ہماری لکھائی ۔بتول

یقین کیجیے بڑا رشک آتا ہے جب آج کل کے بچوں کو نفاست سے ایک سطر والی کاپی پہ لکھتےدیکھتے ہیں۔ اور ایک ہمارا زمانہ تھا کہ اساتذہ پہلےتختی پہ لکھنا سکھاتےپھر سلیٹ کی باری آتی پھر چار ، تین، دو سطر کی کاپیوں پہ باری باری لکھنا سکھایا جاتا تب جا کے کہیں ایک سطر والی کاپی پہ لکھنا نصیب ہوتا ۔کوٸی اگر وجہ پوچھے تو کہتے کے طلبا کی لکھائی اچھی ہوتی ہے۔
بھئی اب اللہ جانے کہ کس کی لکھائی اچھی ہوئی ؟۔۔۔۔ کم ز کم ہماری تو نہ ہوئی ۔ کوئی ہماری لکھائی دیکھ لے تو اُسے کیڑے مکوڑوں کا گمان نہیں بلکہ یقین ہونے لگے۔کبھی کبھی تو ہم سوچتے ہیں شاید اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک جو امتحان میں نمبر ملتے رہے وہ یا تو اساتذہ نے رحم کھا کے دیے یا پھر ہماری لکھائی سے عاجز آکَر کہ کون پڑھے یہ ایلینز کی زبان۔ ۔۔۔تیسرا کوئی جواز بنتا بھی نہیں ۔۔۔ خیر ہمیں تو اپنا ہی لکھا سمجھ نہیں آتا کسی اور کو کس منہ سے کچھ کہیں!
بچپن میں ریاضی کے سوالات حل کرنے کا ہوم ورک ملا کرتا تھا، ایک بار تو ایسےحساب دیے استاد نے کہ یوں سمجھیے جہاں ہماری عقل ختم ہوتی تھی وہیں سے ان کے حل کرنے کا طریقہ شروع ہوتا،تو ان کو حل کروانے کی ذمہ د اری والد صاحب نے خود ہی اپنے سر لے لی ۔قصہ المختصر کہ ابو جی نے آدھہ گھنٹا لگا کہ ہمیں وہ ہوم ورک کروایا۔
دوسرے دن جب استادِ محترم نے ہوم ورک دیکھا تو لگےایک جواب کے بارے ہم سے پوچھنے کہ یہ کیا لکھا ہے؟ مگر ہماری سمجھ میں آۓ بھی نا کچھ! ہماری حالت یہ تھی کہ اب ” کوئی بتلاۓ کہ ہم بتلائیں کیا“ چونکہ کوئی جواب تو دینا تھا، ناچار ہم نے کہا سر یہ پانچ لکھا ہے ۔سر نے کراس کا نشان لگا کہ دوسرے حساب کا جواب بھی ہم سے دریافت کیا ، اب کی بار بھی ہمیں اپنا ہی لکھا سمجھ نہ آیا مگر شکل سے کچھ کچھ صفر جیسا لگ رہا تھا تو یہی جواب دے کہ جان چھڑائی ، اور ایک بار پھر سے استاد صاحب نے کراس مار دی، ساتھ ہی نصیحت بھی کر دی کہ محنت کریں۔ وہ سارا دن ہم یہی سوچتے رہے کہ ابو جی کے حل کرواۓ ہوۓ سوال غلط ہوۓ، تو ہوۓ کیسے؟

چھٹی کے بعد گھر پہنچی تو والد صاحب نے اُسی ہوم ورک کے بارے میں پوچھا۔ہم نے کہا دو غلط۔۔ وہ بھی ہماری طرح حیران۔۔ لیکن اس وقت انہوں نے بس اتنا ہی کہا کہ کل میں آپ کے سر سے پوچھوں گا ۔ اب دوسرے دن ابو جی نے اسکول پہنچ کراستاد صاحب سے دریافت کیا کہ کیسے ہوۓ سوال غلط ؟ جب کہ ہم نے خود بیٹھ کے حل کرواۓ ۔تو استادِ محترم نے کہا ہمیں تو سمجھ نہیں آ رہی تھی لکھائی ،جو آپ کی کاکی نے بتایا اسی کے مطابق فیصلہ کیا کہ غلط ہے جواب۔

ابو جی نے اس کےبعد کبھی ہمیں خود ریاضی سکھانے کی کوشش نہیں کی۔ شاید یہ سوچ کر کہ مسلہ ریاضی کا کم لکھائی کا زیادہ ہے(یہ محض ہمارا اندازہ ہے ۔مصلحت ایک ابو جی جانتے ہیں دوسرا اللہ ﷻ کو معلوم ہوگی)۔ خیر ان کے اس نا سکھانے والے غیر اعلانیہ فیصلےکا فاٸدہ بھی ہوا اور نقصان بھی۔ فاٸدہ یہ کے وہ ہماری وجہ سے کسی استاد کے سامنے شرمندہ ہونے سے عمر بھر کے لیے محفوظ ھوگۓ اور نقصان یہ کے ہم عمر بھر علمِ ریاضی نا سیکھ پائے ، ورنہ کیا خبر کہ کسی دن ہم مشہور و معروف ریاضی دان ہوتے ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *