محاوروں کی برسات

کچھ عرصے پہلے ہم نے ایک مضمون “گدھے اور کتے کی سیاست” لکھا تھا اور دو عدد محاورے گھوڑے اور کتے پر تفصیل سے لکھے تھے، کچھ دوستوں نے مضمون کو تو گھاس نہیں ڈالی البتہ محاوروں کی تعریف خوب کی، ہم نے کچھ یوں لکھا تھا:۔
1- گھوڑے کی شکل ایک حد تک گدھے سے ملتی ہے، بعض لوگ گدھے گھوڑے کو برابر سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ دونوں کو ایک تھان پر باندھتے ہیں، یا ایک لاٹھی سے ہانکنا شروع کر دیتے ہیں۔ شاعروں نے بھی گدھے کی ایک خوبی کی تعریف کی ہے، خرِ عیسٰی ہو یا کوئی اور گدھا اگر وہ مکہ سے بھی ہو آئے تو گدھا ہی رہتا ہے۔
2- امیروں کے کتے غریبوں پر بھونکتے ہیں۔ غریبوں کے کتے اپنے آپ پر بھونکتے ہیں۔ کتا اپنی گلی میں شیر ہوتا ہے، جس طرح شیر کسی دوسرے کی گلی میں کتا بن جاتا ہے۔ کتوں اور عاشقوں میں کئی چیزیں مشترک ہیں۔ دونوں راتوں کو گھومتے ہیں، اور اپنا اپنا کلام پڑھ پڑھ کر لوگوں کو جگاتے ہیں اور اینٹ اور پتھر کھاتے ہیں۔ ہاں ایک کتا لیلی کا بھی تھا۔ لوگ لیلیٰ تک پہنچنے کے لئےاس سے پیار کرتے تھے۔

دوستوں نے جب ان محاوروں کی تعریف کی تو ہم پھول کر کپا ہوگئے مگر تھوڑے دن پہلے نیٹ پر کچھ تلاش کرتے ہوئے ایک صاحب کے بلاگ پر پہنچ گے اور وہاں ہم نے اُن کا ایک مضمون دیکھا جو خالص محاوروں پر ہے پڑھ کر ہمارے چودہ طبق روشن ہوگئے اور ماننا پڑا کہ ہم سیر ہیں تو سوا سیر لازمی موجود ہیں۔ مندرجہ ذیل بلاگ واقعی اگر محاوروں کا مجموعہ ہے تو لکھنے والے کی قابلیت کو داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔
ایک سوال!
اس تحریر کو غور سے پڑھیے اور بتائیے کہ میں نے کونسا محاورہ یاد کیا؟
دس محاورات یاد کرنے کے لیے میں نے بڑے پاپڑ بیلے۔خوب ایڑی چوٹی کا زور لگایا، دن رات ایک کردیا مگر شاید محاورات اور میرے دماغ کے درمیان “چھتیس کا آنکڑا” تھا کہ اوّل تو کوئی محاورہ دماغ کی گرد کو بھی نہ پہنچ پاتا لیکن اگر قدم رنجہ فرماتا بھی تو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوتے نہیں اور وہ محاورہ ایسا غائب ہوجاتا جیسے” گدھے کے سر سے سینگ”،پتا ہی نہ چلتا کہ”،”اسے آسمان کھاگیا یا زمین نگل گئی”۔

خیر! میں”ہمتِ مرداں مددِ خدا”کے اصول کے تحت حفظ ِمحاورات کے میدان میں کافی تگ و دو کرتا رہا لیکن”ڈھاک کے وہی تین پات”محاورات یا د ہوکے ہی نہیں دے رہے تھے،پتا نہیں یہ دماغ محاورات یاد کررہا تھا کہ بنارہا تھا، تھکاوٹ نے میرے “دانت کھٹے” کردیے۔ بس کیا بتاؤں،” نانی یاد آگئی”۔اس تھکاوٹ نے” ناکوں چنے چبوادیے”،”دانتوں تلے پسینہ آگیا”،”دن میں تارے دکھائی د ینے لگ گئے”، میں سمجھ گیا کہ “یہ کوئی خالہ جی کا گھر نہیں”، اور پھر بیماری نے مجھے آگھیرا!
یعنی “ایک تو کڑوا کریلا دوسرا نیم چڑھا”۔۔کہ ایک تو میں پہلے ہی محاورات کے یاد نہ ہونے پر”جل بھن کر کباب ہورہا تھا”،اوپر سے بیماری نے اور” لال پیلا کردیا”،نہ جانے”اس اونٹ کو کس کروٹ بیٹھنا تھا”،شاید میں نے اس مہم کا آغاز کرکے”آبیل مجھے مار” پر عمل کیا تھا،لیکن جب” اوکھلی میں دیا سرتو موسلوں کا کیا ڈر”۔ دن رات کی جاں فشانی سے ایک محاورہ لے دے کے یاد کرہی لیا۔ عرصۂ دراز تک اسے”طوطی وار ازبر”کرتا رہا۔حتیٰ کہ اطمینان ہوگیا کہ اب یہ محاورہ”نسیًا منسیًا” نہیں ہوگا۔اب میرا” دل بلیوں اچھلنے لگا”اور میں” سرجھاڑ منہ پھاڑ”،”بغلیں بجاتا”ہوا اپنے استاد صاحب کے پاس پہنچا اور یہ خوش خبری سنائی تاکہ ان کی” آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں”لیکن میں نے” منہ کی کھائی”اور بڑے سنگین حالات سے دوچار ہوا کیوں کہ محاورہ سنتے ہی وہ”آگ بگولہ ہوگئے”،”سونے پر سہاگا”یہ کہ ایک زناٹے دار طمانچہ میرے رخسارِ غم گسار پر جڑدیا۔

اب تو میری “حالت اور پتلی ہوگئی”،” پیروں تلے زمین نکل گئی”،”رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے”کہ”کاٹو تو بدن میں لہو نہیں”اور پھرایک دم میرا”پارہ چڑھ گیا”اور میرا غصہ”آسمان سے باتیں کرنے لگا”کہ میں نے” سردھڑ کی بازی لگاکر” اور” خون پسینا ایک کرکے “جوکام کیا تھا، اس میں بھی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور مارکٹائی کا سامنا کرنا پڑا،”ایسی کی تیسی” ایسے محاورات کی ۔۔۔اگر میرا بس چلتا تو ان محاورات کو “نیست ونابود” ہی کردیتا۔۔ ان کے گلستان کو”تہ وبالا” کردیتا، ان کے چمن کو”زیرو زبر”کردیتا اور پھر میں کافی دیر تک”پیچ و تاب” کھاتا رہا۔۔”بڑی بڑی ہانکتا رہا”۔ یہاں تک کہ استاد صاحب کے”صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا”اور پھر انہوں نے مجھے”بے نقط سنائیں”کہ تم بڑے “طوطا چشم” ہو۔۔۔ ماننے کی صلاحیت تم میں “صفر بٹا صفر” ہے، اور نہ ماننا تمھارے اندر” سولہ آنے” فٹ ہے۔ دس میں سے صرف ایک محاورہ یاد کیا،وہ بھی”اونٹ کے منہ میں زیرہ” اور” آٹے میں نمک کے برابر” پھر اس پر قیامت یہ کہ” الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے”کہ”ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری”۔حد ہوگئی کہ صرف تین لفظی محاورہ یادکیا، وہ بھی نقطے سے خالی!
(تحریر: محمد اسامہ سرسری)
امید ہے کہ اب آپ محاورات میں خود کفیل ہوگئے ہوں گے ، اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔

سید انورمحمود
سید انورمحمود
سچ کڑوا ہوتا ہے۔ میں تاریخ کو سامنےرکھ کرلکھتا ہوں اور تاریخ میں لکھی سچائی کبھی کبھی کڑوی بھی ہوتی ہے۔​ سید انور محمود​

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *