ایک رعایتی کالم۔۔۔۔ اویس احمد

مکالمہ کے چیف ایڈیٹر انعام رانا صاحب بادشاہ آدمی ہیں۔ یہ جب رعایت دینے پر آتے ہیں تو ایسے ایسے کالم بھی شائع کر دیتے ہیں جن کالمز کو ردی کی ٹوکری میں ہونا چاہیئے تھا۔
شاید انعام رانا صاحب کو رعایتی کالم بہت پسند ہیں۔ اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بات کا آغاز کرتے ہیں۔ ہم پاکستانی لوگ بھی دراصل رعایت پسند ہیں۔ ہمیں ہر بات میں، ہر عمل میں اور ہر چیز میں بلاوجہ کی رعایت چاہیئے ہوتی ہے۔ اسکول میں اساتذہ سے رعایت مانگ لیتے ہیں۔ سواری میں کرایے کی رعایت مانگ لیتے ہیں۔ بیویوں سے من پسند ٹی وی پروگرام دیکھنے کی رعایت مانگ لیتے ہیں۔ دوستوں سے خرچے میں رعایت مانگ لیتے ہیں۔ گرل فرینڈ سے مہنگے تحفوں میں رعایت مانگ لیتے ہیں۔ ڈاکٹر سے پرہیز میں رعایت مانگ لیتے ہیں۔ دفتروں میں باس سے رعایت مانگ لیتے ہیں۔ اور تو اور ہم اللہ سے بھی دینی احکامات میں رعایت مانگنے کے عادی ہیں۔

ہماری نفسیات میں رعایت گھس چکی ہے چنانچہ جب بھی ہم کسی شے پر “خاص رعایت” کا اشتہار دیکھتے ہیں فوراً دوڑے دوڑے وہ چیز خریدنے چلے جاتے ہیں۔ جوتوں پر رعایتی قیمت کی سیل لگ جائے تو جو جوتا پہلے ایک ہزار کا تھا اب رعایتی قیمت میں نو سو روپے کا خرید لاتے ہیں۔ کپڑوں کی رعایتی قیمت کی سیل لگ جائے تو جہاں پندرہ سو کی ایک پتلون ملتی تھی وہاں ایک کے ساتھ ایک مفت کی رعایت کے چکر میں اٹھائیس سو روپے میں دو پتلونیں خرید لاتے ہیں اور دوستوں کو فخر سے بتاتے ہیں کہ یہ برانڈڈ پتلون صرف اٹھائیس سو روپے کی رعایتی قیمت میں ملی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کے ساتھ ایک عدد مفت کی پتلون بھی مل گئی ہے۔

خواتین کا معاملہ رعایت کے معاملے میں اور بھی شدت پسند ہے۔ بس ان کو ایک مرتبہ معلوم ہونا چاہیئے کہ رعایتی قیمت پر کوئی شے دستیاب ہے تو غول کا غول رعایتی قیمت کا فائدہ اٹھانے پل پڑتا ہے۔ آپ نے اکثر نہایت فیشن ایبل اور نک سک سے تیار ہوئی خواتین کو بھی رعایت کے چکر میں دھکے کھاتے اور ذلیل و خوار ہوتے ہوئے دیکھا ہو گا۔

پرانے پاکستان میں یعنی 2018 کے انتخابات سے پہلے رعایت کا دور دورہ تھا۔ مسلم لیگ نون کی حکومت خاصی رعایتی قسم کی حکومت تھی۔ چاہے بیڈ گورننس ہو، چاہے کرپشن ہو، چاہے خارجہ پالیسی ہو یا پھر چاہے داخلہ پالیسی ہو، سابقہ حکومت نے ہر معاملے میں رعایتی پالیسی کو ترجیح دیئے رکھی۔ اس رعایتی پالیسی نے ملک کے خزانے، خارجہ پالیسی، داخلہ پالیسی اور قوم کے سماجی تانے بانے کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا۔ تب سمجھ میں آیا کہ ہر جگہ رعایت اچھی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات رعایت کے نام پر نامعقولیت بھی کارفرما دکھائی دیتی ہے۔

اس بات کو ہم سمیت عمران خان نے بھی بہت اچھی طرح محسوس کیا اور بغیر کسی رعایت کے مسلم لیگ نون کی حکومت کو اپنے نشانے پر رکھ لیا۔ تاک تاک کر وہ نشانے مارے کہ مخالفین نے ہر جگہ اور ہر وقت بلبلانا شروع کر دیا۔ اس “سفاکانہ” سیاست کا اثر رعایتی متاثرین پر بہت شدت سے محسوس کیا گیا۔ پاکستانی قوم پر البتہ اس کا اثر اچھا پڑا اور انتخابات میں قوم نے تحریک انصاف کی مخالف سیاسی جماعتوں کو ماضی میں دی جانے والی دو تہائی رعایت واپس لے کر قابل ذکر اکثریت تحریک انصاف کے حوالے کر دی۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد اپوزیشن عمران خان سے کسی رعایت کی توقع کر رہی تھی مگر عمران خان نے احتساب کے معاملے میں کوئی بھی رعایت دینے سے یکسر انکار کر دیا اور بلا رعایت احتساب کا آغازکرنے کا اعلان کر دیا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ ماضی کے رعایتی پریشان ہیں کہ اول تو ان کی پیش گوئیاں اور دعوے غلط ثابت ہو گئے اور دوسرا یہ کہ اب آنے والے وقتوں میں ان کو ماضی کی طرح کی رعایت ملنے کی امید بھی کم کم ہی ہے۔ چناچہ ابھی حال ہی میں مکالمہ کے چیف ایڈیٹر انعام رانا صاحب کی جانب سے ایک رعایت واپس لینے کا اعلان بھی سامنے آ گیا ہے۔ اور یہ تو نکتہ آغاز ہے۔ ابھی تو آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

چونکہ راقم الحروف بھی پاکستان کا آئینی اور قانونی شہری ہے اس لیے وہ بھی رعایت کا حامی تھا۔ مگر نئے پاکستان میں قدم رکھنے کے بعد اب کسی رعایت کی کوئی گنجائش نہیں رہی چنانچہ مکالمہ کے چیف ایڈیٹر سے کسی قسم کی رعایت کی توقع رکھے بغیر یہ کالم یہیں پر ختم کرتے ہوئے اس دعا کے ساتھ کالم ارسال کرنے کی جسارت کر رہا ہے کہ اللہ ہم سب کو کسی بھی رعایت کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
یار زندہ رعایت۔۔اوہ سوری۔۔ صحبت باقی۔

اویس احمد
اویس احمد
ایک نووارد نوآموز لکھاری جو لکھنا نہیں جانتا مگر زہن میں مچلتے خیالات کو الفاظ کا روپ دینے پر بضد ہے۔ تعلق اسلام آباد سے اور پیشہ ایک نجی مالیاتی ادارے میں کل وقتی ملازمت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *