• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نسلِ انسانی کا اگلا پڑاؤ۔۔۔۔ محمد شاہزیب صدیقی/(حصہ پنجم/آخری حصہ)

نسلِ انسانی کا اگلا پڑاؤ۔۔۔۔ محمد شاہزیب صدیقی/(حصہ پنجم/آخری حصہ)

اس سیریز کے سابقہ حصے میں ہم نے مریخ پر انسانوں کی کالونیاں بنانے کے متعلق تفصیلی جائزہ لیا،ہم نے یہ بھی جانا کہ کس قسم کے گھر وہاں بنائے جاسکتے ہیں، وہاں کس طرح کی نفسیاتی و جسمانی بیماریاں ہم پر اثراندازہونگی۔مریخ بہت وسیع ہے ،انسان جب وہاں کالونیاں بنا کر اسے اپنا مسکن بنائے گا تو ہمیں یقیناً اپنی آبادی کے پھیلاؤ کے غرض سے مریخ کے دور دراز گلی کُوچوں کی خاک چھاننی پڑے گی۔ یہاں پر آکر مسئلہ بنتا ہے کہ جب انسان اپنے بیس کیمپس سے ہی اسپیس سوٹ میں باہر نکل سکے گا تو سینکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ پیدل کیسے طے کرے گا؟ کیونکہ خلائی لباس میں ایک خاص مقدار میں سب کچھ ہوتا ہے یہ قطعاً اس لئے نہیں بنائے جاتے کہ ان میں کئی دنوں تک رہا جاسکے، تو پھر کیا ہوگا؟ مریخ پر اگر کئی انسانی مشنز سینکڑوں کلومیٹر دُور ہوئے تو کیا وہ آپس میں کبھی نہیں مل پائیں گے؟

نسلِ انسانی کا اگلا پڑاؤ۔۔۔۔ محمد شاہزیب صدیقی/قسط1

اسی خاطرمریخ کے دُور کے علاقوں تک سفر کرنے اور انہیں exploreکرنے کےلئے مریخ کے باسیوں کوتین قسم کی خلائی گاڑیاں (rovers) فراہم کی جائیں گیں، فی الحال ان خلائی گاڑیوں کی capacity زیادہ سے زیادہ 40 کلومیٹر تک چلنے کی ہوگی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی capacity کو بڑھایا جائے گا ،بہرحال پہلی قسم کی خلائی گاڑیاں مکمل طور پر pack ہونگیں ،اِن کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان مریخی سائنسدان بغیر اسپیس سوٹس کے بیٹھ سکیں گے اور کنٹرول کرسکیں گے، دوسری قسم کی خلائی گاڑیاں openہونگیں(جیسے سفاری جیپ وغیرہ کھُلی ہوتی ہیں)، اس کو چلاتے ہوئے انسانوں کا اسپیس سوٹ پہننا ضروری ہوگا ، تیسری قسم کی خلائی گاڑیاں شیشے کی بڑی بڑی کھڑکیوں پر مشتمل ہونگیں تاکہ انسان خلائی گاڑی کے اندررہتے ہوئے مریخ پر موجود مادنیات اور مٹی وغیرہ کا قریبی معائنہ کرسکیں۔

اندازہ ہے کہ colonizationسے منسوب یہ تمام اعزازات انسان اگلے 50 سالوں میں اپنے نام کرلے گا، لیکن اس دوران سب سے اہم مسئلہ یہ ہوگا کہ مریخ پر فضائی دباؤ انتہائی کم ہونے کے باعث انسانوں کو غاروں اور دیگر جگہوں پر اپنے بیس کیمپس بنانے پڑیں گےجب کبھی ان بیس کیمپس سے باہر نکلنا ہوگا تو مخصوص خلائی لباس بھی پہننا پڑے گا، بغیر اسپیس سوٹ کے انسان مریخ پر صرف دو منٹ ہی زندہ رہ سکے گا، مریخ پر فضائی دباؤ کی کمی کا اندازہ آپ ایسے لگا سکتےہیں کہ زمین پر atmospheric pressure تقریباً 101کلوپاسکل ہے جبکہ مریخ پر atmospheric pressureتقریباً 0.6کلو پاسکل ہے،انسان 30کلوپاسکل کے فضائی دباؤ تک سانس لے سکتا ہے اس سے نیچے سانس لینا ناممکن ہوتاہے، تجربے کے دوران جب 30 کلو پاسکل سے کم فضائی دباؤ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ انسان کے اندر موجود مادہ جو مائع حالت میں ہوتا ہے ،اس سے کم فضائی دباؤ میں گیس کی شکل اختیار کرنا شروع ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ تجربے کا سامنا کرنے والے سائنسدان نے بتایا کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے حواس کھونا شروع ہوگئے تھے آخر میں انہیں یہ یاد رہاکہ ان کی زبان پر موجود liquidبھی ابل کر گیس میں تبدیل ہونا شروع ہوگیا تھا، فضائی دباؤ کے کم ہونے کے باعث ہی مریخ پر پانی بھیliquid حالت میں نہیں رہتا صرف گیس یا برف کی حالت میں رہتا ہے،مریخ پر فضائی دباؤ پہلی مشکل ہے، معاملات اس وقت زیادہ گھمبیر ہوجاتے ہیں جب مریخ پر کاربن ڈائی آکسائیڈ تو وافر مقدار میں ہے مگر آکسیجن ایک فیصد سے بھی کم تعداد میں ہےجس وجہ سے وہاں سانس لینا ممکن نہیں رہے گا سانس لینے کے لئے آکسیجن فضا میں 20 فیصد تک ہونی چاہیے ، سو ان حقائق سے معلوم پڑتا ہے کہ جو انسان پر مریخ پر جاکر آباد ہونگے ان کے لئے بیس کیمپ سے باہر نکلنا قیامت ِ صغریٰ سے کم نہیں ہوگا،

نسلِ انسانی کا اگلا پڑاؤ۔۔۔۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی/حصہ دوم

پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر ساری زندگی ان بیس کیمپس میں ہی رہنا ہے تو مریخ پر آبادکاری کیوں کی گئی، انہی مشکلات پر قابو پانے کے لئے سائنسدانوں نے مریخ کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا جسے ہم Terraforming of Mars کہتے ہیں، یہ منصوبہ ایک ہزار سے ایک لاکھ سال تک طویل ہوسکتا ہے، لیکن سائنسدانوں کو دعویٰ ہے کہ اس منصوبے کے کامیاب ہونے کے بعد مریخ مکمل طور پر زمین جیسا ایک سیارہ بن جائے اور انسان لمبے عرصے تک مریخ پر بھی حکمرانی کرسکے گا۔مریخ کے ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش اس خاطر بھی کی جارہی ہے کیونکہ جدید تحقیق ہمیں بتا تی ہے کہ آج سے لاکھوں سال پہلے یہ سُرخ سیارہ زمین جیسا ہی تھا اور اس پر پانی بھی موجود تھا مگر مقناطیسی میدان نہ ہونے کے باعث اس کی فضاء آہستہ آہستہ خلاء میں ضائع ہوتی گئی اور آج یہ ایک بنجر و بیابان سیارہ رہ گیاہے، بلکہ مریخ کے مدار میں موجود ناسا کی سیٹلائیٹ نے باقاعدہ نوٹ کیا کہ آج بھی اس پر بچی کچی فضاء خاموشی سے خلاء میں ضائع ہورہی ہے۔یہاں پہ یہ سوال اُٹھتا ہے کہ مریخ کا مقناطیسی میدان دوبارہ بحال کرنا کیا ممکن ہے ؟ اگر ہم ہزاروں سال لگا کر اس کی فضا کو بحال کردیں تو یہ دوبارہ خلاء میں ضائع ہوجائے گی؟ اس کا جواب ہے کہ مریخ کا مقناطیسی میدان بحال کرنا ممکن نہیں ہے، مگر حال ہی میں سائنسدانوں نے اس کا ایک ممکنہ حل سوچا ہےکہ مریخ سے کچھ لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک عظیم شیلڈ خلاء میں معلق کی جائے گی جو سورج سے آنے والی مقناطیسی ریڈیشز کو مریخ تک پہنچنے نہیں دے گی، بظاہر پیپر ورک پر یہ طریقہ کار کامیاب بھی دکھائی دیا ہے اور اندازہ کیا جارہا ہےکہ یہ کام دِکھا سکتا ہے، اگر یہ ناکام ہوا تو مریخ کے گرد سیٹلائیٹس کے ذریعے بجلی سے مزین مصنوعی طور پر superconducting ringبنانے کی بھی تجویز زیر غور ہے، اگر تمام تجاویز ناکام ہوگئیں تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ ہم جس فضاء کو ہزاروں سال کی محنت کے بعد بحال کریں گے، وہ یقیناً ضائع ہوجائے گی مگر یاد رہے کہ اس کو ضائع ہونے کے لئے کئی لاکھ سال لگ جائیں گے اس دوران اگر انسان موجود ہوئے تو وہ آگے کسی دوسرے سیاروں پر شفٹ کرچکے ہونگے، سو یہ گھاٹے کاسودا نہیں ہوگا کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ آنے والے کچھ سو سالوں میں مختلف عوامل کے باعث زمین انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہے گی، اس سے پہلے پہلے ہمیں کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈنا پڑے گا، نسل انسانی کو اپنی بقا کی خاطر ہجرت کرنی پڑے گی، لہٰذا مریخ کے ماحول کو تبدیل کرنا پڑے گا۔

نسلِ انسانی کا اگلا پڑاو۔۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط 3

اس ضمن میں ایک احتیاط بہت ضروری ہے کہ ہمیں ہر قدم انتہائی محتاط ہوکر رکھنا پڑے گا، غلطی کی کہیں کوئی گنجائش نہیں ہے اگر کہیں کوئی غلطی سرزرد ہوگئی تو زمین تو ہمارے ہاتھوں سے جارہی ہے مریخ بھی ہمیشہ کے لئے جہنم بن جائے گا جس وجہ سے معدوم ہوتی انسانیت جو اس کائنات میں صرف ایک سیارے تک ہی محدود ہے ہمیشہ کےلئے فنا ہوجائے گا اور ہمارا نام و نشان تک مٹ جائے گا، لہٰذا یہ Terraforming بھی خطرات سے لیس ہےیہاں پر کسی قسم کی جلدبازی مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔مریخ کے فضائی دباؤ کو بڑھانے کے لئے انسان کوشش کرے گا کہ سب سے پہلے وہ خطرناک گیسز (greenhouse gases)جن کے باعث زمین گرم ہوتی جارہی ہے ان کو مریخ کی سطح پر چھوڑے، بلکہ ان کی باقاعدہ فیکٹریز لگائی جائیں جس وجہ سے مریخ کا درجہ حرارت بلند ہو اور قطبین پر موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ پگھل کر گیس بن جائے اگر ایسا ہوگیا تو فضائی دباؤ 0.6کلو پاسکل سے بڑھ کر 9 کلو پاسکل تک ہوجائے گا۔مریخ کے مدار میں موجود آوارہ پتھروں پر امونیا کافی زیادہ مقدار میں ہے لہٰذا کوشش کی جائے گی کہ اُن پر راکٹ داغ کر ان پتھروں کا رخ مریخ کی جانب کیا جائے کس وجہ سے اسکے فضائی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگااور نائیٹروجن کی بھاری مقدار اس کی فضا میں داخل ہوگی، اس کے بعد زمین سے کلوفلوروکاربن(CFCs)نامی کیمکل راکٹس میں بھر کر مریخ پر داغا جائے گا، یہ کیمکل گرین ہاؤس گیسز میں صف اول میں آتا ہے جس کی وجہ سے مریخ کا درجہ حرارت اور فضائی دباؤ تیزی سے بڑھتا جائے گا، Calculations کے مطابق مریخ کو گرم کرنے کے لئے CFCs کی اتنی مقدار کی ضرورت ہے جتنی CFCs زمین پر 60 سالوں میں پیدا ہوتی ہے، بہرحال اس کے علاوہ مریخ کو گرم کرنے کے لئے عدسوں کو استعمال کرنے کی بھی تجویز دی گئی کہ عظیم عدسے اس کے مدار میں بھیجے جائیں جو سورج کی روشنی کو جمع کرکے اس کے قطبین اور دیگر جگہوں پر پھینکیں،ایک مرتبہ مریخ پر فضائی دباؤ بڑھ کر 19کلو پاسکل تک چلا گیا تو پھر ہمیں مریخ پر اسپیس سوٹ کی ضرورت نہیں رہے گی، چونکہ مریخ پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بہتات ہے جس وجہ سے وہاں انسانوں کا آکسیجن حاصل کرنا ناممکن ہوگا،مریخ کے باسی بغیر اسپیس سوٹ کے فقط ایک آکسیجن ماسک لگاکر چہل قدمی کرسکیں گے،ایک بار مندرجہ بالا احداف حاصل ہوگئے تو پھر مریخ کی سطح پر Cyanobacteria اور ایلجز کی مخصوص اقسام کو پلانٹ کیا جائے گا ، خیال کیا جاتا ہے کہ زمین کے شروع کے ادوار میں انہی جانداروں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ inhaleکرکے آکسیجن نکالی اور زمین کو دیگر جانداروں کے رہنے کے قابل بنایا،یہ تجربہ براہ راست مریخ پر بھی کیا جائے گا،لیبارٹری میں مریخ جیسی conditionsمیں ان جانداروں کو 34 دن تک رکھا گیا اور کامیابی سے انہوں نے یہ 34 دن گزارے،سائنسدانوں کو اندازہ ہے کہ ہم ایک مرتبہ اس کام پر لگ گئے تو آنے والے سو سالوں میں یہ اہداف مکمل کرلیں گے،یہ بھی تجویز ہے کہ زمین سے مختلف کنستر بھجوائے جائیں جو مختلف پودوں سے بھرے ہونگےاور ان کنستروں کو مریخ کی سطح پر چھوڑا جائے تا کہ یہ وہاں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو انسانوں کے لئے آکسیجن میں بدلتے رہیں، یہ انتہائی موثر اور سستا طریقہ ہوگا۔ایک مرتبہ آکسیجن جب مریخ کی فضاکا 20 فیصد حصہ coverکرلے گی تو پھر اس پر انسان، حیوان، چرند پرنداور دیگر جاندار باآسانی اپنی زندگی رواں رکھ سکیں گے، مریخ پر عموماً کئی کئی ماہ تک شدید طوفان آتے رہتے ، فضائی دباؤ زیادہ ہوجانے کے بعد ان طوفانوں کا سلسلہ بھی تھم جائے گا،مریخ پر پانی کےندی نالے اور دریا بہنے لگیں گے، جنگلات اُگ آئیں گے، کیڑے مکوڑے چرند پرند پھیل جائیں گے۔زمین جیسا بادلوں اور بارشوں کا نظام بھی شروع ہوجائے گا۔اسی دوران آکسیجن کی موجودگی کے باعث مریخ پر زمین کی طرح اوزون کا غلاف بھی بن جائے گا جو سورج کی ریڈیشنز سے اس کی مکمل طور پر حفاظت کرے گا۔مریخ پر terraforming کے اس منصوبے کو مکمل ہونے میں ہزاروں سے لاکھوں سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہےجہاں یہ حقیقت ہے کہ اس سارے عمل کے بعد مریخ زمین جیسا ایک سیارہ بن جائے گاوہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی میں انسان مریخ پر کالونیاں تو بنا سکتا ہے مگر ایسی terraforming ممکن نہیں ہے، لیکن سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جلد انسان ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرلے گا جس کے ذریعے وسیع پیمانے پرایسی terraforming ممکن ہوسکے گی۔مریخ پر مستقبل کے انسانوں کے لئے کچھ انتظامات بھی کیے جارہے ہیں، 2008ء میں مریخ کے جنوبی قطب پر لینڈ کرنے والے Phoenixلینڈر میں DVDsسے مزین ایک مکمل لائبریری بھی بھیجی گئی، جو Phoenix کے سب سے topپر موجود ہےتاکہ مریخی مسافر فارغ اوقات میں اس لائبریری میں DVDs دیکھ سکیں، ان DVDs میں مریخ کے باسیوں کو مستقبل میں دی جانے والی ہدایات بھی موجود ہونگی۔ مریخ پر انسانی کالونیاں آباد کرنے کے بعد وہاں پہ راکٹس بنانے والی فیکٹریز لگانے پر بھی غور کیا جارہا ہے،جس کےلئے وہاں موجود پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سے میتھین اور آکسیجن بنا کر انہیں بطور فیول استعمال کیا جائے گااور مریخ سے زمین کی جانب فلائٹس شروع کی جائیں گیں،اس طریقے سے خلائی سیاحت کی صنعت کو فروغ ملے گا۔ابھی 4 دن پہلے یعنی 20 اگست 2018ء کو سائنسدانوں نے چاند پر پانی کی موجودگی کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد چاند اب مریخ اور زمین کے مابین فلائٹس کے دوران stop کا کردار بھی ادا کرسکے گا کیونکہ جہاں پانی ہوگا انسان وہاں لازمی پڑاؤ کرے گا۔ لہٰذا آنے والے وقت میں یہ باقاعدہ کاروبار کی حیثیت اختیار کرلے گا،چونکہ مریخ کی مٹی ذرخیز نہیں اسی خاطر انسان کے مریخ پر پہنچنے کے بعد کھاد کی ڈیمانڈ بڑھ جائے گی جس وجہ سے زمین پر کھاد (fertilizers)بنانے والی فیکٹریز کا business چمک اٹھے گا، مریخ سے جب انسان واپسی کا راستہ ہموار کرلے گا تو وہاں پر اگائے جانے والے پھل سبزیاں زمین پر مہنگے داموں بیچی جائیں گیں، یعنی اس کے ذریعے انسان اپنےکاروبار کو بین الاقوامی(international) سے بڑھا کر بین السیارتی (interplanetary)بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔مجھے گُمان ہوتا ہےکہ آنے والے وقت میں مریخی انسانوں کی فلاح و بہبود کےلئے خلائی ایجنسیز کی جانب سے مختلف عہدے بھی بیچے جاسکتے ہیں یعنی 4 سال کے لئے مریخ کے کسی علاقے کے گورنر کا علامتی عہدہ رکھا جاسکتا ہے جس کی ایک قیمت مقرر کی جائے گی جو شخص وہ ادا کردے گا وہ 4 سال کے لئے اُس مریخی علاقے کا گورنر قرار دیا جائے گا، اس رقم کو مریخ پر خرچ کیا جاسکے گا۔

نسلِ انسانی کا اگلا پڑاؤ۔۔۔۔ محمد شاہزیب صدیقی/قسط4

چونکہ فی الحال زمین سے باہر کائنا ت بھر میں سمندری قوانین کا اطلاق ہوتاہے،سو کائنات کا کوئی علاقہ کسی بھی ملک کی ملکیت نہیں ہے،اسی خاطر کوئی بھی ملک مریخ پر بھی حاکمیت کا دعویٰ نہیں کرسکتا، یعنی جو مریخ پر پہنچے گا وہ جہاں چاہے گا گھر بنا کررہ سکے گا۔یہ کائنات کی خوبصورتی ہی ہے کہ انسان ازل سے اس پر قابض ہونے کا خواب دیکھتا آیاہے،کبھی اپنے محبوب کے لئے چاند تارے توڑنے کا عزم کرتا دکھائی دیا تو کبھی محبوب کو ہی چاند کہہ ڈالا۔ انسان کائنات پر قبضے کے خواب کی جانب پہلا قدم اگلی کچھ دہائیوں میں اٹھا لے گا ، یہ قدم عقلمندی ہے یا بیوقوفی؟چونکہ وقت بہت بڑا استاد ہے،لہٰذا اس مشکل سوال کا جواب ہم وقت پر ہی چھوڑتے ہیں۔اگر کائناتی پیمانے (universal scale) پر دیکھا جائے تو مریخ ہم سے بہت ہی قریب ہے، انتہائی قریب، اس کی قُربت کا یہ حال ہے کہ ہمیں اپنے اِس پڑوسی سیارے پر خلائی جہاز کے ذریعے پہنچنے کےلئے 9 ماہ درکار ہونگے، اگر ہم اسی خلائی جہاز کا رُخ پڑوسی ستارے کی جانب موڑ دیں تو ہمیں ایلفا سینٹوری(پڑوسی ستارے)تک پہنچنے میں 72 ہزار سال لگیں گےاور اگر ہم فیملی کو اس خلائی جہاز میں اپنی کہکشاں ملکی وے کی سیر کروانا چاہیں اور اس کے کنارے تک لے جانا چاہیں تو ہمیں 4.6 ارب سال لگ جائیں گے، اوراگر اس دوران ہمارے بچے ضِد کرتے ہیں کہ نہیں ہم نے پڑوس والی کہکشاں کو قریب سے دیکھنا ہےتو ہمیں خلائی جہاز کے ذریعے اینڈرومیڈا تک پہنچنے میں106 ارب سال لگ جائیں گے۔یہ ایک آسان طریقے سے کائنات کی وسعت کو سمجھانے کی کوشش تھی ،یاد رہے ایلفا سینٹوری ہمارا پڑوسی ستارہ جس تک پہنچنے میں ہمیں موجود ہ تیز ترین خلائی جہاز کے ذریعے 72ہزار سال لگ جائیں گے وہ ہم سے صرف 3 نوری سال دُور ہے، جبکہ اب تک کی معلومات کے مطابق ہم کائنات کا 93 ارب نوری سال تک کا علاقہ دیکھ سکتے ہیں، اس سے باہر کیا ہے ہمیں نہیں معلوم ، کائنات مزید کتنی وسیع ہے ہمیں نہیں معلوم، سو آنے والے سینکڑوں بلکہ ہزاروں سالوں تک شاید ہم اسی نظام شمسی میں قید رہیں اور کائنات کے دیگر گوشوں کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے رہیں، لیکن انسان اپنے نقوش کائنات میں چھوڑنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ مریخ پر انسانوں کی آبادکاری کے متعلق یہ سیریز آج اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے، بہت عرصے سے اس سیریز کو لکھنے کا سوچ رہا تھا لیکن اگست کے ماہ کا انتخاب اسی خاطر کیا کیونکہ آجکل مریخ زمین کے قریب ہے اور نہایت واضح دکھائی دے رہا ہے، اسے آسمان پر نارنجی نقطے کی صورت میں باآسانی دیکھا جاسکتاہے لہٰذا آپ بھی باہر نکل کر آسمان پہ اِسے ڈھونڈیے، اِسے خوش آمدید کہیے اور اپنے بچوں کو بتائیے کہ یہ ہے ہمارا یعنی “نسل انسانی کا اگلا پڑاؤ!”

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *