دانتوں کا درد۔۔۔محمد یاسر لاہوری

جس تن لاگے سو تن جانے اور نہ جانیں لوگ
من کی پیڑا جانے جس کے جی کو لاگا روگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانت کے درد کی شدت
کوئی کسی دوسرے کی تکلیف کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں لگا سکتا۔ جو جس قسم کا درد سہہ رہا ہے، وہ خود میں یہی سمجھتا ہے کہ اس کا درد سب سے بڑا ہے۔
جسے کمر کا درد ہے، اسے سمجھیں کہ آدھی زندگی جی رہا ہے۔ تھوڑی سی حرکت کی نہیں کہ دوبارہ درد شروع۔ جو شوگر کا مریض ہے اس کے لئے اشیائے خوردونوش میں سے کم و بیش آدھی اشیاء حسرت بن کے رہ جاتی ہیں۔ اسی طرح دوسری بیماریوں کے شکار افراد کا بھی یہی حال ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دانت کا درد تکلیف دہ نہیں ہے۔ کبھی کبھار تو یہ درد اس قدر شدت اختیار کر جاتا ہے کہ “مریض درد کی وجہ سے نہ اٹھ کر بیٹھ سکتا ہے نہ  لیٹ سکتا ہے اور نہ  ہی سکون لینے کے لئے چل پھر سکتا ہے۔

بہرحال سو باتوں کی ایک بات کہ “درد چاہے دانت کا ہو، کسی دوسری بیماری کا ہو یا کسی کا دیا ہوا ہو، درد ہمیشہ جان لیوا ہی ثابت ہوا ہے”

دانت کا درد کب ہوتا ہے؟

دانت ہمارے جسم میں موجود وہ (مخصوص) ہڈی ہے جس پر گوشت نہیں ہے۔ دانت کے درمیانی حصے میں دندانی گودا ہوتا ہے۔ جو کہ بہت ساری دموی شریانوں (خون کی رگوں) پر مشتمل ہوتا ہے، اور یہ رگیں بہت ہی حساس ہوتی ہیں۔ جب دانتوں کے گلنے سڑنے کی وجہ سے ان میں سوراخ (جسے کیڑا لگنا کہتے ہیں) وغیرہ ہو جاتے ہیں تو وہ دندانی گودا متاثر ہوتا ہے۔ اکثر اس نرم و حساس حصے پر سوجن آ جاتی ہے۔ جب کچھ کھایا پیا جاتا ہے تو اس غذا کا تھوڑا بہت حصہ دانت میں ہونے والے سوراخ کے راستے دندانی گودا میں جا کر اس حصے کو متاثر کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہمیں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے (یاد رہے کھائے یا پیے  جانے والی چیز جس قدر زیادہ ٹھنڈی یا گرم ہو گی اسی قدر جلد اور زیادہ تکلیف دہ درد ہو گا)۔

دانتوں کا یہ مسئلہ  کئی ایک وجوہات کی بنا پر ہو سکتا  ہے۔ مثلاً  دانتوں کی صفائی کا خیال نہ  رکھنا، کھانا کھاتے ہی سو جانے کی عادت بھی دانتوں اور معدے کے لئے تباہی کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی ڈینٹسٹ سے دانت سیدھے کروائے ہیں، نئے لگوائے ہیں یا بھروائے ہیں تو اس کے بعد بھی ہو سکتا ہے کہ کسی ایسے مسئلے کا   سامنا کرنا پڑ جائے۔ پان سگریٹ اور دوسری نشہ آور چیزوں سے بھی دانتوں کے  مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

دانت کا درد مختلف کیفیات کا حامل ہوتا ہے۔ کبھی تو یہ ایک دم سے اٹھتا ہے اور مریض کو بے  بس کر کے رکھ دیتا ہے لیکن پھر رُک بھی جاتا ہے۔ کبھی یہ لگاتار ہوتا رہتا ہے، رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اکثر یہ درد لیٹ کے لیےتے وقت شروع ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم لیٹتے ہیں تو دانتوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، چونکہ متاثرہ دانت پہلے سے خراب ہوتا ہے لہذا لیٹتے ہی اس جگہ پر دباؤ پڑتا ہے اور یہ درد شروع ہو جاتا ہے۔

اس درد سے نجات کے لیے کچھ گھریلو ٹوٹکے(درد کو صرف عارضی طور پر بند کرنے کے لیے)
آپ کو بہت زیادہ درد ہے۔ جس کی بنا پر چلنا، گاڑی و موٹر سائیکل ڈرائیو کرنا اور ڈاکٹر کے پاس پہنچنا مشکل ہو رہا ہے یا آپ کسی ایسے علاقے میں جہاں آپ جلد فوری طور پہ دانتوں کے معالج کے پاس نہیں پہنچ سکتے تو آپ اپنے گھر میں موجود چند ایک قدرتی چیزوں کے استعمال سے درد کو عارضی طور پر روک سکتے ہیں۔

لونگ
لونگ صرف خوشبو میں ہی اچھا نہیں ہے بلکہ اس کے اندر موجود اس کا اہم ترین کیمیائی جز و”یوجینول” درد سے متاثرہ حصے کو سُن کر دینے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ درد سے متاثرہ حصے پر آپ لونگ کے تیل کو روئی کے گالے پر لگا کر رکھیں۔ لیکن احتیاط کے ساتھ، کیوں کہ آپ کو براہ راست زخم والی جگہ پر روئی کا گالہ نہیں رکھنا۔ بلکہ اس زخم کے آس پاس والی جگہ پر اس تیل کو لگانا ہے۔ زخم والی جگہ پر تیل لگنے کی  صورت میں درد مزید بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح زیتوں کا تیل بھی روئی کے گالے کی مدد سے متاثرہ جگہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کام میں دوسری احتیاط بہت اہم ہے۔ وہ یہ کہ جو روئی آپ اس کام کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ مکمل طور پہ جراثیم وغیرہ سے پاک ہونی چاہیے۔

اس کے علاوہ گرم پانی میں ایک چمچ نمک ڈال کر اس سے دن میں تین بار کُلیاں (غرارے) کرنا بھی بہت اچھا اور آسان علاج ہے۔ چونکہ کھارا پانی قدرتی طور پہ جراثیم کش ہوتا ہے، اس لئے بہت سے ڈاکٹرز گلے اور دانتوں وغیرہ کی حفاظت کے لئے نمک والے پانی کے غرارے بتاتے ہیں۔ علاوہ ازیں سبز چائے اور لہسن کا پیسٹ بھی دانت درد میں کمی لانے  میں مدد گار ثابت ہوتے  ہیں۔

اس ضمن میں ایک اور اہم بات کہ “بعض لوگ ڈاکٹر کے مشورے  کے بغیر اس درد کے دوران گھر میں پڑی اینٹی بائیوٹک دوائیں کھانے لگ جاتے ہیں، چونکہ یہ درد انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ایک بار کھائی، افاقہ نہیں ہوا تو چند ہی گھنٹے بعد دوبارہ کھانے لگ جاتے ہیں۔ یاد رکھیں اتنا نقصان آپ کو دانت کا درد نہیں دے گا جس قدر اینٹی بائیوٹک میڈیسنز دے جائیں گی (بغیر ڈاکٹر کے مشورہ سے اینٹی بائیوٹک دوائیں کھانا معدہ اور جسم میں موجود بیماریوں سے لڑنے والے مدافعتی نظام کے لئے انتہائی نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہیں)

نوٹ: آپ کے دانت درد کی اصل وجہ کیا ہے؟ اور درد  کس نوعیت کی ہے؟ یہ آپ نہیں جانتے۔ لہذا یہ گھریلو ٹوٹکے صرف اور صرف عارضی ہیں (تاہم نقصاندہ نہیں ہیں) اس لئے جس قدر جلدی ہو سکے تو ڈاکٹر کے پاس پہنچیں۔

احتیاط برتیں
اس درد کے دوران گاڑی، بائیک وغیرہ ڈرائیو کرنے سے پرہیز کریں۔ ٹریفک والے مین روڈ اکیلے کراس مت کریں۔ بلکہ ڈاکٹر کے ہاں جاتےہوئے کسی کو ساتھ لے کر جائیں۔ سیڑھیاں اترتے اور چڑھتے ہوئے بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑیں۔

دانتوں کی حفاظت
ہمیشہ دانتوں کو صاف رکھیں۔ اس کا بہترین طریقہ ہر نماز کے وقت مسواک کریں۔ اگر مسواک میسر نہیں تو صبح اور شام کے اوقات میں ٹوتھ پیسٹ اور برش کا استعمال کریں۔ رات کا کھانا سونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے کھائیں۔ بہت زیادہ گرم کھانا (سالن روٹی چاول، برگر وغیرہ) کھانے سے بچیں، نیم گرم کھانا کھانے کی عادت اپنائیں۔ اس سے ایک تو آپ کے منہ سے بدبو نہیں آئے گی اور دوسرا دانت اور معدہ بھی محفوظ رہیں گے۔

دانت کے درد کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بڑھتے بڑھتے اکثر درد اس حد تک چلا جاتا ہے کہ بعض اوقات دانت نکلوانا پڑ جاتا ہے، اس کے علاوہ ایک خراب دانت ساتھ والے دانتوں کے لئے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ لہذا اگر کبھی کسی بھی دانت یا داڑھ میں درد کا احساس ہو تو جس قدر جلدی ہو سکے دانتوں کے معالج سے رابطہ کریں۔

اب یہاں سمجھنے والی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ “دانت کا درد تھوڑی سی شدت سے لے کر انتہائی تکلیف دہ کیفیت والا بھی ہو سکتا ہے لیکن۔۔۔ یہ درد جتنا بھی زیادہ ہو جائے انسان کو چوری چھپے (کینسر، ٹی بی اور ہیپاٹائٹس سی وغیرہ جیسی مہلک بیماریوں کی طرح) اندر سے کھا نہیں رہا ہوتا۔ جو بھی ہو رہا ہوتا ہے، سامنے ہوتا ہے۔ اسے سنبھالا جا سکتا ہے، روکا بھی جا سکتا ہے۔ اس درد کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے، کچھ نہ ہو تو آخری حربہ (دانت نکلوانا) استعمال کر کے اس درد سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔

بڑی چھوٹی، خطرناک اور جان لیوا یا معمولی، بیماری کوئی بھی ہو اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اور اگر بیماری واقع ہو چکی ہے تو اس کا بر وقت علاج کروانا چاہیے کیوں کہ یہ زندگی بہت ہی قیمتی نعمت ہے۔ اس کی حفاظت کریں۔

Avatar
محمد یاسر لاہوری
محمد یاسر لاہوری صاحب لاہور شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہت عرصہ سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس، فلکیات، معاشرتی بگاڑ کا سبب بننے والے حقائق اور اسلام پر آرٹیکلز لکھتے رہتے ہیں۔ جس میں سے فلکیات اور معاشرے کی عکاسی کرنا ان کا بہترین کام ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *