاں نے ایک دن قبل بندوبست کردیا تھا۔
باہر گاڑیوں کا ایک ہجوم تھا۔ گیندے کے ہار منوں کے حساب سے تھے۔ڈھول تھے۔اور رنگا رنگ شلوار قمیضوں، ساڑھیوں اور پگڑیوں والوں کے جھرمٹ میں بڑ اوالہانہ استقبال تھا۔کوئی دو گھنٹے محبت و پیار کے کُھلے عام مظاہروں میں صرف ہوئے پھرگاڑیوں میں لد لدائی ہوئی۔ پولیس کی ٹولیوں اور انکی گاڑیوں نے ہمیں آگے پیچھے سے اپنے حصار میں لے لیا۔یہ حفاظتی اقدامات تھے۔ ہم پر بے اعتباری تھی یا ہماری حفاظت مقصود تھی۔ نیتوں کا حال تو میرا رب جانتا ہے۔
ہائے منظروں میں کتنی اپنائیت اور یکسانیت تھی؟ ذہن تو فوراََ ہی اپنے اور ہمسائے کے تقابلی جائزوں میں جُت گیا۔سڑک کی کشادگی بس مناسب تھی۔اطراف میں تاحد نظر کھیتوں کا پھیلاؤ، سڑک کنارے جنج گھر جو اب میرج ہال بن گئے ہیں بڑی چھب دکھا رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے کا رخانوں کی خاصی کثرت تھی۔
کہیں کہیں ماٹھے گھروں کی دیواروں پر چسپاں اُپلوں کی گلگاریاں،کہیں کوڑے اور روڑیوں کے ڈھیر،کہیں جانوروں کے ریوڑ،چلتے ٹیوب ویل جنکی موٹی دھاریں گویا جیسے مائع چاندی بہہ رہی ہو۔کہیں عالیشان گھر، کہیں سڑک کے ساتھ ساتھ چلتے گندے نالوں سے اُٹھتی بدبوئیں، گاؤں اور قصبو ں کے بے ہنگم سے پھیلاؤ خاصے مطمئن  کرنے والے  تھے۔
اندر کہیں اطمینان بھری سرگوشی سی تھی کہ بھئی یہ سب کچھ تو اپنے جیسا ہی ہے۔آخر کو ہم ایک ہی ہیں۔
بس انہی موازنوں میں امر تسر میں داخلہ ہوا۔ شہر بھی جانا پہچانا سا لگا۔ بس ایک منظر بڑا مختلف تھا۔ لڑکیاں گھیردار شلواریں اور کہیں جینز پہنے سکوٹروں پر بیٹھی تتلیوں کی طرح اُڑتی پھرتی تھیں۔
”ہائے کہیں یہ منظر کاش میرے لاہور کی سڑکوں پر ہوتا۔ مار ڈالا ہمیں تو ملائیت کی انتہا پسندی نے۔“
چائے تھی۔ محبت کی گرمی تھی۔ خوشیوں کی مہکار تھی۔ امر تسر کے ذائقے دار سموسے اور مٹھائیاں تھیں۔ خوش آمدید کہنے والے بچوں بچیوں کے شوخ و شنگ کرتے، لاچے اور گھیر دار شلواروں قمیضوں میں سروں کو ڈھانپے گوٹے لگی چنریوں کی بہار تھی۔
جالندھر میں سے گزرتے ہوئے جی چاہا تھا اُتر جاؤں۔کوئی چار کو س پر سمّی پور نام کا گاؤں تب تھا۔ جہاں بس بیٹھی حسرت سے باہر تکتی اِس عورت کے اندر کی بچی نے جنم لیاتھا۔ پتہ نہیں وہ گاؤں اب وہاں ہے بھی یا مٹ مٹا گیا۔
اُس وقت جانے کیوں میر اجی چاہا میں درواز ہ کھول کر چھلانگ ماروں اور بھاگتی بھاگتی اُس گاؤں چلی جاؤں جسکے ہجر میں میں نے اپنی ماں اور ماسیوں کو آہیں بھرتے دیکھا تھا۔ جو اُنکا دیس تھا۔جن کی گفتگو کی ہرتان ”دیس“کے ذکر پر ٹوٹتی تھی۔
اپنی اِس احمقانہ سی خواہش پر ہنسی بھی آئی۔آنکھیں بھی گیلی ہوئیں کہ ماں یا د آئی تھی۔
لُدھیانے میں استقبال بہت شاندار تھا۔ ڈھول ڈھمکوں اور بھنگڑوں نے فضا کو
گرما رکھا تھا۔ لدھیانہ ساحر کا شہر ہے۔لدھیانہ کیول دھیر کا شہر ہے۔اِنسانیت کے علمبردار پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت کرنے والے ڈا کٹر کیول دھیر جنہیں ساحر سے محبت ہے جو ہر سال جشن ساحر مناتے ہیں۔لدھیانے کو روشنیوں سے سجا اور جگمگا دیتے ہیں اور پاکستا نیوں میں ساحرایوارڈ بانٹتے ہیں۔
شُدھ پنجابی میں لپٹی یہ تقریر یں ہمارے پلّے تو کچھ زیادہ نہ پڑیں تاہم لوگوں کے چہروں پر بکھرے سُچے اور سچے جذبات ہی یہ سمجھا رہے تھے کہ یہ سب چاہتوں سے یہاں آئے ہیں اور ملنے کے متمنّی ہیں۔
اب رات ہو گئی تھی۔ رات میں پٹیالہ کا حُسن تو کیا نظر آتا۔ البتہ بس میں بیٹھے لوگوں کے تبصروں نے خوب ہنسایا۔عقبی نشستوں سے آواز آئی تھی۔
”بھئی پٹیالہ میں کیا چیزیں دیکھنے والی ہیں۔“
ایک تیکھی آواز کانوں سے ٹکرائی۔
”پٹیالہ کی عورتوں کی چال۔مورنیوں کو تو ایسے ہی ہم لوگوں نے ٹلّے پر چڑھا رکھا ہے۔اُنکی چال پر محاورے گھڑ لیے ہیں۔کوئی پٹیالے کی عورتوں کو دیکھے۔ شاہانہ اندا ز سے چلتی ہیں کہ بندے کا کلیجہ پھڑکنے لگتا ہے۔
میں نے گردن موڑی کہ ایسی خوبصورت بات کہنے والے منچلے کو تو دیکھو ں۔ مگر عقبی نشستوں کے سہارے اتنے اونچے تھے کہ کسی چہرے کو دیکھنا گویا ہمسائے کی اونچی دیوار سے تانکا جھانکی کی ناکام سی کوشش تھی۔
ایک آواز اور اُبھری۔
”یہاں کے پراندوں کا بھی جواب نہیں۔ اتنے خوبصورت جیسے قوس و قزح کے رنگوں میں غوطے کھائے ہوئے ہوں۔سلمے ستاروں میں گندھے،لشکارے مارتے،دلوں
میں ہلچل مچاتے۔“
ہنسی چھوٹ گئی تھی۔
”دیکھو تو ذرا اِن کمبختوں کی ذہنی سوئیاں صنف نازک کے گرد ہی گھوم رہی ہیں۔
پھر ایک نسوانی آواز نے جیسے ہنسی کا گولہ چھوڑا۔
”ارے بیبا اِن عورتوں کی جوتیاں بھی شاندار ہیں۔کسی نے اُن کے رعب ودبدے کا مزہ چکھا ہے۔“
اِسپر شوروغوغا ہوا۔ بہر حال کٹھے میٹھے تبصروں میں پٹیالہ آگیا تھا۔
یونیورسٹی کے وسیع وعریض لانوں میں عشائیہ تھا۔کھانے کے لیے ہندوستانیوں کی قطاریں تھیں جبکہ پاکستانی گواچی گائیوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ کھانوں میں ورائٹی تھی۔ مقامی رنگو ں کا ٹچ تھا۔ چپہ بھر سائز کی روٹیاں دیکھ کر حیرت ہوئی۔ایک روٹی اگر ہم جیسی شہری عورتوں کی تین چار بُرکیوں کی مار تھی تو پنجاب کے جیالوں کا تو بس ایک نوالہ تھا۔
رات کو بڑا ہنگامہ رہا۔ سرکاری وفد کے دو بسو ں کے مسافروں کیلئے تو کہیں پٹیالہ میں ٹھور ٹھکانہ نہ تھا۔گاڑیوں میں لد کر 69 کلومیٹر پرے چندی گڑھ جانا پڑا تھا۔راستے میں منو بھائی کی پھلجڑیاں تھیں۔شاید پی کچھ زیادہ گئے تھے۔ہمارے مایہ ناز کمپیئر طارق عزیز اور اُنکے ساتھی کارٹونسٹ جاوید کی گھمبیر سی خاموشی تھی۔
چندی گڑھ کا ویزہ نہ ہونے اور ہوٹلوں میں فوری کمروں کی دستیابی نے بسوں میں بھرے لوگوں کو پریشان تو کیا مگر وفد کے سربراہ ڈاکٹر شہزاد قیصر کی بھاگ دوڑ نے حالات کو نارمل رکھا۔بہر حال کوئی آدھی رات آگے اور آدھی پیچھے دو تین ہوٹلوں کے آگے اُترائی اور
چڑھائی کے تکلیف دہ مرحلوں سے جان خلاصی ہوئی۔
صبح پھر ناشتے کے بغیر ہی گاڑیوں میں لدلدائی شروع ہوگئی۔کیمپس میں ناشتے کا انتظام اعلیٰ درجے کا تھا۔
ہندوستان میں اخبارات کِس حد تک آزاد ہیں اُسکا اندازہ پہلی صُبح ”دی ٹر یبون“ کو دیکھنے سے ہوا۔ فرنٹ پیج پر پہلی بڑی رنگین تصویر اُن مظلوم کشمیری خواتین کے واویلا کرنے کے دُکھی انداز کی تھی جو وہ بھارتی فوجی کے سامنے گھر کے بوڑھے آدمی کے پکڑے جانے پر کر رہی تھیں۔
یہ یقیناََخوش آئند بات تھی کہ تقریب میں 22ملکوں سے آئے ہوئے مختلف علوم کے ماہر مختلف ہالوں میں ہونے والے سیشنوں میں اپنا اپنا علم بانٹ رہے تھے۔پاکستانیوں کے مقالوں کو پسند کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں سراہا بھی گیا۔ یہ امر تھوڑا سا افسوسناک بھی ہے کہ اِن سیشنوں میں پاکستانیوں کو بھرپور انداز میں شرکت کرنی چاہیے تھی۔بہت سے یار دوست تو لگتا تھا جیسے کھانے پینے اور سیر سپاٹے کیلئے ہی آئے ہوں۔ ہمہ وقت باہر ہی گھومتے پھرتے دیکھے جارہے تھے۔
پہلے اور دوسرے دن مقالوں کی بھرمار رہی۔ پٹیالہ یونیورسٹی کے پروفیسر بہل کی تیار کردہ کمپیوٹر سوفٹ ویئر کی رونمائی بھی ہوئی جو صرف ایک کمانڈ سے شاہ مکھی اور گور مکھی کے سکرپٹ ترجمہ کرنے کی اہل تھی۔ اِسے بہت سراہا گیا اور یہ امید کی گئی کہ اِس سے دونوں پنجابوں کے ادیبوں میں مزید محبت اور یگانگت بڑھے گی۔
کلدیپ نائر بڑے دردمند ہندوستانی ہیں۔وہ ہندوستان کے انتہا پسندوں کے نزدیک پاکستانی ایجنٹ خیال کیے جاتے ہیں۔معتد ل سوچ رکھنے والے کلدیپ نائر کی طرف سے جو تجاویزپیش ہوئیں وہ فی الوقع بڑی جامع اور قابلِ عمل تھیں۔
ان کی تقریر کے بنیادی نکات میں اِن امور پر زور تھا کہ جنگ نے کبھی مسائل حل نہیں کیے۔اکسٹھ سال پہلے جو ظلم اور خون خرابے دونوں جانب سے ہوئے اُن پر ایک دوسرے سے بغیر الزام تراشی کے معافی مانگی جائے۔نومین زون والی جگہ پر ایک میوزیم بنایا جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر دنیا کی ایک چھوٹی سی قوم یہودی ایک ایسا میوزیم بنا سکتی ہے تو ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟دونوں پنجاب اپنی ایک مشترکہ مارکیٹ بنائیں۔
انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی راہ میں روڑے اٹکانے والے عناصر کا بھی تفصیلی تجزیہ پیش کیا،نیز امن کی ضرورت پر بہت زور دیا۔کلدیپ نائر کو بہت توجہ اور دلچسپی سے سُنا گیا۔
پٹیالہ یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر مانک میاں نے اپنی تقریر میں کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس issue سمیت سب معاملات پر بات چیت ہونی چاہیے۔انہیں بھی بہت سراہا گیا۔
پوربی پنجاب اپنے کلچر میں کس قدر امیر ہے۔ اسکا اندازہ اُس شام ہوا جب لڑکیوں نے گِدّا ڈالا۔ سُچا،سچا اور کھرا روایتی گِدّا،پاؤں کی مخصوص بیٹ اور سٹائل آواز کا کھرج، تالی کا ردّھم اور مکمل روایتی کا سٹیوم۔ ہمارے گاؤں میں اب یہ سب نظر نہیں آتا۔بیچارے سادہ لوح دیہاتیوں کی سوچیں مشرف بہ اسلام ہوگئی ہیں۔
بھنگڑے راجستھانی رقص اور کتھک ناچ سبھوں نے دل خو ش کیا۔ سب سے بڑھ کر ہنس راج ہنس کے خوبصورت گانوں اور نصرت فتح علی خان کے حضور انکار نذرانہ عقیدت۔ ہماری تو آنکھیں گیلی ہوگئی تھیں۔
تاہم اس شام کا میلہ طارق عزیز نے لوٹا۔ پاکستان کے نمائندے نے اپنی پاکستانیت کا اظہا رکرتے ہوئے اپنے جذبات کو بہت خوبصورتی اور حُسن دیا۔بہت سراہا گیا
انہیں۔
کلچر کا تعلق زمین اور رہتل کی ایک جیسی بے شمار چیزوں کی مماثلت کے ساتھ ہی نہیں جڑا ہوتا۔ مذہب جیسا اہم فیکٹر بھی اسپر اثرانداز ہوتا ہے۔ دونوں حصوں کے کلچر کا موازنہ کرتے ہوئے یہ بات ہمارے مدّنظر ہونی چاہیے۔ تاہم ہمیں اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کی اشد ضرور ت ہے جواب معدوم ہوتا جارہا ہے۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ اِس کانفرنس کے مہمان خصوصی تھے۔ الیکٹرونک میڈیا پر تو انہیں دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ پر پر نٹ میڈیا نے انہیں بھر پور کوریج دی۔ ممتاز ہندوستانی اخبارات کے صفحات پر وہ روسی صدر پیو ٹن سے زیادہ اہم نظر آئے تھے جو اِن ہی دنوں ہندوستان کے دورے پر تھے۔
سبھی کچھ اچھا تھا۔وائس چانسلر سے لے کر پروفیسروں اور طلبہ و طالبات کے روےّے اور شاندار کلچرل شو۔بس اگر کچھ کھٹکا تھا تو وہ باتیں تھیں جو سرِ عام ہوئیں۔
افتتاحی اجلاس میں پنجاب کی ڈپٹی وزیر اعلیٰ میڈم بٹھل سے لے کر بعض ذمہ دارلوگوں کی باتوں تک کہ جنہیں لکیر کے کھینچنے کا دُکھ تھا۔روایات اور رہتل کے ایک ہونے اور ایک ویہڑے کے دو ویہڑے ہوجانے کا بھی قلق تھا۔
کچھ ایسی تجاویز،کچھ ایسی باتیں کہ یہ پھر دو سے ایک ہوجائیں۔ ہمارے جیسے لوگوں کیلئے جنکی شعور کی آنکھ آزاد فضاؤں میں کُھلی تھی۔جن کی جذباتی وابستگیوں میں اِس خطہء زمین سے محبت اور اپنائیت کے احساس کا دُور تک وہ تعلق نہیں تھاجو ہماری ماؤں،دادیوں،نانیوں کی باتوں سے چھلکتا تھاجنکا یہ دیس تھا۔
سچی بات ہے ہماری دنیا،ہماری کائنات، ہمار ا اپنا ملک پاکستان ہے۔جسے ہم ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔افتتاحی سیشن میں وزیراعلیٰ پنجاب جناب پرویز الٰہی آرہے
تھے۔ سٹیج پر دونوں پنجابوں کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ،میڈم بٹل سنگھ جو دیہی سادگی کی مکمل تصویر تھیں۔بڑی دل کش شخصیت کی حامل مہارانی امریندرسنگھ بھی موجود تھیں۔وہ باتیں پھر دہرائی گئیں۔میڈم بٹل نے بڑے شہد آگیں لہجے میں کہا تھا۔دونوں بھرا(بھائی) بیٹھ گئے ہیں فیصلہ کر لیں۔ہمارا تو سچی بات ہے دم خشک تھا۔سانس روکے انتظار میں تھے کہ دیکھیں وزیراعلیٰ اُنکے جواب میں کیا فرماتے ہیں؟خدا کا شکر تھاکہ کانفرنس میں اُنکا ایڈ ریس مدّلل، زمینی حقائق کو اجاگر کرتا، اپنے تشخص کی پہچان پر زور دیتا اور ٹودی پوائنٹ تھا۔
اُنکے خطاب میں گردواروں کی حفاظت،ننکانہ کو ماڈل شہر بنانے کی خواہش، زراعت اور ریسرچ جیسے اہم شعبوں میں بھارتی پنجاب کے تجربات سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار تھا۔
وزیر اعلیٰ اِس اہم نقطے کو بھی زیر بحث لائے کہ ہندوستان،چین،افغانستان اور وسطِ ایشیا کی ریاستوں سے پاکستان کے تعاون کے بغیر تجارتی اور مواصلاتی تعلقات نہیں بڑھا سکتا۔نیک نیتی اور خلوص سے تعلقات قائم کیے جائیں تو پاکستان کی صرف موٹروے اربوں روپیہ سالانہ ٹول ٹیکس کے طور پر کمائے گی۔اگر ایسا ہوگیاتو دونوں ملک ترقی کی شاہراہ پر تیزرفتاری سے دوڑ پڑیں گے۔
چلیے جناب ٹھنڈک اُتر گئی تھی سینوں میں۔ خوش تھے کہ بے حد شائستہ زبان میں وہ سب کچھ کہہ دیا گیا ہے۔ جس کی ضرورت تھی۔یقیناََ شہزاد قیصر کی بریفنگ کا بھی بڑا دخل ہوگاکہ اُ نکا تو مضمون بھی ذہانت اور مہارت کا خوبصورت عکاس تھا۔
سچی بات ہے مجھے تو پرویز الہٰی سے اِس درجہ فراست اور تدّبر کی اُمیدہی نہیں تھی۔ وزیراعلیٰ پٹیالہ امریندر سنگھ نے فخر زمان کا ذکر محبت کے ساتھ کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
فخرزمان صاحب بھارتی پنجاب کے خواص سے لیکر عوام تک کی بے حد ہر دل عزیز اور پسندیدہ شخصیت ہیں۔ کچھ سیشن انکی زیر صدارت بھی ہوئے۔
اب پٹیالہ یونیوسٹی میں لاکھ شیڈول سخت تھا۔بیچ بیچ میں سے دوبار میں نے اور نیلم نے ڈنڈی ماری اور رکشے میں چڑھ کر شہر کے خوبصورت شاہانہ اور امیرانہ ڈھنگ سے محظوظ ہوئیں۔راجپوت،مغل اور پنجابی ثقافتوں کے مشترکہ رنگوں سے تھوڑی سی شناسا ہوئیں۔روایتی اور جدیدیت کے عکس چلتے پھرتے دیکھے۔
سڑکوں پر سکوٹر چلاتی لڑکیوں کا اعتماد دیکھ کر ہمارے ہوکے تھے کہ آخر ہم اپنے ہاں یہ ماحول کیوں پیدا نہیں کرسکتے کہ ہماری لڑکیاں بغیر کسی ڈر خوف کے بچتوں والی اس سواری سے فائدہ اٹھائیں۔بے چارے باپ بھائی جو کام کاج چھوڑ کر بھاگے بھاگے انہیں سکولوں کالجوں سے پک ڈراپ کرنے نکلتے ہیں اس تکلیف سے بچ جائیں۔یقیناً نچلے متوسط طبقے کی جان ایسے بہت سے اِضافی خرچوں سے بچ سکتی ہے۔
بالعموم پٹیالہ کو شاہی ریاست کہا جاتا ہے۔ تقریباََ دو صدیاں پرا نا شہر۔
قلعہ مبارک،موتی باغ محل،شیش محل اور میوزیم دکھانے کا تو باقاعدہ اھتمام کیا گیا۔شیش محل ہمارے لاہوری شیش محل جیسا بلاشبہ نہیں تھا مگر اسکی حفاظت زیادہ بہتر انداز میں ہورہی تھی۔گو خستگی ضرور نظر آتی تھی۔
اُسکا دروازہ رنگین نقاشی سے یوں سجا تھا جیسے سارے میں ہیرے موتی جڑے ہوں۔ یہ مہاراجہ نیریندر ہ سنگھNarendra Sing نے 1847ء میں تعمیر کروایا ۔موسیقی اور آرٹ سے محبت کرنے والا راجہ جسنے کانگڑہ اور راجستھان سے فنکار بلائے۔ جنہوں نے اسکی دیواروں پر دیو مالائی کہانیاں بکھیر دیں۔ منی ایچر پینٹنگ میں جیا دیوا کی شاعری نما یاں ہوئی۔کپور تھلہ سکول کی کانگڑہ پینٹنگ میں رادھا سہیلیوں کے ساتھ دیکھ دیکھ
کر میرا تو جی نہیں بھرتا تھا۔دوزخ اور جنت کے تصور پر مشتمل تصویری پیشکش۔ لُطف آیاتھا۔
موتی محل میں مہاراجہ امریندرسنگھ اور انکی بیگم مہارانی کی طرف سے عشائیہ کِس غضب کا تھا۔ ایک تو موتی محل کی سفید پرشکوہ عمارت اوپر سے شالیمار باغ لاہور جیسے وسیع و عریض لان۔اسپر اور ستم کھانوں کی بھرمار۔ اتنی ورائٹی کہ بندے کی آنکھیں تھک جائیں دیکھتے دیکھتے۔ کہیں جلیبیاں تلی جارہی ہیں تو کہیں پوریاں۔ اللہ مجھے تو نام بھی نہیں آتے تھے اُن ون سونّے کھانوں کے۔
مہمان نوازی کی انتہا تھی کہ کلیر کوٹلہ سے حلال گوشت اور باورچی Non vegڈشیں تیار کرنے کیلئے بُلائے گئے تھے۔
مہارانی اور اُنکی ساس کیسی شاندار خواتین تھیں۔ پڑھی لکھی،سمارٹ، خوش شکل۔ مگر یہ کہناپڑے گا کہ پرویز الٰہی کا پورا خاندان بیوی،بیٹیاں،بہوئیں سب سیاہ عباؤں میں لپٹی اطمینان اور سکون سے نیچے دو میزوں پر بیٹھی خوش گپیوں میں مگن تھیں۔ جبکہ پرویزالٰہی سٹیج پر اپنے میزبانوں کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ ایک وضع دار گھر انہ اپنی روایا ت پر مطمئن و مسرور پُر اعتماد اور پُریقین۔
دونوں طرف کے یار لوگوں کا یہ بڑا بھر پور اجتماع تھا۔میل ملاقاتیں،تعارف، پر انی دوستیوں اور ملاقاتوں کے قصے،محبت بھری باتیں،شعر اور لطیفے سب چلے۔بشریٰ رحمن نے اپنی دلچسپ اور ہنسوڑ باتوں سے خوب رنگ جمایا۔
ہر آنکھ میں محبت اور ہر زبان پر ایک دوسرے کے ہاں جانے کی شدید خواہش کا اظہار تھا۔ لوگ پاکستان آنے کیلئے کس قدر بے قرار تھے۔کاش ہمارے بس میں ہوتاتو اسی وقت ویزے بانٹ دیتے۔
شادی بیاہ کے مسائل بھی بڑے مشترکہ تھے۔ لڑکیاں زیادہ پڑھ لکھ رہی تھیں اور لڑکے غیر ذمہ دار اور لا اُبالی سے۔ لڑکے والوں کے دماغ بھی ہمارے ہاں کی طرح اُسکے ذرا سی اچھی پوسٹ پر ہونے کی وجہ سے ساتویں آسمان پر پہنچ جاتے ہیں۔ وہی ایک سا کلچر۔
چند باتوں نے بہت متاثر کیا۔ کھانے اور ناشتے پر لوگوں کا ڈسپلن قطار کی صورت میں تھا۔ ایسی لائنیں ہمارے لوگو ں کو بھی بنانی چاہییں۔شرح خواندگی بہت زیادہ تھی۔ جلال پور گاؤں جہاں ہمیں لیجایا گیا وہاں کی کم و بیش ہر لڑکی ہی ایم اے اور پی ایچ ڈی کرتی ملی۔
شہر میں سائیکل رکشے دیکھ کر دُکھ ہوا۔ خدا کا شکر ہے ہمارا ملک اِس لعنت سے پاک ہوا۔
ڈاکٹر شہزاد قیصر بہت مستعد اور فعال رہے۔
“پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر ” کا یہ پہلا وفد تھا۔ پہلا وفد اور گھر کا پہلا بیاہ دونوں تقریب کے حُسن و خوبی سے سر انجام پا جانے کے ذمہ درانہ احساس کے تحت قدرے پریشان سے ہوتے ہیں۔بعد میں تجربہ رنگ دکھاتا ہے۔
بہر حال یہ نہ صرف دونوں طرف کے لوگوں کے ساتھ ملنے کا ایک ذریعہ تھا بلکہ اسنے اپنے لوگوں کو بھی جانچا۔ اور انہیں ایک دوسرے سے گھلنے ملنے کا موقع فراہم کیا۔
جونہی اپنی سر زمین پر قدم رکھا۔ ڈاکٹر شائستہ نزھت کے مسکراتے ہوئے حسین چہرے نے خوش آمدید کہا۔ اذان کی آواز نے جیسے اُس نعمت کا احساس دلایا جس سے ہم نوازے گئے ہیں۔ میری طر ح فرخ زہرہ گیلانی بھی اس سے سر شار ہورہی تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *