• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • امریکہ ،یورپ ، پاکستان کرونا اور علمائے کرام۔۔۔راؤ شاہد محمود

امریکہ ،یورپ ، پاکستان کرونا اور علمائے کرام۔۔۔راؤ شاہد محمود

کرونا نے جہاں پوری دنیا میں تباہی مچا دی ہے ،وہیں بڑے بڑوں کو بے نقاب بھی کر دیا ہے ،پاکستان میں اپنی آبادی کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے ملاں ہو یا لوگوں کو آئیڈیل لائف سٹائل کا جھانسہ دے کر لاکھوں کروڑوں ڈالر اور پاؤنڈز اکٹھے کرنے والے یورپ اور امریکہ ایک ہی جھٹکے میں ایک محلے کی درسگاہ سے لے کر ہاؤس آف لارڈز یورپی یونین اور واشنگٹن ڈی سی سب کی کلی کھل گئی ہے ،کرونا نے سب کو ہی بے نقاب کر دیا ہے ،لوکل بات بعد میں کریں گے ،پہلے ذرا انٹرنیشنل سورماؤں پر بحث  کر لی جائے، کرونا کو کچھ نہیں ،کچھ نہیں ،کہنے والا امریکہ ہو یا اپنے شہریوں کو اولین ترجیح دینے والا یورپ جب اس مہلک وبا نے چائنہ میں سر اٹھایا تو ان ممالک نے پہلی مہیا فلائٹ پر اپنے شہریوں کو فورا ًچائنہ سے نکال لیا ،یہاں داد دینی پڑے گی حکومت پاکستان کی معاملہ فہمی اور عقلمندی کی کہ میڈیا عدالتوں اور طلبہ کے والدین کے پریشر کے باوجود وہ چین سے پاکستانی طلباء   کو واپس نہیں لائے ۔ بس ایک غلطی کر بیٹھے تفتان بارڈر کو صحیح طرح ہینڈل کر لیا جاتا تو یہ وبا پاکستان میں مار کر ہی نہ سکتی۔ حوصلہ افزا ء اور مثبت بات یہ ہے کہ اب یہ طاقتور ممالک اپنی پارلیمنٹوں میں تلاوت قرآن پاک کروا رہے ہیں اور بہت سے یورپی ممالک میں عیسائی اور یہودی بھی اپنی اپنی چھتوں پر اذانیں دے رہے ہیں یعنی یہ مصیبت انسانیت کو صحیح سمت پر لانے کا باعث بھی بن رہی ہے۔ لیکن چائنہ سے اپنے لوگوں کو نکالنے سے پہلے اگر پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث پاک پر نظر ڈال لیتے کہ کسی علاقے میں میں وبا پھوٹ پڑے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر تم اس علاقے میں ہو تو وہاں سے نہ نکلو تو آج اتنی زحمت نہ اٹھاپڑتی۔

آج 28 مارچ 2020تک یہ مہلک وائرس دنیا کے 200 سے زائد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے کر تقریباً  تیس ہزار انسانی جانیں نگل چکا ہے۔ بڑی بڑی سپرپاورز اس کے سامنے بے بس دکھائی دے رہی ہیں آج کسی نے لندن کے سینٹ میری ہسپتال کی ویڈیو بھیجی، دیکھ کر لگتا تھا کہ شاید یہ پاکستان یا انڈیا کا کوئی سرکاری ہسپتال ہے بستر نہ ہونے کی وجہ سے مریض زمین پر لیٹے ہوئےتھے ،دنیا کی بہترین سہولیات کا دعویٰ کرنے والوں کو اس حالت میں دیکھ کر حیرت ہو رہی ہے، ہم بھاگ بھاگ کر ان ملکوں کی شہریت حاصل کرتے ہیں اور اپنا اچھا خاصا سٹیٹس چھوڑ کر ان ممالک میں تیسرے درجے کی نوکری کرتے ہیں اور تیسرے درجے کے ہی شہری کہلانے کے باوجود فخر سے وہاں کی شہریت حاصل کرتے ہیں۔ یہ تھا صحت کا نظام اور یہ تھی قوت مدافت ۔ اللہ تعالی معاف فرمائے اور پاکستان میں اس طرح کے حالات ہم نہ دیکھیں۔  میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے ہسپتال اور یہاں کے ڈاکٹرز نے اس وباء کو ٹھیک سے سمجھا ہے اور وہ زیادہ موثر طریقے سے بیماروں کا علاج کر رہے ہیں کیونکہ یہاں عام دنوں میں ہسپتالوں میں اتنا رش ہوتا ہے،اس لیے ہمارا عملہ اس طرح کے حالات کو زیادہ بہتر انداز میں ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ دنیا میں سب سے اچھی زندگی کا خواب دکھانے والا یورپ آج مصیبت زدہ ہے۔ اللہ تعالی ان کی مشکلات دور فرمائے لیکن ایسا بھی کیا کہ جب یہ تمام حکومتیں  کوئی بڑی ایمرجنسی لینے کے قابل نہیں تھیں تو کیوں غریب ملکوں کے باشندوں کو دو لاکھ ڈالر اور دو لاکھ پاؤنڈ میں اپنے ملکوں کی شہریت اور پر آسائش زندگی کے سپنے دکھا کر پیسہ بٹورتی رہیں، دوسری طرف جناب ڈونلڈٹرمپ ہیں جو اس بیماری کو  بھی غصے سے بھگانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ ٹرمپ اس وقت عمر کے جس حصے میں ہیں، اللہ نہ کرے ان کو یہ مہلک بیماری لگے۔اس وائرس نے دنیاوی طاقتوں کو بتا دیا ہے کہ تم بے بس ہو ایک مچھر سے بھی چھوٹا اور اتنا چھوٹا جو انسانی آنکھ سے نظر بھی نہیں آ سکتا نے پوری دنیا میں لوگوں کو مذاہب سے بے نیاز کرکے خدا یاد کرا دیا ہے یا اللہ انسانیت پر رحم فرما یورپ امریکہ ہو یا پاکستان اور دوسرے تمام ممالک اب ہم پر رحم فرما، ہم اس قابل نہیں کہ اس آزمائش کا مقابلہ کر سکیں

اب چلتے ہیں پاکستان کی طرف یہاں ابھی تک کیسز کی تعداد 2 ہزار سے کم ہے  اور گیارہ اموات ہوئی ہیں ،صحت کے لحاظ سے دنیا کے بہترین ممالک کے مقابلے میں   جہاں دس دس ہزار سے زائد امواد ہوچکی ہیں کے مقابلے میں یہ شرح بہت کم ہے  لیکن تشویش برقرار ہے پاکستان میں کم کیسز رپورٹ ہونے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سے چند ایک یہ بھی ہو سکتی ہیں کہ پاکستان انڈیا بنگلہ دیش وغیرہ میں نمونیا اور ملیریا عام پایا جاتا  ہے اس لئے ہمارا مدافعتی نظام پہلے سے ہی اس قسم کے وائرس سے متعارف بھی ہے اور مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے دوسرا ہم ٹیسٹ اتنی تیزی سے نہیں کروا رہے جس تیزی سے یورپ اور امریکہ نے کیے ہیں، تیسری بات یہ کہ کرونا اب تک پاکستان کےجن شہروں میں بھی رپورٹ ہوا ہے وہاں کے پوش علاقوں میں زیادہ نظر آیا ہے ،جیسا کہ اگر ہم لاہور کی بات کریں تو ڈیفنس فیز فور فیز فائیو۔ ماڈل ٹاؤن۔ علامہ اقبال ٹاؤن وغیرہ ،پہلے میں بھی حیران ہوا کہ یہ صرف امیروں اور کھاتے پیتے لوگوں کو ہی نشانہ بنا رہا ہے پھر جب ٹیسٹ کی فیس معلوم کی تو پتہ چلا کہ یہ پوش ایریاز سے صرف اس لئے رپورٹ ہو رہا ہے کیونکہ ان علاقوں کے لوگ پرائیویٹ لیبارٹری سے آٹھ ہزار روپے خرچ کرکے خود سے ٹیسٹ کروا رہے ہیں اور غریب علاقوں کے رہنے والوں کا تو پورے مہینے کا بجٹ ہی 8000 روپے ہوتا ہے ہے اس لئے وہ ٹیسٹ نہیں کروا رہے اور اسی لیے ان کے علاقوں میں یہ رپورٹ بھی نہیں ہو رہا۔

اب بات کرتے ہیں اس کے احتیاط کی چین جہاں سے یہ شروع ہوا اس نے فورا ً ووہان شہر کو لاک ڈاؤن کیا یہاں تک کہ جو شخص لاک ڈاؤن والے دن اس شہر میں آیا ہوا تھا واپس نہیں نکل سکا اور جو باہر گیا ہوا تھا اس کو شہر میں آنے نہیں دیا گیا اور آخر کار چین تین مہینے کی انتھک محنت کے بعد اس پر کسی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوگیا ،دوسری طرف پاکستان ہے ۔ ہمارے مسائل ہی اور ہیں گھر کی تقریب سے لے کر چھوٹے بڑے اداروں اور ملکی سطح پر اگر کوئی فیصلہ لینا ہو تو پہلے ناراض لوگوں کو منانا پڑتا ہے جیسے  کسی گھر میں شادی ہو تو روٹھے رشتہ داروں کو منانا وغیرہ وغیرہ۔ ابھی حکومت لاک ڈاؤن کرنے کی باتیں ہی کر رہی تھی تاکہ لوگوں کا ذہن بنایا جائے ،ہمارے علمائے کرام نے جنہوں نے ماشااللہ آج تک ہر کام میں ٹانگ ضرور اڑائی ہے چھلانگ مار کر میدان میں آگئے  ۔ صدر پاکستان نے جامعۃالازہر سے فتوی لیا تاکہ جمعہ کے اجتماعات نہ ہوں اور لوگوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے میں مدد ملے، ابھی اعلان بھی نہیں کیا تھا کہ، چند جید علمائے کرام نے پریس کانفرنس کر دی کہ نماز جمعہ ہر حال میں ادا کی جائے گی جبکہ WHO واضح طور پر پیغام دے چکا ہے کہ موجودہ حالات میں میں کم ازکم ایک شخص کا دوسرے شخص سے فاصلہ 6فٹ تک ہوگا۔جس کا کام اسی کو ساجھے لیکن نہیں ہمارے علماء جو مجاہد اور سیاستدان تو تھے ہی اب ڈاکٹر اور سائنسدان بن کر میدان میں آگئےاور صرف یہاں تک محدود نہیں رہے کچھ نے تو واٹس ایپ میں مشہور ہونے کے لیے باقاعدہ کرونا کو اس طرح للکارنا شروع کر دیا جس طرح خود یہ مولاجٹ ہیں اور کرونا کسی گلی کا چھوٹا سا غنڈا ۔ایک صاحب چین اور اس کے دوستوں کو بددعائیں دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور دوسرے کہتے ہیں کہ میں کرونا کے مریض کو بغلگیر ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کروا سکتا ہوں۔ ایک صاحب کہتے ہیں کہ آج سب لوگ ہاتھ ملائیں گے اور کندھے سے کندھا ملا کر نماز پڑھیں کسی کو کرونا ہوجائے تو مجھے چوک میں لے جاکر گولی مار دے۔ ایک صاحب کہتے ہیں کہ کرونا کوئی مارکیٹنگ اسسٹنٹ ہے میڈیا رپورٹ کرنا بند کر دے تو یہ بھی ختم ہو جائے گا۔ کوئی ان سے پوچھے مارکیٹنگ اسسٹنٹ ہے تو تیس ہزار لوگ کیسے مر گئے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہو رہا تھا ،تو اُس وقت وہاں کا مُلا اس بحث کا شکار تھا کہ مسجد میں بلب جلانا جائز ہے یا ناجائز ،آخر کیوں ہمارے علمائے کرام ہر چیز میں ٹانگ اڑا کر اپنا مذاق بنواتے ہیں، میرے کسی دوست نےاس طرح کے نام نہاد علمائے کرام سے پوچھے جانے والے کچھ مزاحیہ مسائل مجھے بھیجے جنہیں پڑھ کر دکھ بھی ہوا حیرت بھی بھی اور ہنسی بھی بہت آئی۔ ویسے تو یہ مذاق میں اٹھائے گئے مسائل ہیں لیکن حقیقت بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ لیکن کیا کیا جائے اگر کسی کو خود اپنی عزت پیاری نہیں، لوگ تو اس کا مذاق بناتے ہی ہیں۔

ذرا مسائل ملاحظہ فرمائیے
میں ایک ایسے آفس میں کام کرتا ہوں جہاں خواتین بھی کام کرتی ہیں اگر میں غلطی سے کسی ایسی جگہ بیٹھ جاؤ جہاں کسی خاتون کا ٹوٹا ہوا بال پڑا ہو  تو میرا نکاح تو نہیں ٹوٹ جائے گا۔

اگر میں مکس سبزی پکاؤ ں جیسا کہ آلو مٹر گاجر میں کہیں ملاوٹ کا مرتکب تو نہیں ہو رہا

موبائل سے بےہودہ فلمیں ڈیلیٹ کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جاتا ہے

منی پلانٹ کے پودے کو ہاتھ لگانے سے کیا غسل واجب ہو جاتا ہے

گاڑی چلاتے ہوئے میں بائیں ہاتھ سے گیئر  لگاتا ہوں ،کیا میری بخشش ہو جائے گی

الٹے ہاتھ سے فون سننا کیا شریعت میں جائز ہے

کیا شلوار میں جیب رکھی جاسکتی ہے

کیا شلوار کی جیب میں رکھے پیسے حلال ہوتے ہیں

یہ تمام مسائل آپ کو مذاق لگ رہے ہوں گے مجھے بھی یہ پڑھ کر بہت ہنسی آئی لیکن پھر ایک بڑے عالم دین جن کے لاکھوں کی تعداد میں مریدین ہیں ان کی ویڈیو  نظر سے گزری ،جس میں وہ صاحب اپنے ٹی وی پربیٹھ کر روزے کی حالت میں طہارت کرنے کا ایک بھونڈا طریقہ بتا رہے   تھے، موصوف اس میں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ جائے پاخانہ سے پانی آپ کے معدے تک جاکر آپ کے روزے کو توڑ سکتا ہے ،اس لیے طہارت کے دوران ٹانگیں زیادہ کھول کر نہ بیٹھیں بلکہ ٹانگیں سکیڑ کر بیٹھنا مستحب ہے۔ یہی صاحب کھیرا چھیلنے کا اسلامی طریقہ اور موٹرسائیکل پر کسی مرد کے پیچھے بیٹھنے کے لئے اسلامی گدی بھی متعارف کروا چکے ہیں۔ نماز کے دوران نمازی کو کراس کرنا اور خوبصورت لڑکے کو قرآن پڑھاتے ہوئے کس طرح اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے سب کچھ ٹی وی پروگرامز میں بتا چکے ہیں۔

تو اب آپ ہی بتائیے  کہ ا ن کو کوئی سیریس کس طرح لے اور اگر بات ہو لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کی، توحکومت کہے کہ ہم ان سے مشورہ کر رہے ہیں ،پھر ایسی حکومت کو کیا کہا جائے۔ لگتا یہی ہے کہ ان مسخروں کے پیچھے کوئی طاقتور ہاتھ ہے جو اپنی مرضی سے ان کی ڈور ہلاتا ہے اور جب یہ بدک جائیں تو ڈنڈے لگا کر ان کو سدھار لیتا ہے لیکن ہمارے معاشرے پر اس بوجھ کو ہمیشہ کے لئے ٹھیک اس لئے نہیں کرتا کہ کبھی بھی کسی کوبھی پریشرائز کروانے کے لئے دوبارہ اس طبقے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہی وقت ہے ہمارے پاس کہ اب جبکہ ان کی حقیقت عیاں ہوچکی ہے اچھے علمائے کرام کی طرف رجوع کیا جائے اور ایسے لوگوں سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑوا لی جائے۔

ایک آخری بات   ،کرو نا نے ہماری روٹین لائف تبدیل کردی ہے، ہمیں اپنے اور پرائے کی پہچان ہونے لگی ہے، گھروں پر وقت گزار کر پتا  چلاہے کہ بچوں اور بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنا پیسہ کمانے سے زیادہ مزیدار کام ہے۔ مصیبت کی اس گھڑی نے پوری دنیا کے ہر انسان کو زندگی گزارنے اور اس کے بارے میں   سوچنے کا ایک نیا انداز دیا ہے، آلودگی کم ہوگئی ہے قدرت کے خوبصورت مناظر نظر آنے لگے ہیں حکومتوں اور پرائیویٹ اداروں کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں کی طرح ایک ہفتہ کے لیے ہی سہی تمام دفاتر اور انڈسٹری بند کرکے چھٹیاں دیا کرے ،چاہے مرحلہ وار ہی کیوں نہ ہوں ،تاکہ  لوگ اپنوں کے ساتھ وقت گزار کر زندگی کا اصل مزہ حاصل کرسکیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *