غیر جانبدار اور آزاد صحافت

صحافت کے بارے میں یہ الفاظ قوت سماعت کو خوشنما اور بھلےتو لگتے ہیں مگر اس کے وجود کو بصارت میں لانا غیر ممکن ہے۔ اس لیے کہ نہ تو غیر جانبدارانہ صحافت اور نہ ہی آزاد صحافت کی اصطلاحات کو حقیقت میں ثابت کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ صحافت کے اصیل کو بھی اکثر سطحی اور محدود معنوں میں لینے کی بنا پر حقائق کے پامال ہونے کا احتمال رہتا ہے۔ سماجی اطوار اور بود و باش میں فطری سہل پسندی کے سبب الفاظ کو وسعت اور گہرائی میں سمجھنے کا رحجان رائج العام نہیں ہے۔ لہٰذا اس عادت کے تحت مجبوراً معاملات پر دقیق مغز کھپائی سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ صحافت کیا ہے؟

صحافت یا جرنلزم کی تحصیل کے لیے ابلاغیات یعنی Mass communication کو سمجھنا ضروری ہے۔ جس کے معنی وسیع عوامی پرتوں تک رسائی، ان کے ساتھ رابطہ اور مکالمہ کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے جس اوزار کا استعمال ہوتا ہے اسے میڈیا نام دیا گیا ہے۔ کارل مارکس کے بقول”مقتدر طبقے کے خیالات ہی اس سماج میں بالادست خیالات ہوتے ہیں”۔ لہٰذا بورژوا دانشوروں اور ان کی یونیورسٹیوں کے تحت اس علم کی جس طرح سے تشریح ہوتی ہے اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ یعنی فلم، فوٹوگرافی، اسٹیج، اخبارات، رسالے، کتب، ریڈیو، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، موبائل فون، مسجد کا منبر، پمفلٹ، سیاسی و مذہبی اجتماعات، اسکول، کالج اور یونیورسٹی، چھوٹی بڑی میٹنگیں اور دیگر عوامی رابطے کے ذرائع سب میڈیا کہلاتے ہیں۔ مگر بورژوا طبقہ اور اس کے دانشور اپنے مفادات و مقاصد کے تحت اس رابطے کو من مانے مفہوم کا جامہ پہناتے ہیں، یعنی عوام کو باخبر رکھنا اور معلومات فراہم کرنا، جو قطعی طور پر سطحی، ادھوری اور ازکار رفتہ تشریح ہے۔ اس کے علاوہ صحافت کو مختلف شعبوں میں منقسم کرکے آسان اور قابل فہم بنانے کی بجائے مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ حکمرانوں نے صحافت کے حقیقی مقاصد اور فوائد کو پوشیدہ رکھ کر اور اسے بے ضرر بناتے ہوئے اپنی خدمت پر معمور کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا کی آمد سے قبل معلومات اور عوامی رابطے کے تقریباً تمام ذرائع حکمران طبقات کے قبضے و کنٹرول میں تھے۔ مگر تکنیک کی ترقی اور سرمایہ دار کے منافع کے حصول کے لالچ نے اب اس شعبے کو کافی حد تک ان کے چنگل سے نکال کر سماج کو ایک نئی جہت دی ہے۔ سوشل میڈیا نے سماجی شعور میں بھی انقلاب برپا کیا ہے اور مرد و زن آج اس قابل ہوئے ہیں کہ وہ ہر شعبے میں نئے مفاہیم تلاش کرسکیں۔ علم کے حصول نے انسانوں میں فاصلوں کو کم کرکے ذہنی تفاوت کو بھی کم کر دیا ہے۔ آج ہم صحافت کے حقیقی مقصد اور گمشدہ یا نظر انداز مفہوم پر مکالمہ کریں گے۔

کہا جاتا ہے کہ صحافت وسیع تر عوامی حلقوں تک رسائی، انہیں باخبر رکھنے اور معلومات بہم پہنچانے کا نام ہے۔ مگر یہ آدھا سچ ہے جو جھوٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ صحافت ان سب کے علاوہ بھی کچھ ہے۔ جس کا مقصد محض معلومات کے من چاہے مفہوم کو لوگوں کے دماغوں میں ٹھونس کر اور ان کے ذہنوں کو کنٹرول کرکے سدھائے ہوئے بندروں کی مانند استعمال کرنا نہیں۔ بلکہ صحافت ایک آرٹ ہے اور آرٹ کے مفہوم و عزائم کو سمجھے بغیر صحافت کو اس کی حقیقی روح اور جوہر کے مطابق سمجھنا خارج از امکان ہے۔ جسے سماج سے اوجھل رکھ کر ایک مجرد، بے رنگ اور خوشبو سے عاری بے مقصد شے بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ یوں صحافت کو بھی بورژوا طبقے نے منافع کے حصول کا ذریعہ بنا دیاہے اور اس کے تحت عوام کے ذہنوں کو ایک مخصوص اور اپنی مرضی کی سمت دے کر اس آرٹ سے سوء استفادہ کیا جارہا ہے۔

آرٹ کا مقصد و منتہا۔
آرٹ کے بارے میں جو عمومی تصور پایا جاتا ہے وہ بھی اصل مفہوم کے قطعی برخلاف ہے۔ یعنی آرٹ کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ یہ چیزوں کو ہمارے لیے صرف خوبصورت، آسان اور قابل فہم بنائے یا یہ کہ آرٹ ہمیں تفریح مہیا کرے۔ آرٹ کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اس کا کام حقائق کی از سرنو تخلیق ہے۔ یعنی آرٹ کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ انسانی ذہنوں کو جھنجوڑے، حقائق کی فرسودگی کو آشکار کرے اور ایک ان دیکھی نئی دنیا کی راہ دکھائے۔ آرٹ اپنی فطرت میں انقلابی ہے اس کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ حقائق کی پردہ کشائی کرے بلکہ اس کا کام ہے کہ وہ دکھائے کہ موجود سے بہتر بھی ہوسکتا ہے۔ ایک آرکیٹیکٹ جب کوئی تخلیق کرتا ہے تو بار بار وہ ایک ہی جیسی چیز نہیں بناتا بلکہ ہربار ایک نئی اختراع کرتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ آرٹ تبدیلی کا نام ہے اور اس تبدیلی میں ارتقاء ہے۔ وہ پہلے جیسا قطعی نہیں ہوتا۔ مگر آج آرٹ کو طوائف بنا دیا گیا ہے اور آرٹسٹ سرمایہ کی دلالی میں مگن ہے جو حقیقت میں نہ تو آرٹ ہے اور نہ ہی آرٹسٹ۔ آرٹ کو اگر پابند یا ڈکٹیٹ کیا گیا تو اس کی تخلیقی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور انسانی معاشرہ جمود کا شکار ہوکر بانجھ ہوجاتا ہے۔
صحافی آج سرمایہ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو کر آرٹ کی دلالی میں مصروف ہیں ، مگر تمام آرٹسٹ ایسا نہیں کر رہے۔ ایماندار صحافی آج بھی اس دنیا کی غلاظت اور تعفن پر تنقید کرتے ہوئے ایک بہتر دنیا کی نوید دے رہے ہیں۔ وہ مشکل حالات کے باوجود وہ اس جدوجہد میں مصروف ہیں کہ کسی طرح موجودہ ناقابل برداشت صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے راہ ہموار کریں۔

صحافت کی آزادی اور غیر جانبداری کا مطلب ہرگز یہ نہیں (جیسا کہ عمومی تصور ہے کہ جو جیسا ہے اسے ویسا ہی دکھایا اور بیان کیا جائے) بلکہ آزاد اور غیر جانبداری سے مراد ہے کہ سرمائے اور ریاستی ڈکٹیشن و دلالی سے آزاد ہوکر تبدیلی اور انقلاب کی خاطر فن کے ذریعے معاشرے کی حقیقی رہنمائی کی جائے۔ در حقیقت غیر جانداری سب سے بڑی جانبداری ہوتی ہے۔ یعنی اگر صحافی یا آرٹسٹ موجودہ مجبور و بے کیف زندگی کے خلاف جانبداری کرتے ہوئے نئے اور بہتر حالات زندگی کے لیے اپنا فن، قلم کی طاقت کا استعمال نہیں کرتا تو وہ موجودہ حالات اور سرمایہ داری کی جانبداری و خدمت کررہا ہے۔ صحافی کو آرٹ یعنی صحافت کے حقیقی مقصد و مرام کے حصول کی خاطر سرمائے کی غلامی کی بجائے آزادانہ طور پر فن کو تبدیلی، انقلاب اور ایک بہتر دنیا کی تخلیق کے لیے استعمال میں لانا چاہیے۔

کیا آزادی کا حصول ممکن ہے؟
اگر آزاد ی سے مراد ایسا عمل ہے جسے کوئی وجہ یا جبر متعین نہ کرتا ہو تو ہمیں بالکل بے باکی سے کہہ دینا چاہیے کہ ایسے عمل کا نہ پہلے کبھی کوئی وجود تھا نہ آئندہ کبھی ہوگا۔ ایسی”آزادی” کا تصور خالصتاً مابعدالطبعیاتی ہے۔ ہیگل نے واضح کیا تھا کہ حقیقی آزادی “لازمہ” کا ادراک ہے۔ جس قدر مرد و زن فطرت اور سماج میں کار فرما قوانین کو سمجھیں گے اسی قدر وہ اس قابل ہوں گے کہ ان قوانین پر عبور حاصل کرکے انہیں اپنے مفاد کے لیے کام میں لا سکیں۔ صنعت، سائنس اور تکنیکی ترقی نے وہ حقیقی مادی بنیاد فراہم کردی ہے جو انسان کو آزاد کرسکتی ہے۔ عقلی بنیادوں پر قائم ایسے سماجی نظام میں ہی جس میں ذرائع پیداوار کی ہم آہنگ منصوبہ بندی ہو اور انہیں شعوری طور پر کنٹرول کیا جائے، ہم حقیقی معنوں میں آزاد انسانی ترقی کی بات کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ اینگلز کے الفاظ میں یہ”بنی نوع انسان کی جبر کی اقلیم (Realm) سے آزادی کی اقلیم کی جانب چھلانگ ہوگی”۔

علی رضا منگول
علی رضا منگول
بلاگر ایک ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین کے کوئٹہ کے لیے آرگنائزر ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *